غربت کا خاتمہ کیسے؟

جرمنی کے ایک نشریاتی ادارے ’’ڈویچے ویلے‘‘ نے غذائی قلت کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جو سالانہ لاکھوں ٹن گندم اور چاول بیرونی ممالک میں فروخت کرتے ہیں، لیکن جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں ہر دوسرا بچہ غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیاگیا ہے کہ ایسے بچوں کی مجموعی تعداد کروڑوں میں جا پہنچی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کے قومی ادارہ صحت اور برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی ایک تازہ رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس چھٹے سب سے بڑے ملک میں چوالیس فیصد بچوں کو غذائیت کی کمی کا سامنا ہے رپورٹ کے مطابق اگر صرف چھے ماہ سے لے کر تیس ماہ کی عمر کے بچوں کی مثال لی جائے تو ان میں غذائیت کی کمی کی شرح پچاسی فیصد ہے، شیر خوار بچوں میں سے صرف 15فیصد بچوں کو مناسب غذائیت والی خوراک دستیاب ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہی کہ پچاسی فیصد مائیں بھی غیر صحت مند ہیں، وہ خود غذائی قلت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچے بھی کمزور اور غیر صحت مند ہیں۔ رپورٹ میں اس صورتحال کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ ’’جن خاندانوں میں پیٹ بھر کے تین وقت کے کھانے کی دستیابی بھی مسئلہ ہو، وہاں کسی کو کھانے کی غذائیت پر توجہ دینے کی ضرورت کہاں محسوس ہوسکتی ہے۔ جس کے پاس ضرورت کے مطابق خوراک ہی نہیں ہے وہ غذائیت کے بارے میں کیسے سوچے گا‘‘۔ جس کو پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں وہ بہتر غذائیت والی یا متناسب غذائیت والی خوراک کے بارے میں کس طرح سوچے گا۔ رپورٹ کے مطابق 2011 میں ایک غذائی جائزہ لیاگیا تھا جس سے معلوم ہوا کہ 45 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ مسئلہ صرف بچوں میں غذائی قلت کا ہی نہیں ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبادی کی ایک بڑی تعداد مناسب خوراک سے محروم ہے۔ غذائیت کی کمی کی وجہ سے تھر میں ہزاروں بچوں کی اموات قوی منظر نامے کا ایسا مسئلہ بنا ہوا ہے کہ جس نے حکومت اور حکمرانوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا ہوا ہے۔ غذائی قلت کے بارے میں عالمی ادارے اپنے اپنے مقاصد کے تحت تحقیقی مطالعات پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ کوئی پہلی رپورٹ نہیں ہے جو پاکستان میں بھوک اور غربت کی سنگین صورتحال ظاہر کرتی ہو۔ کئی برس قبل ایک ایسی رپورٹ بھی آئی تھی جس کے مطابق ایک سال پاکستان میں گندم کی پیداوار زیادہ ہوگئی تھی لیکن اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ قوت خرید متاثر ہونے کی وجہ سے گندم بچ گئی تھی۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو زرعی ملک ہونے کی وجہ سے غذائی سلامتی کے خطرے سے بچے ہوئے ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایسا ملک جو اپنی ضرورت سے زیادہ خوراک پیدا کرتا ہو اس ملک میں مہنگائی اور غربت کی وجہ سے 45 فیصد آبادی اپنی بنیادی غذائی ضرورت پوری نہ کرسکتی ہو۔ بھوک کا خاتمہ پہلی ترجیح ہے۔ ہر شخص کو کم از کم ایک وقت پیٹ بھر کر کھانا ضرور ملنا چاہیے ، صحت، رہائش، تعلیم اور بلدیاتی سہولیات تو ابھی زیر بحث ہی نہیں۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق کسی شخص کا بھوکا سوجانا پورے معاشرے کا جرم ہے ۔ ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ غریبوں کی فلاح کے لئے برسر اقتدار آئی ہے لیکن ہر نیا دن پاکستان کے اقتصادی بحران میں اضافہ کررہا ہے۔ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومتیں کسی کے پاس بھی غربت، افلاس اور فاقے کے حقیقی اسباب کو شعور نہیں ہے ایک طرف 45 فیصد سے زائد آبادی خط غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور کردی گئی ہے جس کا اظہار اس رپورٹ سے ہوتا ہے کہ ہر دوسرا بچہ نا مناسب خوراک سے محروم ہے۔ اس کے باوجود ہر حکومت یہ نصیحت کررہی ہے کہ قوم معاشی اصلاح کے لیے کو تلخ گولیاں نگلنی پڑیںگی۔ ماضی میں ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تحریک چل پڑی اور وہ اقتدار سے محروم ہوگئے۔ اس کے باوجود عوام کے حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ رواں ہفتے میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے جبکہ اس سے پہلے گیس کے نرخوں میں غیر معمولی اضافے نے عام آدمی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں کے اضافے کے نتیجے میں ایل پی جی کے نرخوں میں خود بخود اضافہ ہوگیا۔ ڈالر کی شرح روپے کے مقابلے میں 145 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حکومت کی معاشی ٹیم کے قائد یعنی وزیر خزانہ اسد عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی 2008ء اور 2013ء کے مقابلے میں کم ہے۔ ان کا ’’تدبر‘‘ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں اس سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ جب ڈالر 105 روپے سے 145 روپے ہوگا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 32 ڈالر سے 68 ڈالر ہوگی تو اس کا فرق پڑے گا۔ لیکن وہ یہ نہیں بتا رہے کہ ڈالر 145 روپے تک کیوں پہنچ گیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک زمانے میں 100 ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو ابھی صرف 68 ڈالر تک ہی آئی ہے لیکن روپے کی شرح میں کمی کی وجہ سے ہررشے کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کی ضمانت دینے کے لیے کیا منصوبہ ہے؟ یہ بات کہ پاکستان میں ٹیکس کلچر نہیں ہے ایک بہت بڑا دھوکا ہے۔ پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس غربت کے خاتمے کا کوئی حقیقی منصوبہ اس لیے نہیں کہ سب جماعتیں سفاک سرمایہ داریہ طاقتوں کی غلام ہیں ،اس وجہ سے شوکت عزیز سے لے کر اسد عمر تک سارے معاشی ماہرین عوام دشمن، اسلام دشمن سرمایہ دارانہ نظام کے آلہ کار ہیں۔

Share this: