مولانا مودودی کی رفاقت میں

کتاب : مولانا مودودی کی رفاقت میں
مصنف : خواجہ اقبال احمد ندوی
مرتب : سلیم منصور خالد
صفحات : 224، قیمت:230 روپے
ناشر : منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور 54790
فون : 042-35252210-11
0320-5434909
ای میل : manshurat@gmail.com

خواجہ اقبال احمد ندوی صاحب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے شاگرد تھے۔ انہوں نے اپنے قیامِ پنجاب کے دوران میں ہونے والے واقعات کو بچشمِ سر دیکھا تھا۔ وہ انہوں نے تحریر کردیے اور یہ روداد محفوظ ہوگئی۔ کتاب بڑی خوبی سے مرتب کی گئی ہے۔ یہ سلیم منصور خالد صاحب کا کمال ہے۔ کتاب آٹھ حصوں میں منقسم ہے اور دو ضمیموں اور اشاریے پر مشتمل ہے۔ سلیم منصور خالد تحریر فرماتے ہیں:
’’خواجہ اقبال احمد ندوی (م:2007ء) مولانا مودودیؒ (1903ء۔ 1979ء) کے ابتدائی رفقا میں سے ہیں۔ انہوں نے چند سال پہلے ’’بدلتے نصب العین‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی، جس نے اہلِ علم سے زبردست داد پائی۔ اسی سلسلے کی دوسری کڑی پیش کی جارہی ہے۔ جب اس روداد کا پہلا حصہ ’’زندگیِ نو‘‘ نئی دہلی میں شائع ہونا شروع ہوا، تب سیّد احمد عروج قادری (23 مارچ 1913ء۔ 17 مئی 1986ء) نے خواجہ صاحب کا تعارف ان الفاظ میں کرایا تھا:
’’دنیا میں ایسے بہت سے جوہر و گوہر ہوئے ہیں، جو اپنی جگہ چھپے رہتے ہیں اور لوگ ان کی قدر و قیمت سے ناواقف رہ جاتے ہیں۔ حکیم خواجہ اقبال احمد ندوی بھی ایک ایسے ہی جوہر ہیں۔ ہندوستان میں ایسے لوگ شاید ہی ہوں، جنہوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی خدمت میں ان کے ایک شاگرد کی حیثیت سے کچھ وقت گزارا ہو۔ حکیم صاحب غیر منقسم جماعت اسلامی کے پہلے بحرانی دور میں مولانا مودودی کے پاس مقیم تھے۔ وہ تشکیلِ جماعت سے کچھ پہلے ہی مولانا مودودی کی خدمت میں پہنچ گئے تھے اور دو سال سے کچھ زیادہ عرصہ مولانا کی خدمت میں رہے۔‘‘
خواجہ اقبال احمد ندوی نے اس دور کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اپنے ایک مکتوب میں لکھا ہے:
’’تشکیلِ جماعت سے چند ماہ قبل مولانا مودودی نے مجھے اپنے پاس بلالیا تھا اور یہ میری خوش نصیبی تھی کہ وہ ساری مدت جو مولانا کی خدمت میں گزری، مجھے اُن کی ذات سے زیادہ سے زیادہ استفادے کے مواقع حاصل رہے، اور مولانا کو ہمیشہ اس کا احساس رہا کہ جس طالب علم کو انہوں نے اپنے پاس خود بلایا ہے اس کا وقت ضائع نہ ہونے پائے… میں نے مولانا کی رہنمائی میں ابن تیمیہ (1263ء۔ 1328ء)، ابن قیم (1292ء۔ 1350ء)، شاہ ولی اللہ (1703ء۔ 1763ء) اور سیرت و تاریخ کی بعض کتابوں کا مطالعہ کیا۔ پھر ان سے سبقاً سبقاً قرآن کا کافی حصہ پڑھا۔ مطالعے کے علاوہ میرے ذمے دفتر کا کچھ کام رہتا تھا۔ اہم خطوط کی نقل بھی میرے ذمے تھی اور وقتاً فوقتاً مولانا مودودی کے دیے ہوئے جوابات کی نقل بھی کرتا تھا۔‘‘ (ماہ نامہ ’’آئین‘‘ لاہور، 25 مئی 1986ء)
بقول مظفر بیگ (م: 24 اپریل 1999ء): ’’اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو وہ پورا دور اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا، جب کچھ لوگ ایک تحریک کا آغاز کرنے کے لیے آگے بڑھے، اور جب آغاز ہوا تو ان میں سے کچھ واپس لوٹ گئے۔ اور تاریخ کا یہ ایک عجیب واقعہ ہے کہ ]ان[ واپس جانے والوں نے اپنی واپسی کا ’’مکمل جواز‘‘ بتانے کے لیے اس دور کا انتخاب کیا، جب ہماری صدی کا وہ انسان دنیا سے رخصت ہوچکا تھا، کہ جس کے بارے میں وہ بتانے چلے تھے… لیکن قدرتِ حق تو برسوں پہلے، سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے کو وہاں پہنچا چکی تھی۔ یہ انہی حکیم خواجہ اقبال احمد ندوی کے دیکھے ہوئے حقائق کی روداد ہے‘‘۔
یہ مضامین جناب اقبال احمد ندوی نے مولانا محمد منظور نعمانی (15 دسمبر 1905ء۔ 5 مئی 1997ء) اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (24 نومبر 1914ء۔ 31 دسمبر 1999ء) کی زندگی ہی میں لکھے تھے۔ اخبار ’’دعوت‘‘ اور ماہ نامہ ’’زندگیِ نو‘‘ میں ان کی اشاعت ہوئی اور یقیناً ان محترم حضرات کے مطالعے سے بھی گزرے، لیکن ان کی جانب سے اس سلسلۂ مضامین سے کسی اختلاف یا کسی ردعمل کا ظہور نہیں ہوا۔ اگر ایسا ہوتا تو یہاں پر لازماً اس کا جائزہ بھی شاملِ اشاعت کرتے۔
ہمیں اس روداد کو پیش کرنے کی ضرورت نہ تھی کہ خود مولانا مودودی نے ہمیشہ ایسے جواب الجواب سلسلے میں وقت اور کاغذ ضائع کرنے سے دامن بچایا۔ لیکن تقویٰ کی حامل بعض ’’ہستیوں‘‘ نے مولانا مودودی کی رحلت کے بعد بھی ان پر طعنہ زنی کا ’’مقدس‘‘ فریضہ انجام دینے کا سلسلہ جاری رکھا، بلکہ اس میں کچھ زیادہ ہی شدت پیدا کی۔ معروف مؤرخ اور ادیب آباد شاہ پوری (6 جون 1923ء۔ 29 ستمبر 2003ء) کے بقول: ’’مولانا نعمانی صاحب نے ’’رفاقت کی سرگزشت‘‘ لکھ کر آنے والی نسلوں کو بھی سیّد مودودی سے بدظن کرنے کے ’صدقۂ جاریہ‘ کا اہتمام فرمایا‘‘۔ پھر ان کی سخن سازیوں اور الزام تراشیوں کے یہ نمونے پاک و ہند کے دو مذہبی سلسلوں نے کارِ خیر سمجھ کر پھیلانا شروع کیے، تو ہمیں بادلِ نخواستہ یہ حقائق پیش کرنا پڑے ہیں (یاد رہے کہ محترم مولانا محمد منظور نعمانی صاحب کی اسی کتاب کا ایک مفید تجزیہ محترم ڈاکٹر سید انور علی نے ’’ردِ سرگزشت‘‘ کے عنوان سے 1981ء میں مرتب کیا تھا۔)
راقم نے ان مضامین کو یک جا صورت میں پہلی بار 1998ء میں پیش کیا تھا۔ اب حکیم صاحب کی مزید یادداشتوں کے اضافے اور متن کی تصحیح، حوالہ جات کی صحت، حواشی کی تدوین، ضمنی سرخیوں کے تعین اور ضروری پیراگرافی کے ساتھ یک جا پیش کیا جارہا ہے۔ 2018ء کی اشاعت میں، خواجہ اقبال احمد ندوی سے ڈاکٹر سید عبدالباری (شبنم سبحانی: 7 ستمبر 1937ء۔ یکم ستمبر 2013ء) کا مکالمہ بھی بطور ضمیمہ شامل ہے۔
اس کام کی تکمیل کے لیے اپنے استادِ گرامی محترم جمیل احمد رانا (30اپریل 1934ء۔ 6 جنوری 2015ء، کلورکوٹ) کی حوصلہ افزائی پر ان کا شکرگزار ہوں‘‘۔
کتاب نہایت خوب صورت، منشورات کے اعلیٰ اسلوب و روایت کے مطابق شائع کی گئی ہے۔ سادہ اور رنگین سرورق سے مزین ہے۔ یہ اس کتاب کا چوتھا ایڈیشن ہے۔ جماعت کی تاریخ کے ایک گوشے کا بیان ہے۔

نام مجلہ : ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘ لاہور
اشاعتِ خاص شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نمبر بسلسلہ رابطہ عوام مہم
مدیر : طارق محمود
صفحات : 150، قیمت: 150 روپے، شمارۂ خاص
ناشر : حافظ محمد ادریس۔ ہفت روزہ ایشیا۔ ہال نمبر5، چودھری عبداللہ اسٹریٹ، آئوٹ فال روڈ، بلال گنج لاہور
ادارت : منصورہ مارکیٹ، فرسٹ فلور، بالمقابل مین گیٹ منصورہ ملتان روڈ لاہور
فون : سرکولیشن 0308-9136331
ای میل : siteasia@hotmail.com
جماعت اسلامی پاکستان نے رابطہ عوام مہم شروع کی ہے، اسی مناسبت سے ہفت روزہ ایشیا لاہور نے، کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا علَم بردار ہے، سیرتِ نبویؐ سے آگاہی کے لیے یہ نہایت ہی خوب صورت اور عمدہ خاص نمبر شائع کیا ہے جو صوری اور معنوی حیثیت سے ایک مثال ہے، اور مدیر جناب طارق محمود صاحب کی جمالیاتی شخصیت کا ترجمان ہے۔ یہ نمبر علامہ ماہر کرنالی کی خوب صورت، دلربا وجد آور نعت سے شروع ہوتا ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صدائیں ان کے اعماقِ قلب سے بلند ہوکر فضا میں ارتعاش پیدا کررہی ہیں:

جہاں کے رنج و الم جب ستانے لگتے ہیں
ہمیں خیال مدینے کے آنے لگتے ہیں
جب انؐ کی یاد میں آنکھوں کو میچ لیتا ہوں
تو ہم نفس مرا شانہ ہلانے لگتے ہیں
جو انؐ کے عشق میں ہوش و خرد گنوا بیٹھیں
ہمیں وہ لوگ بہت ہی سیانے لگتے ہیں
ابھرتا جب بھی تصور ہے ماہرؔ آقا کا
تو اشک آنکھ میں کیوں جھلملانے لگتے ہیں

اس خصوصی شمارے میں سہل، آسان، شستہ شگفتہ زبان میں صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرنے والے مقالات و مضامین شامل کیے گئے ہیں جن کے لکھنے والوں میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مولانا امین احسن اصلاحی، اسعد گیلانی، آباد شاہ پوری، حافظ محمد ادریس، مولانا جعفر شاہ پھلواری، نعیم صدیقی، طالب ہاشمی سمیت اہلِ علم کے مضامین شامل ہیں۔ قیم جماعت لیاقت بلوچ کا امرائے جماعت کے نام سرکلر بھی شامل ہے۔
امیر جماعت اسلامی سے اس رابطہ عوام مہم کے بارے میں سوال کیا گیا، جواب جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ ہم یہاں درج کرتے ہیں:
سوال: جماعت رابطہ عوام مہم کے مقاصد کیا ہیں؟ (ادارہ)
امیر جماعت: جماعت اسلامی بنیادی طور پر لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلانے کی تحریک ہے، جس کا مقصود ہی یہ ہے کہ ایسی سوسائٹی اور ایسا معاشرہ وجود میں آجائے جس میں نیکی کرنا آسان اور بدی کرنا مشکل ہو، جس میں رزقِ حلال کمانا آسان اور حرام کے دروازے بند ہوں، جس میں انسان، انسان کا غلام نہ ہو اور جس میں عدل اور انصاف کی حکمرانی ہو، جس میں میرٹ کی بنیاد پر بلاامتیاز سب کے لیے آگے بڑھنے اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں، ملک میں اسلامی نظریے کو تحفظ ملے اور ملک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنایا جائے۔
71 برسوں سے مسلسل یہ تحریک جاری ہے، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اچھی اور برحق دعوت ہونے کے باوجود ہمارا پیغام پاکستان کے ایک بڑے حصے تک نہیں پہنچا۔ جماعت اسلامی کو بھی بعض لوگ دوسری جماعتوں کی طرح محض ایک مذہبی جماعت سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک انقلابی جماعت ہے جو انسان کو اندر اور باہر سے تبدیل کرنا چاہتی ہے، جو گھر سے لے کر ملک بلکہ دنیا میں بھی ایک مثبت تبدیلی چاہتی ہے۔
جماعت اسلامی نے منصوبۂ عمل 2019ء میں یہ طے کیا ہے کہ لوگوں تک اپنا پیغام اور دعوت پہنچانے کے لیے ایک بھرپور مہم چلائی جائے گی۔ اس مہم کا سلوگن اسلامی پاکستان، خوشحال پاکستان اور کرپشن فری پاکستان ہے۔ ہمیں لوگوں تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی صرف اور صرف اسلامی نظامِ زندگی میں ہے۔ اس نظام کی برکتوں سے لوگوں کو آگاہ کرنا اور انہیں یہ باور کرانا ہے کہ ان کے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام میں موجود ہے، یہ ہمارا ہدف ہے اور ہم یہ چاہیں گے کہ اس مہم کے نتیجے میں 80 فی صد مرد و خواتین تک ہمارا پیغام پہنچے۔ اس مہم میں تمام ارکان اور کارکنانِ جماعت پوری طرح متحرک رہیں گے۔ محلے اور یونین کونسل کی سطح تک کام کے لیے منصوبہ بندی کی جائے گی۔ اس مہم کے دوران مرکز سے لے کر مقامی سطح تک کا نظم مہم کی مانیٹرنگ کرے گا، فالو اَپ کا نظام ہوگا، مرد و خواتین نظم میں سے ہر جگہ اس مہم کا ایک انچارج ہوگا۔ اس کے ساتھ ہماری جتنی بھی برادر تنظیمیں ہیں وہ بھی اس مہم کا حصہ ہوں گی۔
میں تمام کارکنان اور ارکان کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ سب سے پہلے اپنے گھر جو کہ بنیادی یونٹ ہے، پھر خاندان اور پھر گھر گھر دستک دینے کا انتظام کریں۔ اس مہم میں ذاتی روابط بھی قائم کرنے ہیں۔ ہر سطح کا نظم اپنے ورکروں کے ہاتھ میں ہینڈ بل اور لٹریچر تھمادے۔ جن کارکنان کے گھروں میں لائبریریاں ہیں، وہ بھی اس مہم میں استعمال کریں۔ فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی سرگرمیاں اور وفود تشکیل دیں اور ہر قابلِ ذکر مقام پر دعوتی کیمپ لگائیں۔ اس مہم میں دروسِ قرآن اور اجتماعات کا انعقاد بھی کریں، جہاں ممکن ہو بک اسٹال لگائیں۔ اپنی اپنی تقاریب میں اپنے جھنڈے لہرائیں، اور اسی طرح جو لوگ بھی اس مہم کے دوران جماعت اسلامی میں شامل ہوں میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر کریں۔ اپنے اپنے شہروں کے تمام داخلی راستوں پر بینرز، پوسٹرز اور فلیکسز آویزاں کریں۔ لوگوں سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے۔ خاص طور پر علمائے کرام اور مشائخ عظام، اسکالر حضرات اور تعلیمی دنیا میں خدمات انجام دینے والے لوگوں، کھلاڑیوں، اساتذہ کرام اور زندگی کے ہر طبقے کے افراد سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے۔ اقلیتوں کے ساتھ بھی ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے، ان کو بھی یہ پیغام دیا جائے کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ صرف اور صرف اسلامی نظام میں ہے۔ اس مہم کا آغاز اللہ تعالیٰ کے حضور نوافل کے ساتھ کیا جائے، اور ہر سرگرمی کے اختتام پر نمازِ شکرانہ ادا کی جائے کہ اللہ کریم ہماری اس سعی اور کوشش کو قبول فرمائے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ ہر سطح کا نظم اپنے کارکنان کی لسٹ بنائے، اور یہ لسٹ ان کے دفتر میں بھی موجود ہو۔ کوشش ہو کہ کارکنان سے مسلسل رابطے میں رہا جائے، کیونکہ اس مہم کے بعد جب بلدیاتی الیکشن ہوں گے تو یہی روابط اور یہی کارکنان آئندہ مہمات میں بھی کام آئیں گے۔
نہایت عمدہ اور خوب صورت اشاعتِ خاص ہے۔ قیمت بھی بہت مناسب ہے۔ جو بھی اس کو پڑھے گا اُس کے علم میں بہت ہی اضافہ ہوگا۔ حسین و جمیل سرورق سے مزین ہے۔ ہفت روزہ ایشیا جماعت کا دیرینہ خادم ہے۔

Share this: