سندھ طاس معاہدہ

نام کتاب : سندھ طاس معاہدہ
مترجم : ضیاء شاہد (اردو ترجمہ)
صفحات : 188۔ قیمت800روپے
بااہتمام : علامہ عبدالستار عاصم، محمد فاروق چوہان
ناشر : قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل۔ یثرب کالونی، بینک اسٹاپ، والٹن روڈ، لاہور ، چھائونی
فون نمبر : 03000515101-03008422518
برقی پتا : qalamfoundation3@gmail.com

ماہرین آئندہ برسوں میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت کے خطرے کی نشاندہی کررہے ہیں، اور اس امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دے رہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین آئندہ جنگ کا سبب پانی کا تنازع ہو، کیونکہ بھارت ستلج، راوی اور بیاس کا تمام پانی پہلے ہی اپنے علاقے میں روک کر ہمارے زرخیز علاقوں کے بڑے حصے کو بنجر اور ریگستان میں تبدیل کرچکا ہے اور زیر زمین پانی کی سطح بھی اتنی گہری چلی گئی ہے کہ کچھ عرصے بعد یہاں سے پینے اور روزمرہ استعمال کے لیے پانی کا حصول بھی شاید ممکن نہ رہے۔ اب بھارت اپنے زیرِ قبضہ کشمیر کے علاقے میں دھڑادھڑ بند بناکر جہلم اور چناب کو بھی تیزی سے خشک کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے، جس کے بعد اہلِ پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے اور یہاں زندگی اس قدر مشکل ہوجائے گی جس کا تصور بھی آج محال ہے۔
پاکستان کے سابق منصفِ اعلیٰ جناب ثاقب نثار نے مستقبل قریب میں پانی کی اس ناگفتہ بہ قلت کی جانب اہلِ وطن کو بھرپور انداز میں متوجہ کیا، اور اُن کی نگرانی میں پانی کے استعمال میں احتیاط اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے دو ڈیموں کی تعمیر کی زوردار مہم بھی چلائی گئی، اور ان ذخائر کی تعمیر کے لیے عطیات جمع کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا، مگر افسوس کہ اُن کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔
پاکستان اور بھارت کے مابین دریائوں کے پانی کی تقسیم 1960ء میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت عمل میں آئی، جس پر اُس وقت کے صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور وزیراعظم بھارت پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی اپنی حکومتوں کے ایما پر دستخط کیے… تاہم موجودہ صدرِ پاکستان جناب عارف علوی کی جانب سے رائے سامنے آئی ہے کہ اس معاہدے پر نظرثانی ہونی چاہیے… معاہدہ انگریزی زبان میں تحریرکیا گیا اور اس میں استعمال کی گئی زبان زیادہ تر تکنیکی اصطلاحات پر مبنی ہے جس کے باعث عام تعلیم یافتہ آدمی کے لیے بھی اس معاہدے کا فہم وادراک آسان نہیں۔ اس مشکل کا احساس کرتے ہوئے ممتاز صحافی، ’’خبریں‘‘ گروپ آف پبلی کیشنزکے منتظم اعلیٰ جناب ضیاء شاہد نے ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ کا اردو زبان میں ترجمہ کرکے ایک اہم قومی خدمت انجام دی ہے، جسے ’’قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل‘‘کے زیراہتمام علامہ عبدالستارعاصم اور محمد فاروق چوہان نے نہایت اعلیٰ معیارِ طباعت کے ساتھ عمدہ گلیز کاغذ پر شایانِ شان طور پر شائع کیا ہے۔
معیاری اردو ترجمہ کی اشاعت سے عام آدمی، خصوصاً موضوع سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ فکر و عمل کے لیے یہ جاننا آسان ہوگیا ہے کہ ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ میں ہم نے کیا شرائط مانی تھیں اور بھارت نے کیا کیا باتیں تسلیم کی تھیں۔ جناب ضیاء شاہد نے ترجمہ کے پیش لفظ میں معاہدے کے بعض کمزور پہلوئوں کی نشاندہی کی ہے، اور کرنے کے بعض کاموں کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی ہے، جس سے اس کی افادیت دوچند ہوگئی ہے، اور اس کی حیثیت محض ایک ترجمہ سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جناب ضیاء شاہد کی رائے ہے کہ:
’’(الف) یہ معاہدہ عجلت میں طے پایا تھا، جس میں ہم نے اپنے تین دریا بھارت کے سپرد کرکے دو دریا اپنے پاس رکھے تھے۔ ورلڈ بینک کے علاوہ بھارت سے لیے جانے والے سرمائے کے بل پر منگلا اور تربیلا دو جھیلیں تیار کرلی تھیں۔ بیاس تو پاکستانی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے ہی بھارت ’’خرچ‘‘ کرچکا تھا۔ یعنی ڈیم بناکر نہریں تیار کرکے راجستھان کو دے چکا تھا۔ اصولاً کالاباغ ڈیم بھی اسی ہلے گلے میں بن جانا چاہیے تھا۔ لیکن ایوب خان نے ہزارہ کو ترقی دینے کے لیے تربیلا شروع کروا دیا۔ ورنہ شاید اُس وقت سابق صوبہ سرحد یا سندھ کالا باغ ڈیم کے اتنے مخالف نہ تھے۔
(ب) اس معاہدے میں جو سہولتیں بھارت کو دی گئیں، وہ پاکستان کے لیے مخصوص نہ کروائی گئیں۔ جیسے یہ معاہدہ زرعی پانی کا تھا، مگر عرفِ عام میں اسے پاکستانی دریا بھارت کے ہاتھ بیچنے کے ریمارکس دیئے گئے۔ ہم نے زرعی پانی ستلج، راوی، بیاس کا ضرور دیا تھا، مگر دریائی پانی کے اور استعمال بھی ہوتے ہیں جس کی تشریح اس معاہدے میں موجود ہے۔ کہا گیا ہے کہ جہلم اور چناب دونوں دریا جب تک بھارتی علاقے میں بہتے ہیں بھارت اُن میں سے پینے کا پانی، گھریلو استعمال کا پانی، آبی حیات یعنی مچھلیوں کا پانی، ماحولیاتی یعنی سبزے اور پودوں کا پانی کے علاوہ، پن بجلی کا پانی اور صنعتی ضروریات کا پانی استعمال کرسکتا ہے، لیکن جی معین الدین صاحب بہادر نے یہی شرط ستلج اور راوی کے پانیوں میں نہیں لگائی اور نہ تشریح کرکے بھارت سے دستخط کروائے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت راوی اور ستلج دونوں دریائوں کے زرعی پانی کے علاوہ باقی پانچوں استعمال کا پانی بھی روک رہا ہے، لکڑی کے تختے لگاکر، پانی کی ایک بوند بھی ستلج اور راوی میں بہنے نہیں دیتا ہے۔
(ج) بعد ازاں ایوب خان کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی اس مسئلے پر کوئی توجہ نہ دی۔ نتیجہ آج ظاہر ہورہا ہے کہ منگلا سے نکلنے والی لنک کینالوں سے ہماری ضروریات پوری نہیں ہوتیں، جنہیں پہلے جہلم میں ڈالا جاتا ہے اور پھر چناب، راوی، ستلج میں ڈالا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ پانی کم ہے۔ راوی اور ستلج کے کناروں پر زیر زمین پانی 1960ء سے پہلے دس بارہ فٹ نیچے مل جاتا تھا، لیکن اب لاہور میں واسا کے ٹیوب ویل 160 فٹ نیچے لگے ہیں۔ زیرزمین پانی کی مقدار کم ہورہی ہے۔ ہیپاٹائٹس اور جلدی بیماریوں کی بہتات ہے۔ ستلج کے کنارے جنہیں آگے جاکر چولستان کو پانی فراہم کرنا تھا، اب خود مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اب وہاں ریت کے سمندر ٹھاٹھیں مارتے ہیں۔‘‘
کتاب کے خوب صورت، رنگین سرورق میں معاہدے کے نتیجے میں بنجر ہونے والی وسیع اراضی کے پس منظر کے ساتھ پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیراعظم پنڈت نہرو کی تصاویر شائع کی گئی ہیں جس سے یہ خاصا بامعنی اور بامقصد ہوگیا ہے، تاہم سرورق پر معاہدے کے انگریزی نام’’INDUS WATERS TREATY 1960 ‘‘ میں TREATY کے غلط ہجے بری طرح کھلتے ہیں۔ امید ہے کہ آئندہ اشاعت میں اس کی اصلاح پر توجہ دی جائے گی، کہ اس بظاہر معمولی غلطی نے کتاب کے چہرے کے حسن کو گہنا دیا ہے۔

Share this: