جماعت اسلامی کا قبائل ورکرز کنونشن،سینیٹر سراج الحق کا خطاب

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے نشترہال پشاور میں ایک بڑے قبائلی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی صوبے کے حقوق کے لیے ہر ایوان اور فورم پر آواز اٹھائے گی۔ حکومت نے قبائلی علاقوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے ترقیاتی فنڈ، این ایف سی ایوارڈ میں 3 فیصد حصہ، بے روزگاری کے خاتمے کے لیے چالیس ہزار قبائلی نوجوانوں کی بھرتی کا وعدہ کیا، لیکن اس جانب ابھی تک ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا جو اس حکومت کی نالائقی اور غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان کے عوام امن پسند لوگ ہیں اور قبائلی عوام نے پاکستان کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت نے ان قربانیوں کے بدلے میں قبائلی عوام کو کیا دیا ہے؟ سراج الحق نے کہا کہ قبائلی عوام نے قائداعظم سے بغیر تنخواہ کے مغربی سرحدوں کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا اور 70سال سے وہ یہ وعدہ نباہ رہے ہیں، لیکن یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ قبائلی عوام کے لیے آج تک کوئی یونیورسٹی نہیں بنائی گئی، اور نہ ہی کوئی ڈھب کا اسپتال موجود ہے۔ ان علاقوں کے عوام مریضوں کو سیکڑوں کلومیٹر دور پشاور کے اسپتالوں میں لانے پر مجبور ہیں۔ قبائلی عوام اپنے اور اپنی نئی نسلوں کے لیے اب آزادی چاہتے ہیں۔ تعلیم اور روزگار چاہتے ہیں۔ صحت کی سہولیات چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے قاضی حسین احمد کی قیادت میں نہ صرف قبائل کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی بلکہ اس کے کئی راہنمائوں اور کارکنان کو قبائل کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر قید وبند اور جرمانوں کی کڑی سزائوں کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
کنونشن سے امیر جماعت اسلامی خیبرپختون خوا سینیٹر مشتاق احمد خان، سابق سینئرصوبائی وزیر عنایت اللہ خان، امیر جماعت اسلامی قبائل سردار خان، سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون الرشید، قبائلی اضلاع کے امراء اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔ کنونشن میں بڑی تعداد میں قبائلی عوام نے شرکت کی، سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے قبائلی عوام کے حقوق کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی، اور یہ جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک قبائل کو اُن کے تمام جائز حقوق مل نہیں جاتے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو تمام سیاسی جماعتوں نے منظور کیا تھا لیکن سابق اور موجودہ حکومتوں نے اس پر عمل درآمد نہیںکیا، اور جب بھی نیشنل ایکشن پلان کی بات ہوتی ہے تو یہ مدارس، مساجد کو تالے لگانے پر آجاتے ہیں اور علمائے کرام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی ہندوانتہا پسند حکومت مدارس اور مساجد کو تالے لگا رہی ہے، حتیٰ کہ جماعت اسلامی جیسی پُرامن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والی جماعت پر پابندی عائدکردی گئی ہے تو دوسری طرف پاکستان کے حکمران بھی مغربی اور بھارتی دبائو پر پاکستان میں مدارس اور مساجد کو بندکررہے ہیں جو اسلام دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے، کیونکہ مدارس اور مساجد میں قرآن و سنت کی بات ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کے نام سے کام کرنے والی اسلامی تحریک کی تنظیم اور قیادت پر پابندی بالکل غلط اور انتقامی کارروائی ہے۔ جماعت اسلامی جموں و کشمیر میں تعلیم، صحت، سماجی خدمات اور انسانی فلاح و بہبود کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر آواز بلندکرے، لیکن حکومت نے ابھی تک نہ کوئی آواز بلند کی ہے اور نہ پابندیوں اور گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے رابطہ عوام مہم کا آغاز کردیا ہے جو قبائلی علاقوں سمیت پورے ملک میںجاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں دیانت دار قیادت کا ساتھ دیں اور ایسے لوگوں کو اسمبلی میں بھیجیں جو آپ کے حقوق کے لیے اسمبلی میں آواز اٹھائیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی قبائلی علاقوں اور خیبرپختون خوا کے حقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ہر ایوان میں آواز اٹھائے گی۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ وہ پی ٹی آئی اور اُس کی قیادت جو کل تک ہمارے شانہ بشانہ قبائل کے احساسِ محرومی کے خاتمے کی بات کرتی تھی اور ماضی میں ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے استحصال کے خاتمے کے بلند بانگ دعوے کرتی تھی وہ جب سے وفاق اور خیبر پختون خوا میں برسراقتدار آئی ہے اُس نے اب تک قبائل کی فلاح وبہبود کے لیے ایک قدم تک نہیں اٹھایا ہے، بلکہ اپنی نالائقی اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے گورنر، وزیراعلیٰ کی فاٹا اصلاحات پر جاری کشمکش کے نتیجے میں سول بیوروکریسی اور پولیس بھی انضمام کے عمل میں روڑے اٹکانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پہلے بھی قبائل کا مقدمہ لڑا تھا اور آئندہ بھی وہ قبائل کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ اسلام اور قبائل لازم و ملزوم ہیں، قبائل 71 سال پہلے غیر مشروط طور پر پاکستان میں شامل ہوئے تھے جس کا صلہ ہماری مقتدر قوتوں اور اشرافیہ نے انہیں ستّر سال تک ایف سی آر کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے کی صورت میں دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو قوتیں انضمام کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں وہ کان کھول کر سن لیں، جماعت اسلامی قبائل کے محب وطن اور اسلام دوست لشکر کو ساتھ ملا کر ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے نہ صرف میدان میں ہے، بلکہ وہ اس حوالے سے ہر حد تک جانے کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے قبائلی اضلاع کی تعمیر وترقی کے لیے ایک ہزار ارب روپے، این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد حصے، وزیراعظم کے اعلان کے مطابق تیس ہزار لیوی جوانوں کی بھرتی، یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کی تعمیر کے مطالبے کو دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ان مطالبات کو تسلیم کروانے کے لیے جہاں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی سطح پر آواز اٹھائے گی وہیں اس ضمن میں بھرپور احتجاج سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اِس ماہ کے آخر میں جماعت اسلامی صوبے کی تمام جماعتوں کی آل پارٹیزکانفرنس بلائے گی جس میں قبائل کے حقوق کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
ورکرز کنونشن کے دوران ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ قبائل ان مطالبات کے ذریعے اپنا حق مانگتے ہیں، نہ کہ خیرات۔ لہِٰذا یہ عظیم الشان ورکرز کنونشن اور اس میں شریک ہزاروں شرکاء وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قبائلی عوام کو تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار فراہم کیا جائے۔ قبائل کو این ایف سی ایوارڈ کا 3 فیصد حصہ دیا جائے۔ سی پیک اور تمام وفاقی اور صوبائی ملازمتوں میں قبائل کو بھرپور حصہ دیا جائے۔ قبائلی اضلاع کے تباہ شدہ انفرااسٹرکچرکو بحال کرکے ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جائے۔ قبائلی اضلاع میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی فوری تقرری کی جائے۔ قبائلی اضلاع کے لیے اعلان شدہ 30 ہزار لیویز بھرتیوں کا عمل تیز کیا جائے۔
قبائلی اضلاع میں بلدیاتی اورصوبائی نشستوں پر الیکشن کا شیڈول فی الفور جاری کیا جائے۔ آپریشن سے متاثرہ مکانات، حجروں، مارکیٹوں، مساجد اور مدارس کی دوبارہ آبادکاری کے فنڈز میں دوگنا اضافہ کیا جائے۔ قبائلی اضلاع کے سیکڑوں لاپتا افراد کو فوری طور پر رہا کرکے جگہ جگہ قائم چیک پوسٹوں کو ختم کیا جائے۔ قبائلی اضلاع میں یونیورسٹی، میڈیکل، انجینئرنگ، ٹیکنیکل کالج اور اسپتال قائم کیے جائیں۔ قبائلی اضلاع میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ ختم کرکے سوئی گیس ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائے۔ قبائلی اضلاع کوکم ازکم 20 سال تک ہرقسم کے ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ قبائلی اضلاع میں زرعی ترقی کے لیے چھوٹے ڈیم تعمیر کرکے کاشت کاروں کو بلاسود قرضے دیے جائیں۔ قبائلی علاقوں میں تجارت کے فروغ کے لیے افغانستان کے ساتھ تمام کراسنگ پوائنٹس کھولے جائیں۔ قبائلی اضلاع کی معدنیات میں مقامی اقوام اور علاقوں کو آمدن میں کم از کم نصف حصہ دیا جائے۔ مقامی قبائل کو نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑیوں کے استعمال کی اجازت دی جائے۔ قبائلی علاقوں میں کھیل کود اور دیگر مثبت سیاحتی و ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ قبائلی نوجوانوں کو اندرون اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

Share this: