افلاطون

ابوسعدی

افلاطون (429۔347 ق م) ایتھنز کے ایک شریف گھرانے میں پیدا ہوا۔ یہ سقراط کا شاگرد تھا اور ابتدا میں اسی کے فلسفیانہ افکار کا ترجمان بھی رہا۔ اس نے فلسفہ کے متنوع موضوعات پر لکھا ہے، بالخصوص علم کی حقیقت اور ہیئت پر اس کے افکار بہت نمایاں ہیں۔ جن اشیا کو ہم دیکھتے یا چھوتے ہیں، یہ اعیان ثابتہ کا محض عکس ہیں۔ مسلم صوفیہ نے اس کے نظریات سے بہت خوشہ چینی کی ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا کچھ حصہ سراکیوز (سسلی) میں گزارا۔ وہاں سے واپسی پر ایتھنز میں ایک اکادمی کی بنیاد رکھی اور باقی عمر اسی میں درس و تدریس میں گزار دی۔ اس کا فلسفہ ’’مکالمات‘‘ کی شکل میں بیان ہوا ہے، جسے اپنے اسلوب اور موضوع کے اعتبار سے عالمی ادبیات کا ایک وقیع نمونہ شمار کیا جاتا ہے۔ افلاطون نے روحِ عالم کا تصور بھی پیش کیا اور اس طرح مادی کائنات کے خالق کو تسلیم کیا ہے۔ وہ روحِ عقلی کو غیر فانی مانتا تھا۔ ادب و فن کے متعلق اس کا نظریہ ہے کہ مثالی حسن سے محبت، انسان کو ’’عین خیر‘‘ تک پہنچا دیتی ہے۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

حکایت

ایک مرتبہ ایک شیر بہت شدت سے بیمار ہوا، یہاں تک کہ نقل و حرکت سے معذور ہوگیا۔ کسی شکار کا تعاقب نہ کرسکتا۔ لیکن وہ کیا حکمت کرتا کہ جانوروں کو عاجزی اور منت سے بلاتا کہ: ’’میں بیمار ہوں، اور تم سے ملنے کو بہت جی چاہتا ہے۔ ایک نظر مجھ کو آکر دیکھ جائو تو میرے دل کو تسکین ہو‘‘۔
بہت سے بے عقل جانور اسی طرح شیر کے دامِ فریب میں پھنسے۔ بیمار کو پوچھنے گئے اور خود مر کر رہ گئے۔ اتفاقاً شیر نے لومڑی کے پاس بھی اسی طرح کا پیام بھیجا۔
لومڑی نے جواب میں یہ عرضی لکھ بھیجی کہ: ’’حضرت جہاں پناہ سلامت۔ لومڑی کو دشمنانِ حضور کی علالت کا سخت رنج ہے اور شبانہ روز بارگاہِ ایزدی میں دست بہ دعا ہوں کہ کہیں جلدی خدا حضور کو تندرستی بخشے۔ لیکن امیدوار ہوں کہ حاضری سے معاف رہوں، اس واسطے کہ جتنے جانور حضور کی عیادت کو گئے اُن کے جانے کے نشان تو ہیں لیکن لوٹ کر آنے کے نشان کسی کے نہیں۔ پس ڈرتی ہوں کہ ایسا نہ ہو بہت سے جانوروں کا ہجوم حضور کے مزاجِ مبارک کو ناگوار ہو‘‘۔
حاصل:دغاباز آدمی دوستی کی بات میں بھی درپردہ دشمنی کیا کرتا ہے۔
(’’منتخب الحکایات‘‘۔نذیر احمد دہلوی)

راہ ترقی

مشقت کی ذلت جنھوں نے اٹھائی
جہاں میں ملی ان کو آخر بڑائی
کسی نے بغیر اس کے ہرگز نہ پائی
فضیلت نہ عزت نہ فرماں روائی
نہال اس گلستاں میں جتنے بڑھے ہیں
ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں
نہ بونصر تھا نوع میں ہم سے بالا
نہ تھا بو علی کچھ جہاں سے نرالا
طبیعت کو بچپن سے محنت میں ڈالا
ہوئے اس لیے صاحب قدر والا
اگر فکر کسب ہنر تم کو بھی ہو
تمہیں پھر ابو نصر اور بو علی ہو

(حالی)

سراج منیریہ صورت گر خوابوں کے

سراج منیر(1951ء۔1990ء) بیک وقت نقاد، شاعر، افسانہ نگار اور گوناگوں صلاحیتوں کے آدمی تھے۔ مشرقی پاکستان کے شہر سیدپور کے علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ والد مولانا متین ہاشمی عالم دین اور بہت اچھے خطیب تھے۔ ان کا تعلق غازی پور (یوپی) بھارت سے تھا۔ سراج نے ابتدائی تعلیم سیدپور میں حاصل کی۔ ایف اے راج شاہی بورڈ اور بی اے (1973-74ء) گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ اسی کالج سے 1976ء میں انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ حصول تعلیم کے بعد 1976ء سے 1979ء تک گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں انگریزی زبان کے استاد رہے۔ سراج منیر شعلہ بیان مقرر اور ریڈیو ٹی وی کے ماہر براڈ کاسٹر تھے۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے پانچ سو سے زائد مذاکرات، فیچر اور لیکچر نشر کرنے میں حصہ لیا، جبکہ ٹی وی کے لیے تین سو سے زائد پروگرام کیے۔ سراج منیر نے ادب، صحافت، طباعت اور سیاست کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ تاہم ان کی ذات کا بنیادی حوالہ ادب ہی تھا۔ وہ صحیح معنوں میں دانشور تھے۔ ان کی دو کتابیں منظرعام پہ آئیں، ”ملت اسلامیہ، تہذیب و تقدیر“ اور ”کہانی کے رنگ“۔ ان کے کتنے ہی مضامین کتابی صورت میں مرتب ہونے کے منتظر ہیں۔(ڈاکٹر طاہر مسعود)

کپلر

کپلر (1630ء) جرمنی کا مشہور ہیئت دان تھا۔ سب سے پہلے اسی نے ’’کششِ ارضی‘‘ اور ’’سمندر پر چاند کا اثر‘‘ کے نظریات پیش کیے تھے۔ نیوٹن (1727ء) محض ایک شارح ہے۔ کپلر، کاپرنیکی (1543ء) کی طرح آفتاب کو مرکوزِ عالم سمجھتا تھا۔ جب 1618ء میں اس نے اپنی کتاب ’’خلاصہ نظام کاپرنیکی‘‘ شائع کی تو کلیسا نے اسے کافر قرار دیا اور اس کی کتاب ضبط کرلی۔
(ماہنامہ ’’چشم بیدار‘‘۔ مئی 2011ء)

Share this: