وضو

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’وضو میں ایک ایک بار اعضا کا دھونا فرض ہے اور آپ ﷺنے دو دو بار بھی وضو کے اعضا کو دھویا ہے اور تین تین بار بھی لیکن تین بار سے زیادہ نہیں دھویا کیونکہ تین بار سے زیادہ دھونا بہت ہی برا ہے‘‘۔
(وضاحت: کسی بھی چیز میں اسراف گناہ ہے۔ وضو کرتے وقت پانی کے لیے نل کم کھولئے)

اس آواز (اذان) کو سن کر تم اٹھتے ہو اور سب سے پہلے اپنا جائزہ لے کر دیکھتے ہو کہ میں پاک ہوں یا ناپاک؟ میرے کپڑے پاک ہیں یا نہیں؟ گویا تمہیں اس بات کا احساس ہے کہ بادشاہِ دوعالم کے دربار میں حاضری کا معاملہ دنیا کے دوسرے سب معاملات سے مختلف ہے۔ دوسرے کام تو ہر حال میں کیے جاسکتے ہیں، مگر یہاں جسم اور لباس کی پاکی اور اس پاکی پر مزید طہارت (یعنی وضو) کے بغیر حاضری دینا سخت بے ادبی ہے۔ اس احساس کے ساتھ تم پہلے اپنے پاک ہونے کا اطمینان کرتے ہو اور پھر وضو شروع کردیتے ہو۔ اس وضو کے دوران میں اگر تم اپنے اعضا دھونے کے ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر کرتے رہو اور فارغ ہوکر وہ دعا پڑھو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے تو محض تمہارے اعضا ہی نہ دھلیں گے بلکہ ساتھ ساتھ تمہارا دل بھی دھل جائے گا۔
وضو کے دعا کے الفاظ یہ ہیں: (ترجمہ) ’’میں شہادت دیتا ہوں کہ اکیلے ایک لاشریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ خدایا! مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا‘‘۔
(خطبات، ستمبر 2003ء، ص: 148، 149)
وضو میں منہ، کہنیوں تک، ہاتھ اور ٹخنوں تک پائوں دھونے اور سر پر مسح کرنے کا حکم تو قرآن میں دیا گیا ہے۔ (المائدۃ 5:6) پھر منہ اور پائوں دھونے کے حکم کی…[یہ توجیہ] صحیح نہیں ہے… کہ یہ حکم محض گرد صاف کرنے کے لیے دیا گیا ہے اور جہاں گرد و غبار نہ ہو وہاں اس پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے… دراصل اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کے قابل ہونے اور قابل نہ ہونے کی حالت کے درمیان فرق کیا جائے تاکہ آدمی جب اس کی عبادت کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے جسم اور لباس کا جائزہ لے کر دیکھے کہ آیا میں خدا کے حضور حاضر ہونے کے قابل ہوں یا نہیں، اور جانے سے پہلے اپنے آپ کو پاک صاف کرکے اہتمام کے ساتھ جائے۔ اس طرح عبادت کی اہمیت دل میں جاگزیں ہوتی ہے اور آدمی اسے اپنے عام معمولی کاموں سے ایک مختلف اور بالاتر نوعیت کا کام سمجھ کر بجالاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں پانی نہ ملے وہاں تیمم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حالانکہ تیمم سے بظاہر کوئی صفائی بھی نہیں ہوتی۔
علاوہ بریں وضو میں جس صفائی کا حکم دیا گیا ہے اس سے ایک ضمنی مقصد یہ بھی ہے کہ پنج وقتہ نماز کی وجہ سے آدمی کو پاک رہنے کی عادت پڑ جائے۔ گندگی لازماً صرف مٹی اور گردو غبار کی وجہ سے ہی نہیں ہوتی۔ آدمی کے مسامات سے ہر وقت کچھ نہ کچھ فضلات خارج ہوتے رہتے ہیں، اگر اسے دھویا نہ جاتا رہے تو یہ مادے جسم کی سطح پر جم جم کو بو پیدا کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صاحب لوگوں کے منہ سے بھی بو آتی ہے، ان کے بدن میں بھی ایک طرح کی سڑاند ہوتی ہے، اور ان کے پائوں تو سخت بدبودار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے جوتوں اور جرابوں میں بھی تعفن پیدا ہوجاتا ہے۔ اسلام اس کو پسند نہیں کرتا کہ اس کے پیرو کسی حیثیت سے بھی نفرت انگیز حالت میں رہیں۔ یورپ کے لوگ اس بدبو کو دبانے کے لیے عطریات اور لونڈر استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ بدبو کو اوپری خوشبوئوں سے دبانا کوئی پاکیزگی و طہارت نہیں ہے۔
(رسائل و مسائل، سوم، جولائی 1976ء، ص 310، 311)

Share this: