داراشکوہ

شاہجہان اور ممتاز محل کا سب سے بڑا بیٹا تھا، جو اجمیر کے قریب 20 مارچ 1615ء کو پیدا ہوا۔ پہلے بارہ ہزاری منصب ملا، پھر ولی عہدی کا اعلان ہوا۔ مختلف صوبوں میں صوبیدار رہا۔ اورنگ زیب چھوٹا بھائی ہونے کے باوجود دارا کو سلطنت کے لائق نہیں سمجھتا تھا۔ دارا ویدانت سے متاثر ہوچکا تھا اور ہندوئوں کی طرف زیادہ مائل تھا۔ آخر تخت نشینی کی جنگ چھڑ گئی۔ آگرے کے قریب جنگ ہوئی، جس میں دارا نے شکست کھائی اور تاج و تخت سے محروم ہوگیا۔ دارا شکوہ نے ایران کے صفوی حکمران شاہ عباس دوم سے مدد مانگی۔ ایران جاتے ہوئے راستے میں ڈھاڈر کے افغان سردار ملک جیون نے دارا شکوہ اور اس کے بیٹے سپہر شکوہ کو گرفتار کرکے دہلی بھجوا دیا، جہاں دارا پر الحاد و بے دینی کے الزام میں مقدمہ چلا۔ علماء کے فتوے پر 30 اگست 1659ء کو اسے قتل کردیا گیا۔ دارا کے، مسلمان صوفیوں اور ہندو سنیاسیوں سے گہرے تعلقات تھے۔ وہ قرآن مجید اور بھگوت گیتا میں کوئی فرق نہیں سمجھتا تھا۔ یہ نظریۂ وحدت الوجود کا پیروکار تھا۔ اس کی متعدد تصانیف میں ’’سفینۃ الاولیاء‘‘ (1640ء)، ’’سکینتہ الاولیا‘‘ (1642ء) اور ’’مجمع البحرین‘‘ (1650ء) زیادہ مشہور ہیں۔(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

کاپرنیکی

پولینڈ کے ممتاز ہیئت داں کاپرنیکی (1543ء) نے 1507ء میں ایک کتاب لکھی جس میں بطلیموس (151ء میں زندہ تھا) اور فیثا غورث کے نظام ہائے شمسی پر بحث کرنے کے بعد آخر الذکر کی تائید کی تھی، لیکن پوپ کے ڈر سے سینتیس برس تک کتاب کو چھپائے رکھا۔ آخر موت سے چند ماہ پہلے اسے شائع کیا۔ پوپ کو معلوم ہوا تو اس نے فوراً اسے کافر و ملحد قرار دیا، لیکن اس فتویٰ کے وقت کاپرنیکی فوت ہوچکا تھا ورنہ انتہائی اذیت کا شکار ہوتا۔ یہاں یہ ذکر بے جا نہ ہوگا کہ بطلیموس کے ہاں زمین مرکزِ کائنات ہے اور تمام سیارے شمس و قمر سمیت اس کے گرد گھومتے ہیں، لیکن فیثا غورث سورج کو مرکز قرار دیتا ہے جس کے گرد زمین اور سیارے چکر کاٹتے ہیں۔ (ماہنامہ ’’چشم بیدار‘‘۔ مئی 2011ء)

یہ خون تو پاکستان کے لیے بہنا تھا

پاکستان بننے سے پہلے کا قصہ ہے۔ بمبئی میں مسلمانوں کے محلے می ایک مسلمان بچہ بھاگا بھاگا کہیں جارہا تھا کہ سڑک پر ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔ چوٹ آئی اور خون بہنے لگا۔ خون دیکھ کر وہ بچہ رونے لگا۔ بچے کو روتا دیکھ کر ایک دو مسلمان راہ گیر رک گئے۔ انہوں نے بچے سے کہاکہ مسلمان کا بچہ ہوکر تھوڑا سا خون بہہ جانے پر رو رہے ہو۔ شرم کی بات ہے۔
بچے نے جواب دیا: ’’جناب۔ چوٹ لگنے اور خون نکلنے پر میں نہیں رو رہا۔ میں تو اس لیے رورہا ہوں کہ یہ خون پاکستان کے لیے بہنا تھا۔ آج بے کار میں بہنے لگا۔
جب یہ واقعہ قائداعظم کو سنایا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’ اب پاکستان کے بننے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی‘‘۔
(فیملی میگزین، 9 ، 15 اگت 1998ء)

حکایت

ایک بارہ سنگے نے چشمۂ آب میں اپنا عکس دیکھا تو اپنے سینگوں کی شان اور خوب صورتی دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ لیکن جب اس کی نظر پتلی پتلی ٹانگوں پر پڑی تو کہنے لگا کہ: ’’ صانعِ قدرت نے یہ کیسی بے جوڑ ٹانگیں مجھ کو بخشی ہیں جو میرے سینگوں کی خوب صورتی کو بھی عیب لگاتی ہیں‘‘۔
یہ دل میں سوچ رہا تھا کہ اتنے میں کوئی شکاری آپہنچا۔ بارہ سنگا ایسا تیز بھاگا کہ شکاری کو اس کے ہاتھ آنے کی امید نہ رہی۔ لیکن تھوڑی دور جاکر جنگل کی جھاڑی میں سینگ اٹک گئے اور پکڑا گیا۔ تب کہنے لگا: ’’ہائے میری بدعقلی، سینگوں سے میں خوش تھا وہی میری ہلاکت کا سبب ہوئے، اور ٹانگوں کو میں برا جانتا تھا انہوں نے مجھے موت سے بچانے میں کچھ کمی نہ کی‘‘۔
حاصل: جو چیز وقت پر کام آنے والی ہو اسی کو عزیز رکھنا چاہیے گو خوش نما نہ ہو۔
(’’منتخب الحکایات‘‘۔ نذیر احمد دہلوی)

اشعار

جرگہ میں لقندروں کے جا کر
حکمت بدنام ہو گئی ہے
شیریں دہنوں کی طرز گفتار
مقبول انام ہو گئی ہے
بے جا بھی نکل گئی ہے جو بات
تحسین کلام ہو گئی ہے
نامرد کے ہاتھ میں پہنچ کر
شمشیر نیام ہو گئی ہے
تکفیر برادران دیں بھی
شرط اسلام ہو گئی ہے

اسمعیل میرٹھی

Share this: