صبر اور رحم

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سات تباہ کرنے والے گناہوں سے بچتے رہو۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سے گناہ ہیں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی جان کا مارنا جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے (اس کو ناحق مارنا)، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، کافروں سے مقابلے کے وقت بھاگنا، پاک دامن مسلمان بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا‘‘۔
(بخاری۔ عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ)

قرآن مجید جس وسیع مفہوم میں اس لفظ (صبر)کو استعمال کرتا ہے اس کے لحاظ سے مومن کی پوری زندگی صبر کی زندگی ہے، اور ایمان کے راستے پر قدم رکھتے ہی آدمی کے صبر کا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ خدا کی فرض کردہ عبادتوں کے انجام دینے میں صبر درکار ہے۔ خدا کے احکام کی اطاعت و پیروی میں صبر کی ضرورت ہے۔ خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا صبر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اخلاق کی برائیوں کو چھوڑنا اور پاکیزہ اخلاق اختیارکرنا صبر چاہتا ہے۔ قدم قدم پر گناہوں کی ترغیبات سامنے آتی ہیں جن کا مقابلہ صبر ہی سے ہوسکتا ہے۔ بے شمار مواقع زندگی میں ایسے پیش آتے ہیں جن میں خدا کے قانون کی پیروی کی جائے تو نقصانات، تکالیف، مصائب اور محرومیوں سے سابقہ پڑتا ہے، اور اس کے برعکس نافرمانی کی راہ اختیار کی جائے تو فائدے اور لذتیں حاصل ہوتی نظر آتی ہیں۔ صبر کے بغیر ان مواقع سے کوئی مومن بخیریت نہیں گزر سکتا۔ پھر ایمان کی راہ اختیار کرتے ہی آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشات سے لے کر اپنے اہل و عیال، اپنے خاندان، اپنے معاشرے، اپنے ملک و قوم اور دنیا بھر کے شیاطین جن و انس کی مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتیٰ کہ راہِ خدا میں ہجرت اور جہاد کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ ان سب حالات میں صبر ہی کی صفت آدمی کو ثابت قدم رکھ سکتی ہے۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ ایک ایک مومن اکیلا اکیلا اس شدید امتحان میں پڑجائے تو ہر وقت شکست کھا جانے کے خطرے سے دوچار ہوگا اور مشکل ہی سے کامیاب ہوسکے گا۔ بخلاف اس کے اگر ایک مومن معاشرہ ایسا موجود ہو جس کا ہر فرد خود بھی صابر ہو اور جس کے سارے افراد ایک دوسرے کو صبر کے اس ہمہ گیر امتحان میں سہارا بھی دے رہے ہوں تو کامرانیاں اس معاشرے کے قدم چومیں گی۔ بدی کے مقابلے میں ایک بے پناہ طاقت پیدا ہوجائے گی۔ انسانی معاشرے کو بھلائی کے راستے پر لانے کے لیے ایک زبردست لشکر تیار ہوجائے گا۔
(تفہیم القرآن: ششم،ص:344، البلد، حاشیہ 14)
قرآن میں سو سے زیادہ مقامات پر یہ لفظ آیا ہے۔ اگر ان سب مقامات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مفہوم میں حسب ذیل معانی شامل ہیں:
اپنے جذبات و میلانات اور خواہشات و رجحانات کو حدود اللہ کا پابند بنانا۔
خدا کی نافرمانی میں خواہ کیسے ہی فائدے اور کیسی ہی لذتیں حاصل ہونے کے مواقع نظر آتے ہوں، ان کے لالچ میں مبتلا ہوکر پھسل نہ جانا، اور خدا کی فرماں برداری میں جو نقصانات، تکلیفیں اور محرومیاں بھی پیش آئیں انہیں برداشت کرلے جانا۔
عمر بھر ضبط ِنفس سے کام لے کر گناہ کی جانب شیطان کی ہر ترغیب اور نفس کی ہر خواہش کو رد کرتے رہنا۔ ہر طمع اور خوف کے مقابلے میں حق پرستی پر قائم رہنا۔ ہر اس اذیت اور نقصان کو گوارا کرلینا جو اس دنیا میں راست بازی اختیار کرنے سے پہنچے، اور ہر اس فائدے اور لذت کو ٹھکرا دینا جو ناجائز طریقے اختیار کرنے سے حاصل ہو۔
حرام خوروں کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر رشک وتمنا کے جذبات سے بے چین ہونا تو درکنار، اس کی طرف نگاہ بھر کر بھی نہ دیکھنا، اور ٹھنڈے دل سے یہ سمجھ لینا کہ ایک ایمان دار آدمی کے لیے اس چمک دار گندگی سے وہ بے رونق طہارت ہی بہتر ہے جو اللہ اپنے فضل سے اس کو بخشے۔
ایمان لانے کے سارے خطرات کو اپنی جان پر جھیل جانا۔ دشمنانِ حق کے ہر ظلم کو مردانگی کے ساتھ برداشت کرنا۔ مخالفتوں کے طوفان اور مصائب و مشکلات کے ہجوم میں حق کی حمایت پر جمے رہنا اور باطل کے آگے دبنے یا اس سے مصالحت کرلینے کا خیال تک دل میں نہ لانا۔
مخالفین کی زیادتیوں اور ان کے طعن و استہزا اور کذب و افترا پر بے ساختہ جھنجھلا نہ جانا بلکہ سکون کے ساتھ اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے تبلیغ و اصلاح کا کام حکمت کے ساتھ کرتے رہنا خواہ اس کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات بظاہر دور دور تک کہیں نظر نہ آتے ہوں۔
اشتعال انگیزیوں پر بے صبر ہوکر جلد بازی میں کوئی ایسا غلط کام نہ کربیٹھنا جو دعوتِ حق کی مصلحت کے خلاف اور مقصد ِدعوت کے لیے نقصان دہ ہو۔
سالہا سال تک ان باطل پرست اشرار کے مقابلے میں حق کی خاطر جدوجہد کرتے رہنا جو اخلاق کی ساری حدیں پھاند جاتے ہوں اور طاقت و اقتدار کے نشے میں بدمست ہورہے ہوں، مگر کسی حال میں راستی سے ہٹ کر ان کی سی ناروا تدبیریں اختیار کرنے پر نہ اتر آنا۔
باطل کے مقابلے میں حق کی کمزوری اور اقامت ِ حق کی سعی کرنے والوں کی مسلسل ناکامیاں اور ائمۂ باطل کی سرفرازیاں اور کامیابیاں دیکھ کر مایوس و دل شکستہ نہ ہونا۔ کبھی گھبراہٹ اور بے حوصلگی اور بدحواسی میں مبتلا ہوکر یہ نہ سمجھنا کہ اقامت ِحق کی سعی لاحاصل ہے اور اب یہی مناسب ہے کہ اس ذرا سی دین داری پر قناعت کرکے بیٹھ رہا جائے جس کی گنجائش کفر و فسق کی سلطانی میں مل رہی ہو۔ بد سے بدتر حالات میں بھی عزم و ہمت کے ساتھ حق کی سربلندی کے لیے کوشش جاری رکھنا۔
ایک مومنِ صابر یہ سب کچھ اس لیے نہیں کرتا کہ اس کے ثمرات و نتائج اسی دنیا میں اسے حاصل ہوں گے، بلکہ اس اعتماد پر کرتا ہے کہ مرنے کے بعد جو دوسری زندگی آنے والی ہے اس میں وہ اپنے اس کیے کا پھل پائے گا۔
پھر وہ ایسا چھچھورا بھی نہیں ہوتا کہ اچھا وقت آئے اور دنیا میں کامیابیاں اس کے قدم چومیں تو اکڑ جائے اور فخر و غرور میں مبتلا ہوکر فرعون بن جائے، اور برا وقت آئے تو بلبلا اٹھے اور اس وقت کو ٹالنے کے لیے کوئی ذلیل سے ذلیل حرکت کرنے میں بھی تامل نہ کرے۔
وہ ہر حالت میں اپنا توازن برقرار رکھتا ہے۔ وقت کی ہر گردش کے ساتھ اپنا رنگ نہیں بدلتا بلکہ ہمیشہ ایک معقول اور صحیح رویّے پر قائم رہتا ہے۔ حالات سازگار ہوں اور وہ دولت و اقتدار و نام وری کے آسمانوں پر چڑھ رہا ہو تو اپنی بڑائی کے نشے میں بدمست نہیں ہوتا۔ اور کسی وقت مصائب و مشکلات کی چکی اسے پیسے ڈال رہی ہو تو اپنے جوہرِ انسانیت کو اُس میں ضائع نہیں کردیتا۔ خدا کی طرف سے آزمائش خواہ نعمت کی شکل میں آئے یا مصیبت کی صورت میں، اس کی بردباری اپنے حال پر قائم رہتی ہے۔
سورۂ عصر کا منشا یہ ہے کہ انسان خسارے سے صرف اسی صورت میں بچ سکتا ہے کہ افراد فرداً فرداً بھی مومن، صالح، حق پرست اور صابر ہوں، اور ان سے ایک ایسا معاشرہ بھی وجود میں آئے جس میں ہر فرد دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کرے۔
اخلاقی تعلیم کا یہ ہتھیار وہ زبردست ہتھیار تھا جس کا کوئی توڑ مشرکین اور کفارِ عرب کے پاس نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف خواہ کیسی ہی الزام تراشیاں وہ کرتے، کوئی معقول آدمی یہ باور نہ کرسکتا تھا کہ ایسی اعلیٰ درجے کی اخلاقی تعلیم کوئی خودغرض، یا مجنون، یا ساحر یا کاہن دے سکتا ہے۔
(سیرتِ سرور عالم، دوم، دسمبر:1980ء، ص:440-439)

Share this: