مقالاتِ حافظ محمود شیرانی (جلد پنجم)۔

کتاب : مقالاتِ حافظ محمود شیرانی (جلد پنجم)۔
(تنقید ِشعر العجم مع ضمایم)
مرتبہ : ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی
صفحات : 610، قیمت: 700 روپے
ناشر : ڈاکٹر تحسین فراقی۔ ناظم مجلسِ ترقیِ ادب
2 کلب روڈ، لاہور
فون : 042-9900856,9900857
ای امیل : majlista2014@gmail.com
majlis_ta@yahoo.com
ویب گاہ : www.mtalahore.com

حافظ محمود خان شیرانی (1880ء۔ 1946ء) نابغہ روزگار شخصیت تھے، بقول سید منظورالحسن برکاتی ’’شیرانی صاحب نے اپنی دقتِ نظر اور تحقیق و تفحص سے جو تخلیقات و تصنیفات بھی پیش کی ہیں ان کا رتبہ دنیائے ادب میں نہایت بلند ہے، ان کا تبحّرِ علمی، ذوقِ تنقید، نکتہ رسی، ژرف نگاہی اربابِ علم کے نزدیک مسلّم ہے‘‘۔ وہ اپنے زمانے میں ہی نہیں، آنے والے زمانوں کے لیے بھی مینارۂ نور ہیں۔ ’’شعرالعجم‘‘ علامہ شبلی نعمانی کی عظیم کتاب ہے۔ اس میں راہ پاگئے تسامحات کی نشاندہی حافظ محمود خان شیرانی نے کی، جو کتابی شکل میں ’’تنقیدِ شعرالعجم‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ شیرانی صاحب کے علمی ورثے کے امین اور عالمِ بے بدل ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی نے حافظ محمود خان شیرانی کے تمام مقالات ’’مقالاتِ حافظ محمود شیرانی‘‘ کے عنوان سے مرتب کردیئے ہیں۔ اس سلسلہ مقالات کی پانچویں جلد تنقید شعرالعجم کے نام سے ہے۔ ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی حفظہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
’’تنقیدِ شعرالعجم‘‘ پہلی بار کتابی صورت میں 1942ء میں انجمن ترقی اردو (ہند) دہلی سے شائع ہوئی تھی۔ اس اشاعت کا پیش کلام خود حافظ صاحب مرحوم نے لکھا تھا جو موجودہ اشاعت میں بھی شامل کردیا گیا ہے۔ اب 27 برس کا عرصہ گزرنے کے بعد مجلس ترقی ادب لاہور کی جانب سے مقالاتِ حافظ محمود شیرانی کے سلسلے میں یہ کتاب مقالات کی پانچویں جلد کے طور پر شائع کی جارہی ہے۔
موجودہ اشاعت میں چند اضافے بھی کیے گئے ہیں، مثلاً حواشی میں جدید ایرانی محققین کی تحقیقات کے نتائج سے بعض اقتباسات اور حوالے درج کردیئے گئے ہیں۔ ایسے اکثر حوالے حافظ صاحب کی تحقیقات کے نتائج پر صاد کرتے ہیں، بعض جگہ تازہ انکشافات کے حامل ہیں اور کہیں کہیں ایرانی نقادوں کے محو نالۂ جرسِ کارواں ہونے کا پتا دیتے ہیں۔
بعد میں طبع ہونے والے دواوین سے مقابلے کے نتیجے میں شعرا کے کلام کے متن کا اختلاف بھی پاورقی میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال مرحوم کے عمر خیام پر مضمون کو کتاب کے آخر میں ضمیمے کی شکل دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فارسی ادب کی تاریخ کے موضوع پر حافظ صاحب کے بعض مضامین بھی بطور ضمایم اضافہ کردیے گئے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ان اضافوں سے فارسی زبان کے طالب علموں اور فارسی ادب کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ’’تنقید شعرالعجم‘‘ کی افادیت میں اضافہ ہوجائے گا‘‘۔
حافظ محمود خان شیرانی کا پیش کلام جو انھوں نے پہلی اشاعت پر لکھا تھا، وہ ہم یہاں درج کرتے ہیں:
’’تنقیدِ شعرالعجم جسے اب کتابی صورت میں طبع کرکے ناظرین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے، اکتوبر 1922ء سے جنوری 1927ء تک انجمن ترقی اردو کے سہ ماہی رسالے ’’اردو‘‘ (اورنگ آباد) میں قسط وار نکل چکی تھی۔ اُس وقت سے لے کر اب تک اس کی طباعت کے واسطے احباب کے تقاضے ہوتے رہے، لیکن راقم کو اپنے فرائضِ منصبی سے اس قدر فرصت میسر نہ ہوئی کہ اس کی طرف توجہ کی جاتی۔ اب یہ اقساط نظرثانی کے بعد کتابی صورت میں یکجا کردی گئی ہیں۔ کمال اسماعیل پر تنقید کا مسودہ پرانے کاغذات میں سے نکل آیا، اس کو بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔
گزشتہ چند سال سے ایران میں ادبِ قدیم کا دورِ احیا ہوا۔ پرانے اساتذہ سے متعلق ایرانیوں کی تحقیقات بھی ’’تنقید‘‘ کے اکثر نتائج سے ہم نوا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ راقم نے تنقید میں جو طریقہ اختیار کیا تھا، بالکل صحیح تھا۔
میں نہایت وثوق سے عرض کرتا ہوں کہ تنقیدِ ہذا مولانا شبلی مرحوم کی فضیلتِ علمی کی منقصت نہیں ہے بلکہ محض احتجاج ہے اس مروجہ روش کے خلاف، جس میں ہمارے مصنفین تحقیق کی جگہ تقلید سے، اور عقل کی جگہ نقل سے کام لیتے ہیں۔ ہم تاریخی واقعات اور سوانح و حالات لکھتے وقت اس قدر تکلیف گوارا نہیں کرتے کہ ان کو نقد و نظر کی کسوٹی پر پرکھ لیں اور ان کی صحت و درستی کے متعلق اپنا اطمینان کرلیں۔ میں ان بزرگوں کے ساتھ بھی اتفاق نہیں کرتا جو ’’شعر العجم‘‘ کو حسن و عشق کا صحیفہ کہہ کر اس کے تاریخی پہلو کی اہمیت کو گھٹانا اور تنقید کی ضرورت کو اس سے مٹانا چاہتے ہیں۔
’’تنقید‘‘ میرے لیے ایک علمی مشغلے کا سامان تھی اور میں اس میں پوری دلچسپی لیتا رہا، لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ پنجاب یونیورسٹی نے اسے ایم۔اے کے نصاب سے خارج کردیا ہے تو مجھے بڑا رنج ہوا اور میں نے تنقید کا سلسلہ ختم کردیا۔
تنقید کے دوران میں مَیں نے نہ صرف تخریبی پہلو پر نظر رکھی ہے بلکہ حسبِ اجازتِ وقت تعمیری کام بھی کیا ہے۔ یوں تو ہر شاعر کے حال میں کم و بیش اس کا پرتو موجود ہے لیکن انوری، نظامی اور عطار کے تذکرے میں بہت نمایاں ہے۔
اس تنقید کا مقصد ناظرین کے واسطے ہر قسم کی اطلاع فراہم کرنا نہیں بلکہ ’’شعرالعجم‘‘ کے نظری مواقع پر روشنی ڈالنا ہے۔ یہی نقطہ نظر خیام کے حالات میں بھی کارفرما ہے جو میرے فاضل دوست ڈاکٹر شیخ محمد اقبال ایم۔ اے، پی۔ ایچ۔ڈی کے قلم کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب بحالتِ موجودہ اپنے مضمون کی طباعت کے حق میں نہ تھے، لیکن یہ اطلاع مجھ کو ایسے وقت ملی جب کہ تمام کتاب لکھی جاکر مطبع میں پہنچ چکی تھی۔ مجھے ان کی خواہش کی تعمیل نہ کرنے کا افسوس ہے‘‘۔
کتاب کے شروع میں حافظ صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’علامہ شبلی مرحوم زمانۂ حال کے اُن چند مستند افاضل میں سے ہیں جن کا وجود مسلمانوں کے لیے ہمیشہ مایہ ناز رہے گا۔ ان کی متعدد تصنیفات نے آسمانِ علم پر ان کو آفتاب بناکر چمکایا ہے۔
مرحوم کا شمار اُن خوش نصیب مصنفین میں کیا جاسکتا ہے جن کے فرزندانِ روحانی نے ان کے دورانِ حیات میں قرار واقعی قدر و منزلت حاصل کرلی ہے، جس کے حقیقت میں وہ مستحق ہیں۔
مرحوم نے تاریخ نگاری کی بنیاد ایسے زمانے میں ڈالی جب فنِ تاریخ کا شوق ہمارے دل سے محو ہوچکا تھا۔ اردو زبان تاریخی کتابوں سے بالکل تہی مایہ تھی اور ملک کا مذاق نہایت پستی کی حالت میں تھا۔ ایسے جمود کے وقت میں ان کے قلم نے اس فن کے احیا میں وہ زبردست اور قابلِ قدر خدمت کی جو صدیوں تک یادگار رہے گی۔
تاریخ میں ان کی وسعتِ معلومات کا اندازہ مرحوم کی اُن متعدد اور مختلف الموضوع تصانیف سے لگایا جاسکتا ہے جو اردو ادبیات کی چیدہ اور منتخب کتابوں میں مانی جاتی ہیں۔
فارسی نظم کی تاریخ میں اردو زبان کی بے بضاعتی محسوس کرکے علامہ نے ’’شعرالعجم‘‘ تصنیف کی۔ اس موضوع پر اب تک فارسی اور اردو میں جس قدر کتابیں لکھی گئی ہیں، ’’شعر العجم‘‘ ان میں بغیر کسی استثنیٰ کے بہترین تالیف مانی جاسکتی ہے۔ ملک نے بھی اس کی قدر کرنے میں حوصلے سے کام لیا، چنانچہ اس وقت تک متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
ذیل کی سطور میں میرا روئے سخن اسی کتاب کی طرف ہے، اور صرف ان بیانات سے بحث کی جائے گی جن کے متعلق مجھے مولانا شبلی سے بعض تاریخی یا تنقیدی وجوہ پر اختلاف ہے۔ میرا تبصرہ ممکن ہے کہ آئندہ بھی جاری رہے، سردست اس کی پہلی جلد کا مطالعہ شروع کرتا ہوں۔ ’’شعرالعجم‘‘ کے نام سے جہاں جہاں حوالے دیے گئے ہیں وہ اسی جلد سے تصور کیے جائیں۔ اس کتاب کا جو نسخہ میرے زیر نظر ہے وہ مطبع فیض عام، علی گڑھ (1909ء) کا مطبوعہ ہے۔‘‘
اس کتاب کا یہ مجلس ترقی ادب سے دوسرا ایڈیشن ہے۔ سفید کاغذ پر کمپیوٹر ٹائپ پر طبع کی گئی ہے، مجلّد ہے۔
……٭٭٭……

کتاب : افعا لِ مرکبہ

مصنف : علامہ تمنا عمادی
تحقیق و تدوین : کلیم الٰہی امجد
صفحات : 118
ناشر : دارالنوادر۔الحمد مارکیٹ اردو بازار لاہور
فون : 0300-8898639
042-37300501
ڈسٹری بیوٹرز : کتاب سرائے، فرسٹ فلور، الحمد مارکیٹ، غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور
فون:042-37320318
فضلی بک سپر مارکیٹ، اردو بازار کراچی
021-32212991
021-32629724
علامہ تمنا عمادی کا اصل نام سید محمد محی الدین تھا، تاہم وہ علامہ تمناؔ عمادی پھلواروی کے نام سے معروف ہوئے جو ان کا قلمی نام تھا۔ وہ 14جون 1888ء بمطابق 1305ھ کو پھلواری میں پیدا ہوئے۔ علامہ کا تعلق بہار کے علمی و دینی خاندان سے تھا۔ علامہ بہت ذہین، اعلیٰ درجے کے طباع اور نکتہ سنج تھے۔ فارسی اور فنِ عروض میں ماہرانہ دسترس تھی۔ درسِ نظامی اپنے خاندان کے بزرگوں سے پڑھا۔ مذہبی موضوعات پر ان کی 25 اور شاعری میں 5 تصانیف ہیں، غیر مطبوعہ تصانیف6 ہیں۔ زبان و ادب کے موضوع پر ان کی مندرجہ ذیل پانچ تصانیف ہیں۔
(1) جواہر الصرف (فنِ صرف کے بنیادی اور ضروری قواعد پر مشتمل کتاب)
(2) روح النحو (نحو کے بنیادی اور ضروری قواعد پر مشتمل کتاب)
(3)جواہر ادب (قرآن و حدیث کے جملوں پر مشتمل عربی ریڈر(
(4) الضباح سخن (شوق نیموی کی کتاب ’’اصلاح سخن‘‘ پر تنقید(
(5) افعالِ مرکبہ (اردو گرامر کی کسی کتاب میں بھی افعالِ مرکبہ پر اس قدر سیر حاصل بحث نہیں کی گئی جتنی اس کتاب میں ہے۔ اس میں افعالِ مرکبہ کے علاوہ افعالِ متصلہ پر بھی بحث کی گئی ہے)
کتاب ڈاکٹر سہیل عباس بلوچ شعبہ اردو ٹوکیو یونیورسٹی جاپان کے نام معنون کی گئی ہے۔ ڈاکٹر سہیل عباس تحریر فرماتے ہیں:
’’(علامہ) تمنا عمادی کی افعالِ مرکبہ ایک بنیادی دستاویز ہے۔ افعالِ متصلہ، افعالِ مرکبہ اور امدادی افعال پر بنیادی مباحث اس کتاب کی اہم خوبیاں ہیں۔ سونیاچرنیکوا کا کام بھی اس لحاظ سے قابلِ قدر ہے کہ ایک غیر ملکی کے لیے اردو افعال کا جوکہ اردو زبان میں ایک نئی شان پیدا کرتے ہیں، مثالوں کے ساتھ جائزہ لینا ایک مفید کام ہے۔ اردو ترجمے میں مفرد افعال بہت کم استعمال ہوتے ہیں، اردو جملے میں امدادی افعال خاص طور پر معنی کو تبدیل کردیتے ہیں۔ اگرچہ ابھی بھی اردو کے افعال منفصلہ پر کام ہونا باقی ہے۔ ویسے بھی افعال مصنف کی زندگی اور معاشرے سے وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اردو کے دو میر میر تقی میرؔ اور میر امنؔ اس کی واضح مثال ہیں۔ اردو میں یہ امر طمانیت کا باعث ہے کہ محققین کی توجہ اب اس جانب ہورہی ہے کہ قدیم متون کی درستی اور خاص طور پر قواعد نویسی سے متعلق کتب کی تدوین ڈاکٹر غلام عباس نے امانت علی شہدا کی صرفِ اردو، اور کلیم الٰہی امجد نے تمنا عمادی کی افعالِ مرکبہ دوبارہ منظرعام پر لاکر واقعی اردو ادب کی خدمت کی ہے۔ کلیم الٰہی امجد نے (علامہ) تمنا عمادی کے سوانح اور تصانیف کے تعارف میں بھی پوری دلجمعی سے کام کیا ہے، اس کی داد الگ سے بنتی ہے۔
کتاب مجلّد ہے، عمدہ نیوز پرنٹ پر طبع کی گئی ہے، پروف احتیاط سے نہیں پڑھے گئے۔
……٭٭٭……

مجلہ : ششماہی شاہد ریسرچ جرنل

سیرت ِطیبہ پر تحقیقی و علمی مجلہ
سرپرست ِاعلیٰ : پروفیسر ڈاکٹر عبدالجبار قریشی
سابق چیئرمین شعبہ اسلامیات وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی
مدیراعلیٰ : ڈاکٹر خضرنوشاہی
درگاہ حضرت نوشہ گنج بخش ساہن پال شریف
مدیر : پروفیسر دلاور خان
پرنسپل گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن۔ ایجوکیشن سٹی ملیر کراچی
صفحات : 151، قیمت:300 روپے فی شمارہ
ناشر : شاہد ریسرچ فائونڈیشن۔ C-327/3
بلاک نمبر1 گلستان جوہر کراچی
فون : 0322-2413267
ای میل : shahidrf322@gmail.com
یہ نہایت خوب صورت تحقیقی مجلہ ہے جو کراچی سے شائع ہوتا ہے۔ یہ اس کا پندرھواں شمارہ ہے۔ مسلم امت اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بے پناہ محبت کرتی ہے اس کا اظہار متنوع طریق سے کرتی ہے، ان میں مجلات کا بھی بڑا حصہ ہے۔ راقم نے پورا مجلہ دو مرتبہ پڑھا اور اس سے اکتسابِ فیض کیا۔ پروفیسر دلاور خان نے نہایت فکر انگیز اداریہ لکھا ہے وہ ہم یہاں درج کرتے ہیں۔ عنوان ہے ’’سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور سماجی علوم‘‘:
’’عصر حاضر کے جدید سماجی علوم کے فلسفہ اور نظریات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ان کا محور و مرکز عقل اور مادہ پرستی ہے، اور یہی فکر و فلسفہ ان کی اوّل تا آخر قدرِ مطلق ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ نصاب معرفتِ الٰہی اور اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عاری ہے، جس کی وجہ سے سند یافتہ افراد کی ایک بڑی کھیپ تیار ہورہی ہے جس کی بھیانک کیفیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ معدودے چند کے سوا جس شخص کے پاس جتنی اعلیٰ سند ہے، اتنی ہی زیادہ وہ غریبوں سے فیس وصول کرکے جونک کی طرح ان کا خون پی رہا ہے۔ اسی طرح اگر وہ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہے تو اتنا ہی زیادہ بدعنوانی کا مرتکب ہورہا ہے، ان کے نزدیک تعلیمی سند اور بدعنوانی لازم و ملزوم ہوکر رہ گئی ہیں، ان سند یافتہ افراد نے معاشرے میں مسموم فضا قائم کردی جس نے معاشرے کو کئی صدمات و مشکلات سے دوچار کردیا، انفرادیت نے اجتماعیت پر غلبہ حاصل کرلیا۔
سماجی علوم کی اہمیت سے کسی طرح بھی انکار ممکن نہیں، لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ فراموش حقیقت ہے کہ سماجی علوم نے انسانی معاشرے پر کئی منفی اثرات بھی مرتب کیے ہیں جس سے ایک غیر معتدل و اخلاقی اقدار سے آزاد مادیت پرست معاشرہ جنم لے رہا ہے، جو اپنے حقوق سے آگاہ ضرور ہے مگر مقصدِ حیات کے اعلیٰ و ارفع مقصد سے بالکل کورا ہے۔ سماجی علوم کے منفی اثرات سے امتِ مسلمہ کی علمی، روحانی، سماجی، معاشی، سیاسی، اخلاقی اور تحقیقی اقدار روبہ زوال ہیں، امت کو لاحق ان سنگین مسائل کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
آخر اس سماجی ناسور اور المیے کی علت و سبب کیا ہے؟
اگر ہم اس سوال پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ان سند یافتہ افراد میں خوفِ خدا اور حُبِّ رسولؐ کا فقدان پایا جاتا ہے، جبکہ حُبِّ رسولؐ ہی وہ قوتِ نافذہ ہے جو سند یافتہ فرد کو نفس کشی اور خدمتِ انسانیت پر مجبور کرتی ہے، اور وہ سند کی منزل سے نکل کر تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ کے منصب پر فائز ہوجائے گا۔ اب وہ ایسا بے نفس ہوگا کہ خدمتِ انسانیت اور احترامِ انسانیت اس کا اوڑھنا بچھونا ہوگا۔
سماج کی ان اعلیٰ و ارفع اقدار کے حصول کے لیے ایک مربوط و منظم لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے کہ سماجی علوم کے نصاب کو علمی، تحقیقی اور مؤثر انداز میں سیرت النبیؐ کے قالب میں ڈھال دیا جائے تو بے جان سماجی علوم میں ایک نئی روح بیدار ہوجائے گی، جس کے نتیجے میں ایک سماجی علوم کا ماہر مصطفوی اخلاق سے مزین ہے اور سیرتِ طیبہ کے چشمہ فیض سے ہدایت یافتہ اور تربیت یافتہ بھی ہے، اس میں اخلاقی اور مذہبی اقدار سے بے زاری کے بجائے ان سے رغبت کا جذبہ پیدا ہوگا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان سماجی علوم میں دین و دنیا کا فرق معدوم ہوتا چلا جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسیات، معاشیات، عمرانیات، نفسیات، بشریات، قانون، حقوقِ انسانی، تعلیمیات اور اسی طرح کے دیگر سماجی علوم کا بنیادی ماخذ سیرت النبیؐ مان کر نصاب سازی کی جائے۔ سیرت النبیؐ کا دائرۂ کار محض چند مذہبی عنوانات تک محدود نہ کیا جائے، بلکہ سماجی علوم کے جتنے بھی جدید مضامین ہوں، ان سب میں سیرت النبیؐ کی عکاسی ہو، اس طرح سماجی علوم کے مادہ پرست نظریات کو سیرت یافتہ بناکر ہی مسلم امہ کی علمی، روحانی، سماجی، معاشی، سیاسی اقدار کا ازسرنو احیاء ممکن ہے‘‘۔
مجلہ سفید کاغذ پر خوب صورت ٹائپ میں عمدہ طبع کیا گیا ہے۔ سیرت لٹریچر میں وقیع و مثبت اضافہ ہے۔