ششماہی تحقیقی مجلہ ’’جہات الاسلام‘‘۔

مجلہ : ششماہی تحقیقی مجلہ
’’جہات الاسلام‘‘
جلد 10، شمارہ 2
مدیرہ اعلیٰ : ڈاکٹر طاہرہ بشارت
مدیر : ڈاکٹر محمدعبداللہ
abdullah.szic@pu.edu.pk
معاون مدیران : ڈاکٹر شاہدہ پروین/ڈاکٹر حفصہ نسرین
صفحات : 446 قیمت 300 روپے سالانہ
بیرونِ ملک 30 ڈالرامریکی
ناشر : پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ بشارت، ڈین کلیہ علومِ اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور۔ پتا برائے خط کتابت: ڈاکٹر محمد عبداللہ۔مدیر جہات الاسلام۔ کلیہ علوم اسلامیہ (قائداعظم کیمپس) پنجاب یونیورسٹی لاہور 54590
فون : 0333-4388424
ای میل : jihat_al_islam@yahoo.com
ویب گاہ : www.pu.edu.pk/home/journal/35

جہات الاسلام ششماہی مجلّہ ہے جوکلیہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے صادر ہوتا ہے۔ پاکستان میں جو مجلات صوری اور معنوی لحاظ سے منفرد اور عمدہ و اعلیٰ شائع ہوتے ہیں اُن میں سے ایک ہے۔ یہ گیارہواں شمارہ ہے۔ حسب سابق اردو، عربی، انگریزی تحقیقی مقالات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ بشارت تحریر فرماتی ہیں:
’’جہاتُ الاسلام کا شمارہ (جنوری۔جون 2017ء) پیش خدمت ہے۔ مجلہ میں حسبِ سابق تینوں زبانوں (اردو، عربی اور انگریزی) میں مقالات کا ایک مجموعہ ترتیب دیا گیا ہے۔ مقالات کے انتخاب میں ایچ ای سی کے قواعد و ضوابط کو پوری طرح ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔
اسلام ایک عالم گیر اور دائمی دین کے طور پر دنیا میں آیا ہے۔ دینِ اسلام کا ایک حسنِ اعتدال و توازن ہے جو عقیدہ و عبادت سے لے کر اخلاق و معاملات پر محیط ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اسے دیگر ادیان و مذاہب سے ممتاز کرتا ہے۔ مگر کچھ عرصے سے وطنِ عزیز میں انتہاپسندی اور تنگ نظری کا رجحان فروغ پارہا ہے جس کا مظاہرہ عقیدہ و عبادات، سیاست و معاشرت اور معاملات میں بھی ہورہا ہے۔ محض سنی سنائی باتوں پر یقین کرلینا اورکسی بھی شخص پر مذہبی انتہاپسندی اور گستاخیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا الزام عائد کرکے اس کی جان کے درپے ہوجانا معمول کی بات ہے۔ سالِ رواں میں ایسے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
ایک مسلمان خواہ وہ کتنا ہی بے عمل کیوں نہ ہو، اس کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور ادب و احترام لازم و ملزوم کا درجہ رکھتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ حالانکہ قرآن کریم میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ اہلِ ایمان! جب تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی خوب تحقیق کرلیا کرو کہ کہیں انجانے میں کسی کو گزند نہ پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر نادم ہو۔ اسی طرح آپؐ کا یہ ارشادِ گرامی کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات پر یقین کرلے۔
بلاشبہ برقی ذرائع خصوصاً سوشل میڈیا بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں، مگر ان کی ہر خبر مستند نہیں ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ زیادہ تر خبریں فرضی اورلایعنی ہوتی ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ ایسے میں ریاست کے تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے رویوں کو معاشرے میں پنپنے سے روکیں۔ عدلیہ اپنا کردار ادا کرے، انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے۔ قانون سازی کے ذریعے ایسے مجرم ذہنیت کے لوگوں کو قانون کے شکنجے میں لائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کا بھی نہایت کلیدی کردار ہے۔ جہاں تعلیمی نصاب بچوں کی ذہن سازی کرتا ہے وہیں استاد اپنی راست فکر سے ملّی اور قومی سوچ پیدا کرتا ہے۔ بالخصوص اعلیٰ تعلیمی ادارے اس اعتدال و توازن میں اپنا مثبت کردار بہتر طور پر سرانجام دے سکتے ہیں۔ جامعات اپنے نصاب میں ایسی تبدیلیاں لائیں جس سے نوجوان نسل اسلام اور پاکستان کا بہتر مستقبل بن سکے اور دنیا کے لیے امن، رواداری اور اعتدال و توازن کی پیغام بر ثابت ہوسکے۔
جہات الاسلام کی ہمیشہ سے پالیسی رہی ہے کہ وہ اپنے علمی لوازمے میں ایسی تحریرات کا انتخاب کرتا ہے جن میں اسلام کی حقیقی تعلیمات اجاگر ہوں۔ علمی ورثے کی تعبیرات و تشریحات مسلمہ انداز میں سامنے آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیرنظر مجلّہ میں تفسیر و حدیث، فقہ و سیرت کے علاوہ ایسے مقالات بھی شاملِ اشاعت ہیں جن کا مقصد وطنِ عزیز سے فکری انتہا پسندی کا خاتمہ ہے۔
جہات الاسلام نے ٹھیک دس سال قبل (جولائی۔ دسمبر) 2007ء میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ جو اہداف و مقاصد مجلہ کی اشاعت کے پیش نظر تھے، مجلہ بہتر سے بہتری کی طرف رواں دواں ہے۔ الحمدللہ باقاعدگی اور معیار کی بدولت بہت جلد علمی حلقوں میں اسے شناخت مل گئی۔ مجلہ کے سیرت نمبر کو صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور اسے ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی طرف سے درجہ وائی (Y) میں منظور کرلیا گیا۔ اس میں جہاں وطن عزیز کے قلمی معاونین کا حصہ ہے وہیں بیرونِ ملک اہلِ علم کا بھی نمایاں کردار ہے کہ نہ صرف اپنی قلمی کاوشوں سے مجلہ کے معیار کو قائم رکھے ہوئے ہیں بلکہ خطوط، ای میلز، فیس بک وغیرہ کے ذریعے اپنی آراء کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اس پر ہم اپنے رب کے حضور سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں اور اپنے قلمی معاونین اور قارئین کرام کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
اس کی باقاعدہ اور معیاری اشاعت میں ہماری ادارتی ٹیم بالخصوص مدیر ڈاکٹر محمد عبداللہ (شیخ زاید اسلامک سینٹر) کا نہایت اہم کردار ہے۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ترقی اور کامیابی کا یہ سفر جاری و ساری رہے گا۔ قارئین کرام سے درخواست ہے کہ مجلہ کے تدوینی و علمی معیار پر اپنی رائے کا اظہارکریں، اور اگر اس کی بہتری کے لیے کچھ تجاویز دے سکیں تو ہم ان کے نہایت شکر گزار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقائق کی معرفت عطا فرمائے‘‘۔
اس مؤقر شمارے میں جو مقالات شامل کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
اردو مقالات:
’’اردو تفاسیر میں تصورِ وحی‘‘ محمد شہبازمنج، ’’قرآن کریم کی زبان… ابن ورّاق کی آرا کے تناظر میں‘‘ حفصہ نسرین، ’’تصوف کی قرآنی بنیادیں… مولانا اشرف علی تھانوی کے افکار کا مطالعہ‘‘ اظہراقبال/ محمد عبداللہ، ’’کتب شروحِ حدیث کی اہمیت، بطور مصدر کتبِ سیرت‘‘ محمد عبدالقوی/ محمد ہمایوں عباس، ’’کتب الاشباہ و النظائر کا تجزیاتی مطالعہ اور ان کی علمی و عصری اہمیت‘‘ ابوالحسن شبیر احمد/ عبدالغفار، ’’نسب رسالت مآب بزبانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم… ایک تحقیقی مطالعہ‘‘ عرفان خالد ڈھلوں/ محمد طاہر مصطفی، ’’قبل ازبعثت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجارت… تحقیقی مطالعہ‘‘ احسان الرحمن غوری، ’’قبائلِ یہود کی مدینہ سے جلاوطنی… مستشرقین کے نقطہ نظر کا تجزیاتی مطالعہ‘‘ مدثر حسین سیان، ’’جانوروں کے حقوق اور تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ محمد سرور/ محمد سلطان شاہ، ’’امراض متعدیہ سے فسخ نکاح کی شرائط‘‘ سید باچا آغا/ عبدالعلی اچکزئی، ’’رائج عدالتی نظام میں فراہمیِ انصاف میں تاخیر‘‘ حبیب الرحمن/ شمس الحق، ’’شاہ ولی اللہ کا روحانی مقام و مرتبہ‘‘ سعید احمد سعیدی/ محمد اعجاز، ’’فکری انتہا پسندی اور اعتدال و توازن‘‘ اکرام الحق۔
عربی مقالات:
’’الاتجاہ العقلانی لتفسیر القرآن فی شبہ القارۃ‘‘ ابوبکر، ’’المفاھیم القرآنیۃ فی شعر الاستاذ الدکتور عماد الدین خلیل‘‘ حافظ عبدالقدیر، ’’تعقبات الحافظا بن حجر فی فتح الباری علی الامام الکرمانی فی الکواکب الدراری فی نسبۃ الاقوال و الافعال الی اصحابھا‘‘ مطیع الرحمن۔
تبصرہ کتب: ’’تحقیقات اسلامیات از سعید الرحمن‘‘ محمدعبداللہ۔
انگریزی مقالات:
METAPHORICAL REPRESENTATION OF HUMAN PARTS IN THE QURAN.
Musferah mehfooz/Filza Waseem
WILLIAM MUIR’S VIEW ABOUT THE AUTHENTICITY OF THE HOLY QURAN.
Muhammad Tahir Zia/ Muhammad Hamid Raza
HALAL ASSURANCE SYSTEM: POSITIONING OF FOOD SAFETY AND ASSURING HALAL STANDARDS.
Munib Siddiqui/ Sheikh Usman Yousaf.

Share this: