نیدرلینڈ (ہالینڈ) کے شہر یوتریخت میں ٹرام پر فائرنگ سے 3 افراد ہلاک، 9زخمی

ہالینڈ کے شہر یوتریخت میں ٹرام پر فائرنگ سے 3 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے اسٹیشن پر ٹرام میں گولیاں برسائیں اور فرارہوگیا، تاہم بعد ازاں فائرنگ کرنے والے مبینہ شخص کو گرفتارکرلیاگیا۔پیٹر جاپ آل برسبرگ نے ہیگ میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ یوتریخت میں مختلف مقامات پر فائرنگ ہوئی، ہم دہشت گردانہ مقاصد کو مسترد نہیں کرسکتے۔ ڈچ وزیراعظم مارخ رتے نے کہا کہ وہ اس واقعے سے شدید پریشان ہیں۔ واقعے کو دہشت گرد حملے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

بھارت میں شائع ہونے والی کتاب ’’کالکی اوتار‘‘

حال ہی میں بھارت میں شائع ہونے والی کتاب ’’کالکی اوتار‘‘ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہندوئوں کی مذہبی کتابوں میں جس کالکی اوتار کا تذکرہ ہے وہ آخری رسول محمدؐ بن عبداللہ ہیں۔ اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوتا تو وہ اب تک جیل میں ہوتا اور اس کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی، مگر اس کے مصنف پنڈت وید پرکاش برہمن ہندو ہیں اور الٰہ آباد یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ سنسکرت کے معروف محقق اور اسکالر ہیں۔ انہوں نے اپنی اس تخلیق کو ملک کے آٹھ مشہور ومعروف محققین پنڈتوں کے سامنے پیش کیا ہے جو اپنے شعبے میں مستند اور درست ہیں۔ انہوں نے کتاب کے بغور مطالعے اور تحقیق کے بعد یہ تسلیم کیا ہے کہ کتاب میں پیش کیے گئے حوالہ جات مستند اور درست ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کا نام ’’کالکی اوتار‘‘ یعنی تمام کائنات کے رہنما رکھا ہے۔ ہندوئوں کی اہم مذہبی کتب میں ایک عظیم رہنما کا ذکر ہے جسے ’کالکی اوتار‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے مراد حضرت محمدؐ ہیں جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں، ان کو کسی کالکی اوتار کا مزید انتظار نہیں کرنا، بلکہ محض اسلام قبول کرنا ہے، اور آخری رسولؐ کے نقشِ قدم پر چلنا ہے جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اِس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ اپنے اس دعوے کی دلیل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندوئوں کی مقدس مذہبی کتاب ’’وید‘‘ سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کیے ہیں:
(1) ’’وید کتاب میں لکھا ہے کہ ’’کالکی اوتار‘‘ بھگوان کا آخری اوتار ہوگا جو پوری دنیا کو ہدایت کا راستہ دکھائے گا۔‘‘ ان کلمات کا حوالہ دینے کے بعد پنڈت وید پرکاش کہتے ہیں کہ یہ صرف محمدؐ کے معاملے میں درست ہوسکتا ہے۔ (2) ’’ہندوستان‘‘ کی پیش گوئی کے مطابق ’’کالکی اوتار‘‘ ایک جزیرے میں پیدا ہوں گے اور یہ عرب علاقہ ہے، جسے جزیرۃ العرب کہا جاتا ہے۔ (3) مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ ’’کالکی اوتار‘‘ کے والد کا نام ’’وشنو بھگت‘‘ اور والدہ کا نام ’’سومانب‘‘ ہوگا۔ سنسکرت زبان میں ’’وشنو‘‘ اللہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور ’’بھگت‘‘ کے معنی غلام اور بندے کے ہیں۔ چنانچہ عربی زبان میں ’’وشنو بھگت‘‘ کا مطلب اللہ کا بندہ یعنی ’’عبداللہ‘‘ ہے۔ سنسکرت میں ’’سومانب‘‘ کا مطلب امن ہے جو کہ عربی زبان میں ’’آمنہ‘‘ ہوگا، اور آخری رسولؐ کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمنہ ہے۔ (4) وید میں لکھا ہے کہ ’’کالکی اوتار‘‘ زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ یہ دونوں پھل حضور اکرمؐ کو مرغوب تھے۔ وہ اپنے قول میں سچا اور دیانت دار ہوگا۔ مکہ میں محمدؐ کے لیے صادق اور امین کے القاب استعمال کیے جاتے تھے۔ (5) ’’وید‘‘ کے مطابق ’’کالکی اوتار‘‘ اپنی سرزمین کے معزز خاندان میں سے ہوگا اور یہ بھی محمدؐ کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ قریش کے معزز قبیلے سے تھے، جس کی مکہ میں بے حد عزت تھی۔ (6) ہماری کتاب کہتی ہے کہ بھگوان ’’کالکی اوتار‘‘ کو اپنے خصوصی قاصد کے ذریعے ایک غار میں پڑھائے گا۔ اس معاملے میں یہ بھی درست ہے کہ محمدؐ مکہ کی وہ واحد شخصیت تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے غارِ حرا میں اپنے خاص فرشتے حضرت جبریلؑ کے ذریعے تعلیم دی۔ (7) ہمارے بنیادی عقیدے کے مطابق بھگوان ’’کالکی اوتار‘‘ کو ایک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا، جس پر سوار ہوکر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کر آئے گا۔ محمدؐ کا ’’براق پر معراج کا سفر‘‘ کیا یہ ثابت نہیں کرتا؟ (8) ہمیں یقین ہے کہ بھگوان ’’کالکی اوتار‘‘ کی بہت مدد کرے گا اور اسے بہت قوت عطا فرمائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ جنگِ بدر میں اللہ نے محمدؐ کی فرشتوں سے مدد فرمائی۔ (9) ہماری ساری مذہبی کتابوں کے مطابق ’’کالکی اوتار‘‘ گھڑ سواری، تیراندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہوگا۔
پنڈت وید پرکاش نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے وہ اہم اور قابلِ غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ گھوڑوں، تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکا ہے۔ اب ٹینک، توپ اور میزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں، لہٰذا یہ عقل مندی نہیں ہے کہ ہم تلواروں، تیروں اور برچھیوں سے مسلح ’’کالکی اوتار‘‘ کا انتظار کرتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مقدس کتابوں میں ’’کالکی اوتار‘‘ کے واضح اشارے حضرت محمدؐ کے بارے میں ہیں جو اِن تمام حربی فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ٹینک، توپ اور میزائل کے اس دور میں گھڑ سواری، تیغ زنی اور تیر اندازی میں ماہر کالکی اوتار کا انتظار نری حماقت ہے۔
(ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ جنگ، 18مارچ2019ء)

تحریک آزادی نسواں اور فحاشی

چند برس پہلے جب اس ملک میں ترقی پسندوں کا زور تھا، وہ لوگ خود کو پروگریسو کہتے۔ لبرل کہلانا بالکل پسند نہ کرتے تھے۔ ان دنوں دنیا میں خواتین کی آزادی کا بڑا چرچا تھا۔ جگہ جگہ تحریکیں چل رہی تھیں۔ ان میں بڑے مزے مزے کی باتیں تھیں۔ پاکستان میں بھی ’وومن لِب‘ یعنی عورتوں کی آزادی‘ (لبرل ازم) کا نعرہ لگایا گیا تو ترقی پسند کہیں سے ڈھونڈ کر متبادل نعرہ لائے۔ غالباً چین سے یہ دستیاب ہوا۔ وہ کہتے تھے: ہم ’’وومن لب‘‘کے قائل نہیں، ہم عورتوں کی نجات (woman emancipation) کے حامی ہیں۔ اس سے ہمیں بڑا حوصلہ ملا تھا۔ ترقی پسند تو فحاشی کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں منٹو تک سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ وہ کیسے عورتوں کی اس آزادی کے قائل ہوجاتے جو مغرب سے آئی تھی! مغرب میں بھی اس کی اپنی تاریخ ہے جو پہلے پہل کلیسا کے رویوں سے پھوٹی تھی۔ اس پر بہت کام ہوا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر اسے رغبت سے کچھ نہ کچھ دیکھ رکھا ہے۔ تاہم اپنے عہد کی آزادیِ نسواں کی تحریکوں سے ہٹ کر جس چیز کو سنجیدگی سے فلسفیانہ سطح پر دیکھنا چاہیے وہ ژاں پال سارتر کی شریکِ زندگی (بیوی نہیں، کہ وہ دونوں شادی کے ادارے کے قائل ہی نہیں تھے) مادام سموں دی بوار کی کتاب ’’دوسری جنس‘‘ (second sex) ہے۔ ایک سنجیدہ بحث ہے، اگرچہ اس سے اختلاف ممکن ہے اور مجھے بھی ہے، اسے آزادیِ نسواں کی بائبل کہتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں تو شور اٹھتا: آج امریکہ کے فلاں شہر میں تحریک نے نیا رخ اختیار کیا ہے۔ پھر معلوم ہوتا کہ اس کی لیڈر نے شادی کرلی ہے اور تحریک بیٹھ گئی ہے۔ مزید کیا لطیفے لکھوں! لوگ جمہوریت کے خلاف مقدمہ بناکر…کہ جمہوریت آئی تو لوگ جنسی آزادی مانگیں گے، ہم جنسیت کو جائز کرنا پڑے گا، صرف مردوں میں نہیں، عورتوں میں بھی۔ میں آپ کو ابھی سے بتادیتا ہوں کہ ہمارا میڈیا اس میدان میں کودنے کی بھی تیاری کررہا ہے۔
(سجاد میر۔ 92نیوز۔ جمعرات 14 مارچ 2019ء)

Share this: