احیائے امت کیسے؟

(احمد جاوید)
احیائے امت کی کسی بھی تحریک کا انحصار اسی آزمودہ منہج پر ہونا چاہیے جس پر اس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس منہج کے دو پہلو ہیں، علمی اور عملی۔ علمی منہج جس کی بنیاد عقیدہ ہے، اس کے ضروری اجزا یہ ہیں:
تقویمِ امت کے حقیقی اصول کی معرفت
٭اس سوال کا جواب کہ امت کیا ہے اور مسلمانوں کی مختلف تہذیبی اور قومی وحدتیں امت کی وحدت میں ضم ہوتی ہیں یا ہوسکتی ہیں۔
٭اسلام اور مسلمانوں کی موجودہ حالت کی درست تشخیص اور اس کے محرکات۔
٭اسلام اور اہلِ اسلام کو درپیش مخالفتوں، مزاحمتوں اور مجبوریوں کی شناخت اور ان کا تجزیہ۔ اس تجزیے کے نتائج کو عروج و زوال کے تاریخی اور نقص و کمال کے اخلاقی قوانین کے اندر رہتے ہوئے مطلوبہ نتائج کے حصول کی ذہنی اور عملی کوششوں کی بنیاد بنانا۔
عملی منہج جس کی بنیاد اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع ہے، اس کے بنیادی عناصر یہ ہیں:
٭زندگی کے موجود مقاصد اور دین کے مطلوبہ مقاصد کے درمیان پیدا ہوجانے والے فاصلے کو ختم کرنا۔
٭دین کی کلچرلائزیشن
٭موجودہ معاشرتی اور دین کے نظامِ فضائل میں ہم آہنگی پیدا کرنا
٭غربت اور ناانصافی کا ازالہ اور بے تحاشا امارت و غیر محدود ملکیت کا خاتمہ۔
٭عورتوں میں مظلومیت اور بے حیائی دونوں کا علاج۔
یہ تمام مناہج جس علمی، قانونی اور اخلاقی اصول پر مبنی ہیں ان کا تقاضا ہے کہ مسلم نشاۃ الثانیہ کے عمل میں فرد اور اجتماع دونوں کی یکساں ذمہ داریاں ہیں جن میں بعض مشترک ہیں اور بعض منفرد۔ علمی ذمہ داریوں کا اکثر حصہ افراد سے تعلق رکھتا ہے، قانونی فرائض بیشتر اجتماعی نوعیت کے ہیں، اور اخلاقی ذمہ داریاں دونوں میں مشترک ہیں، یعنی نشاۃ الثانیہ کی تیاری جس درست علم، محکم ارادے اور خالص نیت پر موقوف ہے انہیں حاصل کرنے کے عمل میں خود کو ڈالے بغیر ہم اپنے مطلوبہ نتائج کی طرف پہلا قدم بھی نہیں اٹھا سکیں گے۔
خلاصہ یہ کہ مسلمہ نشاۃ الثانیہ صدرِ اول کے حالات کی بازیابی کا نام نہیں ہے، بلکہ اس انسان کے حصول کا نام ہے جسے صدرِاول نے ایک مستقل نمونے کے طور پر عملاً تشکیل دیا تھا۔ گویا جب ہم نشاۃ الثانیہ کی آرزو کرتے ہیں تو اس کا واحد مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے موجود ہونے کی تمام بنیادوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کر کے انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں حالات کی یکسر تبدیلی کے باوجود فنکشنل بنانا چاہتے ہیں۔ نشاۃ الثانیہ کا یہ محرک اتنا جامع اور مانع ہے کہ اس میں کسی چیز کی کمی کی جا سکتی ہے نہ اضافہ۔

الارض للہ

اس نظم کا مضمون یہ ہے کہ زمین کا حقیقی مالک اللہ ہے۔ نہ یہ زمیندار کی ہے، نہ جاگیردار کی اور نہ بادشاہ کی۔

پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون؟
کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار؟
خاک یہ کس کی ہے؟ کس کا ہے یہ نورِ آفتاب؟
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب؟
موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب؟
دہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں!
تیرے آبا کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں!

دہ خدا: گائوں کا مالک، زمیندار۔ آبا: اب کی جمع۔ باپ دادا۔
1۔ بھلا یہ تو بتائو کہ جب بیج زمین میں پڑ جاتا ہے تو مٹی کے اندھیرے میں کون اسے پالتا ہے؟ کس کے حکم سے دریائوں کی لہریں بھاپ بن کر اوپر اٹھتی ہیں اور بادل بن کر مینہ برساتی ہیں، جس سے کھیتیاں پلتی ہیں؟ یہ سب خدا کے کام ہیں۔
2۔ پچھم سے کون ایسی ہوا کھینچ کر لاتا ہے جو کھیتوں کے بڑھنے اور پھولنے پھلنے میں مدد دیتی ہے؟ یہ زمین کس کی ہے؟ یہ سورج کی روشنی کس کی ہے؟ یہ سب چیزیں خدا کی ہیں۔
3۔ گیہوں کے سٹے کی جیب موتی جیسے دانوں سے کون بھرتا ہے؟ موسموں کو بدل بدل کر آنے کے آداب کس نے سکھائے؟ یہ سب خدا کے کام ہیں۔
4۔ لہٰذا اے گائوں کے مالک؟ اے زمیندار! یہ زمین تیری نہیں، ہرگز تیری نہیں۔ نہ یہ تیرے باپ دادا کی ہے، نہ تیری ہے، نہ میری ہے، یہ تو خدا کی ہے۔

Share this: