مولانا مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ

عالمی شہرت یافتہ عالمِ دین، شریعت عدالت کے سابق جج، اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن اور برصغیر کے علمی خانوادے کے سپوت مفتی تقی عثمانی دہشت گردانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔ ’’نامعلوم‘‘ قاتلوں نے کراچی کی مصروف ترین شاہراہ پر دن دہاڑے نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن وہ صرف نصرتِ الٰہی سے محفوظ رہے۔ اس قاتلانہ حملے میں مفتی صاحب کے دو محافظ شہید ہوگئے۔ مفتی صاحب پر قاتلانہ حملے کے ذمہ داروں اور محرکات کے حقائق پر ابھی تک پردہ پڑا ہوا ہے، اور اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ اصل حقائق قوم کے سامنے آسکیں گے۔ مفتی تقی عثمانی پر ناکام قاتلانہ حملے نے قوم کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ دعویٰ یہ کیا گیا تھا کہ ملک میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے، لیکن اس سانحے نے ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ ’’نامعلوم‘‘ قاتل اب بھی کراچی کی جس شاہراہ پر چاہیں، بڑے اعتماد سے کسی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ قاتلوں کو اب بھی یہ اعتماد کس نے فراہم کیا ہے کہ وہ شہر کی مرکزی شاہراہ پر ناکہ لگا کر اپنے ہدف کو اطمینان سے نشانہ بنا سکتے ہیں اور ان کو روکنے والا کوئی ہاتھ موجود نہیں ہے۔ یہ سوال اس لیے بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے شہریوں نے بہت بڑی قیمت دی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے پولیس، عسکری و نیم عسکری اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو غیر معمولی اختیارات دے دیے گئے ہیں اور انسانی حقوق کی پامالی سے صرفِ نظر کیا جارہا ہے۔ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ جس کو چاہیں حراست میں لے سکتے ہیں۔ اسی اختیار نے لاپتا افراد کا مسئلہ تخلیق کیا ہے، اسی اختیار نے رائو انوار جیسے کردار پیدا کیے ہیں جو ریاست کی جانب سے دیے گئے اختیارات کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں اور نقیب اللہ محسود جیسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جن میں بے گناہ افراد کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کردیا گیا ہے۔ سانحہ ساہیوال ایسے واقعات کی مثال ہے جس کے ذمے داروں کو بچانے کی پسِ پردہ کوششیں جاری ہیں۔ ایک وقت تھا کہ کراچی میں ایک دن میں متعدد افراد کو نشانہ بناکر قتل کردیا جاتا تھا اور اس کی خبر بھی نہیں بنتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حکومت جس کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، ان کی جان و مال کی حفاظت کرے… وہی قاتلوں، دہشت گردوں اور بالجبر بھتہ وصول کرنے والوں کی سرپرستی کررہی تھی۔ ہم نے اس شہر میں یہ بھی دیکھا ہے کہ حکومتوں کی سرپرستی میں احتجاج کرنے والے سیاسی مخالفین کو سرِعام قتل کیا گیا۔ 12 مئی پاکستان کی سیاسی لغت کی ایک اصطلاح بن چکی ہے، جس دن جنرل (ر) پرویزمشرف کی آمریت کو اُن ہی کے نامزد چیف جسٹس افتخار چودھری نے چیلنج کیا اور وہ کراچی کے دورے پر آئے۔ ان کے استقبال کے لیے نکلنے والے سیاسی کارکنوں اور عوام کو کراچی کی مرکزی شاہراہ پر گولیوں سے بھون دیا گیا۔ اس سانحے کے گواہ سابق چیف جسٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سمیت کئی اکابر سیاسی راہنما بھی تھے، لیکن آج تک اس سانحے کا ذکر نہ ذرائع ابلاغ میں آتا ہے اور نہ ہی دہشت گردی کے خاتمے کا دعویٰ کرنے والے موجودہ اور سابق حکمرانوں کی زبانوں پر آتا ہے۔ یہ بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے کہ سرِعام شہریوں کو قتل کرنے کی حمایت مملکت ِپاکستان کے اُس وقت کے سربراہ نے کی جو افواجِ پاکستان کے بھی سربراہ تھے، یعنی جنرل (ر) پرویز مشرف، جنہوں نے اس دہشت گردی کو عوامی ردِعمل قرار دیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کی سرپرستی میں صرف 12 مئی کا سانحہ ہی پیش نہیں آیا تھا بلکہ انہوں نے نواب اکبر بگٹی کو اپنے حکم سے قتل کرا دیا تھا۔ انہوں نے بلوچ رہنمائوں کو دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ وہاں سے میزائل آئے گا جہاں سے ان کو خبر بھی نہیں ملے گی۔ اس طرزِ عمل نے بلوچستان کو آتش فشاں بنا دیا ہے جس کی وجہ سے سی آئی اے، را، خاد اور موساد کو ناراض اور گمراہ عناصر مل گئے ہیں جس نے ملک کی یکجہتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، لیکن اس سانحے کے ذمے داروں کا بھی تعین نہیں ہو سکا۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر ضروری طور پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں قتل عام کرایا، جس نے پاکستان کی سیاست و سماج کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ ایسا ہی ایک سانحہ بلدیہ ٹائون کی فیکٹری کی آتش زدگی ہے۔ اس کے بے شمار حقائق بیان کیے گئے لیکن آج تک اس مسئلے کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا، یہ صورتِ حال اس کے باوجود ہے کہ پولیس اور خفیہ ایجنسیاں جس کو چاہتی ہیں جس وقت چاہتی ہیں حراست میں لے لیتی ہیں۔ ہزاروں افراد لاپتا ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ اس عرصے میں کئی ممتاز علما کو ہدف بناکر قتل کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے مفتی تقی عثمانی جیسی عالمی شہرت یافتہ شخصیت پر قاتلانہ حملہ اپنے اندر سنگین مضمرات رکھتا ہے۔ کراچی شہر میں بدامنی 20 برس سے زیادہ عرصے سے جاری ہے، اور کئی ممتاز علما اور سیاسی رہنمائوں کو قتل کیا جا چکا ہے، جن کے ذمے داروں اور اسباب و محرکات کا تعین نہیں ہوسکا۔ حقیقی امن اسی صورت میں قائم ہوگا جب انصاف کو سیاسی مصلحتوں کے جال سے آزاد کیا جائے گا۔

Share this: