ماضی، حال، مستقبل

ایک انسان اگر راستہ بھول جائے، بھٹک جائے، پگڈنڈیوں میں کھو جائے، راہوں کے پیچ و خم میں الجھ جائے اور اگر اُسے اچانک منزل کا سراغ مل جائے، وہ منزل تک پہنچ جائے، آسودۂ منزل ہوجائے تو اس کامیاب انسان کا تمام سفر، سفر کی تمام کلفتیں کامیابی کا حصہ ہیں۔ کامیاب آدمی کا سارا سفر ہی کامیاب ہے۔ جس کو اللہ معاف کردے، اس کے گناہوں کا کیا ذکر؟ جسے اسلام کی دولت مل جائے، اس کے پرانے کفر کا کیا تذکرہ؟
مستقبل میں جلنے والے چراغ ماضی کے اندھیروں کو بھی دور کردیتے ہیں۔ خیال، امید اور یقین سے واصل ہوجائے تو ہر ماضی خوشگوار ہے، ہر مستقبل روشن ہے۔ روشنی خیال کی ہے، واقعات کی نہیں۔
حال کی اصلاح کے لیے، خیال کی اصلاح ضروری ہے۔ ہم ماضی اور آئندہ کو صرف حال ہی میں سوچ اور دیکھ سکتے ہیں۔ حال کا آئینہ کبھی عکسِ ماضی دکھاتا ہے، کبھی پرتوِ مستقبل۔ آئینہ کجلا جائے تو ماضی بھی تاریک اور مستقبل بھی بھیانک۔ حال کے آئینے کی آب، خیال ہے۔ خیال کی اصلاح ہوجائے تو ساری زندگی کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ حال، ماضی اور مستقبل صرف پہچان کے حوالے ہیں۔ زندگی ایک اکائی ہے، وحدت ہے، جامعیت ہے۔ اس کا فیصلہ آخری لمحے میں ہوتا ہے کہ زندگی کیا تھی… نوازش یا آزمائش، انعام یا سزا، کامیاب یا ناکام، بامراد یا نامراد، معصیت یا مغفرت۔
ہمارا فردا، ہمارا ماضی صرف ہمارے حال کی کرشمہ سازی ہے۔ جس کا آج خوب صورت ہے، اس کا ماضی بھی خوب… مستقبل بھی خوب۔ جس کا آج پراگندہ ہو، اُس کا گزشتہ بھی پراگندہ، آئندہ بھی پراگندہ۔ حال کی اصلاح ہونا ضروری ہے۔
حال کی اصلاح کیا ہے؟ ماضی پر صدقِ دل سے استغفار اور مستقبل کا خوشگوار انتظار… امید و تیقن کے ساتھ، اُس کی رحمت کی وسعتوں کے سامنے، اُس کی لامحدود عطا کے سامنے اپنی خطا، اپنی کم مائیگی اور اپنی بے مائیگی کو سرنگوں کردینا، اُس کے انصاف سے ڈرنا، اُس کے فضل کا آسرا مانگنا یعنی اپنے اعمال پر بھروسہ کرنے کے بجائے اُس کے فیصلوں پر بھروسہ کرنا۔ تاریک راتوں کو سورج کی تابناکی عطا کرنے والا، انسان کی زندگی کی تیرگی اور مایوسی کو امید کی روشنی عطا کرتا ہے۔ زمین و آسمان کے لشکروں کا مالک ہمارے لیے بہت کچھ رکھتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم اُسے تسلیم کریں۔
حال بظاہر ایک لمحہ ہے، ایک نقطہ ہے، لامحدود ماضی اور لامحدود مستقبل کا سنگم… لیکن یہ نقطہ دراصل ایک نکتہ ہے۔ حال پھیل جائے تو صدیوں پر محیط ہوجائے۔ یہ لمحہِ حال اپنا راز عیاں کرے، تو یہی ازل ہے، یہی ابد ہے۔ یہی لمحہ ہمارے فکر و عمل کی آخری حد ہے۔ مستقبل کو ماضی میں بدلنے والا لمحہ اگر چاہے تو ماضی کو مستقبل بنادے۔ یہ کارساز لمحہ ہے۔ یہ سراپا راز لمحہ ہے۔ اسی لمحے میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے، جب انسان ایسی محفل میں پہنچ جاتا ہے جو آج کی محفل نہیں۔ لمحہ پھیل جاتا ہے اور بعید، قریب ہوجاتا ہے۔ لمحے کا پھیلائو عجب ہے۔ انسان کو زمان و مکاں سے نکال کر لامکاں تک لے جاتا ہے… یہی حال کا مختصر لمحہ… اور پھر انسان دیکھتا ہے۔ اگر انسان خسروؒ ہو، تو اُسے نظر آتا ہے کہ خدا خود ہی میرِ مجلس ہے اور شمعِ محفل حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ نظارہ کسی ماضی یا مستقبل کی بات نہیں، یہ حال ہے۔ حال کا لمحہ، تابناک لمحہ، مختصر لمحہ، خوش نصیب لمحہ!
حال کے لمحے کو پہچاننے والے دنیا میں آنے والے زمانوں کو جاننے والے ہوتے ہیں۔ حال آگاہ، مستقبل آگاہ ہوجاتا ہے۔ حال آشنا، ماضی آشنا ہے۔ حال کا ادراک، ادراکِ حقیقت ہے۔ اور اگر حقیقت کا ادراک میسر آجائے تو خیال کا ادراک مل جاتا ہے، یعنی مستقبل کا ادراک آسان ہوجاتا ہے۔ حال سے باخبر ہونے والا یادوں کو پہچانتا ہے، یعنی ماضی سے باخبر ہوجاتا ہے۔ حال آشنا کے سامنے ماضی اور مستقبل کے جلوے موجود رہتے ہیں۔
یہ تو صرف حال آشنا کی بات ہے، اور جو انسان حال پر قدرت حاصل کرلے، اُس نے ماضی اور مستقبل کو مسخر کرلیا۔ اُس کا مستقبل، اُس کی اطاعت میں آئے گا۔ حال پر قدرت حاصل کرنا اتنا مشکل ہے، جتنا زمین و آسمان کے حصار سے نکلنا۔ انسان ہرگز نہیں نکل سکتا، مگر جسے اللہ تعالیٰ توفیق دے۔ دراصل انسان کی سب قدرتیں توفیقِ الٰہی کی کرشمہ کاریاں ہیں۔ وہ جسے چاہے، جو چاہے، جب چاہے، بنادے۔ وہ جب چاہے یتیموں کو پیغمبر بنادے۔ چاہے تو شاہوں کو دربدر کردے۔ وہ چاہے تو مکڑی کے کمزور جالے سے قوی دلیل پیدا کردے۔ چاہے تو مقرب کو معتوب کردے۔ چاہے تو عاصی کو بخش دے۔ وہ جسے چاہے، اسے کیا سے کیا بنادے۔ غافل کو راز آشنا کردے، جاگنے والے کو محروم کردے اور سونے والے کو سرفراز کردے۔ یہ سب اُس کے اپنے کام ہیں۔
حال اُس کا، مستقبل اُس کا، ماضی اُس کا، انسان اُس کا، انسان کا دل اُس کا اپنا بنایا ہوا۔ جس کو چاہے، محرمِ راز کردے۔ وہ سب کچھ کرسکتا ہے اور کرتا ہے…!
ہم ماضی، حال اور مستقبل کے زمانوں میں مقید ہیں۔ اُس کے ہاں ایک ہی زمانہ ہے۔ وہ ہمیشہ، ایک حال ہے۔ اُس کے جلوے بدلتے ہیں۔ اُس کی ذات نہیں بدلتی۔ اُس نے جس پر فضل کیا، وہ بھی قائم کردیا گیا۔ اُس کا حال بھی ماضی اور مستقبل سے واصل ہوکر ایک زمانہ ہوگیا۔ ہر زمانہ، ہر دور، ایک دور، ایک زندگی، ایک اکائی، ایک وحدت، ایک جامعیت۔ اس بات کا کوئی فارمولا نہیں۔ لمحے میں صدیاں دیکھنے والے ذرے میں صحرا دیکھتے ہیں، قطرے میں قلزم دیکھتے ہیں۔
اس میں صرف کسی کے ہوجانے کی بات ہے۔ بس اتنی سی دیر لگتی ہے جتنی غالبؔ کو اس شعر کے کہنے میں:

دل ہر قطرہ ہے سازِ انا البحر
ہم ان کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا

ایک بار دل سے تسلیم کرلیا جائے تو حجاب اٹھ جاتا ہے۔ پردہ اٹھ جائے تو ماضی، حال اور مستقبل ایک شے کے نام ہوکے رہ جاتے ہیں، اور وہ شے امرِالٰہی ہے۔ امرِ الٰہی کو توفیق ِالٰہی سے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
(’’قطرہ قطرہ قلزم‘‘… واصف علی واصفؔ)

فقرو ملوکیت

فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہے
ضرب کاری ہے اگر سینے میں ہے قلبِ سلیم!
اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی ہے
تازہ ہر عہد میں ہے قصہ فرعون و کلیم!
اب ترا دور بھی آنے کو ہے اے فقر غیور
کھا گئی روحِ فرنگی کو ہوائے زر و سیم!
عشق و مستی نے کیا ضبطِ نفس مجھ پر حرام
کہ گرہ غنچے کی کھلتی نہیں بے موجِ نسیم!

جنگاہ:میدانِ جنگ۔سازو یراق: سازو سامان۔
-1درویشی میدانِ جنگ میں آتی ہے تو اس کے ساتھ کوئی سازو سامان نہیں ہوتا۔ اخلاقی اور روحانی بیماریوں سے پاک دل سینے میں موجود ہو تو جبھی ہاتھ کی ضرب کاری ثابت ہوتی ہے۔
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ پاک باز گروہوں نے ہمیشہ بے سرو سامانی کی حالت میں بڑی بڑی جابر قوتوں کو شکست دی ہے اور بے سرو سامان گروہوں کی ضرب جہاں بھی پڑی، کاری ثابت ہوئی۔
-2 درویشی کی بے خوفی اور بے قراری ہر لحظہ بڑھتی رہتی ہے، اس وجہ سے ہر زمانے میں فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ دہرایا جاتا ہے۔ یعنی درویشی ہر باطل قوت کو مٹانے کے درپے رہتی ہے، جس طرح حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو مٹایا تھا۔ اس لیے حق و باطل کی جنگ ہر دور میں ہوتی رہتی ہے۔
-3اے باغیرت درویشی! اب پھر تیرے ظہور کا زمانہ آنے والا ہے، اِس وقت حکمرانی کی باگ تیرے ہاتھ میں ہوگی۔ اب تک یورپ دنیا پر مسلط تھا۔ آئندہ حکومت تیرے قبضہ و تصرف میں ہوگی۔ یورپ کی روح کو چاندی اور سونے کی ہوس کھا گئی۔ وہ مال و دولت کے لالچ میں ہر نیکی اور ہر خیر سے بے پروا ہوگیا۔
اگر تنہا فقر کا لفظ استعمال کرتے تو زر و سیم کے مقابلے میں فقر سے مفلسی مراد لیے جانے کا اندیشہ باقی رہتا۔ اقبال نے فقرِ غیور استعمال کیا یعنی وہ فقر جو اپنی غیرت و حمیت کی بنا پر دنیوی مال و دولت سے بے نیاز اور مستغنی ہوتا ہے۔ دولت اس کے قبضے میں آجائے تو اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ یورپ کی حرصِ زر کا جواب صرف فقرِ غیور ہوسکتا ہے۔
-4عشق و مستی کے غلبے نے میرے لیے دل کی بات ضبط کیے رکھنے کی گنجائش نہ چھوڑی۔ جس طرح بادِ سحر کی لہریں کلی کو شگفتہ کردیتی ہیں اسی طرح عشق و مستی نے میرے ضبطِ نفس کو بھی توڑ کر حق بات میری زبان پر جاری کردی۔

Share this: