پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش اور قومی سلامتی کا تقاضا

Print Friendly, PDF & Email

کیا حکمران واقعی سنجیدہ ہے؟
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 8 ماہ کے دوران پاکستان نے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر 10 ارب ڈالر سے زیادہ کا قیمتی زرمبادلہ خرچ کیا۔ پاکستان کو اپنی ضرورت کے لیے 4 لاکھ بیرل تیل یومیہ کی ضرورت ہے جبکہ ملکی پیداوار کا تخمینہ 84000 بیرل روزانہ ہے۔ یعنی پاکستان اوسطاً 3 لاکھ 16 ہزار بیرل یومیہ درآمد کرتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں موجود تیل صاف کرنے کے کارخانے (Refineries)لطیف یا light تیل صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے ملک کے کنووں سے نکالا جانے والا 20 ہزار بیرل لطیف تیل برآمد کردیا جاتا ہے۔ آج کے دن عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 66 ڈالر فی بیرل ہے۔ اگر لطیف تیل کی برآمد سے ہونے والی آمدنی کو منہا کردیا جائے تو پاکستان اپنی گاڑیوں اور صنعت کے پہیوں کو رواں رکھنے کے لیے تیل کی درآمد پر ہر روز ایک کروڑ 95 لاکھ ڈالر سے زیادہ خرچ کررہا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہم نے تیل پر روزانہ خرچ کا تخمینہ تیل کے عالمی یا امریکی برانڈ یعنی WTIکی قیمتوں کی بنیاد پر ترتیب دیا ہے جبکہ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات سے حاصل کرتا ہے جو اوپیک باسکیٹ کے نرخ پر فراہم کیا جاتا ہے، اور اوپیک باسکیٹ کی فی بیرل قیمت WTI سے تقریباً 8 ڈالر فی بیرل زیادہ ہے۔
ملک کی سالانہ درآمدات کا حجم 55 ارب ڈالر کے قریب ہے، جس کا مطلب ہوا کہ 20 کروڑ عوام کے خون پسینے سے کمائے ہوئے قیمتی زرمبادلہ کا 18 فیصد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ ہورہا ہے۔ اس اعتبار سے تیل و گیس کا شعبہ پاکستانی عوام کی خوشی و خوشحالی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کی نشست میں تیل کی ضرورت اور تیل وگیس کے وسائل کی ترقی کے لیے اب تک کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور آخر میں خودکفالت کے حوالے سے کچھ گفتگو ہوگی۔
وطن عزیز میں خود احتسابی کے نام پر ”خودملامتی“ کا چلن عام ہوگیا ہے اور اپنے رواج، اقدار اور نظام کو بوسیدہ کہنا کلمہ حق سمجھ لیا گیا ہے۔ بلاشبہ کمزوریوں سے آنکھیں چراکر خواب اور خوش فہمی میں مبتلا رہنا کوئی مثبت طرزعمل نہیں، لیکن ہروقت خود کو کوسنا، بے جا تنقید اور اپنی ہر چیز کی توہین زندہ قوم کا شعار نہیں۔ تیل و گیس کی صنعت کے حوالے سے ہماری تاریخ کامرانیوں اور کامیابیوں سے بھری پڑی ہے جس میں سے چند نکات کچھ اس طرح ہیں:
٭دورِ جدید میں تیل کی تلاش کے لیے پہلا کنواں 1859ء میں امریکی ریاست پنسلوانیا میں کھودا گیا تھا، جبکہ موجودہ پاکستان میں تیل کے لیے پہلی کھدائی 1866ء میں ہوئی اور کندل (میانوالی) کے علاقے میں کنویں کھودے گئے۔ گویا تجربے کے اعتبار سے اس ٹیکنالوجی میں پاکستان کا دوسرا نمبر ہے اور فرق بھی صرف سات سال کا ہے۔
٭1886ء میں کوئٹہ کے قریب 25ہزار بیرل تیل زمین سے نکالا گیا جو عالمی ریکارڈ ہے۔
٭اس علاقے میں تیل کی تجارتی بنیادوں پر پہلی دریافت 1915ء میں ہوئی جب ضلع اٹک کے مقام کھوڑ پر تیل دریافت ہوا۔ اس میدان سے اب تک 50 لاکھ بیرل تیل نکالا جاچکا ہے اور کھوڑ نمبر1 نامی کنواں آج بھی موجود ہے۔
٭گیس کی پہلی بڑی دریافت 1954ء میں سوئی کے مقام پر ہوئی۔ یہ حقیقت شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ گزشتہ صدی کی پانچویں دہائی میں جب پاکستان میں گیس کی تقسیم کے لیے پائپ لائن بچھائی گئی اُس وقت الاسکا (ALASKA)پائپ لائن کے بعد یہ دنیا کی سب سے طویل پائپ لائن تھی۔
٭دورِ جدید کی پہلی گیس پائپ لائن 1906ء میں باکو (آذربائیجان) سے بحر اسود کی بندرگاہ تک بچھائی گئی۔ اس پائپ لائن کی لمبائی 833 کلومیٹر تھی جس کے صرف پچاس سال بعد پاکستان میں گیس کی پائپ لائن ڈالی گئی اور اس نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی ساڑھے سات ہزار کلومیٹر ہے۔
٭جب 1959ء میں صدر ایوب خان راولپنڈی کے انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل (پرل کانٹی نینٹل) میں گیس گیزر کا افتتاح کررہے تھے، اُس وقت لندن سمیت سارے یورپ میں گھروں کو گرم رکھنے کے لیے کوئلہ استعمال ہوتا تھا۔
٭ہمارے یہاں سرکاری اداروں میں کرپشن کی شکایت عام ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اب تک پاکستان میں پائپ لائن کے حادثاتی طور پر پھٹنے کا ایک بھی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔ دہشت گردی اور بات ہے۔ یہ پاکستانی انجینئروں کی استعداد، دیانت، پیشہ ورانہ مہارت اور بے مثال کوالٹی کا ثبوت ہے۔ امریکہ میں ہر سال پائپ لائن پھٹنے کے کم ازکم دو بڑے حادثات رونما ہوتے ہیں۔
٭1967ء میں جب الجزائر نے تیل کمپنی سوناطراخ ((SONATRACHکو قومیانے کا منصوبہ بنایا تو ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ افرادی قوت کا تھا کہ سوناطراخ میں تمام کا تمام عملہ فرانسیسیوں پر مشتمل تھا جو اپنے ملک واپس جانے پر اصرار کررہے تھے۔ الجزائر کے صدر حواری بومدین نے جناب ذوالفقارعلی بھٹو سے رابطہ کیا جو اُس وقت پاکستان کے وزیرخارجہ تھے، لیکن اس سے پہلے وہ وزیرمعدنیات و توانائی رہ چکے تھے۔ سوناطراخ کی تعمیرنو کا سارا کام پاکستانی ماہرینِ ارضیات اور مہندسینِ پیٹرولیم نے انجام دیا، اور جن لوگوں کو حاسی مسعود BASEپر جانے کا اتفاق ہوا ہے وہاں سوناطراخ کی عمارت کے استقبالیہ پر ایک عرصے تک کمپنی کے بانی صدر سید احمد غزالی کے دستخط سے وہ دستاویز نصب رہی جس پر لکھا تھا ”ہم اس ادارے کی تعمیر کے لیے برادر ملک پاکستان کے شکر گزار ہیں“۔ یہ جملہ انگریزی، عربی اور فرانسیسی کے ساتھ اردو میں بھی تحریر کیا گیا تھا۔
٭امریکہ، افریقہ، مشرق وسطیٰ، مشرق بعید، یورپ، ایشیا اور دنیا کی کوئی رگ ((RIG اور تیل و گیس کا کوئی میدان ایسا نہیں جہاں پاکستانی ماہرین مصروفِ کار نہ ہوں۔ افریقہ و مشرق وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحرا، عمیق بحرالکاہل، وحشت زدہ پاپوا نیوگنی، جدید ترین بحرِ شمالی (نارتھ سی) اور خلیج میکسیکو ہر جگہ پاکستانی ماہرین مصروفِ عمل نظر آتے ہیں۔
تاہم اس شاندار ماضی کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج جب ساری دنیا پاکستانی مہارت سے فائدہ اٹھارہی ہے، خود وطنِ عزیز کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور تیل و پیڑولیم مصنوعات کی درآمدات پر 15 ارب ڈالر سالانہ خرچ کیے جارہے ہیں۔
پاکستان میں تہہ دار چٹانوں یا Sedimentary Rocks کا رقبہ 8 لاکھ 27 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ تیل و گیس کے روایتی میدان تہہ دار چٹانوں ہی میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم اس وسیع وعریض موقع اور تجربہ کار افرادی قوت کے باوجود 1866ء میں پہلے کنویں کی کھدائی کے بعد سے اب تک یعنی 152 سال کے دوران مجموعی طور پر صرف2537 کنویں کھودے گئے۔ گویا ہمارے یہاں تہہ دار چٹانوں کے کل رقبے میں کنویں کھودنے کا تناسب 3 فی 1 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اگر صرف آزمائشی (exploratory) کنووں کا جائزہ لیا جائے تو اب تک 1094آزمائشی کنویں کھودے گئے ہیں۔ اس اعتبار سے تلاش کا تناسب 1.3 فی 1 ہزار مربع کلومیٹر ہے، حالانکہ عالمی معیار کے مطابق اسے کم از کم 10 فی 1 ہزار مربع کلو میٹر ہونا چاہیے تھا۔ پاکستان میں تہہ دار چٹانوں کے صرف 38 فیصد رقبے پر تیل و گیس کی تلاش کے لیے قسمت آزمائی کی جارہی ہے۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ تلاش کے تناسب کو ساری دنیا میں ایک ہی طرح لاگو کرنا مناسب نہیں کہ اس کا تعلق ہر ملک کے بنیادی ڈھانچے اور کامیابی کے امکانات سے ہے، تاہم اس سے ایک بات بڑی واضح ہے کہ پاکستان میں تیل کی تلاش کا کام سست روی کا شکار ہے۔ دوسری طرف دنیا اب روایتی تہہ دار چٹانوں کے ساتھ غیر روایتی سلیٹی (Shale)چٹانوں سے بھی تیل و گیس کشید کررہی ہے۔ امریکہ میں مجموعی پیداوار کا بڑا حصہ اب سلیٹی چٹانوں سے حاصل کیا جارہا ہے۔ سلیٹی چٹانوں کی ساخت اور ان میں موجود مساموں کی غیر نفوذ پذیری (Impermeability) کی بنا پر ان تلوں سے تیل نچوڑنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور حکمت عملی درکار ہے جس کی بنا پر سلیٹی میدانوں سے حاصل ہونے والے تیل کی پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے۔
سست رفتاری اور تلاش کے کام میں عدم دلچسپی کے باوجود یہاں کامیابی کا تناسب دس میں 2.8 ہے، یعنی کھودے جانے والے ہر 10 میں سے 2.8کنویں سے تیل و گیس کی منافع بخش مقدار دریافت ہوئی، جبکہ عالمی سطح پر تیل و گیس کی تلاش میں کامیابی کا اوسط 10میں 1 ہے۔
خشکی کے ساتھ سمندر میں تیل کی تلاش کا کام 1963ء سے جاری ہے اور اب تک 16 کنویں کھودے جاچکے ہیں، جبکہ سترہویں کنویں کیکڑا 1 کی کھدائی تادم تحریر جاری ہے۔ اب تک مکران سے متصل بحر عرب کے پانیوں میں 4 اور INDUSیعنی سندھ سے متصل پانیوں میں 12 کنویں کھودے گئے ہیں۔ ان میں سے OGDCکے ایک کنویں PAKCAN-1سے گیس دریافت ہوئی جس کا آزمائش کے دوران بہاؤ 3.7ملین مکعب فٹ یومیہ تھا۔ تاہم 1985ء میں کھودے جانے والے اس کنویں پر گیس سے بھری چٹان کی موٹائی صرف 4 میٹر اور بہاؤ نسبتاً کم تھا، اس لیے یہاں سے منافع بخش پیداوار ممکن نہیں۔ جب قارئین ہماری ان سطور کو شرفِ مطالعہ عطا کررہے ہوں گے توقع ہے کہ اس وقت کیکڑا 1 پر ان چٹانوں کی کھدائی ہورہی ہوگی جن کے بارے میں ماہرین کو توقع ہے کہ یہ گیس سے مالامال ہیں۔ تاہم کامیابی کے بارے میں اس وقت کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔
پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش و ترقی کے کام میں سست روی کی بڑی وجہ سیاسی عزم (will)کا فقدان، قیادت کا بحران، امن عامہ کی خراب صورت حال اور پالیسیوں کا عدم استحکام ہے۔ تیل و گیس کی تلاش انتہائی قیمتی مشغلہ ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ یہاں کامیابی کا امکان محض 10 سے 12 فیصد ہے۔ لیکن چونکہ کامیابی کی صورت میں منافع بھی چھپر پھاڑ ہوتا ہے اس لیے سرمایہ کار بھاری سے بھاری خطرہ مول لینے کو تیار ہیں۔ اسی بنا پر تیل کی صنعت میں لگائی جانے والی رقم تجارتی اصطلاح میں ڈوبی ہوئی سرمایہ کاری کہلاتی ہے۔ تیل کی تلاش کے لیے گہری جیب، مضبوط اعصاب اور فولادی عزم کی ضرورت ہے۔
اس وقت پاکستان میں لگ بھگ 18 غیر ملکی ادارے کام کررہے ہیں۔ یہ کمپنیاں پاکستان میں کامیابی کے لیے پُرامید ہیں، ورنہ وہ یہاں بھاری سرمایہ کاری نہ کرتیں۔ یہ سرمایہ کار ٹیکنیکل خطرات (Technical Risk) مول لینے کو تیار ہیں لیکن اصل رکاوٹ حکومتی رویہ ہے۔ سرکاری پالیسیوں میں تسلسل نہیں اور حکومت کے مختلف اداروں میں باہمی رابطے کا فقدان نظر آرہا ہے۔ بلکہ بسا اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے مختلف شعبے سوکنوں کے انداز میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی فکر میں رہتے ہیں۔
تیل و گیس کی تلاش کے لیے بہت سے ایسے جدید ترین اوزار اور خدمات کی ضرورت ہے جو پاکستان میں موجود نہیں۔ یہ قیمتی سامان دوسرے ممالک سے کرائے پر منگائے جاتے ہیں۔ مانگ زیادہ ہونے کی وجہ سے کرایہ ان کی روانگی کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے اور فیکٹری واپس پہنچنے تک جاری رہتا ہے۔ پاکستان میں کسٹم کے فرسودہ نظام کی بنا پر یہ سامان ہفتوں بندرگاہوں پر پڑا رہتا ہے اور کسٹمز کے بابو کاغذی موشگافیوں کا سہارا لے کر انھیں وہیں روکے رکھتے ہیں، جس کی بنا پر تیل کمپنیوں کو ایک طرف کرائے کی مد میں بھاری اخراجات کا سامنا ہے، تو دوسری جانب حرجے خرچے کی شکل میں مزید مشکلات پیش آتی ہیں۔
امن و امان کی مخدوش صورت حال بھی تلاش کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بلوچستان کے بڑے علاقے میں کام ناممکن حد تک مشکل ہے، اور جہاں کمپنیاں خطرہ مول لینے کو تیار ہیں وہاں سیکورٹی کے اخراجات کی بنا پر کنواں کھدائی سے پہلے ہی غیر منافع بخش ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے بعض علاقوں میں سیکورٹی کی بنا پر غیر ملکیوں کی آمد و رفت محدود کردی گئی ہے اور ان علاقوں میں کام کرنے والے ماہرین کو خصوصی اجازت نامہ لینا ہوتا ہے۔ ان اجازت ناموں یا Security Permitsکا حصول جوئے شیر لانےسے کم نہیں۔
تیل و گیس کی تلاش اور کنووں کی کھدائی کے دوران خصوصی نوعیت کے تابکاری آلات (Nuclear Source)استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کے حصول، درآمد، گودام اور نقل و حمل کے لیے Pakistan Nuclear Regulatory Authorityیا PNRA نے بہت مؤثر لیکن آسان فہم طریقے وضع کررکھے ہیں اور PNRAکے ماہرین اس ضمن میں تربیت بھی فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کی نقل و حمل کے سلسلے میں مناسب معلومات نہ ہونے کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے مشکلات کھڑی کرتے رہتے ہیں جس سے کھدائی کے کام میں غیر ضروری خلل پڑتا ہے۔ بڑی مشکل یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس ضمن میں اپنے اہلکاروں کی نہ تو تربیت کی ہے اور نہ ہی واضح ہدایات طے کی ہیں، چنانچہ ہر ایس ایچ او صندق پر ”جوہری“ کا لفظ دیکھ کر ہی حواس باختہ ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔
کنووں پر Casingsمیں سوراخ کرنے کے لیے خاص انداز کا بارود (explosives)بھی استعمال ہوتا ہے۔ ہر نئے وزیر داخلہ کے دور میں بارود کی درآمد، اسے بحفاظت ذخیرہ کرنے اور استعمال کا حساب و کتاب رکھنے کا طریقہ کار تبدیل کردیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوا کہ دہشت گردی کی کسی بڑی واردات کے بعد تاحکم ثانی explosivesکی درآمد اور نقل و حمل پر مکمل پابندی لگادی گئی۔ حالانکہ یہ بارود کچھ ایسے انداز میں بنائے گئے ہیں کہ وہ صرف بجلی کے مخصوص کرنٹ سے فائر ہوتے ہیں اور کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہی نہیں ہوسکتے۔
سمندر میں تیل کی تلاش و ترقی کا کام اس لیے اور بھی زیادہ مشکل ہے کہ کسٹمز اور بندرگاہ کے عملے کو اس کا اندازہ ہی نہیں۔ سمندر میں کام کرنے والی رگوں پر اوزار و سامان ذخیرہ کرنے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے، لہٰذا ساحلوں پر عارضی گوداموں میں رکھا ہوا سامان بوقتِ ضرورت کشتیوں پر رگ کی طرف روانہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں کسٹم حکام نے بندرگاہ سے باہر جانے والی کشتی یا جہاز پر لدے سامان کو برآمد، اور آنے والے سامان کو درآمدات تصور کررکھا ہے۔ نتیجے کے طور پر رگ روانگی سے پہلے اس سارے سامان کو عام برآمدات کی طرح کاغذی کارروائی، جانچ پڑتال، مالی تشخیص (Assessment) وغیرہ کے تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جس میں کئی دن بلکہ تعطیلات کی صورت میں ہفتہ بھی لگ جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال رگ سے واپس آنے والے استعمال شدہ سامان کی ہوتی ہے جنھیں درآمدات کی آزمائش برداشت کرنی پڑتی ہے۔
ساحل سے رگ تک آنے جانے کے لیے جو ہیلی کاپٹر استعمال ہوتے ہیں اُن کی پرواز سے پہلے محکمہ شہری ہوابازی، محکمہ داخلہ، خفیہ ایجنسیوں اور وزارتِ دفاع سے خصوصی اجازت ضروری ہے، جس میں وقت اور پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں بھارت سے کشیدگی کی بنا پر کیکڑا کے لیے ہیلی کاپٹر کی پروازوں پر پابندی لگادی گئی۔ یہ رگ کراچی سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور کشتی پر یہ راستہ 19 گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ ناہموار سمندر میں سرکش لہروں پر یہ طویل سفر ایک عذاب سے کم نہیں، اور Sea Sickness نے کارکنوں کو ادھ موا کردیا۔
اس قسم کی مشکلات سرمایہ کاروں کے لیے حوصلہ شکنی کا سبب بن رہی ہیں، جس کی وجہ سے ماضیِ قریب میں آسٹریا کی OMV، آسٹریلیا کی BHP، برطانیہ کی پریمیئر، اور سب سے بڑھ کر ملائشیا کی قومی تیل کمپنی پیٹروناس چاری گلی Petronas Carigali پاکستان سے اپنا بوریا بستر لپیٹ چکی ہیں۔ ان تمام کمپنیوں نے گیس کے بڑے ذخائر دریافت کرلیے تھے، لیکن غیر ضروری پابندیوں اور گنجلک قوانین سے پریشان ہوکر ان سب نے پاکستان کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا۔
رشوت مافیا کے لیے ملک میں تیل و گیس کے وسائل کی دریافت کے مقابلے میں باہر سے تیل اور LNGکی درآمد زیادہ منافع بخش ہے کہ اس میں کمیشن کے مواقع بہت زیادہ ہیں۔ نوازشریف حکومت نے قطر سے LNG خریدنے کا معاہدہ کیا۔ LNG یا Liquefied natural gas کشید کرنے کے لیے قدرتی گیس سے پانی، ہائیڈروکاربن کے بوجھل و کثیف ذرات (heavy Hydrocarbons)، ہائیڈروجن سلفائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکال لیا جاتا ہے اور پھر دباؤ ڈال کر اسے رقیق حالت میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اس عمل کا بنیادی مقصد نقل و حمل میں آسانی پیدا کرنا ہے تاکہ ایل این جی کو ٹینکروں اور بحری جہازوں کے ذریعے پیداواری مقام سے دوردراز علاقوں یا بیرونی ممالک کو بھیجا جاسکے۔ ایل این جی بنانے کے عمل میں قدرتی گیس کا حجم 600 واں حصہ رہ جاتا ہے۔ مقامِ مقصود پر پہنچنے کے بعد اسے دوبارہ گیس کی شکل دے دی جاتی ہے تاکہ اسے سلینڈروں یا پائپ لائن کے ذریعے آگے تقسیم کیا جاسکے۔
اب کہا جارہا ہے کہ وفاقی وزیر جہاز رانی علی زیدی ایل این جی کے لیے Exxon Mobilسے گفت و شنید میں مصروف ہیں۔ تیل و گیس کی کمی سے نبٹنے کے لیے ایل این جی کی درآمد وقتی طور پر تو ٹھیک ہے لیکن اسے توانائی کے باب میں ایک مستقل حکمت عملی کے طور پر اختیار کرلینا کسی طور مناسب نہیں۔
توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ملکی بقا کے لیے بے حد ضروری ہے۔ معاملہ صرف خریداری کے لیے زرمبادلہ اور مالی وسائل کا نہیں بلکہ جنگ کی صورت میں تیل اور ایل این جی سے لدے ٹینکروں کی بندرگاہوں پر حفاظت کوئی آسان کام نہیں۔ اگر دشمن ہمارے آبی راستوں یا بندرگاہوں کو چند روز کے لیے بھی مسدود کرنے میں کامیاب ہوجائے تو دفاعِ وطن کی صورت حال بے حد نازک ہوسکتی ہے۔ تیل و گیس میں خودکفالت کو مادرِ وطن کی سلامتی و قومی دفاع کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی ارضیاتی ساخت کے ساتھ ہمارا ملک ماہرانہ صلاحیت و استعداد کے معاملے میں خودکفیل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اربابِ حل و عقد تیل و گیس میں خودکفالت کو ترجیح اول بنائیں، اور اس ہدف کو سامنے رکھ کر پالیسیاں وضع کی جائیں۔ اس میدان میں پیش قدمی کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ OGDC، پاکستان پیٹرولیم (PPL) اور ماری پیٹرولیم جیسے ادارے ملک سے باہر جاکر قسمت آزمائی کریں۔ دو ہفتہ پہلے PPLنے عراق میں مدین نامی کنویں کی کھدائی کا آغاز کیا جو بے حد خوش آئند ہے۔ ان کوششوں کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں تیل کے ذخائر بہت کم ہیں لیکن بھارتی تیل کمپنیاں امریکہ اور یورپ سمیت ساری دنیا میں سرگرم ہیں۔ دریائے خزر یا Caspian کو ابھی حال میں اس کے ساحلوں پر رہنے والے ممالک نے قومی ملکیت میں لے لیا ہے۔ ترکمانستان، تاجکستان اور آذربائیجان کے ساتھ مل کر یہاں مشترکہ منصوبوں میں حصہ ڈالا جاسکتا ہے۔ دوسرے ممالک میں پیداواری اثاثے بنانے سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا، ماہرین کو تجربے کے نئے مواقع حاصل ہوں گے اور بازار میں پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوگا جس سے ہماری سفارت کاری کو بھی تقویت حاصل ہوگی کہ اس دور میں تجارت و سرمایہ کاری مؤثر سفارت کاری کے لیے بہت ضروری ہے۔
ملک میں وسائل، تجربہ کار افرادی قوت، ماہرانہ صلاحیت سب کچھ موجود ہے۔ مقتدرہ بھی توانائی میں خودکفالت کے لیے پُرعزم نظر آرہی ہے، لیکن اس ضمن میں حقیقت پسندانہ پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہدف کے حصول کے لیے حکومت و ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوجائے تو توانائی میں خودکٖفالت کا حصول بہت زیادہ مشکل نہیں۔
حوالہ: اس مضمون کی تیاری میں مرحوم اقبال قادری((I.B.Kadri صاحب کی کتاب Petroleum Geology of Pakistanسے استفادے کے علاوہ اعدادو شمار کی فراہمی کے لیے پاکستان پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (PPIS)کی رپورٹ سے مدد لی گئی ہے۔

———————————-

اب آپ مسعود ابدالی کی فیس بک پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comپر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

Share this: