تحریکِ نِسواں۔۔۔ تاریخی پس منظر

متر جم :خا لد امین

اسسٹنٹ پر وفیسر،شعبہ اردو جامعہ کراچی
(حال ہی میں ۸؍مارچ ۲۰۱۹ء خواتین کے دن کے موقع پر فریئر ہال کراچی میں’’خواتین مارچ‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں اس دن کی مناسبت سے حقوق نسواں کی سرگرم تنظیموں نے شرکت کی، اور عورتوں پر ہونے والے مظالم کی دردناک تصویر پیش کرکے دنیا سے یہ مطالبہ کیا کہ ہمیں عزت نہیں، ہمیں انسان تسلیم کیا جائے۔ اس جملے کے ساتھ ساتھ کئی ایسے جملے بھی موجود تھے جنہیں پڑھ کر اس تحریک کے پس پردہ مقاصد کو سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلاً ’’میرا جسم میری مرضی‘‘، ’’یہ چاردیواری، یہ چادر گلی سڑی لاش کو مبارک‘‘، ’’کھانا گرم نہیں کرنا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ بہ ظاہر یہ نعرے اپنے اندازِ فکر میں جس تاریخی پس منظر کو لیے ہوئے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے تحریکِ نسواں کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان میں اس تحریک سے وابستہ افراد اب اس مقام پر آچکے ہیں کہ وہ اپنے ارادے کو نہ صرف کھل کر بیان کرسکتے ہیں بلکہ اس کے لیے اب وہ ہر محاذ پر جارحانہ انداز بھی اپنانے کو تیار ہیں۔ مریم جمیلہ کا یہ مضمون اسی پس منظر اور نعروں کا جواب فراہم کرتا ہے۔ وہ اسلامی نقطہ نظر کو پیش کرتے ہوئے دورِ حاضر کی عصری تحریکات کی طرح مصالحانہ رویہ اختیار نہیں کرتیں بلکہ اپنی آراء بلا کم و کاست اہلِ نظر کے سامنے پیش کردیتی ہیں)
خواتین کی آزادی کے نام سے مشہور بنیاد پرست تحریک حقوقِ نسواں ہے جس نے عصر حاضر میں سماجی سطح پر انسانی رشتوں میں کئی انقلابی تبدیلیاں برپا کی ہیں۔ تحریکِ حقو ق نسواں جدید دور کی چیز نہیں۔ اس کی تاریخی مثالیں قدیم دور میں بھی ملتی ہیں۔”Republic” از افلاطون میں ان خاندانی اور سماجی کرداروں کو ختم کرنے پر اصرار پایا جاتا ہے جن کی تشکیل صنفی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ قدیم یونانی کلاسیکی کامیڈی Lipsistrata میں اور حال ہی میںHenrick Ibsen کے ڈرامے ’’A Doll’s House‘‘میںنسوانی نظریات کی ترویج کی گئی ہے۔ وکٹورین ماہر معاشیات اور فلسفی جان اسٹورٹ مل(John Stuart Mill) اور جرمن سوشلسٹ فریڈرک اینگلز (Fricdrich Engles)نے جو مضامین بہ عنوانThe Subjection of Women ۱۸۶۹ء میں لکھے تھے، انہوں نے تحریک نسواں کی بنیاد ڈالی۔۱۸۸۴ء میں اینگلز نے کھلے عام اعلان کیا کہ شادی کا بندھن غلامی کی ایک تبدیل شدہ بے کیف صورت ہے۔ اس نے اپنے مضمون میں زور دیا کہ اسے فوری ختم کیا جائے، اور بچوں کی پرورش کے لیے عوام کی ذمہ داری تجویز کی۔
امریکہ میں تحریک نسواں ان دو اہم وجوہات کی بنا پر سامنے آئی: غلامی کے خاتمے کی تحریک اور Temperence Movementکی بدولت شراب پر قانونی پابندی۔ جن خواتین نے ان تنظیموں میں شمولیت اختیار کی انھوں نے جلد ہی محسوس کرلیا کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیابی جلد حاصل کرلیں گی، اور انھوں نے جلد ہی سیاسی طاقت بھی حاصل کرلی۔Seneca Falls Convention ۱۹۴۸ء میں منعقد ہوا، جو اس تحریک کے لیے تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں حقوق نسواں کے علم برداروں نے خواتین کے لیے ایک منشور اور حقوق کا مطالبہ کیا۔ اس میں انھوں نے شوہر کے ساتھ برابری، روزگار میں جنسی امتیازات برتنے کی مخالفت، طلاق کے حقوق اور مسا وی تنخواہ کا مطالبہ بھی پیش کیا۔ جس وقت خواتین کی محرومیوں کی یہ تحریک مقبول ہورہی تھی اُس وقت قدامت پسند حقوقِ نسواں کے حامی اپنی سرگرمی اور مطالبات کو محدودکرلیتے ہیں اور خواتین کی محرومیاں ان کا واحد ہدف ٹھیرتی ہیں۔۱۹۲۰ء میں امریکی آئین میں انیسویں ترمیم کے بعد خواتین کو ووٹ دینے کی منظوری دے دی گئی، اور نسائی تحریک کے کارکنان کی اکثریت نے اس ترمیم کے بعد عورتوںکی فلاح و بہبود کا حق حاصل کرلیا۔ اس کے بعد حقوقِ نسواں کی تحریک ۴۰ سال تک غیر فعال ہوگئی۔
۱۴ دسمبر ۱۹۶۱ء کو صدر جان ایف کینیڈی نے خواتین کی حیثیت پر صدارتی کمیشن قائم کرکے صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے۔ یہ کمیشن عورتوں کے ساتھ برتے جانے والے تعصبات، خواتین کے حقوق کی مکمل بحالی، پرانے رسوم و رواج کا مقابلہ کرنے کے لیے حائل رکاوٹوں کی تحقیقات اور ان پر سفارشات مرتب کرنے کے لیے تھا۔ یہ صدارتی کمیشن پہلا سرکاری ادارہ تھا جو خواتین کے حقوق کے تعین کے لیے بنایا گیا تھا۔
چناں چہ “Silent fifties”کے بعد ۱۹۶۰ء کی ابتدا میں حقوق نسواں کے علم برداروں نے تصادم کی سیاست شروع کی اور اس کے لیے انھوں نے دھرنے دیے اور مارچ کیے۔ کالج اور یونی ورسٹی کی طالبات نے ان سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا۔
ان خواتین نے جو Seneca Falls Convention ۱۹۴۸ء میں شامل ہوئی تھیں اور انھوں نے صرف شرابی شوہروں اور خواتین سے ناروا سلوک کے خلاف احتجاج کیا تھا، ان کی کامیابی صرف یہ تھی کہ انھوں نے شادی سے متعلق قانونی، جائداد پر اختیار اور مردوں کے مساوی تنخواہوں کے حصول جیسے حقوق حاصل کرلیے تھے۔ اس کے برعکس حقوقِ نسواں کے جدید جانشینوں کے مطالبات کہیں زیادہ بنیاد پرست ہیں۔ ۲۶ اگست ۱۹۷۰ء کو سب سے بڑا اور پُرجوش مظاہرہ Fifth Avenue نیویارک میں منعقد ہوا، جس میں سیکڑوں خواتین نے پلے کارڈ اٹھاکر نیویارک شہر میں مارچ کیا۔ ان کارڈز پر یہ نعرے درج تھے:
خواتینِ خانہ بلا معاوضہ غلام ہیں! گھر کے کام کاج کے لیے ریاست پیسہ فراہم کرے! مظلوم خواتین رات کاکھانا نہ پکائیں! آج رات اپنے شوہر کو بھوکا مرنے دیں! قربانی دینا ترک کردیں! شادی نہ کر یں! بچوں کے پوتڑے دھونا ترک کردیں! اسقاط حمل کو قانونی بنائو! انحصاری کی حالت میں زندہ رہنا کوئی اچھا طرزعمل نہیں!
آج حقوق نسواں کے علم بردارکسی بھی ایسے سماجی نظام کے مخالف ہیں، جس کی تشکیل میں صنفی امتیاز برتا جائے۔ اس تحریک کے حامی افراد عورتوں اور مردوں کے مابین قطعی برابری پر اصرار کرتے ہیںاور جسمانی فرق پر توجہ نہیں دیتے، وہ عورت اور مرد کے جسمانی فرق کو تسلیم نہیں کرتے، وہ بیوی کو گھریلو خاتون اور ماں اور شوہر کو نان و نفقہ فراہم کرنے والا اور خاندان کا سربراہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عورتوں اور مردوںکے جنسی ملاپ میں‘ عورت کو غیر فعال نہیں بلکہ مردوں کی طرح فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انھوں نے قانونی شادی کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ گھر اور خاندان عورت کی مکمل جنسی آزادی کی راہ میں حا ئل ہیں، بچوں کی تربیت اور پرورش کی ذمہ داری عوام پر ہونی چاہیے۔ ان کا اصرار ہے کہ تمام عورتوں کو اسقاطِ حمل پر مکمل اختیار دیا جانا چاہیے۔ ان لوگوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مانع حمل کے تمام آلات کسی بھی عورت کو خواہ وہ کسی بھی عمرکی ہو، بغیر کسی ڈاکٹر کے نسخے کے کسی بھی میڈیکل سینٹر سے بہ آسانی دستیاب ہونے چاہئیں، وہ تمام پابندیاں ختم کی جائیںجو ان چیزوں پر لاگو ہیں۔ اسقاطِ حمل کے تمام قوانین ختم کیے جائیں اور عورتوں کو اس بات کا قانونی اختیار حاصل ہو کہ وہ حمل کے کسی بھی مرحلے پر اسقاط حمل کرسکیں۔ اسقاطِ حمل مطالبہ کرنے پر ہی دستیاب نہ ہو، بلکہ ریاست کی جانب سے بلا معاوضہ ہر اُس عورت کو فراہم کیا جائے جو ایک یا اس سے زیادہ اسقاط حمل چاہتی ہو، تاکہ غریب خواتین بھی اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
حقوقِ نسواں کی تحریک کے حامیان اس مطالبے پر زور دیتے رہے کہ تعلیمی اداروں میں نصاب لڑکے اور لڑکیوں کے لیے مخلوط ہونے چاہئیں، یعنی ہوم اکنامکس کو لڑکیوں کے لیے اور شاپ میکینکس کو لڑکوں کے لیے مخصوص نہیں کرنا چاہیے۔ لڑکے اور لڑکیوں کے لیے الگ جمنازیم اور فزیکل ایجوکیشن نہ ہو، لڑکیوں کو اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ کھیل کے تمام شعبہ جات میں چاہے وہ جسمانی ہی کیوں نہ ہو، لڑکوں کے شانہ بشانہ مقابلہ کریں۔
ذرائع ابلاغ کے اداروں میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں تاکہ صنفی امتیاز کو ختم کیا جاسکے اورخواتین کو مردوں کے مساوی تمام شعبہ ہائے زندگی میں پیش کیا جائے۔ حقوق نسواں کے حامی، بچوں کی کتابوں پر بھی اس لیے تنقید کرتے ہیں کہ وہ اپنی کہانیوں میں ایک ماں پر مشتمل خاندان کا ذکر کرتی ہیں، ’’غیر شادی شدہ ماں‘‘ اور ’’طلاق یافتہ عورت‘‘ کو ما ڈل کے طور پر پیش نہیں کرتیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ لڑکیوں کو ایسے کھلونے دیے جائیں جن سے کھیل کر وہ جنسی تلذذ حاصل کرسکیں، جب کہ لڑکوں کو Dolls دی جائیں تاکہ وہ اس سے تسکین پا سکیں۔ بنیاد پرست حقوق نسواں کے علم برداروں نے یہ بھی تجاویز دیں کہ روایتی شادی کے طریقہ کار کے بجائے عورتوں اور مردوں کو مشترکہ قومی فلاح وبہبود کے تحت بسایا جائے، اور بچوں کی ذمہ داری عوام پر عائد کی جائے۔ عوام الناس کو ۲۴ گھنٹے کی بنیاد پر بچوں کی دیکھ بھال کے ادارے اسی طرح مفت فراہم کیے جائیں جس طرح پارک، لائبریری اور تفریحی سہولیات امریکہ میں موجود دوسری کمیونٹیز کو فراہم کی جاتی ہیں، لیکن چائلڈ کیئر سینٹر کو امریکہ میںغیر سنجیدہ انداز میں لیا جاتا تھا۔ عورت کو مالی طور پر آزاد کیا جائے اور کسی بھی پیشے کو اختیار کرنے پر بہ حیثیت عورت کے، اس پر پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔
خواتین کی اکثریت شاید یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ روایتی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں، وہ اصل میں خوف زدہ یا اپنی موجودگی کے کسی دوسرے تصور کو خیال میں لانے سے قاصر ہیں۔ روایتی رویوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انھیں ایک خاص قسم کا تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اگر کوئی قید میں ایک خاص قسم کی طاقت حاصل کرنے کے بارے میں جان بھی لے تو آزادی کا تجربہ خوف میں مبتلا کرنے والا ہے۔ ہم خواتین پر کچھ بھی مسلط نہیںکرنا چاہتے سوائے اس کے کہ تمام ممکنہ متبادلات سامنے لے آئیں۔ ہم چنائو کی تلاش میں ہیںجو ایک اہم کام ہے، بلکہ یہ لوگوں کو انسان بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو مکمل انسان بنایا جائے، نہ کہ انھیں قوانین یا روایات یا ہمارے تنگ نظر ذہنی رویوں کی جکڑ بندیوں میں مبتلا کردیا جائے۔ اگر فطرت میں اس بات کی گنجائش نہیں تو فطرت کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔
حقوقِ نسواں کے علم برداروں نے اس تحریک کے ذریعے متبادل انتخاب کے نام پر عورتوں میں سماجی سطح پر ہم جنس پرستی کو فروغ دیا۔ تحریک نسواں کی ایک شاخ Homophile Orgnization ہے جو The Daughters of Bilitisکے نام سے مشہور ہے، جس کا مقصد نسائی ہم جنس پرستی کا فروغ ہے۔
نسائی تحریک کے ارکان جو اس تحریک سے قبل نسائی ہم جنس پرست تھے اور جو اس میں شمولیت کے بعد ہم جنس پرست ہوگئے۔ مؤخر الذکر نسائی تحریک کے علم برداروں کے لیے عورتوں کی ہم جنس پرستی سیاسی احتجا ج کی ایک شکل ہے۔ بنیاد پرست حقوق نسواں کے علم برداروں کو کہوکہ نسائی ہم جنس پرستی آزادی حاصل کرنے کا ایک ایسا راستہ ہے جو ہمیں مردوں کے جبر سے آزاد کردے گا۔
امریکہ میں نسائی ہم جنس پرست اقلیت میں ایسی خواتین کی تعداد ۱۰ ملین ہوسکتی ہے جو مردوں کے بجائے عورتوں کو لبھانے کا کام کرتی ہیں۔ عورتوں میں ہم جنس پرستی کے حوالے سے شاید سب سے منطقی، جذبات سے عاری اور پُراثر بیانات Dr Joel Fort جو ماہر نفسیات ہیں، اور صحت عامہ کے سابق ماہر Dr Jock Adamsنے دیے ہیں۔ انھوں نے اگست ۱۹۶۶ء میں بیان جاری کیا کہ ہم جنس پرستوں کو دیگر ہم جنس پرستی کی طرح انفرادی خصوصی انسان کے طور پر نہیں بلکہ ایک خصوصی گروہ کے طور پر قانونی اور سماجی اداروں کی جانب سے شمار کیا جانا چاہیے۔ وہ قوانین جو جنسی رویوں کے لیے بنائے جاتے ہیں ان میں اصلاحات کی جانی چاہئیں تاکہ تشدد یا نوجوانوں میں سماج مخالف رویوں کی روک تھام کی جاسکے۔ باہمی رضامندی سے طے پانے والے جنسی عمل کو عوام سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔
بنیاد پرست نسائی تحریک کا اختتامی نتیجہ کیا ہے؟ معاشرے کو کس قسم کی آزادی خواتین کے لیے حاصل کرنی چاہیے؟
(جاری ہے)

Share this: