صادق آباد کی تاریخی لائبریری

میر سید زاہد حسین کی یادگار کو جدید طریقوں سے محفوظ کرنے کی ضرورت

نصیر احمد سلیمی
بھائیوں کی طرح عزیز دوست برادرِ محترم طارق مصطفی باجوہ اور اُن کے بھائیوں کی نوازش کہ انہوں نے اپنے فیملی فارم پر آنے کی دعوت دی، اور اُن کی وجہ سے ایک بار پھر صادق آباد میں میر سیّد زاہد حسین (مرحوم) کی یادگار لائبریری کو دیکھنے کا موقع مل گیا۔ قبل ازیں زمانۂ طالب علمی میں 1968ء میں اس لائبریری کو دیکھنے کا پہلی بار موقع بھی طارق بھائی کے توسط سے ہی ملا تھا۔ اُس وقت یہ لائبریری میر سیّد زاہد حسین کی پُرانی حویلی میں تھی، اب اس کا بڑا حصہ اُن کی زندگی میں تعمیر ہونے والی اُن کی نئی رہائش گاہ میں ہے ۔ میر سیّد زاہد حسین (مرحوم) کی اکلوتی نرینہ اولاد میر فضل الٰہی فضلی نے بتایا کہ میرے والد مرحوم کی قائم کردہ لائبریری میں جو پرانی حویلی اور نئی رہائش گاہ میں موجود ہے، محتاط اندازے کے مطابق پچاس ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ کچھ اضافہ میں نے والد محترم کے انتقال کے بعد کیا، خاص طور پر قرآنِ حکیم کے نادر اور نایاب نسخوں کا۔ کتب کی تعداد سے قطع نظر اہم چیز یہ ہے کہ میر سیّد زاہد حسین کی قائم کردہ ذاتی لائبریری کے قیام کو سوسال ہونے کو ہیں۔ میر سیّد زاہد حسین حیات تھے تو اہلِ علم اور اہلِ صحافت کا اس لائبریری کو دیکھنے اور اس سے استفادے کے لیے آنا جانا لگا رہتا تھا، جس کی وجہ سے اس کتب خانے کا ذکر یہاں آنے والوں کے مضامین اور سفرناموں میں ہوتا رہتا تھا۔ اس ناچیز کو بھی ساٹھ کے عشرے میں اس کتب خانے سے واقفیت بابائے اُردو مولوی عبدالحق (مرحوم) کے قائم کردہ اُردو کالج کے اُستاذ اور معروف محقق ڈاکٹر محمد ایوب قادری (مرحوم) کے سفرنامہ صادق آباد سے ہوئی تھی۔ روزنامہ ’نوائے وقت‘ اور ہفت روزہ ’چٹان‘ میں تو میر سیّد زاہد حسین اور ان کی لائبریری کا ذکر رہتا ہی تھا۔ میر سیّد زاہد حسین نے ’نوائے وقت‘ کے بانی حمید نظامی (مرحوم) کے شانہ بہ شانہ حصولِ پاکستان کی تاریخ ساز جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا تھا۔ آغا شورش کاشمیری (مرحوم) اور نظامی برادران سے میر زاہد حسین کے گھریلو سطح کے تعلقات تھے۔ اس لائبریری میں نادر مخطوطات کے علاوہ اُردو، فارسی اور انگریزی زبان میں شائع ہونے والی ہر شعبے سے متعلق اہم کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ غالب، میر تقی میر، علامہ اقبال، داغ دہلوی کا کلام اور ان پر ہونے والے کام سے متعلق کتابوں کا الگ الگ سیکشن ہیں۔ جب کہ قدیم و جدید قابلِ ذکر اہم شعراء کا قریب قریب سارا کلام بھی موجود ہے۔ اس لائبریری میں فیض احمد فیض کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک غزل فریم میں لگی ہوئی ہے۔ شاید انہوں نے یہاں آمد کے موقع پر میر سیّد زاہد حسین کی فرمائش پر لکھ کر دی تھی۔ اس لائبریری میں ایک اہم سیکشن قرآنِ حکیم کے قدیم و جدید نسخوں کا ہے جس میں چمڑے پر منقش خطاطی میں قرآنِ کریم کے کئی قدیم قلمی نسخے ہیں۔ ایک اور اہم قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ قائداعظم اور تحریکِ پاکستان پر شائع ہونے والی اہم کتب کا بھی خاصا ذخیرہ یہاں ہے۔ اس کے علاوہ قدیم اخبارات و جرائد بھی بڑی تعداد میں یہاں موجود ہیں۔ ’الہلال‘ کی پوری فائل تو نہیں ہے، تاہم اس کے کچھ پرچے ضرور ہیں۔ البتہ روزنامہ ’ڈان‘ دہلی اور کراچی روزنامہ ’نوائے وقت‘ اور ہفت روزہ ’چٹان‘ کی پوری فائل موجود ہے۔ باقی اخبارات و جرائد کو اس طرح محفوظ نہیں رکھا جاسکا ہے جیسے روزنامہ ’ڈان‘ اور روزنامہ ’نوائے وقت‘ اور ہفت روزہ ’چٹان‘ کی فائلوں کو جلد بندی کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔ تاہم اکثر قومی اور مقامی اخبارات و جرائد کا خاصا ذخیرہ ڈھیر کی شکل میں موجود ہے۔ میرے ذاتی خیال میں اس تاریخی لائبریری میں مزید اضافہ کرنے سے زیادہ اہم میر صاحب کے بیٹے میر سیّد فضل الٰہی فضلی کے لیے یہ ہونا چاہیے کہ اس تاریخی ورثے کو جدید تقاضوں کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ میر فضل الٰہی فضلی اس کو ’دیمک‘ سے محفوظ رکھنے کے لیے روایتی طریقہ ضرور اختیار کررہے ہیں۔ مگر اس لائبریری کو محفوظ رکھنے کا یہ طریقہ زیادہ دیر تک کارآمد نہیں رہ پائے گا۔ اس کے لیے فضلی صاحب کو ایک بڑی اور کشادہ بلڈنگ تعمیر کرانے کی ضرورت ہے جو وہ اپنے وسائل سے بآسانی تعمیر کرا سکتے ہیں جس کا انہوں نے خود بھی اظہار کیا ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔ اگر وہ ایسا نہ کرپائے تو چند سال بھی اس لائبریری کو اس حالت میں بھی رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
فضلی صاحب کو اسے محفوظ ہی نہیں رکھنا ہے بلکہ اُن اہلِ علم کے لیے جو یہاں آکر تحقیق کا کام کرنا چاہیں، اس سے استفادہ کرنے کی کوئی سبیل بھی پیدا کرنا ہوگی۔ فوری طور پر اس لائبریری کے لیے ایسے مستند لائبریرین کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو اسے موضوعات کے اعتبار سے جدید خطوط پر ترتیب دے سکے۔
آج کے سیاست دانوں کی بات تو الگ ہے، تاہم ماضی قریب تک پورے برصغیر میں سیاست میں سرگرم عمل شخصیات کے پاس اپنے ذاتی کتب خانوں کا ہونا معمول کی بات تھی۔ سندھ، پنجاب، صوبہ خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں شاید ہی کوئی پرانا بڑا سیاست دان، عالم دین اور وکیل ہو جس کا اپنا ذاتی کتب خانہ نہ رہا ہو۔ جنوبی پنجاب اور خصوصاً سندھ اس اعتبار سے بڑا خوش نصیب رہا ہے کہ یہاں ذاتی کتب خانے قائم کرنے کی روایت بڑی قدیم ہے۔ یہاں کے قدیم مقامی باشندے ہوں یا اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی ابتدا میں دوسرے علاقوں سے آکر آباد ہونے والے ہوں، اُن کے پاس چاہے جتنا بھی مال و دولت رہا ہو، اشرافیہ (ایلیٹ کلاس) میں ان کا شمار اُسی وقت ہوتا تھا جب اُن کے پاس ذاتی لائبریری بھی ہوتی۔ اگرچہ سندھ میں خاصی تعداد میں آج بھی ذاتی کتب خانے موجود ہیں، مگر بدقسمتی سے کئی شہروں میں ذاتی کتب خانے قائم کرنے والے بزرگوں کی اولادوں کی لاپروائی اور غفلت کے باعث نادر اور نایاب کتب خانے برباد بھی ہوئے، اور کچھ کوڑیوں کے مول ردّی کے بھائو بیچ بھی دیے گئے۔ ان سطور کے لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس تاریخی کتب خانے کو برباد ہونے سے بچانے کی طرف میر سیّد زاہد حسین کے وارث بھی بھرپور توجہ دیں، اور ریاست پاکستان کا بھی فرض ہے کہ وہ اس قومی علمی ورثے کی حفاظت کے لیے تکنیکی معاونت اور مشاورت فراہم کرے۔ آخر میں مناسب ہوگا کہ اس تاریخی کتب خانے کو قائم کرنے والے میر سیّد زاہد حسین اور اُن کے خاندان کے بارے میں اختصار کے ساتھ ذکر ہوجائے۔ ان کے بزرگ 1880ء میں میرٹھ سے ہجرت کرکے ریاست بھاول پور میں آکر آباد ہوئے۔ ان کے پہلے بزرگ میر سیّد محمد یامین آئے تھے۔ وہ مشرقی پنجاب کی ریاست مالیر کوٹلہ میں والیِ ریاست کے دیوان ہوئے تھے جسے عرفِ عام میں وزیراعظم بھی کہا جاتا تھا۔ میر سیّد زاہد حسین کے والد میر سیّد عابد حسین بھی اس علاقے کی معروف سماجی شخصیت تھے، اور ان کے چچا میر سیّد کرنل سعید احمد ہاشمی نواب بھاول پور، الحاج نواب محمد صادق خان عباسی کے طویل عرصے تک وزیر رہے ہیں۔ کرنل ہاشمی نواب بھاول پور کے انتقال تک اُن کے مشیر تھے۔ میر سیّد زاہد حسین کے بزرگ صادق آباد میں آکر آباد ہونے سے پہلے کچھ عرصہ ضلع ساہیوال کے چک نمبر 34/12 این میں بھی مقیم رہے۔ میر سیّد زاہد حسین کی والدہ ان کی پیدائش کے وقت اپنے میکے چیچہ وطنی چلی گئی تھیں، وہیں 1914ء میں میر سیّد زاہد حسین کی پیدائش ہوئی۔ میر صاحب کو کتابیں جمع کرنے کا شوق زمانۂ طالب علمی میں 1930ء میں ہوگیا تھا جب وہ آٹھویں جماعت میں تھے، یہ شوق مرتے دم تک برقرار رہا۔ انہوں نے اپنے بیٹے فضلی کو آخری وصیت بھی کتب خانے میں اضافہ کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کی، کی تھی۔ میر صاحب کا خاندان پاکستان کے حصول کی تاریخ ساز جدوجہد میں بڑا فعال اور متحرک رہا۔ نوجوان میر سیّد زاہد حسین نے بھی پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ ان کی لائبریری میں ان کے نام قائداعظم کا ٹیلی گرام آج بھی موجود ہے۔
مادرِملت محترمہ فاطمہ جناح (مرحومہ) نے 1964ء میں جنرل محمد ایوب خان (مرحوم) کے مقابلے میں حزبِ اختلاف کی متفقہ امیدوار کے طور پر صدارتی انتخاب لڑا، تو میر صاحب نے مادر ملت کی انتخابی مہم میں بھی بھرپور حصہ لیا تھا۔ مادرِ ملت اپنی انتخابی مہم پر بھاول پور آئی تھیں تو میر صاحب اُن کے ساتھ ساتھ رہے تھے۔ اگرچہ مادرِ ملت کو زبردست دھاندلی کے ذریعے ہرا دیا گیا تھا، تاہم پورے پنجاب میں بھاول پور وہ واحد ڈویژن تھا جہاں دھاندلی کے باوجود مادرِ ملت کو بڑے ووٹ ملے تھے۔ صادق آباد شہر میں تو مادرِ ملت کو باقاعدہ کامیابی ملی تھی۔
اس ناچیز کے سفرِ صادق آباد کا مقصد اس کی تحصیل ماچکھہ گوٹ میں بھائی طارق مصطفی باجوہ اور ان کے بھائیوں کے فیملی فارم پر ان کے ساتھ ایک دن گزارنا تھا، جہاں امریکہ سے ان کے دوسرے بھائی محسن مصطفی باجوہ، جناب ڈاکٹر سکندر مصطفی باجوہ اور جناب امین مصطفی باجوہ بھی آئے ہوئے تھے۔ یہ فارم ان کے والد محترم چودھری محمد اشرف باجوہ (مرحوم) نے 1966ء میں صادق آباد شہر میں اپنی زرعی زمین فروخت کرکے یہاں بنجر زمین خرید کر آباد کیا تھا۔ یہ اُس وقت بے آباد جنگل تھا۔ اسے آباد کرنے میں ان کے والد محترم نے برسوں لگائے تھے۔ اب یہ علاقے کا ایک جدید ماڈل زرعی فارم ہے، جہاں آسٹریلیا سے بیج درامد کرکے جانوروں کا چارہ ’’روڈ گراس‘‘ گھاس کاشت کی جاتی ہے جو ساری کی ساری دبئی ایکسپورٹ کرنے والے خرید لیتے ہیں۔ اس چارہ کی فصل گرمیوں میں ایک ماہ میں، اور سردیوں میں دو سے تین ماہ میں تیار ہوجاتی ہے۔ سندھ اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں آسٹریلیا سے درامد شدہ بیج سے کوئی 30۔35 ہزار ایکڑ رقبے پر یہ چارہ کاشت ہوتا ہے جو سارا کا سارا برامد کردیا جاتا ہے یا بڑے ڈیری فارم پر گائے، بھینسوں کی خوراک میں استعمال میں آتا ہے۔ ماچکھہ گوٹ میں ’’مصطفی فارم‘‘ کا انتظام طارق مصطفی باجوہ کے بھائی جو پیشے کے اعتبار سے میکینکل انجینئر ہیں، جناب احسن مصطفی باجوہ اور ان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ دونوں بیٹے اور ان کی تربیت یافتہ ٹیم جس میں جناب رختاج عباسی، جناب طاہر اور ان کے دیگر ساتھی چلاتے ہیں۔ ’’مصطفی فارم‘‘ پر ان کا دو ایکڑ رقبے پر ڈیرہ ہے جو بالکل سادہ دیہی معاشرے کا عکاس ہے، لیکن ہے بہت خوب صورت۔ جہاں بڑی تعداد میں موسم کے پھول اور پھل دار درختوں کے پودوں کی ایسی بہار ہے جس کے سحر کا یہاں آنے والا ہر شخص اسیر ہوجاتا ہے۔ جب کہ یہاں شہری زندگی کی ضروریات کی ہر سہولت بھی میسر ہے۔ یہاں آکر افسوس ہوا کہ اتنی خوب صورت جگہ پر میں نے آنے میں اتنی دیر کیوں کی۔

Share this: