تغیّر اور تغییر

اب تک تو ’تعینات‘ (تعی نات) ہی سنتے اور پڑھتے آئے تھے، تاہم اب ٹی وی چینلوں پر اس کا مختلف تلفظ سننے میں آرہا ہے، یعنی ’ی‘ پر تشدید کے ساتھ ’’تعیّنات‘‘ (تعیونات) کہا جارہا ہے۔ نوراللغات کے مطابق تعینات بروزن رسیدات ہے۔ تعیّن عربی کا لفظ اور مذکر ہے۔ مطلب ہے: مخصوص ہونا، مقرر ہونا، تقرر، مطلق کے خلاف۔ لغت کے مطابق تعیناتی (تعی ناتی) اردو کا لفظ ہے، کرنا، ہونا کے ساتھ آتا ہے، اور مطلب وہی ہے یعنی تقرر، تعین۔ اردو میں یہ مونث ہے۔ ایک اور لفظ ہے ’تعیین‘۔ اس میں دو ’ی‘ آتی ہیں۔ عربی کا یہ لفظ مونث ہے اور مطلب ہے: مقرر کرنا، معین کرنا۔ دو ’ی‘ کے ساتھ ایک اور لفظ ہے ’تغییر‘۔ تغیر عربی کا لفظ اور مذکر ہے۔ اس کا مطلب ہے: پلٹنا، بدلنا انقلاب، پہلی حالت سے دوسری حالت میں جانے کا عمل۔ اردو میں ایک مرکب ’’تغیر کرنا‘‘ ہے، یعنی الگ کرنا، بدلنا۔ اور دو ’ی‘ والی ’تغییر‘ کا مطلب ہے: حالت بدل دینا، تبدیل کرنا، پلٹا، انقلاب۔ ’تغیر‘ اردو میں عام ہے، اور عام لوگ کب سے کسی مثبت تغیر کے منتظر ہیں۔ علامہ اقبالؒ کہتے ہیں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
یعنی تغیر ایک مستقل شے ہے۔ تاہم ’تغییر‘ عام نثر میں تو نہیں البتہ شاعروں نے ضرور استعمال کیا ہے، مثلاً:

میرے تغییر حال پر مت جا
انقلابات ہیں زمانے کے

ایک اور شعر برداشت کرلیں:

ہائے تغییر زمانہ، تھی جو سجدہ گاہِ عشق
آج ڈھونڈا کیے پہروں وہ گلی بھی نہ ملی

ہم عرصے تک یہ سمجھتے رہے کہ شاعر کو صحیح تلفظ نہیں معلوم، اور تغیّر کو تغییر کہہ رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہمیں کو صحیح تلفظ نہیں معلوم تھا۔
ریڈیو پاکستان سے ایک دینی پروگرام نشر ہوتا ہے۔ پروگرام پیش کرنے والے ’’کاری‘‘ اور ’’کرأت‘‘ کہیں تو یہ اُن کی مجبوری ہے، یا اُن سے زیادہ پروگرام پروڈیوسر یا ریڈیو پاکستان کے ذمے داران کی۔ لیکن موصوف سننے کو ہمیشہ ’’سنن نے‘‘ کہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر دو’ن‘ کا اعلان نہیں ہوگا تو کوئی سنے گا نہیں۔ نہ ہوئے زیڈ اے بخاری، ایسے لوگوں کو کان پکڑ کر نکال دیتے۔ وہ اہلِ زبان نہیں تھے لیکن زبان کے معاملے میں بڑے حساس تھے۔ اب ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی میں اردو کا ’’مثلہ‘‘ بڑے اہتمام سے ہورہا ہے۔ دیگر ٹی وی چینلز بھی کسی سے پیچھے نہیں۔
پچھلے شمارے میں نظیر اکبر آبادی کے مصرعے میں پلّا، سر بھارا کا لفظ آیا تھا۔ پلّا کے یوں تو کئی مطالب ہیں لیکن یہاں پر سر کا بوجھ، تھیلا وغیرہ ہے جس میں مزدور غلہ، آٹا وغیرہ بھر کر سر پر لے جاتے ہیں۔ ایسے مزدور کو آج بھی پلے دار کہتے ہیں۔ پلا کے دوسرے معانی فاصلہ، بُعد، مسافت، چادر یا دوشالے کا آنچل یا دامن ہیں۔ پنجابی گانے کا ایک مکھڑا ہے ’’پلا مار کے بجھا دیاں دیوا‘‘ یعنی آنچل سے دیا بجھا دوں۔ پلے کا ایک مطلب اردو میں بہت عام ہے یعنی کچھ روپئے پیسے، جیسے کہتے ہیں کہ کچھ پیسے میرے پلے میں ہیں۔ ایک محاورہ ہے ’’پلّے میں نہیں دانے، اماں چلیں بھنانے‘‘۔ ترازو کے پلڑے کو بھی پلّا کہتے ہیں۔ پلّا بھاری ہونا محاورہ ہے یعنی دولت مند ہونا یا بکثرت حمایتی اور مددگار ہونا۔ گائوں دیہات میں اب بھی اُس کا پلّا بھاری سمجھا جاتا ہے جس کی اولاد کثرت سے ہو یا کنبہ بڑا ہو۔ حکومتوں کی پوری کوشش ہے کہ اولاد کے ذریعے پلّا بھاری نہ ہونے دیا جائے، کیونکہ اس طرح حکمرانوں کی روٹی کم پڑجائے گی۔ ٹی وی پر ایک ڈراما بار بار دکھایا جارہا ہے جس میں ایک دیندار گھرانے کی لڑکی اپنے باپ سے کہتی ہے کہ جب کھلا نہیں سکتے تو بچے پیدا کیوں کرتے ہو۔ ہمارے حکمران خود کو رزاق سمجھ بیٹھے ہیں اور فیملی پلاننگ کے ساتھ ڈراموں کے ذریعے بھی بچے مارنے کا سبق سکھا رہے ہیں، ورنہ دو روٹی کے بجائے ایک ہی روٹی ملے گی۔ پلّا چھڑانا بھی محاورہ ہے، بس یہ خیال رہے کہ ’پ‘ کے نیچے زیر نہ لگے۔
کچھ قارئین نے استفسار کیا ہے کہ کیا نظیر اکبر آبادی کا انگریزی ترجمہ بھی ہوا ہے؟ یہ کام ایک محبِّ اردو کے سی کانڈا (K.C Kanda) نے کیا تھا۔ انہوں نے ’اردو نظم‘ کے عنوان سے اردو کے 19 معروف ترین شاعروں کی 42 نظموں کا انتخاب کیا تاکہ جو اردو سے واقف نہیں وہ بھی اردو کی ماسٹر پیس نظموں سے آگہی حاصل کرسکیں۔ اس سے پہلے کے سی کانڈا نے اردو غزل (1990ء) اور اردو رباعیات (1994ء) کا انگریزی ترجمہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے اہتمام یہ کیا ہے کہ نظموں کے انگریزی ترجمے کے ساتھ ’’رومن انگلش‘‘ میں بھی متن دیا ہے، تاکہ جو اردو نہیں پڑھ سکتے وہ بھی پڑھ لیں۔ کے سی کانڈا بہت پڑھے لکھے شخص تھے۔ 30 سال تک دہلی یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر پڑھاتے رہے۔ دہلی یونیورسٹی ہی سے ڈاکٹریٹ کی۔ اسی جامعہ سے اردو میں درجہ اوّل میں ایم اے کیا۔ انگریزی کی شاعری پر بھی اُن کا بہت کام ہے، لیکن اردو سے محبت اسکول کے زمانے ہی میں دل میں رچ بس گئی تھی۔ ایسے لوگوں کے ہوتے ہوئے بھارت سے اردو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایک ہندو ادیب اور شاعر (غالباً مالک رام) نے کہا تھا کہ میں مذہب چھوڑ سکتا ہوں، اردو زبان نہیں۔
پچھلے ایک شمارے میں ایک صاحبِ علم نے مشورہ دیا تھا کہ ’ہرکسی‘ کے بجائے ’ہر ایک‘ بہتر ہے۔ اس پر کچھ لوگوں نے اساتذہ کے ایسے اشعار بھیج دیے جن میں ’ہر کسی‘ کا استعمال ہے۔ ایک خوش فکر شاعر فیض عالم بابر نے تو پوری فہرست دے دی ہے۔ تمام اشعار درج کرنے سے تو پورا کالم انہی کی نذر ہوجائے گا، تاہم کچھ اساتذہ کے اشعار پیش خدمت ہیں:

ہے تری تصویر کتنی بے حجاب
ہر کسی کے روبرو ہونے لگی

(داغ دہلوی)

ہم سے تو اب تلک وہی شرم و حجاب ہے
گر ہر کسی کے سامنے آتے ہو ہم کو کیا

(مصحفی)

اب ہے بس اپنا سامنا درپیش
ہر کسی سے گزر گیا ہوں میں
……
کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر
ایک میں ہر کسی کو بھول گیا
……
ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم
ہر کسی کو سلام کر رہے ہیں

(جون ایلیا)

شعر تو اور بھی کئی ہیں، حتیٰ کہ ابن انشا اور قتیل شفائی کے بھی۔ ایک ہندو شاعر کا شعر اور گوارہ کرلیجیے:

ہر کسی چہرے سے اٹھتی ہے لمک
شہر میں آگ لگی ہو جیسے

ایک خاتون کا شعر شامل کرنا بھی ضروری ہے کہ امتیازی سلوک کا شکوہ نہ ہو:

زندگی دھوپ چھائوں دونوں ہے
ہر کسی کو سکھا گیا سورج

(سیما شرما میرٹھی)

سند کے لیے داغؔ اور مصحفیؔ کے اشعار کافی ہیں۔ چلتے چلتے ایک بار پھر ’’سب سے بہترین‘‘ کا ذکر۔ حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی بھی جب ’سب سے بہترین‘ کہیں تو اسی کو صحیح تسلیم کرلینا بلکہ اس کو تقویٰ سمجھ لینا چاہیے۔ آئندہ ہم بھی ’سب سے بہترین‘ اور ’سب سے بدترین‘ ہی لکھیں گے ورنہ…

Share this: