صرف ایک گھنٹے کی جسمانی ورزش، گٹھیا اور معذوری سے بچاتی ہے

ایک نئے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ہفتے میں ایک گھنٹے کی جسمانی ورزش گٹھیا، جوڑوں کے درد اور دیگر ایسی کیفیات کو دور کرتی ہے جو آگے چل کر معذوری یا محتاجی کو جنم دیتی ہیں۔ یہ تحقیق امریکی جرنل آف پری وینٹو میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں سال 2008ء سے 2104ء کے درمیان ایسے لوگوں کو شامل کیا گیا جو گھٹنے کے درد اور گٹھیا (اوسٹیوآرتھرائٹِس) کے قریب پہنچ چکے تھے۔ اس کیفیت میں جوڑوں میں سوزش بڑھتی ہے اور دھیرے دھیرے مریض چلنے سے معذور بھی ہوجاتا ہے۔
پہلے پہل مریضوں کو گھٹنے میں درد، سختی اور کمزوری محسوس ہوتی ہے جو ابتدائی گٹھیا کی علامات ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں مریض اس کے شکار ہیں اور چلنے پھرنے میں شدید تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ اس مرض میں گھٹنے کی کُرکُری ہڈی (کارٹلیج) گِھس کر ختم ہوجاتی ہے اور ہڈیاں ایک دوسرے سے رگڑنے لگتی ہیں جس سے اذیت ناک تکلیف ہوتی ہے۔
تاہم دیگر امریکی ادارے مثلاً سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈی سی) کا اصرار ہے کہ بالغ افراد 150 منٹ ہر ہفتے کی ورزش ضرور کریں جس سے بہت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کے ڈاکٹر متفق ہیں کہ تیز قدموں سے چلنے یا کسی اور جسمانی ورزش سے دماغ بہتر رہتا ہے۔ نئے خلیات پیدا ہوتے ہیں اور دماغی تناؤ والے ہارمون بھی کم ہوتے ہیں۔ اس لیے ورزش اور واک کو کسی بھی طرح نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ بڑھاپے میں گھٹیا اور جوڑوں کے درد سے بچنا چاہتے ہیں تو واک کو زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔

واٹس ایپ نے صارفین کی بڑی پریشانی کا حل پیش کردیا‎

پیغام رسانی کی مقبول ترین ایپ ’واٹس ایپ‘ نے صارفین کی ایک دیرینہ مشکل کو آسان کردیا۔ عمومی طور پر کوئی بھی واٹس ایپ یوزر گروپ بنا کر بغیر اجازت کسی بھی صارف کو ایڈ کرتا تھا جس پر صارفین سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے اور بلا اجازت کسی انجان گروپ میں زبردستی ایڈ ہونے کے معاملے پر میسجنگ ایپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔
اب واٹس ایپ نے اس پریشانی کا حل پیش کردیا ہے، ایڈمن کنٹرول کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ نے صارف کو گروپس میں ایڈ ہونے یا نہ ہونے کا اختیار دے دیا ہے، اس نئی اپ ڈیٹ کی وجہ سے کسی کو گروپ میں ایڈ کرنے کے لیے صارف کی اجازت درکار ہوگی۔ اگر آپ بھی اس فیچر کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو واٹس ایپ ’سیٹنگز‘ میں جانے کے بعد ’اکاؤنٹ‘ پر کلک کریں، نئی ونڈو کھلنے پر ’پرائیویسی‘ پر کلک کریں، نئے صفحے پر آپ کو تین آپشنز دیے جائیں گے۔ جب آپ ’No Boddy‘ کا انتخاب کریں گے تو کوئی بھی آپ کو ازخود گروپ میں ایڈ کرنے کا مجاز نہیں ہوگا، دوسرا آپشن ’My Contact‘ ہے جس کے ذریعے ایڈریس بک میں موجود یوزرز کو آپ گروپ میں ایڈ کرسکتے ہیں، جب کہ ’Everyone‘ آپشن پر صارف کی جانب سے کسی قسم کی اجازت درکار نہیں ہوگی۔

چھٹی حس کی تصدیق

حواسِ خمسہ کی موجودگی اہلِ دانش اور فلسفی صدیوں سے تسلیم کرتے چلے آرہے ہیں، لیکن چھٹی حس کو آج تک سائنس کی دنیا میں محض ایک مذاق سمجھا جاتا رہا ہے، مگر اب امریکی سائنس دانوں نے پہلی بار چھٹی حس کی موجودگی کی سائنسی طور پر بھی تصدیق کردی ہے۔ برطانوی اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق یہ دریافت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے سائنس دانوں نے کی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے ماہر دماغی امراض، ڈاکٹر کارسٹن بان مین نے بتایا کہ دو نوعمر لڑکوں پر کی جانے والی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ انسان میں حواس خمسہ یعنی دیکھنے، سننے، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کی حس کے علاوہ بھی ایک حس پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں لڑکے ایک حیرت انگیز بیماری میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے وہ دیکھے بغیر اپنے ہی جسم کی موجودگی کا احساس نہیں کرپاتے۔ ڈاکٹر بان نے بتایا کہ جب ان لڑکوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تو انہیں معلوم بھی نہیں تھا کہ ان کی ٹانگیں کہاں ہیں اور بازو کہاں۔ تاہم وہ اپنی چھٹی حس کی مدد سے بعض کام انجام دینے میں کام یاب رہے، مثلاً میز پہ پڑا گلاس اٹھا لیا۔ جب لڑکوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تو وہ چلنے کے قابل بھی نہیں تھے کیوںکہ انہیں اپنی ٹانگوں کی موجودگی کا احساس ہی نہیں تھا۔ اس کے باوجود چھٹی حس سے کام لے کر بتائی گئی جگہ تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

Share this: