گھریلو زندگی

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا اُس وقت لوگوں میں مسلمان کے لیے بہتر مال بکریاں ہوں گی، ان کو لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں میں (بستی سے الگ) اپنا دین بچاتا ہوا فتنوں سے بھاگتا پھرے گا۔
(بخاری۔ عن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ)

مولانا امین احسن اصلاحی
ایک شخص کی، گھر کی زندگی اُس کی سیرت اور کردار کا حقیقی آئینہ ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی باہر کی زندگی میں ظاہرداری کی چادر اوڑھ کر نکلتا ہو، اور جو کچھ وہ ہے اُس سے بالکل مختلف شکل صورت میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہو۔ لیکن گھر کی زندگی میں وہ اپنے آپ پر اس قسم کا پردہ ڈالے رکھنے میں زیادہ دنوں تک کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اوّل تو کوئی شخص اس قسم کی کوشش کرتا ہی نہیں، اور اگر وہ کرے تو اس میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس وجہ سے کسی شخص کو جانچنے کے لیے بہترین کسوٹی اس کی، گھر کی زندگی ہے۔ وہاں اس کو دیکھنا چاہیے کہ اس کی سیرت کیا ہے؟ جس خدا ترسی اور تقویٰ کا درس وہ باہر دے رہا ہے اس پر وہ اپنے گھر کے اندر کتنا عامل ہے؟ جس اتباعِ کتاب و سنت کا وعظ وہ دوسروں کو سنا رہا ہے اس پر وہ کس قدر عامل ہے؟ اور اپنے بیوی بچوں سے کس قدر ان پر عمل کراتا ہے؟ جس دین کی اقامت کے لیے وہ خدائی فوجدار بنا ہوا سارے جہان سے لڑ رہا ہے اس دین کو وہ اپنے گھر کے اندر کس حد تک قائم کرنے میںکامیاب ہوسکا ہے؟ جس سادگی، جس ایثار، جس قناعت، جس صبر و اخلاق و دیانت کا وہ دوسروں سے مطالبہ کررہا ہے، اس کا جمال خود اس کی گھریلو زندگی میں کتنا جھلک رہا ہے؟ اگر فی الواقع کوئی شخص اس کسوٹی پر پورا اترتا ہے تو بلاشبہ یہ ایک ایسی کسوٹی ہے جس پر پورا اترنے والے کی اخلاقی عظمت اور اس کی سچائی کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ایک ایسے شخص کے اصولوں اور نظریات سے تو آپ اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن آپ اس کو محض ایک مصنوعی یا ایک بے کردار آدمی قرار نہیں دے سکتے۔
آیئے! اس کسوٹی پر ہم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو جانچیں اور یہ دیکھیں کہ آپؐ کی باہر کی دعوت اور گھر کی زندگی میں کس قدر مطابقت ہے۔ خوش قسمتی سے صرف آپؐ ہی کی زندگی ایک ایسی زندگی ہے جس کا ہر حصہ دنیا کے سامنے ہے، ہم نہایت مستند معلومات کی بنا پر جانتے ہیں کہ آپؐ مسجدِ نبوی کے اندر صحابہ کی موجودگی میں کیا کچھ فرماتے تھے اور کیا کچھ کرتے تھے۔ اسی طرح نہایت مستند معلومات کی روشنی میں یہ بھی جانتے ہیں کہ آپؐ بیوی بچوں کے ساتھ کس طرح رہتے سہتے تھے۔
آپؐ نے اپنی زندگی پرائیویٹ اور پبلک کے دو حصوں میں تقسیم نہیں کی تھی، بلکہ آپؐ کی زندگی کا ہر حصہ پبلک کے لیے کھلا ہوا تھا کہ لوگ اس کو دیکھیں اور اس سے رہنمائی حاصل کریں۔ آپؐ نے لوگوں سے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ لوگ صرف آپؐ کی پبلک زندگی ہی کو دیکھیں، آپؐ کی نجی زندگی کا تجسس نہ کریں۔ بلکہ آپؐ نے اپنی پبلک اور نجی دونوں زندگیاں ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح نہ صرف اپنے دوستوں کے سامنے بلکہ اپنے دشمنوں کے سامنے بھی رکھ دیں کہ لوگ چاہیں تو اس کو اسوۂ حسنہ بنائیں اور چاہیں تو بے خوف و خطر ان پر حرف گیری کریں، اگر حرف گیری کی گنجائش پائیں۔
دنیا میں دوسروں کی بیویاں ان کی گھریلو زندگی کے رازوں کی امین ہوتی ہیں۔ لیکن صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ پبلک کے نمائندہ کی حیثیت سے آپؐ کی گھریلو زندگی کی ایک ایک ادا کو محفوظ رکھتیں اور پوری دیانت اور امانت کے ساتھ اس کو پبلک تک پہنچاتی تھیں۔ ایک ایسی زندگی، جس کی جلوت و خلوت سب کچھ ہمارے سامنے ہے، بہترین چیز اس مقصد کے لیے یہ ہوسکتی ہے کہ ہم اس میں یہ دیکھ سکیں کہ ان کے دونوں پہلوئوں میں کس قدر مطابقت پائی جاتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کا جو پہلو سب سے نمایاں ہوکر ہمارے سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ آپؐ کے اہلِ بیت کا رات دن کا مشغلہ بھی وہی تھا جو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ یہ صورت نہیں تھی کہ آپؐ خود تو لوگوں کو بندگیِ رب اور اطاعتِ الٰہی کا وعظ سناتے رہیں اور آپؐ کے اہلِ بیت دنیا کی دلچسپیوں اور مادی زندگی کی لذتوں میں منہمک ہوں، یا آپؐ باہر تو لوگوں کو زہد و قناعت کی تعلیم اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے جہاد کی تلقین فرماتے ہوں، اور گھر میں آکر اس تلقین کو بھول کر گھر کی دلچسپیوں اور راحتوں میں کھو جاتے ہوں۔ بلکہ آپؐ کا جو مشن باہر ہوتا تھا، آپؐ اسی مشن کو لے کر گھر میں داخل ہوتے تھے۔ اور جس مبارک شغل میں خود اپنا وقت صرف فرماتے تھے، اسی مبارک شغل میں گھر والے بھی اپنا وقت بسر کرتے تھے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک مشن سورۂ جمعہ میں یہ بیان ہوا ہے:
’’وہی ہے جس نے بھیجا اُمیوں میں ایک رسول انہی میں سے، جو ان کو سناتا ہے اللہ کی آیتیں اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو سکھاتا ہے کتاب اور حکمت‘‘۔ (الجمعہ:2)
بعینہٖ اس مشن کی یاددہانی اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو اُس وقت فرمائی جبکہ منافقین اور منافقات اس غرض کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے تھے کہ کسی طرح آپؐ کی ازواجِ مطہرات کو اس اعلیٰ نصب العین سے ہٹا کر دنیوی اور مادی لذتوں کی طرف مائل کردیں۔ چنانچہ منافقوں کی بیویوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے کانوں میں یہ پھونکنا شروع کردیا کہ آپ معزز اور امیر گھرانوں کی بیٹیاں ہیں، آپ لوگوں کی پرورش سرداروں کے گھروں میں عیش و آرام کے گہوارے میں ہوئی تھی، لیکن اس شخص نے آپ کو غربت و فلاکت میں ڈال دیا۔ اگر آپ ان کی قید سے آزاد ہوتیں تو بڑے بڑے سردارانِ قبائل آپ کو نکاح کا پیغام دیتے اور آپ کی زندگیاں بڑے عیش و آرام سے گزرتیں۔ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اس سے بالاتر تھیں کہ اس قسم کے شیطانی پروپیگنڈے سے متاثر ہوں، تاہم طبع انسانی کی عام کمزوری کو سامنے رکھ کر اس موقع پر اللہ نے ان کو یاد دلایا کہ وہ خدا کی طرف سے ایک عظیم منصب پر سرفراز ہیں۔ اسی منصب کی ذمہ داریوں کے لیے ان کو اللہ نے چنا ہے، اور اس دنیا کی کوئی عزت و شوکت بھی اس منصب کی عزت و شوکت کا مقابلہ نہیں کرسکتی، چنانچہ فرمایا:
’’اے نبیؐ کی بیویو! اگر تم تقویٰ کی روش اختیار کرو تو عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، پس تم اپنے لہجے میں ایسی نرمی نہ اختیار کرو کہ جس کے دل میں روگ ہے کسی طمع خام میں مبتلا ہوجائے، اور دستور کے مطابق بات کیا کرو اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو، اور گزرے ہوئے زمانۂ جاہلیت کی نمائش نہ کرو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی رہو۔ اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے دنیا کی آلائشیں دور رکھے۔ اے نبیؐ کے گھر والو! اور تم کو اچھی طرح پاک کرے اور تمہارے گھر میں جو اللہ کی آیتیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں ان کا چرچا کرو۔ اللہ لطیف و خبیر ہے‘‘۔ ( الاحزاب: 32تا34)
ان آیات سے صاف واضح ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دنیا سنوارنے اور سدھارنے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا تھا، اسی طرح آپؐ کے گھر والوں کو بھی اسی لیے چنا تھا کہ وہ اس مشن کی تکمیل میں آپؐ کا ہاتھ بٹائیں۔ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ سب سے اونچا بتایا کہ سب لوگ ہادی و مرشد اور پیغمبر و امام کی حیثیت سے آپؐ کی پیروی کریں، اسی طرح آپؐ کی ازواج کا درجہ بھی تمام امت کے مردوں اور عورتوں کے لیے امہات کا رکھا، تاکہ سب لوگ ان کو اپنے لیے نمونہ مان کر ان سے زندگی کے وہ طریقے سیکھیں جو ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوئے۔

Share this: