۔’’بہتری کے لیے توازن‘‘۔

عالمی یوم خواتین کے موقع پر ورکنگ وومن ٹرسٹ کے زیر اہتمام کانفرنس کا انعقاد
پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل بتایا جاتا ہے۔ یہ خواتین ماں، بہن، بیٹی، بیوی کے علاوہ مردوں کے شانہ بشانہ آج ہر شعبۂ زندگی میں کام کرتی نظر آتی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی قوانین ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہماری خواتین کئی مسائل کا شکار ہیں۔ عالمی یومِ خواتین ہر سال مختلف عنوانات لے کر آتا ہے اور خواتین کے مسائل کے حل کی جانب اربابِ اقتدار و اختیار کو بھی متوجہ کرتا ہے۔ ورکنگ وومن ٹرسٹ پاکستان کا رجسٹرڈ غیر سرکاری ادارہ ہے جو ایک دہائی سے پاکستان بھر میں ورکنگ وومن کے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع اور مربوط کوشش کررہا ہے۔ ورکنگ وومن ٹرسٹ نے عالمی یومِ خواتین کی مناسبت سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں خواتین کانفرنس کی صورت میں ایک خوبصورت اور بامقصد تقریب کا انعقاد کیا، جس کا عنوان ’’بہتری کے لیے توازن‘‘ رکھا گیا تھا۔
اسٹیج سیکریٹری کے فرائض شاہ تاج فاروقی اور ماریہ طلحہ نے انجام دیئے۔ تلاوت و نعت کے بعد کانفرنس میں شریک مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین مہمانان کو خوش آمدید کہا گیا۔ کانفرنس میں صحت، صحافت، علم و ادب، معیشت، قانون، تعلیم سے تعلق رکھنے والی کئی نمایاں خواتین شریک تھیں۔
کانفرنس کی پہلی مقررہ لبنیٰ فاروق ملک تھیں جن کا موضوع گفتگو ’’پاکستانی معیشت میں خواتین کا کردار‘‘ تھا۔ لبنیٰ فاروق ملک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مختلف شعبہ جات میں کام کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں، آپ پاکستان ڈپازٹ کارپوریشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے ورکنگ وومن ٹرسٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ خواتین کے معاشرت میں کردار پر بات کرنے پر خوشی ہوتی ہے۔ پاکستانی خواتین کا صحیح معنی میں معاشی پہیہ گھمانے میں جو کردار ہے وہ ان فارمل معیشت میں ہے۔ فارمل میں نوکری، کاروبار شامل ہے جو کہیں نہ کہیں کاغذ پر درج ہوتا ہے۔ اگر ہم پالیسی پر کوئی اثر ڈالنا چاہیں تو سب سے مشکل کام یہ ہے کہ خواتین کے ان فارمل کردار کو ریکگنائز کیا جائے۔ یہ اصل میں ریڈیکل چینج کہلائے گا۔ اس کے لیے گھریلو صنعتوں کو ہی مینج کریں یا کوئی پلیٹ فارم دے کر اس کو ایک قوت بنائیں تو ایک بڑا اثر ڈالنے والا کام ہوگا۔ سماجی میڈیا پر دیکھیں تو کئی خواتین ملبوسات بیچنے سے لے کر کھانوں تک ایک بڑا معاشی پہیہ چلا رہی ہیں۔ اس حوالے سے صوبائی یا مرکزی سطح پر کوئی کام ہونا چاہیے۔ ایک اور چیز تربیت کی ہے،کیا ابھی تعلیم یافتہ خواتین کو زندگی کے اسکلز بھی سکھا رہے ہیں؟ یہ کام نصاب بہت کم سکھاتا ہے۔ گھر والے بھی اچھے نمبر تک محدود رہتے ہیں۔ اس کے لیے ماسٹرز ڈگری کی ضرورت نہیں۔گھر کی معاشیات، بچت کرنا، بجٹ بنانا، گھر کو کس طرح سے مینج کریں، پانچ سال بعد بچوں کی ضروریات کیسے مینج کریں… اگر ان سب میں آپ بچوں کو مشاورت میں شامل کریں تو اس سے ان کی اچھی تربیت ہوگی۔ لائف اسکل یہ ہے کہ ہمیں کس سے فائدہ ہوگا۔ حال یہ ہے کہ لوگوں کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ بینک سے قرض لینا ہو تو واپس بھی کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے لائف اسکلز جب تک نہیں سکھائیں گے تب تک بہتری نہیں آئے گی۔ یہ کام حساب یا معاشرتی علوم کی تدریس میں کیا جا سکتا ہے۔معروف ماہر تعلیم رومیصہ زاہدی نے ’’وومن امپاورمنٹ اور درپیش چیلنجز‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں ووکنگ وومن کی وضاحت کرنا ہوگی۔ کیا یہ وہ عورت ہے جو کما کر لا رہی ہے؟ یا وہ بھی ہے جو سماجی خدمت کا جذبہ لے کر بغیر مالی مفاد کے کام کررہی ہے، یا وہ جو گھر میں رہ کر کام کرتی ہے؟ میں نے دو بچیوں کی بات سنی، ایک کہتی ہے: میری امی تو پرنسپل ہیں۔ دوسری نے کہا: میری امی تو کچھ نہیں کرتیں، گھر پر رہتی ہیں۔ مجھے یہ بات سن کر بہت تکلیف ہوئی، میں نے اُس سے پوچھا کہ بیٹا تمہیں یہ لنچ کون بنا کر دیتا ہے؟ کہنے لگی: امی۔ میں نے پوچھا: صبح کون تیار کرواتا ہے؟ اس نے کہا: امی۔ میں نے پوچھا: تمہاری امی صبح کب اٹھتی ہیں؟ تو اس نے کہا: سب سے پہلے وہی اٹھتی ہیں۔ تو میں نے کہا: جب تم گھر جاؤ گی تو تمہیں کھانا کون پکا کر دے گا؟ کہنے لگی: امی۔ تو میں نے کہا: کیا یہ کوئی کام نہیں ہے؟ وہ کما نہیں رہیں کیا اس لیے وہ ورکنگ وومن نہیں ہیں؟ کیا کام کے لیے پیسہ ملنا معیار ہے؟ اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ ورکنگ وومن کی وضاحت کرکے ہمیں خواتین کے ہر کام کو ریکگنائز کرنا ہوگا۔ اس وقت ہمارا بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہمارے ہاں اولڈ ہومز اور ڈے کیئر سینٹر کھلتے جارہے ہیں، فیملی سپورٹ کا تصور ختم ہورہا ہے۔ اس کے نتیجے میں سوسائٹی اندر سے کھوکھلی ہوتی جارہی ہے۔
وومن ایمپاورمنٹ کے پیچھے عورتوں پر مظالم کو ایشو بنایا گیا، جس کے پیچھے صرف مغرب کے رنگ میں رنگنے کا منصوبہ ہے۔ اعداد و شمار کو دیکھیں جو اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ 2018ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 30 عورتیں غیرت کے نام پر ماری گئیں۔ جبکہ امریکہ کے 2016ء میں ڈومیسٹک وائلنس کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ تمام ریاستوں میں 1809خواتین کی اموات ہوئیں۔ جبکہ پچھلے سال یہ رجحان 30فیصد بڑھا ہے۔ 2000 خواتین روزانہ کال کرتی ہیں اور اپنے اوپر مظالم کی شکایت درج کراتی ہیں۔ اتنے واضح اعداد و شمار کے باوجود آپ دیکھیں کہ پاکستان کو زبردستی ’رگیدا‘جارہا ہے، مزید یہ کہ اس کو اسلام سے بھی نتھی کررہے ہیں، جبکہ اسلام کی تعلیمات اس کے مکمل برعکس ہیں۔ حضرت عمر ؓ کی سیرت سے بھی اس کی کئی بڑی مثالیں مضبوط روایات کے ساتھ موجود ہیں۔ اسلام نے جو مقام عورت کو دیا ہے اس کا کوئی متبادل نہیں۔ مرد و عورت کے درمیان مقابلے کی جو فضا بنائی جارہی ہے وہ ایک خطرناک عمل ہے۔مردوں کی بالادستی کا نعرہ بنیادی طور پر جہالت کا شاخسانہ ہے۔ ہمیں جہالت کو دور کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس نعرے کے بودے پن کا اندازہ کریں کہ پاکستان میں اسقاطِ حمل کا حق دلوانے کے لیے پوری کوشش کی جارہی ہے۔ میں اپنا ذاتی تجربہ بتاتی ہوں کہ سیکڑوں خواتین آج بھی آتی ہیں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ، جن کا مطالبہ ایبارشن کا ہوتا ہے، لیکن کہتے ہیں کہ پہلے الٹراساؤنڈ کرلیں، لڑکی ہو تو کریں، لڑکا ہو تو نہ کریں۔ ذرا تصور کریں کہ 2019ء میں لڑکیوں کو پیدائش سے پہلے کون لوگ قتل کروا رہے ہیں؟ پھر کس منہ سے خواتین کے استحصال اور ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں! اصل بات یہ ہے کہ ہم بھیڑ چال میں چلے جارہے ہیں۔
اس لیے اصل چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں گھریلو کام کی سہولیات لانے کی ضرورت ہے۔ باسہولت کام کا ماحول، ڈے کیئر فیسلٹی جیسی سہولیات دینے کی ضرورت ہے۔ ورنہ میری دوست کی طرح آپ کو بھی زندگی بھر ملال رہے گاکہ میں نے اپنے بچے کا پہلا قدم نہیں دیکھا۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ ہم توازن کو اپ سیٹ نہ کریں۔ ایک عورت جسے آزادی کے نام پر باپ، بھائی، بیٹے، شوہر کی ’غلامی‘ (ذمہ داری) سے آزاد کرواکر ایک باس کی غلامی میں دے دیں گے تو کیا یہ دانش مندی ہے؟ جان لیں کہ کیمپینئن شپ پھر بھی چل سکتی ہے، مقابلہ نہیں چل سکتا۔ خواتین و مرد ایک گاڑی کے پہیے ہیں، ساتھ چلیں گے تب ہی گاڑی چلے گی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب خواتین سے مشورہ کرتے تھے تو باقی پھر کیا مثال دی جا سکتی ہے! اس لیے گھروں کو توڑنے کے بجائے گھروں کو بنانے کی ضرورت ہے۔
کانفرنس سے خطاب کے لیے اگلی مقررہ تانیہ وقار تھیں، جو بنیادی طور پر ایک ماہرِ نفسیات ہیں، ضیاء الدین یونیورسٹی سے منسلک پروفیشنل کاؤنسلر ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے ذہنی مسائل اور پریشانیوں سے نکلنے کی راہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’’انسانی دماغ سب کا ملتا جلتا ہے۔ کچھ لوگ خوش باش ہوتے ہیں،کچھ بہت اچھی زندگی گزارتے ہیں، کچھ بہت پریشان ہوتے ہیں۔کسی بڑی بیماری میں مبتلا ہونا ایک الگ بات ہے۔ ابراہم لنکن، بیتھوون، ٹالسٹائے، صادقین نے بڑے کارنامے کیے، لیکن ان سب کی گھریلو زندگی کامیاب نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ زندگی میںتوازن نہیں تھا ۔ یہ اختیار ہمارے اپنے اندر ہے کہ ہم کس طرح توازن قائم کرتے ہیں۔ سوا لاکھ افراد سے ایک سوال پوچھا گیاکہ کیا آپ کو اسٹریس ہے؟ وجہ کیا ہے؟کچھ سال بعد ڈیٹا چیک کیا، تو جن لوگوں نے ہاں کہا وہ سب مر گئے۔ جن لوگوں نے اسٹریس کو برا نہیں کہا وہ اچھے انداز سے جیتے رہے۔ بات یقین کی تھی کہ آپ کس سوچ کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ بطور انسان ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور چیز یعنی دماغ ہے، جس کی بنیاد پر انسان نے دنیا کو مسخر کرلیا ہے۔ دماغ سے حاصل ہونے والی یقین کی قوت سے انسان بڑے بڑے پہاڑ سر کرلیتا ہے۔ بیس افراد کو لیا جن کو بلیڈنگ السر تھا، کہا کہ ایک معجزاتی دوا ہے جو پندرہ دن میں علاج کردیتی ہے۔ دوسرے گروپ سے کہا کہ یہ ایک تجرباتی دوا ہے، ہوسکتا ہے کہ کام کرے، ہوسکتا ہے کہ نہ کرے۔ پندرہ دن بعد دونوں گروپ آئے۔ دوائی کسی کو بھی نہیں دی، چینی کی گولی دی گئی۔ پہلے گروپ والے 75فیصد مریض اچھے ہوگئے کیونکہ انہوں نے یقین کرلیا تھا۔ اصل میں ہمارے جسم کا اندرونی نظام خود علاج کرتا ہے۔ اتنی صلاحیت ہے انسانی دماغ میں کہ وہ اپنے سوچنے کے عمل سے ہی مقصد حاصل کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ معیاری خیالات، معیاری نمائندگی مصداق ہے۔ خوف اگر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے تو ہمیں بہت کچھ کرنے نہیں دیتا۔ سوچ کے زاویے بدل کر ہم بہت ساری تبدیلیاں لا سکتے ہیں اور توازن قائم کرسکتے ہیں۔ اپنی زندگی کے ہم کیپٹن ہیں، ہمیں ہی اس زندگی کی کشتی کو چلانا ہے۔
کانفرنس کے موقع پر عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے اکرم خاتون، چانسلر جناح یونیورسٹی کو بینکنگ کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے پر لائف ٹائم ایوارڈ دیا گیا۔ اکرم خاتون فرسٹ وومن بینک کی پہلی صدر بھی رہ چکی ہیں۔
ورکنگ وومن کی جنرل سیکریٹری طلعت فخر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ورکنگ وومن کی جدوجہد پر مفصل انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہمارا دیرینہ مطالبہ اقتدار کے ایوانوں میں سنا گیا، اور پیشہ ورانہ خواتین کے لیے ڈے کیئر کی سہولت کی فراہمی کے لیے حکومتی منظوری ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے پاکستان کی نظریاتی، سیاسی، معاشی و معاشرتی ضروریات کے مطابق ٹھوس، سنجیدہ اور متوازن حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام اقدامات کیے جائیں جو خواتین کے لیے کام کے ماحول کو سازگار بنا سکیں، اور بنائے گئے قوانین پر عمل کرایا جائے۔ بڑے پیمانے پر خواتین کے لیے ٹیکنیکل اور ووکیشنل ادارے قائم کیے جائیں۔ قومی ترقی کے عمل میں خواتین کی مؤثر اور فعال شرکت کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے۔ اسی طرح ملکی سرکاری اور نجی ذرائع ابلاغ کو خواتین، معاشرتی اقدار و روایات اور قومی ترجیحات کے احترام کا پابند بنایا جائے۔ ورکنگ وومن کا سب سے اہم مسئلہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ لچک دار اوقاتِ کار کے طریقہ کار کو رائج کرتے ہوئے خواتین کو تمام تر آئینی اور شرعی حقوق فراہم کیے جائیں۔ خواتین کی تعلیمی سرگرمیوں کو قومی اور معاشرتی ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔ خواتین کو ہر جگہ پر سراسیمگی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ اسی طرح خواتین اسٹاف کو ٹرانسپورٹ کی باعزت، تحفظ والی سہولت فراہم کی جائے۔ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی شمولیت کی عمر کی حد بڑھائی جائے۔ میٹرنٹی چھٹیوں پر عمل کرایا جائے۔ پالیسی سازی کے تحت دیہی خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ کارخانوں میں بغیر معاہدہ کام کرنے والی خواتین کے معاوضے کی شرح مقرر کی جائے اور ان کا استحصال ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ خواتین کے لیے کیرئیر گائیڈنس کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری اسکولز سندھ تحسین فاطمہ نے بھی منتظمین کو کامیاب اور بامقصد کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ والدین کا کردار اس پورے عمل میں نہایت اہم ہے۔ میرا مستقبل بنانے میں میری والدہ کا کردار اہم رہا۔ آج ہر جگہ خواتین ہی خواتین نظر آتی ہیں۔ اسکولوں میں پوزیشن سے لے کر کالج اور یونیورسٹیوں تک دیکھ لیں۔ ورکنگ وومن ایک مثبت سمت میں کام کررہی ہیں، میری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔
کانفرنس کی مہمانِ خصوصی، چانسلر جناح یونیورسٹی اکرم خاتون نے کہا کہ ’’ہماری 70 فیصد خواتین دیہی علاقوں میں ہیں جو کہ اعداد و شمار میں آتی ہی نہیں۔ جب میں وومن بینک کی صدر تھی تو ہم دیہی خواتین کو بھی فنانس کررہے تھے۔ اس کے نتیجے میں اُن کے اثاثوں کی اونرشپ ہوئی اور وہ غیر روایتی سے روایتی سیکٹر میں آگئیں۔ یہ کام ہم نے مختلف اداروں کے ساتھ شمولیت کرکے انجام دیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ہم نے دیہی خواتین کے لیے مائیکرو فنانس کا پروگرام شروع کیا۔ اس سے بڑے اثرات مرتب ہوئے۔ ورکنگ وومن کے پلیٹ فارم سے کام کو جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ ورکنگ وومن کہیں بھی ہوں، مسائل یہی ہیں۔ توازن ہی نہیں رکھ پا رہی ہیں۔ کام کے لیے لچکدار اوقات ہونے چاہئیں۔ فیملی سپورٹ، کمیونٹی سپورٹ بھی ہونی چاہیے۔ کارپوریٹ سیکٹر کی بھی سپورٹ ہونی چاہیے۔
کانفرنس کی ایک خاص بات ملبوسات کے وہ اسٹال تھے جو کہ ورکنگ وومن کے ذیلی پروجیکٹ ’’ہنر بنائے زندگی‘‘ کے تحت دیہی خواتین کو ہنرمند بناکر تیار کیے گئے تھے۔
کانفرنس کے شرکاء کے سامنے ملٹی میڈیا پروجیکٹر کے ذریعے ورکنگ وومن ٹرسٹ کے خوبصورت گرافکس پر مبنی دس سالہ کاموں اور تعارف پر مبنی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔
موجودہ حالات کے تناظر میں ورکنگ وومن ٹرسٹ کی جانب سے اپنی افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین، مکمل حمایت اور یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام پر ایک ترانہ اجتماعی طور پر پڑھا گیا۔کانفرنس میں جامعہ کراچی شعبہ ابلاغ عامہ کی سینئر استاد پروفیسر شاہدہ قاضی، ڈاؤ نرسنگ اسکول کی ڈائریکٹر شہلا نعیم، وومن ڈس ایبل فاؤنڈیشن کی کوثر نظامانی، ورلڈ میمن فاؤنڈیشن کی امینہ سورتی، ڈاکٹر سائرہ بانو، کراچی وومن چیمبر کی سعیدہ بانو سمیت کئی خواتین شریک تھیں۔

Share this: