نومنتخب امیرجماعت اسلامی پاکستان، سراج الحق کی تقریب حلف برادری

ایک ایسے ماحول میں جہاں لوگ عہدوں کے لیے جان و مال بلکہ عزت و آبرو کی قربانی سے بھی دریغ نہ کرتے ہوں، یہ بات بہت عجیب اور ناقابلِ یقین محسوس ہوتی ہے کہ اس معاشرے میں ایک گروہ ایسا بھی موجود ہے جہاں لوگ عہدوں کے لیے باہم دست و گریباں نہیں ہوتے، بلکہ ان سے پناہ مانگتے اور دور بھاگتے ہیں۔ جی ہاں یہ گروہ، یہ تنظیم فی الواقع آج کے دور میں بھی موجود ہے اور اس کا نام ’’جماعت اسلامی‘‘ ہے، جس کے امیر کے انتخاب کا اعلان 21 مارچ 2019ء کو کیا گیا تو نومنتخب امیر اپنی منصبی ذمہ داریوں کے سلسلے میں پہلے سے ارضِ مقدس سعودی عرب میں موجود تھے۔ وہاں جب انہیں اطلاع دی گئی کہ ارکانِ جماعت اسلامی نے انہیں 2019ء سے 2024ء کی میقات کے لیے دوبارہ امیر منتخب کرلیا ہے تو اُن کے گرد موجود ساتھیوں نے دیکھا کہ وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
9 اپریل 2019ء وہ مبارک دن تھا جب منصورہ کے وسیع سبزہ زار میں تقریبِ حلف برداری کا اہتمام کیا گیا تھا اور بڑی تعداد میں ارکان و قائدینِ جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے رہنماء، معززین اور ذرائع ابلاغ کے نمائندگان بہت بڑی تعداد میں نمازِ عصر سے پہلے منصورہ پہنچ چکے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد امام جامع مسجد منصورہ قاری وقار احمد چترالی کی تلاوتِ کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا، جس کے بعد حافظ لئیق احمد نے شاعر مشرق علامہ اقبال کا نعتیہ کلام پیش کیا:

لوح بھی تُو قلم بھی تُو، ترا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ، تیرے محیط میں حباب

قیم جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے نومنتخب امیر کو حلف برداری کے لیے مدعو کرنے سے قبل سامعین کو بتایا کہ جماعت اسلامی کا پورا نظام دستور کا پابند ہے اور ارکانِ جماعت کے علاوہ امیر، تنظیم، مرکزی مجلسِ عاملہ، مجلسِ شوریٰ، شعبہ جات، انتخابی کمیشن اور انتخابی ٹریبونل پر مشتمل ہے۔ جماعت اسلامی اقامتِ دین کی تحریک ہے۔ سیاسی، جمہوری، آئینی اور پارلیمانی جدوجہد اس کا طریق کار ہے۔ اسلامی اور خوش حال پاکستا ن اس کی جدوجہد کی بنیاد ہے۔ جماعت اسلامی کی انتخابی تاریخ اور مرحلہ وار امرائے جماعت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد انہوں نے نومنتخب امیر کو حلف اٹھانے کے لیے مدعو کیا۔
نعرہ ہائے تکبیر، انقلاب انقلاب اسلامی انقلاب، لیڈر بے باک پیارا، سراج الحق ہمارا، اور مردِ مومن مردِ حق کے نعروں کی گونج میں جناب سراج الحق نے حلف اٹھایا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و وفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھیں گے۔ جماعت اسلامی کے نصب العین کی خدمت کو اوّلین اہمیت دیں گے۔ اپنی ذات پر جماعت کی ذمہ داریوں کو ترجیح دیں گے۔ ارکانِ جماعت میں عدل و دیانت سے فیصلے کریں گے۔ جماعت اسلامی کی امانتوں اور نظم کی پوری پوری حفاظت کریں گے اور ہرحال میں جماعت کے دستور کے پابند اور وفادار رہیں گے۔ اس جامع حلف کے بعد اپنی گفتگو کا آغاز انہوں نے قرآن حکیم کی سورہ حٰم السجدہ کی آیات 33 تا 35کی تلاوت اور ترجمہ سے کیا کہ ’’اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں، تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ کسی کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کی جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیب والے ہیں۔‘‘
اپنے جامع اور کلیدی خطاب میں سینیٹر سراج الحق نے ملکی اور عالمی حالات پر روشنی ڈالی۔ ان حالات میں جماعت اسلامی کی تاریخ، پالیسیوں اور کردار کا احاطہ بھی کیا۔ اپنا آئندہ لائحہ عمل و ترجیحات بھی واضح کیں اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ظلم کی ہرشکل کا مقابلہ کرے گی اور مظلوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مجھے جماعت اسلامی پاکستان کے ارکان نے دوبارہ اپنا امیر منتخب کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی اَمارت، ایک عام سیاسی جماعت جیسی نہیں جس پر فائز ہونا فخر کی علامت ہو۔ یہ اتنی بڑی ذمہ داری ہے جس کی جوابدہی مجھے اپنے خالق و مالک، ارکانِ جماعت اور قوم کے ہر فرد کو بھی کرنا ہے۔ میں نے پہلے بھی پانچ سال تک یہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور کارکنانِ جماعت کے تعاون کے ساتھ ادا کی ہے، اور آج بھی میں نے جو حلف اٹھایا ہے، اللہ پر توکل اور بھروسا کرکے اٹھایا ہے۔ مجھے یقینِ کامل ہے کہ اللہ رب ذوالجلال کا ہاتھ اِس جماعت پر ہے، وہی ہمیں طاقت عطا کرتا ہے، وہی صلاحیت دیتا ہے، وہی بصیرت وبصارت دیتا ہے، وہی حوصلہ دیتا ہے، وہی مواقع پیدا کرتا ہے، وہی کامیابی دیتا ہے ا ور وہی دین کو قائم و دائم رکھنے کے لیے کارکنوں میں ولولہ اور جان ومال سے جدوجہد کرنے کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ اس لیے میں پُرامید ہوں کہ ہم اللہ کے بھروسے، قرآن وسنت کی تعلیمات اور اجتماعی دانش کے ساتھ فریضۂ اقامتِ دین ادا کریں گے اور کامیابی کی منزل پر پہنچیں گے، ان شاء اللہ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قوم نے ہمیشہ بہتری کی تلاش میں ووٹ کا استعمال کیا تاکہ انہیں بنیادی حقوق میسر آسکیں اور مسائل کی دلدل سے نجات مل سکے، مگر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور پھر پرویزمشرف سب نے عوام کی امنگوں کا خون کیا۔ موجودہ حکومت بھی عوام کی توقعات اور امیدوں پر پورا نہیں اتر سکی، یہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کا تسلسل ہے۔ ہم نے کرپشن فری پاکستان تحریک چلائی جس کو ملک بھر کے عوام نے اپنا بیانیہ بنایا اور میڈیا نے ہمارے اس مؤقف کو تسلیم کیا کہ سب کا احتساب کیا جائے۔ سب سے پہلے ہم پاناما لیکس کو سپریم کورٹ میں لے کر گئے، چند مخصوص لوگوں کے خلاف تحقیقات ہوئیں مگر 436 لوگوں کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ہمارا ہمیشہ مؤقف رہاہے کہ جس نے بھی غیر قانونی طریقے سے دولت بنائی اور پاکستان کو لوٹا ہے اُس کا بے لاگ احتساب ہو۔ کرپٹ عناصر خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، اُن کو فوری طور پر احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔ احتساب کا شور و غوغا کافی نہیں، قوم کی لوٹی گئی دولت واپس لی جائے۔ ملزموں کا اگر میڈیا ٹرائل کے بجائے حقیقی عدالتی ٹرائل ہو تو کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا۔ انتخابات کے نام پر ایسی انجینئرنگ کی جاتی ہے کہ تابعداری کی شرط پر لوگ منتخب قرار پاتے ہیں۔ بظاہر اقتدار میں سیاسی لوگ ہوتے ہیں مگر اصل حکومت غیر سیاسی ماسٹرز کی ہوتی ہے۔ جنرل ایوب سے جنرل پرویزمشرف تک، سب نے اپنے ذاتی مقاصد اور اقتدار کے دوام کے لیے جمہوریت، دستور، قانون، پارلیمنٹ، عدلیہ اور ملکی وقار کو نقصان پہنچایا۔ آج مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ اور حکومت بے بس ہے۔ بیوروکریسی، داخلہ و خارجہ پالیسیاں سب بے اثر ہیں۔ وفاقی کابینہ میں پرویزمشرف کے درجن بھر وزیر جمہوریت اور جمہوری نظام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ملک میں دو نظام، دو حکومتیں اور دو عدالتیں نہیں چل سکتیں۔ ہم ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ حکومت عوام پر مہنگائی کے کوڑے برسانا بند کرے۔ یہ بدترین دہشت گردی ہے۔ حکومت کو اس سے توبہ کرنی چاہیے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات اور تعلقات کے حامی ہیں، مگر جب تک بھارت کشمیر سے غاصبانہ قبضہ ختم کرکے نکل نہیں جاتا، اُس سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ اگر بھارت نے کوئی شرارت کی تو اسے اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ پاکستانی قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ دشمن کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہے۔ خطے میں قیامِ امن کے لیے عالمی برادری کو اپنا فرض نبھانا اور کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانا ہوگا۔ سینیٹر سراج الحق نے بھارتی طیارے مار گرانے والے پائلٹوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے مودی کو ناک رگڑنے پر مجبور کیا اور اس کا غرور خاک میں ملادیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی کی مذمت کی اور بنگلہ دیش میں محب وطن پاکستانیوں کی پھانسیوں پر اظہارِ تشویش کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے دوحہ مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں نیٹو کی شکست سے عالمی سامراج کو عبرت پکڑ لینی چاہیے کہ لوہے اور بارود کی قوت سے ایمان کے جذبے کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کو بھارت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ حکومت افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرے۔ انہوں نے فوج کے بہادر سپاہیوں اور شہدا کو بھی زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کو مسلمانوں کے ساتھ تعزیت اور اظہارِ یک جہتی کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا اور یورپی عوام کی طرف سے مشکل گھڑی میں مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ بزرگ عالمِ دین، صدر جمعیت اتحاد العلما پاکستان شیخ القرآن و الحدیث حضرت مولانا عبدالمالک کی دعا پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی منصورہ مسجد کے میناروں سے اللہ کی کبریائی کا اعلان ہوا اور حاضرین اللہ کے حضور سربسجود ہونے کے لیے مسجد کی طرف روانہ ہوگئے۔

Share this: