مغرب اسلام سے خوف زدہ ہے

Print Friendly, PDF & Email

ممتاز دانشور، صحافی، شاعر، ادیب اور کالم نگارشاہ نواز فاروقی سے مکالمہ

(دوسرا اور آخری حصّہ)

شاہ نواز فاروقی سے امتِ مسلمہ سے متعلق سلگتے ہوئے سوالات سمیت تاریخ، اسلام میں فلسفہ، عقل اور وحی کے تصورات، اقبال، سلیم احمد، سید مودودی، مولانا ابوالکلام آزاد، غامدی بیانیہ، اسلامی تحریکیں،کامیابی و ناکامی، جماعت اسلامی اور اس کا مستقبل،کراچی ،ادب، دین، سماج اور معاشرے سے جڑے ہوئے دیگر موضوعات پر تفصیلی گفتگوجس کا دورانیہ چار گھنٹے سے زیادہ ہے اور کابچہ صورت میں شائع ہوگا ہے، لیکن صفحات کی کمی اور طوالت کی وجہ سے ہم چیدہ چیدہ اقتباسات کو شایع کررہے ہیں۔ جس کا دوسرا اور آخری حصہ نذرِ قارئین ہے۔

سوال : تصورِ دین کی ہماری زندگی میں کیا اہمیت ہے؟
شاہنواز فاروقی:اگر دین ہماری زندگی کو بدلنے والی انقلابی طاقت نہیں ہے تو پھر اس کا کوئی بھی مطلب نہیں ہے۔
سوال: مغرب کے عروج کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ کیا مغرب اس عروج کے ساتھ بڑے لوگ بھی پیدا کررہا ہے؟
شاہنواز فاروقی: دیکھیے اگر بڑے لوگوں سے آپ کی مراد سائنس دان اور ٹیکنالوجی تخلیق کرنے والے ہیں تو اُن کی تو پوری ایک کہکشاں ہے وہاں پر، لیکن اس سے آپ کی مراد اگر یہ ہے کہ مغرب ایسا آدمی پیدا کررہا ہے یا نہیں جو انسانی زندگی پر کلیّت کے اعتبار سے غور کرسکتا ہے، تو ایسا آدمی تو اُن کے ہاں صدیوں سے پیدا ہی نہیں ہوا، بلکہ اُن کے ہاں زندگی کی کلیّت کا تصور ہی نابود ہوگیا ہے۔ وہ زندگی کو ٹکڑوں میں بانٹ کر دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ آپ دیکھیے، اُن کے جو علوم اور فنون ہیں وہ اتنے ہولناک تضادات کا شکار ہیں کہ ان کو اگر آپ ایک تناظر میں دیکھیں تو ہنسی آتی ہے اور وہ خود اس کا اعتراف کرنے لگے ہیں۔
سوال :ذراوضاحت فرمائیں؟
شاہنواز فاروقی: جی!مثال اس کی یہ ہے کہ اگر آپ اُن کے علمِ سیاسیات سے پوچھیں کہ انسان کیا ہے؟ تو وہ کہے گا کہ انسان جو ہے وہ ایک سیاسی وجود ہے۔ اگر آپ اُن کی معاشیات سے پوچھیں تو وہ کہے گی کہ انسان ایک معاشی حیوان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر آپ ان کی نفسیات سے پوچھیں تو وہ کہے گی کہ انسان جبلتوں کے مجموعے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یعنی اُن کے جتنے علوم اور فنون ہیں وہ انسان کی اپنی تعریف لے کر کھڑے ہوئے ہیں اور ان میں کوئی ربطِ باہمی نہیں ہے، بلکہ ایک دوسرے سے متصادم تعریفیں ہیں۔ تو اس سے پتا چلتا ہے کہ اُن کے ہاں انسانی تجربے کی کلیّت اور انسانی فکر کی کلیّت نابود ہوچکی ہے، ختم ہوچکی ہے، اور اُن کی فکر ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے ،جب آپ زندگی کو، انسان کو ٹکڑوں میں بانٹ لیتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ انسان کی ایک سماجی زندگی ہے، ایک اس کی معاشی زندگی ہے، اور ایک اخلاقی زندگی ہے، اور ان میں کوئی ربطِ باہمی نہیں ہے۔ تو یہ انسان کے ساتھ بڑا ظلم ہوا، کیونکہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ میری جو سماجی زندگی ہے وہ میرے اخلاقی اصولوں کے بھی مطابق ہو۔ تو آپ مجھے کیا بتا رہے ہیں؟ یہ بتا رہے ہیں کہ آپ کی زندگی میں ایک سے زیادہ مراکز آپریشنل ہیں۔ حالانکہ انسان کی زندگی میں ایک ہی مرکز آپریشنل ہونا چاہیے۔ اس کا اخلاقی وجود، اس کا رو حانی وجود ہی آپریشنل ہونا چاہیے۔ باقی ساری چیزوں کو اسی اصول کے دائرے کے اندر آنا چاہیے، اس سے مطابقت پیدا کرکے دکھانی چاہیے۔ یہ ہمارا تصورِ زندگی اور تصور انسان ہے ناں مذہب کا۔ جبکہ مغرب اس تصور سے بیگانہ ہے، اس لیے اُن کے ہاں اِن معنوں میں کوئی مفکر اور کوئی مجدد آہی نہیں سکتا ۔ان کے یہاں زبان کے دائرے میں تو مفکرین آرہے ہیں، مگر فلسفے کی جو روایت سقراط سے شروع ہوئی اور جسے افلاطون اور ارسطو نے درجہ ٔ کمال کو پہنچایا وہ روایت تو مغرب میں بھی ختم ہوچکی ہے۔
سوال : آج کا اسلام مغرب کے لیے کتنا بڑا چیلنج ہے اور اس کے کیا مظاہر ہیں؟
شاہنواز فاروقی: دیکھیے! مغرب آج سے ساٹھ ستّر سال پہلے یہ سمجھتا تھا کہ اسلام ایک Spent Force ہے، اس کو تاریخ کے سفر میں جو کچھ کرنا تھا کرچکا، اب وہ کوئی انقلاب برپا کرنے والی طاقت نہیں ہے۔ اور وہ کہتا تھا کہ اسلام ایک بڑا مذہب ضرور ہے لیکن اب وہ تاریخ کے دھارے کا رخ موڑنے والی طاقت نہیں ہے۔ لیکن آپ نے بیسویں صدی میں دیکھا کہ اسلام کے نام پر ایک تحریک برپا ہوئی اور اسلامی دنیا کی سب سے بڑی مملکت قائم ہوئی۔ اسلام کی بنیاد پر اقبال نے احیا کی ایک تحریک برپا کی، مولانا مودودی نے احیا کی ایک تحریک برپا کی، اخوان المسلمون نے پوری عرب دنیا کے اندر ایک تحریک برپا کی، اور یہ تحریکیں مقبول ہوئیں۔ اس کی بنیاد پر اسلام مسلم دنیا کو Defineکرنے والی حقیقت بن کر اٹھا اور پھر اسلام کی بنیاد پر ایران میں انقلاب آگیا۔ وہ شیعہ انقلاب تھا یا سنی انقلاب تھا، یہ بالکل ثانوی بحث ہے۔ اس کی جڑیں بہرحال مذہب کے اندر پیوست ہیں۔ لیکن جب انقلاب آگیا تو مغرب نے کہا کہ بھئی یہ جو انقلاب آیا ہے یہ تو ڈنڈے کے زور پر آیا ہے۔ ملّا ڈنڈے کے زور سے انقلاب لائے ہیں۔ اسلام جمہوری ذریعے سے اقتدار میں نہیں آسکتا۔ مگر آپ نے دیکھا الجزائر میں اسلام جمہوری طریقے سے اقتدار میں آرہا تھا مگر اس کا راستہ فوج کے ذریعے سے روک دیا گیا۔ پھر اسلام نجم الدین اربکان کی صورت میں ترکی کے اندر تبدیلی لایا۔ پھر وہی اسلام مقبوضہ عرب علاقوں میں حماس کی جمہوری کامیابی کی صورت میں سامنے آیا۔ مگر مغرب نے نہ اربکان کو کام کرنے دیا، نہ انہوں نے حماس کی حکومت کو تسلیم کیا۔ پھر مصر کے اندر ایک بار پھر اخوان المسلمون کامیاب ہوئی۔ بہت طویل عرصے بعد ہی سہی، لیکن کامیاب تو ہوئی، اور مرسی صدر بننے میں کامیاب ہوگئے، لیکن ایک سال میں اُن کو بھی مغرب نے فوج کے تعاون سے ناکام بنادیا ۔ اس سے یہ پتا چل رہا ہے کہ اسلام ابھی بھی ایک انقلابی طاقت ہے اور مغرب کا متبادل بن سکتا ہے۔ یہ ہے مغرب کا اصل خوف اسلام سے۔ مغرب متبادل سے خوفزدہ ہے۔ وہ کمیونزم کے خلاف تھا اس لیے کہ کمیونزم اپنے آپ کو مغرب کا متبادل بناکر پیش کررہا تھا، یعنی Capitalistآرڈر کا متبادل بناکر پیش کررہا تھا۔ تو مغرب ستّر سال اُس کے خوف میں مبتلا رہا، اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا، اس کے خلاف جنگیں ایجاد کیں، اور کون سی محاذ آرائی ہے جو مغرب نے اس کے خلاف نہیں کی! یہی خوف اس کو اسلام سے بھی درپیش ہے، اور اسی لیے وہ اسلام کے انقلابی پیغام اور تصور کو روکنا اور ختم کرنا چاہتا ہے۔ وہ اسلام کو طرح طرح کے نام دیتا ہے، کبھی کہتا ہے کہ بنیاد پرستوں کا اسلام ہے، کبھی کہتا ہے کہ انتہا پسندوں کا اسلام ہے، کبھی کہتا ہے دہشت گردوں کا اسلام ہے، اور کبھی وہ صوفی ازم کی بات کرتا ہے، کبھی پُرامن بقائے باہمی کی بات کرتا ہے، کبھی مکالمے کی بات کرتا ہے۔ انسانی تاریخ میں کبھی طاقتور نے کسی کمزور کے ساتھ بامعنی مکالمہ نہیں کیا۔ آقا غلام کے درمیان کوئی مکالمہ ہوتا ہے کیا؟ مغرب اپنے آپ کو آقا اور ہمیں غلام سمجھتا ہے، جب بھی ہم سے ملتا ہے وہ خود کلامی کرتا ہے۔
سوال : مغرب سے ڈائیلاگ پر بہت بات ہوتی ہے۔ اس سے کس فریم ورک میں ڈائیلاگ ہوسکتا ہے؟
شاہنواز فاروقی: مسلمانوں نے کبھی بھی اپنی تاریخ کے کسی بھی دور میں کسی بھی قوم سے ڈائیلاگ کرنے سے انکار نہیں کیا، یہ مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ لیکن تاریخ ایک الگ چیز ہے اور جو عملی صورت حال ہے وہ الگ چیز ہے۔ اصول یہ ہے کہ مغرب کہے گاآئیے مکالمہ کرتے ہیں، تو ہم اُن سے پوچھیں گے بھئی Modalitiesکیا ہیں آپ کے، اور ہمارے درمیان مکالمے کی بنیادیں کیا ہیں؟ کیا آپ ہمیں اپنا برابر مانتے ہیں؟ اگر آپ برابرمانتے ہیں تو ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ جس طرح ہندوستان کے ساتھ آپ کے تعلقات ہیں، ہندوستان نے کبھی مساوی بنیادوں پر پاکستان کے ساتھ آج تک مذاکرات کیے؟ کیا کبھی اسرائیل نے فلسطینیوں کو مساوی طاقت تسلیم کرکے ان کے ساتھ مذکرات کیے؟ تو مغرب جو دنیا کی غالب قوت ہے وہ آپ کے ساتھ کس بنیاد پر مساوی حیثیت بن کر کھڑا ہوگا؟ وہ کبھی بھی مذاکرات نہیں کرنا چاہتا، وہ صرف ڈکٹیٹ کرنا چاہتا ہے، وہ صرف حکمرانی کرنا چاہتا ہے، صرف اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
سوال : عالم اسلام میں کئی اسلامی تحریکیں کام کررہی ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے یہ تحریکیں بھی جمود کا شکار ہیں اور انہیں کنٹرول کرلیا گیا ہے۔ ایک خاموشی سی طاری ہے۔ کیا آپ بھی ایسا محسوس کررہے ہیں؟
شاہنواز فاروقی: میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ اسلامی تحریکوں کو کنٹرول کرلیا گیا ہے، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ جو اسلامی تحریکیں ہیں اُن کے اندر کمزوریاں در آئی ہیں، اُن کی جدوجہد میں کمزوری اس اعتبار سے واقع ہوئی ہے کہ تبدیلی کا جو دائمی ماڈل ہے اسلامی دنیا کا، وہ کھڑا ہوا ہے تقویٰ اور علم کی فضیلت کی بنیاد پر اور نظریاتی تشخص کی بنیاد پر، ان تینوں دائروں میں اسلامی تحریکوں کے اندر کمزوریاں درآئی ہیں۔ لیکن میں پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ اسلامی تحریکیں ناقابلِ اصلاح نہیں ہیں، ان کی اصلاح ہوسکتی ہے اور وہ اپنے اصل پیغام اور اصل کردار کی جانب کسی بھی وقت لوٹ سکتی ہیں۔ مطلب یہ کہ ان کا معاملہ عام سیاسی جماعتوں جیسا نہیں ہے، مثلاً پیپلز پارٹی ریفارم نہیں ہوسکتی، مثال کے طور پر مسلم لیگ نواز کبھی ریفارم نہیں ہوسکتی، ایم کیو ایم کبھی ریفارم نہیں ہوسکتی، لیکن جماعت اسلامی میں اس بات کی گنجائش اور یا صلاحیت ہے کہ وہ مولانا مودودیؒ کے فکری ماڈل سے اگر دور آگئی ہے، اگر اس سے کچھ فاصلے پر آگئی ہے، اس کے تربیتی نظام میں کوئی خلا پیدا ہوگیا اور اس کا جو نظریاتی تشخص ہے وہ تھوڑا سا دھندلا گیا ہے تو وہ اس کو کبھی بھی بحال کرسکتی ہے، اور اس لیے بحال کرسکتی ہے کہ جماعت اسلامی ایک آئیڈیا پر کھڑی ہوئی جماعت ہے۔ وہ کسی تعصب کی بنیاد پر، کسی فرد کی بنیاد پر، کسی خاندان کی بنیاد پر کھڑی ہوئی جماعت نہیں ہے۔ چونکہ میرے اور آپ کے درمیان آئیڈیا مشترک ہے، اور آپ کا کمٹمنٹ اور میرا کمٹمنٹ بھی اس آئیڈیے کے ساتھ ہے تو میں اور آپ ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے پر مائل ہوسکتے ہیں، اور آپ بھی اپنے آپ کو بہتر بنا سکتے ہیں اور میں بھی اپنے آپ کو بہتر بناسکتا ہوں۔ اور اسلامی تحریکوں کا اصل کام بھی یہی ہے کہ اپنے انسانی وسائل یا ہیومن کونٹینٹ کو بہتر بنائیں۔ اپنے انسانی مواد کو بہتر بنائیں، اور اس کو علم سے مسلح کریں اور تقویٰ کی نعمت سے آراستہ کریں۔ اور اگر اسلامی تحریکیں یہ کرلیں گی… اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ضرور کرلیں گی، ان شاء اللہ آج نہیں تو کل کرلیں گی… تو اسلامی تحریکیں آپ کو پوری طرح معاشرے کو ڈیفائن کرتی ہوئی، معاشرے کے اندر تحرک برپا کرتی ہوئی اور معاشرے کو بدلتی ہوئی، تبدیل کرتی ہوئی نظر آئیں گی۔
سوال : پاکستان میں اسلامی تحریکیں بظاہر ناکام نظر آتی ہیں۔ اور یہ ناکامی وہ نظر نہیں آتی جسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ انتخابی نتائج کی صورت میں نظر آتی ہے۔ دوسری ناکامی کچھ اس طرح کی ہے کہ اس کی جڑیں معاشرے میں بھی نظر نہیں آتیں۔ آپ اس کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
شاہنواز فاروقی: ناکام نہیں ہوئی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ جماعت اسلامی کا جو نظریاتی کردار تھا وہ کمزور پڑا ہے، یہ بالکل واضح بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ جو معاملات اور زندگی کے مسائل کو نہیں سمجھتے وہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اگر ماضی میں کوئی نظریاتی کردار ادا نہ کیا ہوتا تو اس کے بارے میں آپ اِس طرح کی بات کرسکتے تھے۔ لیکن جو جماعت پاکستان کی سیاست کو طویل عرصے تک ڈیفائن کرنے والی جماعت رہی ہو، اور جو پاکستان کے نظریاتی تشخص کا دفاع کرنے والی جماعت رہی ہو، اور پوری دنیا یہ کہتی ہو کہ پاکستان کے اندر دین کے غلبے کی جو جدوجہد ہے وہ تو دراصل جماعت اسلامی اسپیسفک ہے یا مولانا مودودی اسپیسفک ہے، تو اس جماعت سے یہ توقع کرنا کہ وہ دوبارہ کردار ادا کرے گی، بعید از قیاس بات نہیں ہے۔ جماعت اسلامی یہ کرسکتی ہے بشرطیکہ وہ اس بات کی ضرورت کو محسوس کرے کہ معاشرے میں حقیقی جدوجہد صرف نظریاتی بنیادوں پر ہی ممکن ہے۔
سوال : بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ کے ماڈل سے دور آگئی ہے،کچھ تشویش کااظہار آپ نے بھی کیا ہے کہ اگر اس کے تربیتی نظام میں خلا پیدا ہوگیا ہے اور اس کا جو نظریاتی تشخص ہے وہ دھندلا گیا ہے تو کبھی بھی بحال کرسکتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال ہے کہ مولانا کے بعد جماعت اسلامی میں فکری رہنمائی کا جو خلا پیدا ہوا ہے اس کے بعد ایسا لگتا نہیں ہے کہ دوبارہ چیزوں کو بحال کیا جانا ممکن ہے؟
شاہنواز فاروقی: جس وقت مولانا نے کام کا آغاز کیا تھا کیا اُس وقت یہ لگتا تھا کہ مولانا کوئی ایسی تحریک برپا کرسکیں گے؟ ایسا لٹریچر پیدا کرسکیں گے جو پوری امت کے بیانیے کو بدل دے گا؟ کوئی کہہ سکتا تھا؟ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا، لیکن مولانا نے یہ کیا۔ اور چونکہ مولانا مودودیؒ کا لٹریچر موجود ہے اور جماعت اسلامی کا پورا تنظیمی ڈھانچہ بھی موجود ہے، چنانچہ اصل مسئلہ بنیادی تصورات سے تعلق پیدا کرنے اور ان کے مطابق نظریاتی جدوجہد کرنے کا ہے۔ اگر آپ یہ کام شروع کردیں تو بہت سے ناممکن کام ممکن ہوجائیں گے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہ کام جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ ماضی میں کرچکے ہیں۔ بلاشبہ مسلکی تقسیم سے، صوبائی یا لسانی تقسیم سے بلند ہوکر یہ سب چیزیں پیدا کرنا بہت مشکل کام ہے، مگر ناممکن نہیں۔ چونکہ جماعت اسلامی کے پاس یہ ذہنی سانچہ موجود ہے، اس لیے صرف بنیاد سے مربوط ہونے کی ضرورت ہے۔ اصل سے مربوط ہوکر ایک تحرک اپنی جماعت کے اندر بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کے نتیجے میں یہ تحرک ان شاء اللہ پورے معاشرے کے اندر بھی پیدا ہوگا اور دو چار سال میں ہی ہوگا۔ آج کا معاشرہ غیر نظریاتی معاشرہ ہے، غیر سیاسی معاشرہ ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ جماعت اسلامی معاشرے کو پھر سے سیاسی بھی بناسکتی ہے اور نظریاتی بھی۔
سوال : لیکن اس پس منظر میں ایک سوال یہ بنتا ہے کہ جماعت اسلامی نے جس معاشرے میں دعوت کا آغاز کیا اُس کی عظیم اکثریت ناخواندہ ہے۔ جماعت اسلامی کیسے فرض کرلے کہ وہ ایسے معاشرے میں عظیم اکثریت کو محض لٹریچر کی بنیاد پر تبدیل کرسکتی ہے؟
شاہنواز فاروقی: توجناب مولانا کی بات کروڑوں لوگوں کی سمجھ میں کیسے آئی؟ مولانا کی فکر کی موجودگی سے پہلے یہ سب عام لوگ تھے۔ طرح طرح کی تقسیم اور امراض میں مبتلا تھے، لیکن مولانا آئے اور ایک پیغام ان کے سامنے رکھا، اور یہ وہ پیغام تھا جو اُن کے دین کا پیغام تھا۔ انہوں نے اس پیغام کو رسپانڈ کیا، اور معاشرے کا جو بہترین ایلیمنٹ ہوتا ہے وہی رسپانڈ کرتا ہے۔ یعنی انبیاء اور مرسلین کو بھی اسی ایلیمنٹ نے رسپانڈ کیا ابتدائی حصے میں، اور سوسائٹی میں جو کشمکش برپا ہوتی ہے وہ ہمیشہ باشعور لوگ ہی برپا کرتے ہیں، باقی جو معاشرہ ہے وہ پھر ان کے پیچھے چلتا ہے۔ عام لوگوں کے پاس نہ یہ وژن ہوتا ہے، نہ یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ دین کے غلبے کا کام کرسکیں۔ وہ مقلد ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ آتے ہیں اسی طبقے کے پیچھے۔
سوال :آپ نے کہا کہ اسلامی تحریکوں نے اسی بنیاد پر کئی ممالک میں کامیابی حاصل کی، لیکن انہیں طاقت کے ذریعے ناکام بنادیا گیا۔ ایسی صورت حال میں تبدیلی کا جو جمہوری راستہ ہے، کس طرح ممکن ہے کہ اسی راستے پر چل کر اسلامی تحریکیں مستقبل میں بھی کامیاب ہوپائیں؟ یعنی مسلمان یا اسلامی تحریکیں تو چاہتی ہیں کہ جو معیار مغربی دنیا کا ہے تبدیلی لانے کا، اُسی کے مطابق تبدیلی لائیں۔ اور وہ لے کر آئے، لیکن مغرب ہی نہیں چاہتا اور وہ اسے ناکام بنادیتا ہے۔ ایسے میں تو پھر تحریکوں میں بھی مایوسی بڑھے گی، نوجوانوں میں بھی مایوسی بڑھے گی اور وہ کسی اور طرف جانے کا جواز رکھتے ہیں؟
شاہنواز فاروقی: میں بہت زیادہ مغربی جمہوریت کا قائل نہیں ہوں۔ دیکھیں میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ کی جدوجہد واقعی نظریاتی ہو تو جمہوری فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے بھی آپ سوسائٹی کو زندہ اور متحرک کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ نتیجہ دو چار سال میں نہیں نکلے گا تو آٹھ دس سال میں نکلے گا، آٹھ دس نہیں تو پندرہ سال میں نکلے گا، اور اگر نتیجہ نہیں بھی نکلے گا تو سوسائٹی کو ہم Potent بنادیں گے، اور سوسائٹی کا Potent رہنا ہمارا بہت بڑا ہدف ہونا چاہیے کہ چاہے ہم نہ رہیں، چاہے ہمارا اسٹرکچر بھی نہ رہے لیکن سوسائٹی اسلام کے لیے رسپانڈ کرنے والی سوسائٹی بنی رہے، اور اس کے جو تقاضے ہیں ان کو پورا کرنے پر مائل رہے۔ اگر ہم نے یہ کام کردیا تو ہم نے نسلوں کی تربیت کا اہتمام کردیا اور کئی نسلوں تک اسلام کے زندہ رہنے کی سبیل پیدا کردی۔ یہی اسلامی تحریکوں کے برپا ہونے کا بنیادی جواز ہے، اسلامی تحریکوں کو یہی کام کرنا چاہیے اور نتیجہ خدا پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اپنی جدوجہد کا نتیجہ دیکھنا ایک فطری بات ہے کہ ہر آدمی جو جدوجہد کررہا ہوتا ہے وہ چاہتا ہے کہ میں اس کا نتیجہ بھی دیکھ لوں، بہتر نتیجے کی خواہش رکھنا اور نتیجے کو پوجنا یہ دو مختلف باتیں ہیں۔ اسلامی تحریکیں نتیجے کو پوجنے کی مکلف نہیں ہیں، ہم جدوجہد کے مکلف ہیں اور ہمیں جدوجہد پر ہی فوکس رکھنا چاہیے۔
سوال : سید ابوالاعلی مودودیؒ بیسویں صدی کے عظیم مفکر، مجتہد اور تعلیماتِ اسلام کے منفرد استاد ہیں۔آپ اُن کی برپا کی گئی تحریک کے عالمگیر اثرات کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟
شاہنواز فاروقی: اس کو میں ایک فقرے میں بیان کردیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ مولانا مودودیؒ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اقتدار میں آئے بغیر پوری امت کا نظریہ بدل دیا۔ یہ بیسویں صدی کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے، اس لیے کہ جو نظریات کی تبدیلی ہے، یہ مذاق نہیں۔ اردو کا محاورہ ہے کہ ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں ہوتا ہے، یعنی جب آپ اقتدار میں ہوتے ہیں تو ہر کس ناکس کو آپ عزیز ہوجاتے ہیں، لیکن اگر آپ اقتدار میں نہ ہوں اور اس کے باوجود بھی اتنے مؤثر ہوں کہ پوری امت کے نظریے اور بیانیے کو بدل سکتے ہوں، تو اس سے آپ کی غیر معمولی طاقت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ تو مولانا مودودیؒ نے یہ کام کرکے دکھایا، اور جب تک وہ موجود رہے اور ان کی قیادت میں ہم لوگ جدوجہد کرتے رہے تب تک جماعت اسلامی پاکستان کی سیاست کو، پاکستان کے نظریاتی تشخص کو ڈیفائن کرنے والی پارٹی تھی، اور یہی اصل بات ہے۔
سوال : امریکہ اب زوال پذیر ہے اور ویسی طاقت نہیں رہا جیسا کہ آج سے پچاس برس قبل تھا۔ چین بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر ہمارے سامنے ایک ایسی دنیا ہو جہاں امریکہ کے بجائے چین کی بالادستی ہو تو ایسی دنیا کو آپ کس طرح سے دیکھ رہے ہیں؟
شاہنواز فاروقی: اس کو بیان کرنا دشوار ہے، البتہ چین کے بارے میں دو تین باتیں بڑی واضح ہیں، ایک تو یہ کہ چین کبھی نوآبادیاتی یا استعماری (colonial power) طاقت نہیں رہا، وہ کالونی تو رہا ہے لیکن اُس نے خود کسی کو کالونی بنانے کی کوشش نہیںکی، یہ چین کی تاریخ ہے۔ اب سرمائے کا مرکز مغرب سے چین منتقل ہوگیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جو سرمایہ ہے وہ چین کے اجتماعی ذہن پر کیسا اثر ڈالتا ہے، اب یہ دیکھنا ہے کہ سرمایہ اس کو اتناEgo Centric بناتا ہے یا نہیں بناتا ہے، جتنا مغرب Ego Centric ہے، مغرب کے Ego Centric ہونے کی صرف یہ وجہ نہیں ہے کہ اس کے پاس معاشی اور سیاسی غلبہ ہے، بلکہ مغرب کا تاریخی تجربہ اور مغرب کا تاریخ کے مختلف ادوار میں استعماری طاقت رہنا، اور ان کی جو تہذیب اور ثقافت ہے وہ بھی ان کے Ego Centric ہونے کے عمل کو بڑھانے والی ہے۔ چین کے پاس ابھی یہ تجربہ نہیں ہے۔ اُن کی تہذیب ماضی میں کبھی کامل تہذیب تھی، لیکن اب وہ اپنی کامل تہذیب کے تجربے سے بہت دور نکل آئے ہیں۔ چین کی روایتی تہذیب سے موجودہ تہذیب کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ابھی یہ دیکھنا ہے کہ جب چین واقعی گلوبل طاقت بن جائے گا، اور واقعی بالادست طاقت میں تبدیل ہوجائے گا تو وہ کس طرح پیش آئے گا، کس طرحBehave کرے گا۔ ابھی اس کا تعین ہونا باقی ہے۔ اگر دو، چار سال میں یہ کش مکش واقعی چین کے حق میں فیصل ہوگئی تو چند برس میں ہی پتا چل جائے گا کہ چین کا عالمی طرزِعمل (Behavioral Pattern) امریکہ، یورپ اور سابقہ عالمی طاقتوں کی طرح ہوگا یا ان سے مختلف ہوگا۔
سوال : اس ضمن میں ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ حالات وواقعات امتِ مسلمہ کے لیے ابھی بھی سازگار نہیں ہیں، اگر دنیا میں کوئی بڑی تبدیلی آتی بھی ہے اور امریکہ کی بالادستی ختم ہوتی ہے تو مستقبل فی الحال اسلام کا نہیں بلکہ چین کا ہوگا، اور امتِ مسلمہ کا سفر ابھی لمبا ہے۔ ابھی اس کا نمبر نہیں آیا۔ جو زمین تیار ہوئی ہے اُس میں اُگنے والا پھل چین کی جھولی میں گرے گا، عالمی بالادستی چین کی ہوگی۔ ایسے میں مسلمان یا عالم اسلام کسی تبدیلی کے انے حق میں کسی خوش فہمی میں کیوں رہیں؟
شاہنواز فاروقی: نہیں خوش فہمی کی بات نہیں! اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بات طے ہے کہ اگر اقتصادی ترقی اور خوشحالی واقعتاً کوئی فیصلہ کن عامل ہوتی، تو مغرب کے جس زوال (Decline)کو آپ ملاحظہ کررہے ہیں تو مغرب کا وہ Decline تو کبھی بھی نہیں ہوا ہوتا، کیونکہ وہ سائنسی اعتبار سے، تیکنیکی اعتبار سے، معاشی اعتبار سے، عسکری اعتبار سے غالب ترین قوت ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کے سفر کو آگے بڑھانے کے حوالے سے کچھ اور قوتیں بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ مثال کے طور پر ایک قومی عزم ہے، یا آپ کے ماضی کا ایک سایہ ہے جو آپ کے اوپر پڑا ہوا ہے، یہ ساری چیزیں قوموں کے اجتماعی کردار کو بدلنے کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہیں۔ اور چونکہ مسلمان ابھی تک اپنے مذہب سے جڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے ابھی اپنے مذہب کو Discard نہیں کیا ہے، اس لیے اس بات کا بہت قوی امکان ہے کہ مسلمان روحانی معنوں میں بڑی تعداد میں تبدیل (Transform) ہونے کی صلاحیت کے حامل ہیں اور بڑی طاقت بننے کے حامل ہیں، اور وہ مادی معنوں میں بھی Excel کرنے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں۔ اگر آپ آج سے چالیس سال پہلے کے چین کا مطالعہ کریں تو چین ایک ترقی پذیر ملک تھا جس طرح آج پاکستان ہے، لیکن اُن کے قومی عزم اور بہتر قیادت کی فراہمی نے پچیس، تیس سال میں پورے چین کو تبدیل (Transform)کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر عالم اسلام کو واقعتاً اچھی قیادت میسر آجائے تو کوئی سبب نہیں ہے کہ عالم اسلام Transform نہ ہو۔
سوال : یعنی عالم اسلام کا سفر ابھی شروع ہونا ہے جیسا کہ آپ فرمارہے ہیں کہ اگر قیادت فراہم ہوجائے۔یعنی ابھی دِلّی بہت دور ہے؟
شاہنواز فاروقی: اگر آپ مادّی ترقی کی بات کریں تو مادّی ترقی میں عالم اسلام کو ابھی وقت لگے گا، اس میں تو کوئی دو رائے نہیں۔ لیکن کیونکہ روحانی ترقی کے سارے ٹولز ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں، وہ راستہ کھلا ہوا ہے اور اس میدان اور دائرے میں آپ بہت تیزی کے ساتھ پیش رفت کرسکتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ دین کا صحیح تصور آپ کے اندر راسخ ہوجائے، اور آپ واقعی ایک خدا مرکز، علم مرکز، کتاب مرکز اور اخلاق مرکز زندگی بسر کرنے کی طرف مائل ہوجائیں۔
سوال :ہمارے یہاں روحانی تبدیلی اور ترقی کی اہمیت ہوگی؟ یا مادّی ترقی کی ہمیں ضرورت ہے؟
شاہنواز فاروقی:روحانی ترقی بنیادی ہے، ہمارے یہاں مادّی ترقی کا کوئی مفہوم نہ تھا،نہ ہے اور نہ ہونا چاہیے۔
سوال :مادّی ترقی کی کوئی اہمیت نہیںہے؟
شاہنواز فاروقی:اس کی اہمیت ثانوی ہے۔ہماری اجتماعی یا انفرادی زندگی میں مادّی ترقی نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زندگی کو Define کرنے والی قوت تھی، نہ خلافتِ راشدہ کے دوران Define کرنے والی قوت تھی، اور نہ ہمارے مجددین نے مادّی ترقی کو اتنی اہمیت دی کہ وہ ہمارے سر کا تاج بن جاتی۔
سوال : احمد جاوید نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’مولانا مودودی کی کتاب مسئلہ سود پر ایک اچھی کتاب ہے۔ اس کتاب کی ایک برکت یہ ہے کہ اس میں اسلام کے اصولِ معیشت بہترین اظہار کے ساتھ بیان ہوگئے، اور معیشت کی اخلاقی تاسیس کا عمل جس سطح پر اس کتاب میں ہوا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں اب بہت کچھ بدل گیا ہے۔ اب معیشت میں کچھ نئی پیچیدگیاں اور باریکیاں پیدا ہوگئی ہیں، اور سود کا معاملہ آج معیشت میں اس حیثیت کا حامل نہیں رہا ہے جو حیثیت اسے مولانا کے زمانے میں حاصل تھی۔ کیا مولانا کی تحریر اب غیر متعلق ہوگئی ہے، اور کیا مغرب کے سودی نظام کا متبادل مولانا بتانے میں ناکام رہے؟آپ اس گفتگو کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟
شاہنواز فاروقی: انہوں نے اس تجزیے کے کئی بنیادی پہلو صحیح بیان کیے ہیں کہ مولانا مودودیؒ کے سامنے مسئلہ سود لکھتے ہوئے جو سوالات تھے، 2019ء تک آتے آتے ان سوالات کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ مولانامودودیؒ مسلمانوں کو درپیش ہر مسئلے کا حل بیان کرکے چلے گئے ہیں، درست بات نہیں ہے۔ نہ وہ اس کے مکلف تھے۔ وہ جتنا بڑا کام کرکے گئے ہیں اگر ہم اُس کی بھی قدر وقیمت کو سمجھ لیں، اس کو بھی یاد رکھ لیں تو یہ خود ہماری صورت حال میں تبدیلی (Transformation)کے لیے بڑا کام آسکتا ہے۔ اب یہ مولانا کے بعد آنے والے لوگوں کا کام تھا اور ہے کہ مولانا نے اسلامی معیشت کے خدوخال کو جہاں تک بیان کیا ہے اس میں توسیع (Endorse)کریں اور کام کو آگے بڑھائیں۔
سوال : احمد جاوید صاحب کے بعض خیالات پر خالد جامعی صاحب نے بہت سخت تنقید کی ہے۔ وہ چیزیں آپ کی نظر سے بھی گزری ہوں گی۔ اُن کی اِس تنقید کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟
شاہنواز فاروقی: دیکھیے تنقید سے تو کوئی بالاتر نہیں ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ خالد جامعی صاحب نے احمد جاوید صاحب کے حوالے سے جو لکھا ہے، اُس میں غیر ضروری شدت موجود ہے، اُس میں یہ لحاظ بھی موجود نہیں ہے کہ احمد جاوید صاحب کا بنیادی مسئلہ مذہب ہے اور وہ خود مذہبی انسان کا تشخص رکھتے ہیں۔ میں جس طرح ایک سیکولر، لبرل آدمی پر کلام کرسکتا ہوں، اُس طرح کسی مذہبی آدمی پر کلام نہیں کرسکتا جس طرح سے خالد جامعی صاحب نے کلام کیا ہے۔ آپ کو احمد جاوید صاحب کی کسی رائے سے اختلاف بھی ہو تو اُن کو ایک مارجن(Margin) دے کر بات کرنی چاہیے، اور یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری معاشرت میں اسلام کے لیے کام کرنے والے بہت کم لوگ موجود ہیں، ہمیں نہ اُن کے بُت کو پوجنا چاہیے، اور نہ اُن کو خوامخواہ متنازع (Controversial) بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ اُن کے متنازع ہوجانے سے اسلام کا کاز متاثر ہوگا۔ یہ بنیادی بات ہے۔
سوال : ہم نے گزشتہ دس، پندرہ برس میں دیکھا کہ غامدی صاحب کے افکار اور خیالات کو منظم طریقے سے میڈیا مہم کے ذریعے پروموٹ کیا گیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اتنے بڑے آدمی نہیں جتنا اُن کو بناکر پیش کیا گیا، بلکہ ڈاکٹر رضوان علی ندوی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جاوید غامدی صاحب کی زبان لمبی ہے لیکن گہرائی نہیں۔ آپ غامدی صاحب کے کا م اور ان کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
شاہنواز فاروقی: جاوید احمد غامدی مجھے سرسید کے شاگرد اور مغرب کے ایجنٹ نظر آتے ہیں۔ ان کی شخصیت اور پورے کام کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اسلام کو ادھورا اور پرانا ثابت کریں اور معاشرے میں مغرب کے ایجنڈے کے مطابق اس خیال کو عام کریں کہ جدید دنیا کو اسلام کے پیچھے نہیں، اسلام کو جدید دنیا کے پیچھے چلنا ہوگا۔ وہ مغرب کی تمنا کے مطابق اسلام کو ریاست و سیاست اور معیشت سے بے دخل یا لاتعلق کرکے اسے صرف عقاید، عبادات اور اخلاقیات تک محدود کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل پرویزمشرف کے زمانے میںان کا ایک مضمون ان کی ویب سائٹ پر پوسٹ ہوا تھا جس میں انہوں نے ہم جنس پرسی کادفع کیا تھا۔ میں نے جسارت میں اُن کے اس مضمون کے خلاف تین چار کالم لکھے۔ اُن کے کئی شاگرد مجھ سے ملنے آئے مگر وہ غامدی صاحب کے دفاع میں ایک بات بھی نہ کہہ سکے۔ مجھے یقین ہے کہ غامدی صاحب اُن لوگوں میں سے ہیں جنہیں موقع ملے گا تو وہ سرسید کی طرح پورے دین کا انکار کردیں گے، مگر اس کے باوجود وہ خود کو ’’مخلص مسلمان‘‘ کہتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ان کے شر سے بچائے۔
سوال : ہم سرسید کو اب تک اپنا ہیرو سمجھتے آئے تھے، مگر آپ نے اپنے کالموں میں انہیں ’’ولن‘‘ بنا کر پیش کیا ہے؟
شاہنواز فاروقی: مجھے سرسید کو نہ ہیرو بناکر پیش کرنے سے کوئی دلچسپی ہے، نہ انہیں ولن بناکر پیش کرنے سے کوئی غرض ہے۔ میں صرف ایک اصول کی پیروی کرتا ہوں اور وہ یہ کہ میرا مذہب، میری تہذیب اور میری تاریخ کسے ہیرو کہتی ہے اور کسے ولن قرار دیتی ہے۔ سرسید قرآن کے منکر ہیں۔ حدیث کے منکر ہیں۔ اجماع کے اصول کے منکر ہیں۔ فقہ کی پوری روایت کے منکر ہیں۔ تفسیر کی پوری روایت کے منکر ہیں۔ صحابہ کی عظمت کے منکر ہیں۔ کہتے ہیں وہ قرآن کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے انگریزوں کی غلامی پر فخر کیا ہے، اسے اللہ کی نعمت اور رحمت کہا ہے۔ انہوں نے خود تسلیم کیا ہے کہ جدید مغربی علوم مسلمانوں کو مذہب سے دور کردیتے ہیں، مگر یہی علوم وہ مسلمانوں کو پڑھاتے رہے۔ اب آپ ہی بتائیے سرسید ہمارے ’’ہیرو‘‘ ہیں یا ہمارے ولن؟ میں نے سرسید پر تقریباً ڈھائی سو صفحات کی کتاب لکھ لی ہے، وہ شائع ہوگی تو سرسید اور ان کے حامیوں کی حقیقت مکمل طور پر عیاں ہوجائے گی۔
سوال : آپ نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے عروج کے زمانے میں ایم کیو ایم کے خلاف خوب لکھا۔ اس بارے میں کچھ بتائیے۔
شاہنواز فاروقی: مسلمان اگر کچھ کرپاتا ہے تو توفیقِ الٰہی سے، تائیدِ باری تعالیٰ سے۔ 1990ء میں جب میں جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغِ عامہ میں ایم اے سالِ آخر کا طالب علم تھا تو میں نے روزنامہ جسارت میں کالم نگاری شروع کردی تھی۔ یہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے عروج کا زمانہ تھا۔ اُس وقت کراچی کے کسی اخبار میں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف ایک لفظ لکھنے کا بھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، لیکن میں نے ان کے خلاف لکھ لکھ کر ڈھیر لگادیا۔ اس کے مضمرات ہر وقت میرے سر پر منڈلاتے رہتے تھے۔ شعبہ ابلاغِ عامہ میں اے پی ایم ایس او کا ڈپارٹمنٹل ہیڈ اختر جیلانی میرا کلاس فیلو تھا۔ وہ شعبے کے سیمینار روم میں بیٹھ کر سب سے پہلے میرا کالم پڑھتا تھا۔ اس سے ملاقات ہوتی تو وہ کہتا: شاہنواز صاحب آپ اچھا نہیں کررہے۔ کبھی کہتا: شاہنواز بھائی آپ بڑی زیادتی کررہے ہیں، اس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔ وہ جس دن مجھے شاہنواز صاحب کہتا مجھے معلوم ہوجاتا کہ آج وہ زیادہ ناراض ہے۔ جس دن وہ مجھے شاہنواز بھائی کہتا اس سے معلوم ہوجاتا کہ آج اس کی ناراضی کی سطح زیادہ بلند نہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے ہم جماعت ’’جماعتی بھائی‘‘ شہاب محمود نے ایک دن غضب کر ڈالا۔ انہوں نے گھر فون کر ڈالا۔ کہنے لگے: میں نائن زیرو سے بول رہا ہوں، تم ہمارے خلاف لکھ رہے ہو، ہم تمہیں دیکھ لیں گے۔ میں نے کہا: ابے چل تُو کیا دیکھے گا! اگلے دن شہاب محمود گھر آئے، ہنس کر کہنے لگے: وہ فون میں نے کیا تھا، مگر یار تم تو ڈرے ہی نہیں۔ لیکن ان کے فون سے میرے گھر والے کافی ڈر گئے۔ اس وقت میرے دو بڑے بھائی ایم کیو ایم کے ووٹر بن چکے تھے۔ ان میں سے ایک بھائی مجھ سے کچھ کہنے کے لیے بیتاب تھے مگر ان کی ہمت نہ ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے میری ایک بہن کو جس سے مجھے بڑی محبت تھی، میرے پاس بھیجا۔ وہ کہنے لگی: الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف لکھنا تمہارے لیے ہی نہیں ہمارے لیے بھی خطرناک ہے۔ میں سمجھ گیا کہ اب وہ آگے کیا کہنے والی ہیں۔ میں نے کہا: تم ٹھیک کہتی ہو، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف لکھنا واقعتاً تمہارے لیے بھی خطرناک ہوسکتا ہے۔ چنانچہ تم ایسا کرو اخبار میں ایک اشتہار دے دو کہ شاہنواز فاروقی سے ہمارے خاندان کا کوئی تعلق نہیں۔ میں نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں ورنہ یہ اشتہار میں خود ہی شائع کروا دیتا۔ خیر، بات آئی گئی ہوگئی۔ سلیم احمد کے ایک دوست تھے جمال پانی پتی۔ ایک دن اُن کا فون آیا کہ میں تم سے ملنے آرہا ہوں۔ آئے تو کہنے لگے کہ جسارت میں نے تمہارے کالموں کی وجہ سے خریدنا شروع کیا ہے مگر تم تو ہر دوسرے دن بلڈ پریشر بڑھا دیتے ہو۔ کہنے لگے: مجھے معلوم ہے کہ تمہارے پاس موضوعات کی کمی نہیں۔ چنانچہ اگر تم الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف نہ لکھو تو تمہارا کیا بگڑ جائے گا! میں نے کہا: کچھ بھی نہیں، پھر میں اپنی ہی نظروں میں گر جائوں گا۔ ایک روز جسارت کے ایڈیٹر محمود احمد مدنی صاحب نے مجھے بلایا، کہنے لگے کہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف آپ جو کچھ لکھ رہے ہیں اُس کی سطح بلند ہے، اس لیے شاید آپ کے کالم ایم کیو ایم والوں کی سمجھ میں نہیں آرہے، لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ احتیاط کریں۔ لیکن الحمدللہ میں جس طرح لکھتا تھا اسی طرح لکھتا رہا۔ صرف ایک آدمی مجھے ایسا ملا جس نے کہا: تم جو کررہے ہو بہت اچھا کررہے ہو اور کسی نہ کسی کو یہ کرنا ہی چاہیے تھا۔ یہ صاحب تھے سلیم احمد کے چھوٹے بھائی اور ممتاز نقاد شمیم احمد۔ ان سے میری بیوی نے کہا کہ چاچا آپ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے بارے میں ان کے کالم پڑھ ہی رہے ہوں گے۔ کہنے لگے کہ کوئی تو ایسا ہو جو ایم کیو ایم سے کہے کہ ہم تم سے نہیں ڈرتے۔
سوال : ایم کیو ایم کو شہر کراچی میں آپ نے دیکھا بھی ہے اور برتا بھی ہے، اور اس پر لکھنے کے ردعمل کا بھی آپ نے ذکر کیا۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بڑی جرأت کے ساتھ اُس وقت ایم کیو ایم کو ’’مافیا‘‘ اور’’ دہشت گرد‘‘ لکھا کہ جب وقت کے حکمراں اور جرنیل نائن زیرو کی دہلیز پر قدم بوسی کرتے نظر آتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ شہر کراچی میں ایم کیو ایم کا تجربہ کیوں کیا گیا، اس کے کیا مقاصد تھے اور اس سے شہر کے لوگوں کو کیا ملا، اور کیا اب ایم کیو ایم کا کردار کراچی میں ختم ہوگیا ہے؟
شاہنواز فاروقی: جنرل ضیا نے ایم کیو ایم کو تین مقاصد کے حصول کے لیے تخلیق کیا۔ ان کا ایک مقصد دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کے لیے مشکل کھڑی کرنا تھا، دوسرا مقصد کراچی میں جماعت اسلامی کو کمزور کرکے اسے دیوار سے لگانا تھا۔ ایم کیو ایم کی تخلیق کا تیسرا مقصد یہ تھاکہ کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ نظریاتی اور باشعور شہر تھا۔ تمام اہم مزاحمتی تحریکیں کراچی سے شروع ہوتی تھیں۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے ذریعے کراچی کے نظریاتی، تہذیبی اور سیاسی شعور کو تہہ و بالا کردیا گیا اور فوجی آمروں کے لیے پورے ملک پر قابو پانا آسان ہوگیا۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ایم کیو ایم کے تجربے سے کراچی یا شہری سندھ کے لوگوں یعنی مہاجروں کو کیا ملا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم نے مہاجروں سے 35 سال تک 100 فیصد سیاسی کامیابی لی، اور انہیں سو فیصد ناکامی، بربادی اور ہزیمت لوٹائی۔ چنانچہ ایم کیو ایم سے زیادہ ناکام سیاسی تجربہ شاید ہی سیاسی تاریخ میں کبھی ہوا ہو۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم نے مہاجروں سے ان کا مذہب، ان کی تہذیب، ان کا علم اور ان کا شعور چھین لیا اور انہیں دہشت گردی، بھتہ خوری، 92 ہزار لاشوں اور سیاسی تنہائی کے سوا کچھ نہ دیا۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے کردار کے مستقبل کا تعلق اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات سے ہے۔ الطاف حسین کی ملک دشمنی اور قوم دشمنی تو برسوں سے ثابت شدہ تھی، ان کی ہولناک سیاست بھی سب کے سامنے تھی، مگر اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ نے انہیں زندہ رکھا۔ مگر جب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں دینی شروع کیں تو الطاف حسین قومی سیاست سے ایک دن میں منہا ہوگئے۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ الطاف حسین مُردہ باد اور ایم کیو ایم زندہ باد کے مرحلے میں ہے، لیکن بات یہ ہے کہ الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم کا کوئی مستقبل نہیں۔
سوال : ایم کیو ایم کو جب آپ مافیا کہتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے؟کیا اس طرح کی تنظیم کی مثال تاریخ میں ملتی ہے؟
شاہنواز فاروقی: مافیا کے تشخص کے تین پہلو ہیں: خوف، طاقت اور اس کا استعمال، انفرادی یا گروہی مفاد۔ ایم کیو ایم کو اسی مفہوم میں مافیا کہا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے مقاصد اور ان کے حصول کا طریقہ سیاسی ہوتا ہے، مگر ایم کیو ایم کے مقاصد ایک آدھ برس ہی میں غیر سیاسی ہوگئے تھے۔ ایم کیو ایم کا نعرہ تھا ’’ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے۔‘‘ یہ کسی سیاسی جماعت کا نعرہ نہیں ہوسکتا، یہ صرف مافیا کا نعرہ ہوسکتا ہے۔ سیاسی جماعت اچھی ہو یا بری، اس کی کوئی نہ کوئی منزل ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ایم کیو ایم دنیا کی بہت سی فاشسٹ تنظیموں سے بدتر ثابت ہوئی۔ فاشسٹ تنظیمیں اور مافیا بھی ’’دوسروں‘‘ کے لیے خطرناک ہوتے ہیں مگر ایم کیو ایم نے سب سے زیادہ نقصان ’’اپنوں‘‘ یعنی ’’مہاجروں‘‘ کو پہنچایا۔
سوال : جیسا کہ آپ نے ذکر بھی کیا، آپ پی ٹی وی سے بھی وابستہ رہے۔ وہ تجربہ کیسا رہا؟ پھر وہاں سے نکلنے کی کیا وجہ تھی؟
شاہنواز فاروقی: اپنے گھر کی معیشت کو چلانے کے لیے میں نے پی ٹی وی نیوز سے وابستگی اختیار کی، اور 14سال وہاں میں نے کام کیا۔ لیکن وہاں میں مستقل ملازم نہیں تھا، بلکہ ایک کنٹریکٹ ملازمت (Contractual Job) تھی، اُس ملازمت کے دوران جنرل پرویز مشرف کا دور آیا، اُس وقت کے سیکریٹری اطلاعات تھے انور محمود، انہوں نے ہمارے سینئر نیوز ایڈیٹر منور مرزا کو فون کرکے کہا کہ یہ تو ’را‘ کا ایجنٹ ہے اور یہ تو آرمی چیف کے خلاف لکھ رہا ہے، اور صدرِ مملکت کے خلاف لکھ رہا ہے، آپ اس کو پاکستان کے ادارے میں بٹھاکر کام کروا رہے ہیں! اس کو یہاں سے نکال دیں۔ انہوں (منور مرزا) نے مجھے بتایا یہ صورت حال پیدا ہوچکی ہے۔ پھر کوئی کرنل صاحب بھی اس سلسلے میں کچھ کام کررہے تھے۔ منور مرزا نے مجھ سے کہا: پیش کش یہ ہے کہ آپ اگر جسارت چھوڑ دیں گے تو جتنے پیسے وہاں سے آپ کو ملتے ہیں اُس سے بہت زیادہ پیسے ہم آپ کو یہیں سے دلوا دیں گے، آپ جسارت میں کام کرنا چھوڑ دیں۔ میں نے اُن سے کہا: جسارت میرا نظریہ اور میرا نظریاتی اخبار ہے، میں اُس کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتا، اور میں آپ کو یہ بتادوں کہ میں ایک کتاب اور قلم کے ساتھ یہاں آتا ہوں، میں یہ کتاب اورقلم اُٹھائوںگا اور یہاں سے چلا جائوں گا۔ بہرحال میں نے جیسا اُن سے کہا تھا، کتاب اور قلم اُٹھایا اور گھر آگیا۔ لیکن وہاں سے نکلنے کے سبب میرے گھر کی معیشت تہہ وبالا ہوگئی، اور اس کا ایک بہت ہی سنگین نتیجہ میرے لیے یہ نکلا کہ پھر گھر چلانے کے لیے میری بیوی کو گھر سے نکلنا پڑا اور ایک اسکول میں جاب کرنی پڑی۔
سوال : اردو نیوز میں بھی آپ کے کالم شایع ہوتے رہے لیکن پھر اچانک بند ہوگئے تھے ۔آپ نے خود لکھنا چھوڑدیا تھا یا کوئی اور وجہ تھی۔؟
شاہنواز فاروقی:جی اردو نیوز میں تین،چار سال کالم لکھے، وہ سلسلہ پھر رک گیا تھا ،اُس کا سبب یہ تھا کہ نواز شریف صاحب اُس وقت پرائم منسٹر تھے، اطہر ہاشمی صاحب ا ردو نیوز کے ایڈیٹر میگزین تھے۔انہوں نے مجھے پیغام بھجوایا تم نواز شریف کے خلاف لکھتے ہو سعودی عرب میں نواز شریف کے چاہنے والے ہیں،فیکس اور فون پر رد عمل آنے لگتا ہے۔تم احتیاط سے کام لو،ظاہر ہے نواز شریف جو حماقتیں کررہے تھے اُس پر احتیاط سے کام لینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔میں لکھتا رہا اُس کا نتیجہ یہ نکالا کہ مشاہد حسین جو اُس وقت وزیر اطلاعات تھے انہوں نے وہاں جاکر مالکان سے بات کرکے میرا کالم بند کروادیا۔
سوال : آپ کو کئی بار بڑے بڑے میڈیا گروپس سے آفر ہوئی، لیکن آپ نے قبول نہیں کی، اس کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟
شاہنواز فاروقی: جی! ایک دفعہ نہیں ہوا، چار دفعہ ہوا ہے۔ تین مرتبہ تو جنگ سے مجھے پیش کش ہوئی ہے۔ پہلی دفعہ 1993ء میں ہوئی تھی، اُس وقت میں نے کالم نویسی شروع ہی کی تھی، واقعہ یہ تھا کہ میاں نوازشریف صاحب نے دی نیوز کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرا دیا تھا، ملیحہ لودھی اُس وقت دی نیوز کی ایڈیٹر تھیں، تو جنگ سے بہت سے اختلافات کے باوجود ہم نے جنگ کے مؤقف کا دفاع کیا، اور کہا کہ جنگ کو آزادیٔ اظہار میسر ہونی چاہیے۔ پھر وہ کالم غالباً میر شکیل الرحمن صاحب نے پڑھا اور کہا کہ اس آدمی کو بلائیے۔ صورت حال یہ ہوئی کہ میری میر جاوید الرحمن سے ملاقات بھی ہوگئی، اور کالم کے دن بھی طے پاگئے۔ مجھے کام شروع کرنا تھا، لیکن جب میں اُن سے مل کرآیا اُس رات مجھے نیند نہیں آئی۔ رات کو دو تین بجے تک جاگتا رہا۔ میری بیوی نے کہا: کوئی پریشانی یا مشکل ہے، آپ کو نیند کیوں نہیں آرہی ہے؟ میں نے کہا: میرا دل جسارت چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہورہا۔ اُس نے کہا: جب آپ کا دل ہی آمادہ نہیں ہورہا تو وہاں جانے کے کوئی معنی ہی نہیں ہیں، آپ منع کردیں۔ پھر میں اگلے دن صبح اٹھا اور گیارہ بارہ بجے جسارت پہنچ گیا۔ اُس وقت شاہد ہاشمی صاحب ہمارے منیجنگ ڈائریکٹر تھے، انہوں نے مجھے وہاں دیکھا تو کہا: آپ کو تو اس وقت جنگ میں ہونا چاہیے تھا۔ میں نے کہا: جنگ میں تو وہ ہوگا جو جنگ کو جوائن کرے گا، میں نے تو جنگ جوائن ہی نہیں کیا۔ پھر اُس کے کچھ عرصے بعدایک صاحب ایک شادی میں میرے پاس آئے۔ جنگ کے کوئی اہم صاحب شادی میں موجود تھے، انہوں نے کہا: آپ بتائیں کہاں جانا چاہتے ہیں، جنگ میں یا جیو میں؟ میں نے کہا:مجھے جانا ہوتا تو میں اُسی وقت چلا جاتا، میں وہاں نہیں جائوں گا۔ پھر دو تین سال پہلے کی بات ہے کہ پھر جنگ میں جانے کی بات ہوئی میں نے پھر یہی کہا کہ مجھے جانا ہوتا تو میں پہلے چلا جاتا۔ میرا جو کمٹمنٹ ہے وہ بنیادی طور پر اپنے نظریے کے ساتھ ہے، اور اس نظریے کی حامل جماعت کے ساتھ ہے۔ جسارت کو میں پہلے دن سے ایک نظریاتی اخبار سمجھتا ہوں اور وہاں میں نے لکھنا ہی پہلے دن سے اس لیے شروع کیا کہ یہ ایک نظریاتی اخبار ہے، اور میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔ پھر میری ملاقات کچھ صاحبان نے دنیا گروپ کے مالکا ن سے کروائی، اُس وقت وہ اخبار نکالنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مشورہ دیں کہ ہم کس طرح کا اخبار نکالیں۔ تو میں نے بہت تفصیل سے بتایا کہ ایک اچھا اخبار کیا ہوتا ہے اور اُس میں کیا کیا ہونا چاہیے، اُس کے کیا کیا تقاضے ہیں۔ جب میں گفتگو کرچکا تو انہوں نے کہا کہ آپ بتائیے کہ ہمارے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ ابھی تو میں لکھ ہی نہیں رہا، میری طبیعت ان دنوں کچھ ٹھیک نہیں چل رہی ہے، اگر میری طبیعت ٹھیک ہوگی تو میں اپنے ہی اخبار کے لیے لکھوں گا اور کسی کے لیے نہیں لکھوں گا۔ اس کا بنیادی سبب جسارت کا نظریاتی تشخص ہے۔ اور یہ فیصلہ اس بنیاد پر ہی کیا گیا کہ میں نے اپنی زندگی کے ابتدائی مرحلے میں ہی یہ طے کرلیا تھا کہ جو اپنی صلاحیت ہے اُس کو فروخت نہیںکرنا ہے، اور شہرت، عہدوں، مناصب سے مجھے دس، پندرہ سال کی عمر میں کوئی دلچسپی نہیں تھی تو اِس عمر میں تو کوئی سوال ہی نہیں کہ دلچسپی ہو۔ تو میں نے یہ مناسب سمجھا کہ معاشرے کے اندر انقلاب کے لیے کام کرنے والی جو جماعت ہے، اُس کے لوگوں کو Engaged کرنا اور ان تک نظریاتی فکر کو پہچانا اور ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا، ایک بھیڑ سے مخاطب ہونے سے بدرجہا بہتر ہے۔
سوال : ایک دور میں آپ نے لکھنا چھوڑ دیا تھا، آخر اس کی کیا وجہ تھی؟
شاہنواز فاروقی: جی ہاں! دو ادوار ایسے آئے ہیں۔ میرے بڑے بھائی شمیم فاروقی تھے، اُن سے میں بہت قریب تھا، اُن کو آخری اسٹیج پر کینسر تشخیص ہوا، اور چار، پانچ مہینے میں اُن کا انتقال ہوگیا۔ اُن کے انتقال کا میرے اوپر بہت زیادہ گہرا اثر ہوا، دنیا سے پہلے بھی مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن اُن کے انتقال سے جو دو،چار فیصد تھی وہ بھی ختم ہوگئی، اور نوبت یہاں تک آئی کہ میرا کھانا پینا بھی متاثر ہوگیا، اور میری بھوک آدھی روٹی پر آگئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پانچ، چھے مہینوں میں بارہ، تیرہ کلو وزن کم ہوگیا، اور میری قوتِ حیات اتنی کم رہ گئی کہ میں ظہر کی نماز کے لیے اٹھتا تھا، نماز پڑھتا تھا اور پھر گھر آکر لیٹ جاتا تھا، پھر عصر کی اذان تک یہ ہمت بھی نہیں ہوتی تھی کہ اُٹھ کر بیٹھ جائوں۔ نماز پڑھنے جاتا، لیٹ جاتا۔ مغرب پڑھتا، لیٹ جاتا۔ پھر عشاء پڑھتا اور لیٹ جاتا تھا۔ اس کیفیت میں میرا ایک سال گزرا۔ اس عرصے میں یہ ہوا کہ اخبار کا پورا پلندا آتا تھا اور رکھا رہ جاتا تھا، کتابیں آتی تھیں رکھی رہ جاتی تھیں، میرے لیے پڑھنا ہی ممکن نہیں رہا تھا تو لکھنا تو بہت مشکل کام تھا۔ ایک مرحلہ تو یہ تھا۔ پھر دوسرا مرحلہ دوسال پہلے کی بات ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میرے چھوٹے بیٹے محمد عمر فاروقی کے تین مسئلے ہیں۔ وہ Autistic ہے، توجہ کے ارتکاز سے محروم ہے، اور بہت زیادہ ہائپر ایکٹو ہے، بہت زیادہ متحرک ہے، اور کبھی کبھی ایسا دن آتا ہے کہ ہم پانچ (میں، میری اہلیہ، تین بچے) اُس کو پالنے کے لیے ناکافی محسوس ہورہے ہوتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے مزید لوگوں کی اُس کے لیے ضرورت ہے۔ اُس کی ضرورت کا خیال کرنا، خبر گیری کرنا بہت مشکل کام ہے۔ پہلے وہ دو تین بجے تک سوجایا کرتا تھا، لیکن گزشتہ سات،آٹھ سال میں وہ رات بھر جاگنے لگا۔ وہ کبھی رات کو چار بجے سوتا، کبھی پانچ بجے، پھر چھے بجے، سات بجے،آٹھ بجے، پھر نو بجے، دس بجے اور ایک دن وہ پونے گیارہ بجے صبح سویا۔ تو پورا گھر پوری رات ڈسٹرب رہتا تھا۔ اُس میں آپشن یہ تھا کہ میں جاگوں تاکہ گھر میں تھوڑی دیر کے لیے لوگ سو سکیں۔ یا پھر کوئی بھی نہیں سوئے گا۔ میری اہلیہ کو میری پاکستان ٹیلی ویژن کی جاب چلے جانے کے بعد جاب کرنی پڑی، اور وہ سات سوا سات بجے اسکول کے لیے جاتی تھی۔ میں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اوسط درجے کی نیند بھی نہیں لے گی تو کام نہیں کرسکے گی، میں نے پوری طرح سے عمر کو سنبھال لیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمر اگر صبح چھے بجے سوتا تھا، میں چھے بجے سوتا تھا۔ نوبجے سوتا تھا تو میں نو بجے سوتا تھا۔ اور اگر وہ چارگھنٹے میں اُٹھ جاتا تھا تو میں چار گھنٹے میں اُٹھ جاتا تھا۔ تو اس کی خبر گیری کی وجہ سے اتنی زیادہ ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی تھکن ہوجاتی تھی کہ میرے لیے پڑھنا، سوچنا اور لکھنا ناممکن ہوگیا۔ میں آپ کو بتائوں، میں نے جو 28 سال لکھا ہے مجھے کالم سوچنے کے لیے دو سے دس منٹ درکار ہوتے تھے۔ اتنے وقت میں مَیں موضوع سوچ لیتا تھا، اُس کی پوری تفصیل میرے ذہن میں مرتب ہوجاتی تھی، پھر مجھے لکھنے میں بھی اتنا ہی وقت لگتا تھا جتنا لکھنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ لیکن پھر تھکن سے میرا یہ حال ہوا کہ دو دو گھنٹے تک بیٹھا ہوں کہ کیا لکھوں؟ موضوع ہی میرے ذہن میں نہیں آرہا ہوتا تھا۔ موضوع ذہن میں آجاتا تھا تو اُس کو ورک آئوٹ کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔ میرے لکھنے میں کبھی فزیکل لیبر شریک نہیں رہی، بس خیال آیا، خیال کو Conceive کیا اور آدھے گھنٹے میں کالم لکھ ڈالا۔ لیکن پھر تین تین، چار چار گھنٹے صرف ہونے لگے۔ پھر میں نے سوچا ایک آدھ سال بریک دینا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ مسئلہ اتنا سنگین ہوجائے اور لکھنے کا بوجھ Multiply ہوجائے، اور کسی سنگین مسئلے میں تبدیل (Convert) ہوجائے۔ تو میں نے ایک سال تک اپنے آپ کو آرام دیا۔ اس سے صورت حال تھوڑی بہتر ہوئی اور میں نے اپنی توانائی کو بحال(Restore) کیا۔ فوکس میرا الحمدللہ بہتر ہوا، پڑھنا شروع ہوا، اور سوچنے کے عمل میں بہت بہتری پیدا ہوئی۔ تو نہ لکھنے کے یہ دو اسباب تھے۔
سوال : آپ نے سینکڑوں کالم اور مضامین لکھے، اور صرف لکھے نہیں بلکہ خوب لکھے ہیں، لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی کالموں میں کی جانے والی تنقید میں غصّہ جھلک رہا ہوتا ہے، خاصے سخت الفاظ کا بھی استعمال ہوتا ہے، جس میں بسا اوقات تضحیک بھی نظر آتی ہے۔ یہ سیاسی کالموں میں بھی ہوتا ہے اور علمی، تہذیبی، سماجی موضوعات پر لکھے ہوئے کالموں میں بھی ہے۔ کیا آپ کے اس غصے کی خاص وجہ ہے؟
شاہنواز فاروقی: نہیں نہیں، بنیادی طور پر یہ خیال ہی غلط ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ دیکھیے دو تین چیزیں ایسی ہیں جو میں اپنی تربیت کی وجہ سے اور ان چیزوں سے اپنی وابستگی کی وجہ سے برداشت نہیںکرسکتا۔ میرے سامنے کوئی میرے مذہب پر حملہ کرے، میری تہذیب پر حملہ کرے، میری تاریخ پر حملہ کرے یہ میں برداشت نہیںکرسکتا، مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرا انفرادی وجود تہہ و بالا ہوگیا ہے۔ میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ انفرادی معاملات پر مجھے بہت (بہت کو کھینچتے ہوئے) کم غصہ آتا ہے، اور میرے اندر بے شمار چیزوں کو برداشت اور جذب کرنے کی صلاحیت ہے، لیکن جب میری تہذیب، تاریخ اور مذہب اسٹیک (Stake) پر ہوتاہے، پھر مجھے غصہ آتا ہے، اور یہ جو غصہ ہے اُصولوں کے تحفظ کی نیت سے آتا ہے۔ اور اس کی بنیاد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزعمل ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر انفرادی حملے ہوئے، اُس کا تو کبھی جواب نہیں دیا، لیکن جب حدود اللہ یعنی اُصول کو آپؐ نے ٹوٹتے(Violate) دیکھا، اُس پر آپؐ بہت شدید ناراضی کا اظہار کرتے تھے۔ جگہ جگہ اس طرح کی چیزیں آئی ہیں کہ آپؐ کا چہرۂ انور سرخ ہوگیا، اور آپؐ نے بہت زیادہ ناراضی کا اظہار کیا۔ اس لیے کہ اگر اصول پامال ہوگیا، آئیڈیل پامال ہوگیا، تو پھر معاشرہ تباہ وبرباد ہوجائے گا، بلکہ پوری تہذیب ہی تباہ و برباد ہوجائے گی۔ اسی لیے جب تہذیب کی بقا کا سوال ہو، جب مذہب کی بقا کا سوال ہو، جب پوری تاریخ کے مرکزی دھارے (Mainstream)کی بقا کا سوال ہو، تو غصہ جائز ہوجاتا ہے، بلکہ Recommended ہوجاتا ہے۔ اگرکوئی ذاتی معاملہ ہو، کسی نے میری ذات سے متعلق جملہ کہہ دیا ہو جس کا براہِ راست تعلق میری شخصیت سے ہے، یا میری انفرادی زندگی کے کسی دائرے سے ہے، تو اُس پر غصہ کرنا تقریباً فضول بات ہے۔
سوال : کسی کالم نگار کے اسلوب کو مشکل یا آسان کہا جاسکتا ہے، یہ ایک الگ بات ہے۔ لیکن آپ کے کالموں کے حوالے سے ایک تاثر یہ ہے کہ آپ کے فکری کالموں کی سطح بہت بلند ہوتی ہے، اور جو پڑھنے والے ہیں شاید اس علمی سطح پر نہیں ہوتے۔ یہ ہمارے دائرے یا سماج کا انحطاط ہے یا آپ سب کے لیے لکھتے ہی نہیں ہیں، اور خاص لوگ آپ کے مخاطب ہیں؟ یا یہ تاثر ہی غلط ہے۔ آپ اس پر کیا کہیںگے؟
شاہنواز فاروقی: میں نے تین طرح کے تجربے کیے۔ جب کالم نویسی کا آغاز کیا تو فکاہیہ کالم بھی لکھتا تھا، اور اُسی عنوان کے تحت سنجیدہ کالم بھی لکھتا تھا۔ اُس میں یہ ہوا کہ جو فکاہیہ کالم تھا اُس کے پڑھنے والے الگ ہوگئے، جو فکری کالم تھا اُس کے پڑھنے والے الگ ہوگئے۔ پھر فرائیڈے اسپیشل میں سیاسی تجزیہ بھی شروع کردیا۔ تو افتادِ طبع کے اعتبار سے تینوں طبقات ابھی بھی موجود ہیں۔ بعض قارئین ایسے ہیں جو صرف فکری کالموں کو پسند کرتے ہیں۔ سیاسی کالموں کو اتنا پسند نہیں کرتے۔ البتہ کچھ لوگ میرے سیاسی کالم کو پسند کرتے ہیں، اور فکری کالم کے بارے میں اُن کا کوئی ردعمل (Respond) نہیںآتا۔ یہ دونوں طبقات جسارت کے اندر موجود ہیں اور ویب میڈیا پر بھی موجو دہیں۔ ہمارے بعض احباب عرصے سے فیس بُک پر ایک Page چلا رہے ہیں جس پر ساڑھے دس ہزار لوگ میرے کالم کو Follow کرتے ہیں۔ اگر میرے سنجیدہ کالم پسند نہ کیے جاتے تو فیس بُک پر شاید اتنے قاری موجود نہ ہوتے۔
سوال : لکھنے میں انفرادیت اسلوب کی روح ہے، کیونکہ جب وہ لکھتا ہے تو اس کا ذہن اور مزاج الفاظ و عبارات میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ کیا لکھنے میں آپ کسی خاص طرزِ تحریر یا اسلوب سے متاثر ہوئے؟ یا اُس جیسا لکھنے کی کوشش کی؟
شاہنواز فاروقی: جو لوگ مجھے بہت قریب سے جانتے ہیں وہ کہتے ہیں تم جیسے ہو ویسا ہی تمہارا اسلوب ہے۔ انسان کو اپنی اصلیت، اپنی Orignality پر کبھی سودے بازی نہیں کرنی چاہیے، ورنہ انسان نہ دوسرے کی طرح بن پاتا ہے، نہ اپنی طرح بن پاتا ہے۔ البتہ اردو میں چار لوگوں کے اسالیب مجھے بہت پسند ہیں: مولانا مودودی، قرۃ العین حیدر، عسکری صاحب اور سلیم احمد۔
سوال : ہم عصر شاعروں،نثرنگاروں،کالم نگاروں میں کن کن لوگوں نے متاثر کیا؟
شاہنواز فاروقی: دیکھیں! میری نسل یا مجھ سے جو تھوڑے سینئر یا جونیئر لوگ ہیں، ان میں کئی بہت اچھے شاعر ہیں، لیکن مجھے جو مشکل اُن کے حوالے سے ہوتی ہے وہ یہ کہ وہ آتے ہیں، شعر کہتے ہیں، پچیس، تیس، پچاس اچھی غزلیں لکھتے ہیں، ایک مجموعہ اُن کا چھپ جاتا ہے۔ پھر اُن کا دوسرا مجموعہ یا تو چھپتا ہی نہیں، یا چھپتا ہے تو وہ اپنے آپ کو دہرانے لگتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ نئی نسل بہت زیادہ پڑھنے کی طرف مائل نہیں ہے۔ اور میں نے دسیوں شاعروں سے پوچھا کہ آپ نثر پڑھتے ہیں؟ فکشن، ناول، تنقید پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف یہ کہ پڑھتے نہیں ہیں بلکہ اپنی شاعری کے لیے نثر پڑھنے کو خطرناک سمجھتے ہیں۔ لگتا ہے کہ ہم نے نثر پڑھی تو شعر ہی نہیں کہہ سکیں گے۔ یہ بات درست ہو یا غلط، اس سے اُن شاعروں کا تخلیقی جوہر بہت زیادہ ترقی نہیں کرپاتا، اور وہ ایک چھوٹا سا دائرہ بنا کر رہ جاتے ہیں، خاموش ہوجاتے ہیں۔ اس صورت حال نے ہماری تخلیقی صلاحیت کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے اچھے شاعر آگے نہیں جاسکے۔ اس میں لاہور کے لوگ بھی ہیں اور کراچی کے لوگ بھی ہیں۔
سوال : آپ کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ فیض کو وہ مقام دینے کو تیار نہیں ہیں جو ہمارے ترقی پسند دیتے ہیں۔
شاہنواز فاروقی: دیکھیے بڑی شاعری کی پہچان ہے بڑے تجربے کا بیان۔ فیض کے پاس بڑے تجربے کا بیان ہے ہی نہیں۔ بڑی شاعری کی پہچان ہے اُس کا وسیع کینوس۔ فیض کے پاس کوئی وسیع کینوس ہے ہی نہیں۔ بڑی شاعری کی پہچان ہے بڑا خیال۔ اُن کو زندگی میں کوئی بڑا خیال لاحق ہی نہیں ہوا۔ بڑی شاعری کی پہچان ہے اُس کا خلاقانہ بیان اور زبان۔ اُن کے پاس کوئی بہت بڑا خلاقانہ بیان اور زبان ہے ہی نہیں۔ تو جب ان کے پاس بڑی شاعری کا کوئی بھی عنصر (Element) ہے ہی نہیں تو ان کو کس بنیاد پر بڑا شاعر تسلیم کیا جائے! زیادہ سے زیادہ اُن کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ بہت اچھے شاعر ہیں۔ اور بہت اچھے شاعر تو ہمارے یہاں بہت سارے لوگ ہیں، یعنی مثال کے طور پر آپ فیض کی دس اچھی غزلیں لے لیں، اور ان کی دس غزلوں کا مقابلہ سلیم احمد کی دس اچھی غزلوں سے کرلیں اور عزیز حامد مدنی کی دس اچھی غزلوں سے کرلیں، میں ثابت کرسکتا ہوں کہ عزیز حامد مدنی اور سلیم احمد کی غزلیں فیض احمد فیض کی اچھی غزلوں سے زیادہ اچھی ہیں۔ آپ عزیز حامد مدنی اور سلیم احمد کے دس اچھے شعروں کا موازنہ فیض کے دس اچھے شعروں سے کرلیں، مدنی صاحب اور سلیم احمد کے دس شعر زیادہ اچھے ہوں گے۔ ان کی غزل کا اندازہ اس بات سے کریںکہ احمد فراز، فیض کے پیروکار تھے، لیکن جو پیروکار ہے وہ بھی فیض سے بہت آگے بڑھ گیا۔ فیض نظم کے زیادہ اچھے شاعر ہیں، لیکن نظم میں وہ ن۔ م۔ راشد کا پاسنگ بھی نہیں ہیں، ن۔ م۔ راشد کی ایک نظم اُن کی پچاس نظموں پر بھاری ہے۔ لیکن ظاہر ہے فیض ہمارے لٹریچر کے Icon ہیں۔ اور بین الاقوامی سطح پر جانا جانے والا سب سے بڑا نام ہیں، جدید شاعری کا سب سے معروف حوالہ ہیں، اور ان کا ڈنکا بج رہا ہے، اور سب ان کے بت کے آگے سر بسجود ہیں، اور ہر سال ان کا سیمینار رکھا جارہا ہے۔
سوال :تو کیا فیض بھوپوںکے ذریعے بڑے ہوگئے؟
شاہنواز فاروقی: پروپیگنڈا بڑی چیز ہے۔ وہ فیض کا ہے اور پروپیگنڈا فیض کی شاعری کا ہے۔ ن م راشد، عزیز حامد مدنی اور سلیم احمد کی شاعری کا نہیں۔
سوال :آپ کا بڑا تجربے سے کیا مراد ہے؟
شاہنواز فاروقی: جی میں اس کی وضاحت کردیتا ہوں۔ جیسے میرؔ کی شاعری ہے، میرؔ کے پاس عشق کے تجربے کے سوا کچھ بھی نہیںہے۔ لیکن وہ تجربہ اُن کی ذات میں اس حد تک راسخ ہے کہ وہ اُن کا تناظر بن گیا ہے۔ وہ زندگی کو عشق کے تناظر میں دیکھتے ہیں، عشق کے تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ غالب کے لیے دنیا اتنی اہم ہے کہ وہ ان کے پورے ویژن پر چھا گئی ہے۔ اور وہ ہر چیز کو اُسی تناظر میں دیکھتے اور بیان کرتے ہیں۔ اقبال کے لیے اسلام کا احیا اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ ان کی زندگی کا تجربہ بن گیا۔ فیض سوشلسٹ تھے، لیکن اگر ان کے لیے سوشلزم اتنی بڑی چیز ہوتا تو وہ ان سے بڑی نظمیں کہلوا دیتا، جن کا کینوس عالمگیر ہوتا، کوئی تجربہ، بڑا احساس ان کے اندر ریفلیکٹ کررہا ہوتا، یا ان سے پانچ سات دس غزلیں کہلوا لیتا۔ چلیں چار پانچ دس شعر ہی کہلوالیتا، تو ہم کہتے فیض بہت بڑے شاعر ہیں۔
سوال : ماضی میں صحافی بیک وقت ادیب، نقاد، دانش ور اور تاریخ دان ہوا کرتے تھے، مگر صحافیوں میں اب یہ صفت ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ آخر اس زوال کی کیا وجہ ہے؟
شاہنواز فاروقی: اس کی وجہ یہ ہے کہ برصغیر میں جب صحافت آئی تو وہ زمانہ ہی عالموں، دانش وروں، شاعروں، ادیبوں اور مورخوں کا زمانہ تھا۔ اُس وقت وہ مخلوق موجود ہی نہ تھی جسے صحافی کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس وقت اردو صحافت کے منظرنامے پر طویل عرصے تک عالم، دانش ور، شاعر، ادیب، نقاد اور مؤرخ چھائے رہے۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ دو مسائل نے ہمیں گھیر لیا۔ ایک مسئلہ یہ ہوا کہ ہم علمی، فکری اور ذہنی زوال کا شکار ہوگئے۔ چنانچہ صحافت سے علمی اور فکری عنصر کم ہوتا چلا گیا۔ دوسری مصیبت یہ ہوئی کہ ’’پیشہ ور صحافی‘‘ تو پیدا ہوگئے مگر انہوں نے اپنے مذہب، تاریخ، تہذیب، شعر و ادب اور علوم وفنون سے زندہ تعلق استوار کرنے سے منہ موڑ لیا۔ نتیجہ یہ کہ پوری صحافت پر بالشتیوں کا غلبہ ہوگیا۔ بدقسمتی سے اب ہمارے سامنے کوئی بڑا کاز، کوئی بڑا ہدف بھی نہیں ہے۔ ہمارے مقاصدِ حیات پست ہیں۔ چنانچہ ہماری صحافت بھی پستی میں مبتلا ہوگئی ہے۔
سوال : میڈیا فکر و نظر کے زاویے تبدیل کررہا ہے۔ عالمی میڈیا بھی یہ کام کررہا ہے، ملکی میڈیا بھی یہ کام کررہا ہے۔ اس کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ آپ بحیثیتِ مجموعی میڈیا کے کردار کو کس طرح سے دیکھ رہے ہیں؟
شاہنواز فاروقی: عالمی میڈیا تو ہمیشہ سے ایسے ہاتھی کا کردار ادا کررہا ہے جو ہماری صفوں کو کچل رہا ہے۔ لیکن ہمارا اپنا جو میڈیا ہے وہ بھی معاشرے کی بنیادی ساخت کو بدلنے اور اس کو مسخ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہمارا مذہب، ہماری تہذیب، ہماری تاریخ اور اس کے تقاضے… یہ ہمارے میڈیا کا ایجنڈا ہی نہیں ہے۔ اس کا ایجنڈا ہے سرمایہ، اس کا ایجنڈا ہے مال کمانا، اس کا ایجنڈا ہے غیر ملکی خیالات کی ترجمانی کرنا، اور ان کو معاشرے میں عام کرنا۔ اور یہ صورت حال اتنی سنگین ہوگئی ہے کہ خود ٹیلی ویژن کے بڑے لکھنے والے چیخ رہے ہیں، حسینہ معین چیخ رہی ہیں، انور مقصود چیخ رہے ہیں، اور کئی لوگ ہیں جنہوں نے اس موضوع پر بات کی ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ ایسا ڈراما پروڈیوس کررہے ہیں کہ جوخاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھا جاسکتا، آپ ایسے مارننگ شو کررہے ہیں جن کے متعلق ڈان جیسے لبرل اخبار نے کہا ہے کہ وہ Morning Sickness کے سوا کچھ نہیں۔ معاشرے کا ہر طبقہ جو ذرا بھی شعور رکھتا ہے، وہ میڈیا کے مجموعی رجحان سے نالاں ہے۔ پاکستان کے ٹاک شوز دیکھنا تو مجبوری ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے، لیکن جو آدمی ان کو انجوائے کرتا ہے وہ یقینا نفسیاتی مریض ہے۔ اس لیے کہ ان ٹاک شوز کے اندر نہ کوئی دانش ورانہ مواد ہے، نہ اُن کے اندر کوئی علمی مواد ہے، اور نہ اُس کا ہمارے مذہب، تہذیب اور تاریخ سے کوئی تعلق ہے، یہاں تک کہ مغربی علم کی روایت سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ وہ صرف مرغے لڑا رہے ہیں اور معاشرے کو ایک ایسے مواد سے آشنا کررہے ہیں جو ناظرین کی روحانی، ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ اگر سوسائٹی کو اس مواد کی عادت پڑگئی تو وہ کوئی سنجیدہ بات سننے، سنجیدہ بات سمجھنے اور سنجیدہ بات جذب کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ یہ پوری صورت ِحال ہماری تہذیب، مذہب، سماج اور قوم کے خلاف سازش ہے۔ اور یہ سازش ذرائع ابلاغ کی آزادی کے نام پر بروئے کارلائی جارہی ہے اور کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ نہ یہ حکمرانوں کا مسئلہ ہے،اور بدقسمتی سے معاشرہ بھی نہیں سوچ رہا کہ وہ کس طرح کا مواد کنزیوم (Consume) کررہا ہے،اور وہ کس طرح کے معاشرے میں تبدیل ہورہا ہے۔پاکستان میں آزاد صحافت کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
سوال : اب دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ مطالعے کا رجحان کم ہوا ہے اور کتاب سے دوری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے، لیکن دوسری طرف سوشل میڈیا، انٹرنیٹ پر پڑھنے کا رجحان بھی بڑھا ہے اور لوگ اسکرین پر پڑھ رہے ہیں۔ آپ کتاب سے اسکرین کی طرف اس منتقلی کو کس طرح دیکھ رہے ہیں؟
شاہنواز فاروقی: منتقلی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ واقعی سنجیدہ مطالعے کی طرف گئے یا نہیں گئے۔ اگر وہ انٹرنیٹ پر کتاب پڑھ رہے ہیں تو مجھے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ کتاب ہاتھ میں اٹھا کر، چھوکر پڑھ رہے ہیں یا نہیں… اہم بات یہ ہے کہ واقعی وہ کتاب پڑھ رہے ہیں اور سنجیدہ مواد کی طرف متوجہ ہیں۔ لیکن میرا مطالعہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ نئی نسل میں بہت کم لوگ سنجیدہ مطالعے کی طرف راغب ہیں۔ وہ سیاست اور پروپیگنڈے کے دائرے میں آنے والے موضوعات پر متوجہ ہیں، ان کی طرف زیادہ لوگوں کی رغبت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہماری زندگی میں اتنی سنجیدگی اور گہرائی موجود ہی نہیں ہے کہ ہم سنجیدہ اور گہرے خیالات کی طرف اپنے آپ کو متوجہ ہوتا ہوا محسوس کریں۔
سوال : نئے لکھنے والے کیا لکھیں، کیسے لکھیں، اور جو لکھ رہے ہیں وہ اور اچھا کیسے لکھیں؟
شاہنواز فاروقی: مجھے یہ کہتے ہوئے اٹھائیس سال ہوگئے ہیں، کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں کہ تحریک اسلامی کے تناظر میں بھی یہ بہت اہم بات ہے کہ اگرآپ کو معاشرے میں بیانیہ پیدا (Narrative Generate) کرنا ہے، آپ کو بیانیے کے ذریعے لوگوں کے قلوب اور اذہان کو مسخرکرنا ہے تو پھر آپ کو لکھنے والے پیدا کرنے پڑیں گے۔ آپ کو حقیقی معنوں میں رائے عامہ(Public Opinion) بنانے والے پیدا کرنے ہوں گے، لکھنے والے پیدا کرنے پڑیں گے، اور ایک، دو، چار نہیں پچاس ساٹھ پیدا کرنے ہوں گے۔ اور جب پچاس ساٹھ سوچنے سمجھنے والے اور اعلیٰ سطح پر اظہار کرنے والے پیدا ہوں گے تب پھر تحریک اسلامی پورے معاشرے کو متاثر کرسکے گی۔ اور اس کے لیے دو تین چیزیں بہت ضروری ہیں: (1)آپ کا اپنی تہذیب، اپنی تاریخ سے بہت گہرا جذباتی، نفسیاتی اور روحانی رشتہ ہونا چاہیے، اتنا گہرا کہ آپ کو لگے کہ آپ کا جو مذہب ہے، آپ کی جو تہذیب ہے، آپ کی جو تاریخ ہے، وہ آپ کے وجود کے ہم معنی ہے، اور آپ کو لگے کہ ان کا دفاع آپ کے وجود کا دفاع ہے، اُن کی بقا آپ کے وجود کی بقا ہے، ان کی سلامتی آپ کے وجود کی سلامتی ہے تو پھر وہ بامعنی گفتگو اور بامعنی لکھنے کی طرف جائیں گے۔2) )ان کے لیے مطالعہ، سنجیدہ مطالعہ،کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اور علوم کے عمومی دائروں سے ان کو آگاہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے تھوڑا سا مذہب کو پڑھا ہو، تھوڑا سا ان کو فلسفے سے شغف ہو، تھوڑا سا وہ اپنے لٹریچر اور تاریخ سے واقف ہوں، تھوڑا سا ان کو سوشیالوجی، اکنامکس کی مبادیات کا علم ہو، اور معاشرے میںکام کرنے والے جو محرکات ہیں ان سے بھی وہ تھوڑا بہت آگاہ ہوں۔ یہ تقاضے پورے کریں گے تو مجھے یقین ہے اچھا لکھنے والے بنیںگے اور اسی کے نتیجے میں معاشرے کے اندر کوئی انقلاب برپا ہوگا۔ اس کے بغیر معاشرے میں انقلاب برپا کرنے کی خواہش کا اظہار محض ایک مذاق ہے۔

Share this: