مقبوضہ کشمیر، اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی

انسانی حقوق کے بارے میں جاری کردہ امریکی حکومت کی سالانہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ امریکی رپورٹ میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو 2018ء میں تیار کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے پیلٹ گنوں کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ امریکی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف عالمی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ رپورٹ میں پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور بھارتی فوج کو دیے گئے اختیارات آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت بھارتی حکومت بغیر کسی مقدمے کے شہریوں کو گرفتار کرکے 2 سال کے لیے جیل میں بند کردیتی ہے۔ اس قانون کے تحت ایک ہزار سے زائد کشمیری جیلوں میں تغدیب و تشدد برداشت کررہے ہیں۔ گرفتار شدگان میں کشمیری حقِ خودارادیت کی جدوجہد کرنے والے سیاسی و سماجی کارکنوں کے علاوہ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں۔ امریکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ سے جہاں اقوام متحدہ کی رپورٹ کی تصدیق ہوتی ہے وہیں انسانی حقوق کی تنظیموں اور کشمیری قیادت کی جانب سے بیان کردہ واقعات اور مظالم کی تصدیق کی گئی ہے۔ بھارتی حکومت اور فوج کی جانب سے کشمیری عوام پر مظالم جتنے بڑھ چکے ہیں اس کی وجہ سے خود بھارت میں بھی باضمیر افراد کی جانب سے یہ بات کہی جانے لگی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات سے نکلنا چاہیے۔ بھارت کے صاحبانِ ضمیر نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ کشمیری مسلمان بھارت سے ناراض ہوچکے ہیں، لیکن بھارتی حکومت اور اس کی سرپرستی کرنے والی قوتوں نے انسانی حقوق کی دہائی دینے کے باوجود بھارت کے مظالم بلکہ ریاستی دہشت گردی سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ امریکہ نے اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر رپورٹ تو ضرور جاری کی ہے اور عالمی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے، لیکن انسانی حقوق اور دہشت گردی کے حوالے سے امریکہ کا کردار دنیا کے سامنے واضح ہے۔ وہ اس طرح کی رپورٹوں کو عالمی سیاست میں اپنا غلبہ برقرار رکھنے کے لیے مختلف ممالک اور حکومتوں پر دبائو کے لیے حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یہ رپورٹ اس تناظر میں جاری ہوئی ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ کشمیر کا مسئلہ گزشتہ 70 برسوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے، اسی مسئلے کی وجہ سے بھارت اور پاکستان ایک سے زائد بار جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، لیکن اقوام متحدہ نے آج تک اپنی ہی قرارداد کے مطابق کشمیر میں حقِ خود ارادی کا اہتمام نہیں کیا تاکہ یہ تنازع مستقل بنیادوں پر حل ہوجائے، اور اس کی ذمہ داری بالخصوص امریکہ اور اس کے ساتھ عالمی طاقتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کے بعد دہشت گردی کو بھی امریکہ نے اپنی بالادستی قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ غضب خدا کا، مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے حق خود ارادی کو حاصل کرنے کے لیے جو جدوجہد کررہے ہیں اسے بھارت اپنی پوری فوجی قوت استعمال کرکے کچل رہا ہے اور عالمی قوتیں اور طاقتیں ان مظلوم مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے رہی ہیں۔ یہ امریکی رپورٹ اس تناظر میں بھی جاری کی گئی ہے جبکہ دہشت گردی کے حوالے سے حکومتِ پاکستان اور اس کی افواج کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دینے کے لیے ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اصل مسئلہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی ہے، لیکن اقوام متحدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی ہی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی۔ اقوام متحدہ اور امریکی رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی فوج نہتے کشمیری نوجوانوں کو بغیر مقدمہ چلائے جیلوں میں بند کردیتی ہے اور اسے یہ اختیار پبلک سیفٹی ایکٹ اور افسپا (AFSPA) کے کالے قانون کے تحت بھارتی حکومت نے دیا ہوا ہے۔ قیدیوں کو ان کے والدین اور اہلِ خانہ سے ملنے بھی نہیں دیا جاتا۔ ایک ہزار سے زائد کشمیری نوجوان اس کالے قانون کے تحت جیلوں میں بند ہیں۔ 14 فروری کو پلوامہ میں بھارتی فوج کے قافلے پر خودکش حملہ کرنے والے عادل احمد ڈار کے والدین نے بھی اس کی تصدیق کی تھی کہ بھارتی فوجی اہلکار اسکول سے واپسی پر اسے اٹھا کر لے گئے تھے، پھر اس کے بعد اُس کا پتا نہیں چلا۔ پلوامہ واقعے کے بعد غیر جانب دار تجزیہ نگاروں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ جو نوجوان پہلے سے ہی سیکورٹی اداروں کی تحویل میں تھا اُس نے خودکش حملہ کیسے کردیا؟ کشمیر میں طویل عرصے سے آگ لگی ہوئی ہے، اور اس کا سبب بھارت کی فوج کے مظالم ہیں، جس کی تصدیق اقوام متحدہ کے بعد امریکی حکومت نے بھی کردی ہے۔ یہ رپورٹس کشمیری مسلمانوں پر مظالم کی اصل اور حقیقی تصویر پیش نہیں کرتیں۔ حالات اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں، جس کی وجہ سے کشمیری خواتین اور بچے بھی میدان میں نکلے ہوئے ہیں۔ کشمیر میں آئے روز ہڑتال ہوتی ہے، ہر گزرتے دن اہلِ کشمیر میں آزادی کا جذبہ تیز سے تیز تر ہوتا جارہا ہے۔ بھارتی حکومت گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس کے جواب میں کشمیری مسلمان احتجاجی طور پر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ بھارت طاقت کے زور پر کشمیری تحریکِ آزادی کو دبانے کی ناکام کوشش کررہا ہے اور اس کا احساس بھارت کی قیادت کو ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے مشتعل ہوکر بھارت نے پاکستان کے خلاف براہِ راست جنگ چھیڑنے کی ناکام کوشش کی۔ جب تک عالمی قوتیں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو مسئلہ تسلیم نہیں کریں گی، عالمی امن قائم نہیں ہوسکتا۔

Share this: