یہ نمط کیا ہے؟

پچھلے شمارے میں ایک لفظ ’’نمط‘‘ آیا تھا۔ عربی کا لفظ ہے اور مطلب ہے روش، وضع قطع، ڈھنگ، طور طریق۔ پہلے دونوں حروف پر زبر ہے۔ نواب اودھ اختر شاہ کا شعر ہے:
فرمایا، لکھ جواب خط کا
مضمون ہو اس میں اس نمط کا
یہ لفظ اب قلیل الاستعمال ہے، اور اس کی جگہ ’’طرح‘‘ مستعمل ہے۔ ایک شعر اور یاد آگیا، استاد ذوق کا ہے:
اٹھائے سوزِ غم ہر نمط ہیں، یہ خوں کے دعوے کوئی غلط ہیں
کہ مثل قط گیر خط پہ خط ہیں ہنوز باقی ہر استخواں پر
استخواں کا تلفظ استخاں ہے، اس میں وائو خاموش رہتا ہے جیسے خواب، خویش وغیرہ۔ میں اب تو لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ قط گیر کیا بلا ہے اور قط کیا ہے۔ ہم جب تختی لکھتے تھے تو سرکنڈے کا قلم استعمال ہوتا تھا۔ اس کی نوک جب خراب ہوجاتی تھی تو چاقو سے اس کا قط بنایا جاتا تھا، اور جس چیز پر رکھ کر اس کا سر کاٹا جاتا اُسے قط گیر کہتے تھے۔ قط بھی عربی کا لفظ ہے اور مطلب ہے: کاٹنا، قلم کی نوک کاٹنا، قط رکھنا، قط لگانا وغیرہ۔ قط گیر کو قط زن بھی کہتے ہیں۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ اس کا تعلق ’’زن‘‘ سے ہے، ایک شعر ہے:
سر کو قلم کریں گے پئے نامہ عدو
پھر میری ہڈیوں کے وہ قطزن بنائیں گے
غالب کا مصرع ہے”ٹیڑھا لگا ہے قط قلم سر نوشت کو“
قط ہی سے قطع ہے یعنی کاٹنا، تراش، بیونت۔ یہ قطع مونث ہے، وضع قطع، طور طریق، انداز۔ اور وہ جو شاعر حضرات کہتے ہیں وہ قطعہ ہے۔ قطعہ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ غزل یا قصیدے کا ٹکڑا ہوتا ہے اگر مطلع دور کردیا جائے۔ قطعہ کا ’ق‘بالکسر ہے تاہم فصحائے متاخرین نے بالفتح بھی جائز رکھا ہے، مطلب ہے: ٹکڑا، اراضی کا جزو، پرزہ، پرچہ وغیرہ۔ لیکن اب پرزہ، پرچہ وغیرہ کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔
جسارت کے سنڈے میگزین (16 تا 22 جون) کے پسِ ورق پر فرہاد احمد فگار کا مضمون ’’اردو زبان میں املا و تلفظ کی عمومی اغلاط‘‘ شائع ہوا ہے۔ گوکہ یہ مضمون یکم جون کو روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوچکا ہے لیکن اردو زبان کے املا اور تلفظ میں جتنا بگاڑ آچکا ہے ایسے مضامین کثرت سے شائع ہونے چاہییں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اردو کے یہ فرہاد آزاد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ خوشی اس کی ہے کہ اردو کسی فرد، قبیلے یا کسی شہر کی زبان نہیں بلکہ یہ پاکستان کی زبان ہے۔ اس کی درستی کی فکر ہر شخص کو ہونی چاہیے۔ میرپور آزاد کشمیر ہی میں ایک اور صاحبِ علم جناب غازی علم الدین ہیں، اور وہ بھی اردو درست کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں، مگر بگاڑ بڑھتا جارہا ہے۔ فرہاد احمد فگار نے ’فلاں‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ ’ف‘ پر پیش کے ساتھ یہ لفظ فُلاں ہے جس کو ’ف‘ پر زبر لگا کر غلط پڑھا جاتا ہے۔ ان کی بات درست ہے، لیکن یہ عربی کا لفظ ہے اور عربی میں نون غنہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ صحیح املا ’فُلان‘ ہونا چاہیے۔ ہمارے خیال میں اردوکیا پنجابی میں بھی فَلاں رائج ہوگیا ہے تو اسی کو فصیح قرار دے دینا چاہیے جیسے ’لیکن‘ ہے، عربی میں یہ ’لاکن‘ ہے، قرآن کریم میں بھی آیا ہے اور عربوں کی زبان پر بھی لاکن ہے۔ اس میں ’ل‘ پر کھڑا زبر ہے، مگر اردو میں ’لیکن‘ ہی درست ہے۔ فُلان (بضم اول) کا مطلب ہے: شخص غیر معلوم۔ اہلِ فارس نے اس معنیٰ میں بفتح اول یعنی فَلاں استعمال کیا ہے۔ فلاں شخص نہیں آیا، یا فلاں فلاں وغیرہ۔ اردو والوں نے اس سے فلانا اور فلانی بنالیا ہے۔ فلانا معاملہ یا فلانی بات۔ ایک مثل ہے ’’فلانے کی ماں نے خصم کیا، بہت برا کیا۔ کرکے چھوڑ دیا اور برا کیا‘‘۔ اردو میں فَلان گالی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ بہتر یہ ہے کہ یا تو نون غنہ کے ساتھ استعمال کیا جائے یا پھر عربی قاعدے کے مطابق ’ن‘ کے اعلان کے ساتھ۔
ایک نوجوان صحافی اعظم طارق کوہستانی بھی صحیح اردو لکھنے کی سعیِ بلیغ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کسی لغت کے حوالے سے پوچھا ہے کہ کیا کارروائی میں دو ’’را‘‘ آتی ہیں یا ایک سے کام چل جاتا ہے؟ اصل میں ’کارروا‘ یا ’کارروائی‘ دو الفاظ کا مجموعہ ہے یعنی ’کار‘ اور ’روا‘۔ اب اگر ’کاروا‘ یا ’کاروائی‘ لکھیں تو مطلب خبط ہوجائے گا۔ کار کے بعد ’’وا‘‘ مہمل ہے۔ ’کارروائی‘ فارسی کا لفظ اور مونث ہے۔ مطلب ہے: کام کا اجرا، تدبیر، انتظام، بندوبست، عدالت کا عمل درآمد، عدالت کی روئیداد۔ کارروائی کرنا یعنی کام چلانا، کام نکالنا۔ ایک شاعر ناظم کا شعر بطور سند پیش ہے:
وہ مے پرست ہوں کہ نہ پائی اگر شراب
کی خونِ دل سے کارروائی تمام رات
کارروائی کی جگہ کاروائی اخبارات میں نظر آجاتی ہے۔ اس کی ایک بہن ’کارزار‘ بھی ہے۔ ’کار‘ تو کام کو کہتے ہیں بشرطیکہ چار پہیوں والی نہ ہو۔ ’زار‘ کثرت کے معنی دیتا ہے اور لڑائی میں کام کی کثرت ہوتی ہے۔ کارزار مونث ہے، اسی لیے اس کو کارروائی کی بہن لکھا ہے، مطلب ہے لڑائی، جنگ، جدل، رزم وغیرہ۔ مرزا دبیر کا شعر ہے:
یہ کہہ کے راہوار کے اوپر ہوا سوار
پھر جا کے فوجِ ظلم سے کی رن میں کارزار
دبیر جیسے پُرگو شاعر سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ’’راہوار کے اوپر‘‘ استعمال کرتے۔ راہوار پر سوار ہوجاتے۔ ایسے الفاظ کو شاعری کی اصطلاح میں ’’کادک‘‘ کہا جاتا تھا، یعنی ایسے الفاظ جو بھرتی کے ہوں اور ان کو نکال دینے سے مفہوم متاثر نہ ہو۔ اب تو نثر میں بھی ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو غیر ضروری ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے بلاغت متاثر ہوتی ہے۔
ممبئی بھارت کے صحافی، شاعر اور ادیب جناب ندیم صدیقی نے اپنی کتاب ’’پرسہ‘‘ میں لکھا ہے ’’ہمارے استاد کہتے تھے کہ میاں! لفظ بھی سکّے کی مانند ہوتے ہیں۔ کیا آپ ایسا کرتے ہیں کہ جہاں پانچ روپے کے سکے کی ادائیگی کی ضرورت ہو وہاں آپ پانچ کے دو تین سکے دے دیتے ہوں؟ یاد رکھیے کسی بھی چیز کا اسراف اس چیز کے ساتھ ایک طرح کی زیادتی ہے۔ اگر آپ لفظوں کے اسراف کے عادی ہوگئے تو عجب نہیں کہ ایک دن آپ کے لفظوں سے معنی ہی کم ہوجائیں۔ اچھی تحریر کے لیے اساتذہ نے کہا ہے کہ لفظ کم ہوں اور معنی زیادہ۔ اسی کو بلاغت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بعض قلم کار لفظوں کے تھوک کے بیوپاری نظر آتے ہیں۔ یہ بھی اسراف ہی کی ایک شکل ہے‘‘۔ اس مشورے پر ہمارے صحافی بھائیوں کو سختی سے عمل کرنا چاہیے۔
صحافیوں کے استاد اور بہت اچھے ادیب اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ’’ایک استاد کو بحیثیت معلم کے اپنے علم میں ہمہ وقت اضافے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘۔ بہت صحیح بات کی ہے، اسی کا سہارا لے کر مشورہ ہے کہ اس جملے میں’’کے‘‘ اسراف میں شامل ہے۔ جب ’بحیثیت‘ آگیا تو ’کے‘ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کو نکال کر دیکھیں تو جملہ چست ہوجائے گا۔
ہمارے صحافی بھائیوں کا یہ عالم ہے کہ برعظیم پاک و ہند کے مشہور شہروں تک کے ناموں سے واقف نہیں۔ روزنامہ جنگ کے ایک شذرے میں گیس کی پائپ لائن کے حوالے سے ’’انکشاف‘‘ کیا گیا ہے کہ یہ بھارت کے سرحدوں شہر ’’فزالکا‘‘ سے پاکستان میں داخل ہوگی۔ یہ نیا نام دیکھ کر حیرت ہوئی۔ دراصل یہ سرحدی شہر ’فاضل کا‘ ہے جو فاضلکا سیکٹر کہلاتا ہے۔ عام صحافی کے مقابلے میں اداریہ نویس زیادہ قابل اور باخبر سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ نام انگریزی میں پڑھا تھا تو بھی اس کا یہ تلفظ نہیں ہوسکتا۔ کسی ساتھی سے ہی پوچھ لیا ہوتا۔ فیروز پور کے بارڈر پر پاکستان کی طرف جو آخری شہر ہے وہ گنڈا سنگھ والا، اور بھارت کی طرف حکیم والا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی فاضل صحافی گنڈا سنگھ کو گنڈاساسنگھ اور حکیم والا کو ڈاکٹر والا یا حکماں والا لکھ دے۔
جسارت کی 17 جون کی اشاعت میں صفحہ 2 پر چار کالمی سرخی کی ذیلی میں جملہ ہے ’’فی اسکول سے 6 ہزار طلب‘‘۔ فاضل سب ایڈیٹر کو یہ نہیں معلوم کہ ’’فی‘‘ کے بعد ’’سے‘‘ نہیں آتا۔ فی اسکول کا مطلب ہی یہ ہے ہر اسکول سے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کی غلطی کی نشاندہی کرو تو وہ برا مان جاتا ہے۔

Share this: