امریکہ نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسدارانِ انقلاب کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ ایک ایسا اعلان ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دوسرے ملک کی فوج کو دہشت گرد تنظیم کہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے دستے ’پاسدارانِ انقلاب‘ عالمی سطح پر ایران کی دہشت گردی کی مہم پھیلانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے سے الگ کیے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ چکی تھی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے فیصلے کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو بھی پاسدارانِ انقلاب سے رابطہ رکھے گا وہ دراصل دہشت گردی کو فروغ دے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے خلاف فیصلے پر ایک ہفتے میں عمل درآمد ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ ایران پر بہتر رویّے اپنانے کے لیے دباؤ بڑھاتا رہے گا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ امریکی اتحادی بھی ایسا ہی کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کی قیادت انقلابی نہیں ہے اور ’’ہمیں ایران کے عوام کو ان سے آزاد کروانے کے لیے ان کی مدد کرنی چاہیے۔‘‘
ایرانی سیاست دانوں نے امریکہ کو اسی کی زبان میں جواب دینے کا عہد کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے اس فیصلے کے بعد خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ اس کے مخالفین اس کی فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے خلاف ایسے ہی اقدام کریں گے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی وزارتِ دفاع کے کچھ حکام اور فوج کے چیئرمین جائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل ہوڈنفرڈ نے اس فیصلے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ فوجی حکام کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کے خلاف پُرتشدد کارروائیاں ہونے کا امکان پیدا ہوجائے گا۔ اطلاعات کے مطابق سی آئی اے نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔

عبدالباری خان اور ’بالکل مفت‘ انڈس اسپتال

کراچی میں ایک نہایت اعلیٰ فلاحی اسپتال انڈس کے سربراہ عبدالباری خان ایک مسیحا ہیں۔
1981ء میں عبدالباری خان کا داخلہ ڈائو میڈیکل کالج میں ہوگیا۔ یہ صرف ہونہار ہی نہیں تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سینے میں جو دل دیا تھا اس کی نرمی بھی اللہ کم ہی لوگوں کو نصیب کرتا ہے۔ یہ 1986ء تک ڈائو میڈیکل کالج کے طالب علم رہے لیکن ان پانچ برس میں انہوں نے خدمت کے بے شمار کارنامے انجام دیئے۔1987ء میں سولجر بازار میں دھماکا ہوا تو عبدالباری اپنے چند دوستوں کے ساتھ لاشوں کے درمیان میں سے زخمیوں کو نکال کر لائے، جبکہ سول اسپتال کا ایمرجنسی وارڈ اپنے بستروں کی کمی کی شکایت کررہا تھا۔ اس کے بعد عبدالباری نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گھر گھر اور در در جاکر بھیک مانگی۔ 32 لاکھ 74 ہزار 5 سو روپے کی خطیر رقم جمع ہوگئی اور اس طرح سول اسپتال کے ’’بہترین ایمرجنسی وارڈ ‘‘کا افتتاح ہوگیا۔ انہوں نے دورانِ طالب علمی اپنے دوستوں کی مدد سے ’’پیشنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن‘‘ کی بنیاد رکھی جو پیسے جمع کرکے اندرونِ سندھ اور کراچی کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مفلوک الحال اور مفلس لوگوں کے علاج معالجے کا بندوبست کیا کرتی تھی۔
اس دوران ان کو یہ احساس ہوا کہ بلڈ ڈونیشن کا واحد ذریعہ چرسی، ہیروئنچی اور موالی ہیں، اور ایک دن وہ بھی پیسوں کی کمی کی شکایت پر ہڑتال پر چلے گئے۔ اسپتال میں موجود مریض بے یارومددگار، بے بسی و بے کسی کی تصویر بنے پڑے تھے۔ تب عبدالباری خان نے پہلے ’’بلڈ بینک‘‘ کا بھی آغاز کردیا۔ اُس وقت عبدالباری نے اپنے مزید تین دوستوں کے ساتھ مل کر عہد کیا کہ ’’ایک دن آئے گا جب اسی شہر میں ایک ایسا اسپتال بنائیں گے جہاں سب کا علاج بالکل مفت ہوگا‘‘۔ عبدالباری نے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز کراچی سے کیا اور ساری زندگی کراچی میں ہی گزار دی، لیکن باقی تینوں دوست مزید تعلیم کے لیے دنیا کے مختلف ممالک روانہ ہوگئے۔
17سال بعد 2004ء میں باقی تینوں دوست واپس کراچی آئے، عبدالباری سے ملاقات کی اور زمانہ طالب علمی کا عہد یاد دلایا، اور اس طرح دونوں ٹانگوں سے معذور باپ کی تہجد میں مانگی گئی دعا ’’یااللہ! میرے بیٹے عبدالباری کو خدمتِ خلق کے لیے قبول کرلے‘‘ رنگ لے آئی۔ 2004ء میں کورنگی کریک میں 20 ایکڑ کی جگہ پر پاکستان کے ’’بالکل مفت‘‘ اسپتال کی تعمیر شروع ہوگئی۔ بلآخر جولائی 2007ء میں ’’انڈس اسپتال‘‘ کا آغاز ہوگیا۔ اسپتال میں ڈیڑھ سو لوگوں کو ایڈمٹ کرنے کا انتظام تھا۔ اسپتال کا بجٹ شروع میں 8 کروڑ روپے تھا۔ تعمیر کے وقت اور افتتاح کے بعد بھی لوگ عبدالباری سے کہتے کہ یہ اسپتال نہیں چل سکے گا، کچھ ہی عرصے بعد تم فیس رکھنے پر مجبور ہوجائو گے۔ لیکن اللہ پر آنکھیں بند کرکے یقین کرنے والوں اور دیوانہ وار اپنے مشن سے محبت کرنے والوں کی ڈکشنری میں ’’ناممکن‘‘ کا لفظ نہیں ہوتا۔150 بستروں کا اسپتال پہلے 300 کا ہوا، اِس سال یہ اسپتال 1000 بستروں تک کردیا جائے گا، اور 2024ء تک 18 سو افرادکے لیے اس اسپتال میں علاج کا بالکل مفت انتظام ہوگا۔ یہ پاکستان کا نہ صرف بہترین سہولتوں سے آراستہ اسپتال ہے بلکہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس پورے اسپتال میں کوئی کیش کائونٹر موجود نہیں ہے، یہ پیپر لیس بھی ہے۔ مریض سے لے کر ڈاکٹر تک کسی کو پرچی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آپ کا پیشنٹ نمبر ہر جگہ آن لائن اسکرینز پر آپ کی رپورٹ اور کارکردگی دکھا دیتا ہے۔ پچھلے گیارہ برس میں کوئی مریض پیسے نہ ہونے کی وجہ سے واپس نہیں گیا، امیر و غریب سب ایک ہی لائن میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ’’پہلے آئیے اور پہلے پائیے‘‘ کی بنیاد پر علاج ہوتا ہے۔ دماغ کے علاوہ انسانی جسم کے تمام ہی اعضاء کا علاج کیا جاتا ہے۔
اسپتال کا بجٹ 15 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ اس خطیر رقم کا 92 فیصد پاکستان سے، اور اس کا بھی 50 فیصد سے زیادہ کراچی سے مہیا ہوتاہے۔ 70 فیصد لوگ اپنے نام کی جگہ ’’عبداللہ‘‘ بتاکر کروڑوں کی رقم جمع کرواتے ہیں اور جنت میں اپنے لیے پلاٹ پر پلاٹ بک کرواتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالباری کے پاس بھی ہر ڈاکٹر کی طرح دو آپشنز موجود تھے، 1987ء میں ہائوس جاب کرنے کے بعد امریکہ یا یورپ چلے جاتے، ایک عیاش زندگی گزارتے، روز صبح اے سی والے کمرے میں چائے کا ’’سپ‘‘ لیتے ہوئے اور رات کو کسی ریسٹورنٹ یا بوفے کی ٹیبل پر پاکستان، پاکستانی قوم اور یہاں کے حالات کو کوستے رہتے، اور ایک ’’معزز شہری‘‘ بن کر دنیا سے رخصت ہوجاتے۔ دوسرا آپشن وہ تھا جو انہوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔
(ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ جنگ،8 اپریل2019ء)

Share this: