بڑھتا ہوا سیاسی، معاشی عدم استحکام

مہنگائی بڑھتی رہے گی “مشکل فیصلے” قیامت ڈھادیں گے، کیا منظر نامہ بدلنے والا ہے؟۔

قومی یاسی منظرنامہ اور قومی معیشت، دو اہم ترین موضوع ہیں۔ کسی ایک پر توجہ دیں تو دوسرا نظرانداز ہوجاتا ہے۔ معاشی استحکام ہی اصل میں ملک میں سیاسی استحکام کی ضمانت ہے۔ جس ملک کی معیشت مضبوط اور عام آدمی مطمئن ہو، وہاں کی حکومت کو اپوزیشن سے خطرہ نہیں۔ جہاں یہ ماحول نہیں ہوگا وہاں عدم استحکام ہی رہے گا۔ اس وقت بھی ملک کا سب بڑا چیلنج معاشی استحکام ہے، اور معاشی استحکام سیاسی استحکام سے مشروط ہے۔ سیاسی استحکام کے لیے حکومت کو ادراک کرلینا چاہیے۔ اپوزیشن نئی صف بندی میں مصروفِ عمل ہے، اور قومی سیاست بھی ارتقائی عمل کے تحت نئے سیاسی منظرنامے میں داخل ہورہی ہے۔ آصف علی زرداری اور نوازشریف اب ماضی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، ان کی سیاسی وراثت اب بلاول بھٹو اور مریم نواز کو منتقل ہورہی ہے۔ اگلے عام انتخابات تک یہ حقائق کھل کر سامنے آجائیں گے۔ تحریک انصاف کے لیے اصل چیلنج قومی سیاست کا اگلا مرحلہ ہے۔ جس طرح کا بجٹ اور معاشی پالیسی تحریک انصاف نے دی ہے، کوئی معجزہ ہی اسے ایک سیاسی جماعت کے طور پر قائم رکھ سکتا ہے۔ یہ اسی بات میں خوش ہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دے دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں ایک ارب ڈالر کی رقم آئی ایم ایف سے مل جائے گی، اور سالانہ 2 ارب ڈالر ہر سال آئی ایم ایف کی جانب سے ملیں گے۔ اس پیکیج کی نئی شرائط بھی سامنے آگئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ڈالر آزاد ہوگا، بجلی، گیس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت نہیں ہوگی۔ ٹیکس آمدن میں اضافہ، گردشی قرضوں کا خاتمہ، واجبات کی وصولی یقینی بنائی جائے گی۔ یہ تمام شرائط ایسی ہیں کہ ان پر عمل درآمد سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور ملک میں مہنگائی بڑھے گی۔ آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ کو پاکستان کے بجٹ کی منظوری کا انتظار تھا، اسی لیے بورڈ کے اجلاس کی تاریخ ایسی رکھی گئی تھی جب بجٹ منظور ہوچکا ہو۔ اس قرض کی ساری سختیاں بالآخر عوام ہی کو بھگتنی ہیں، جن کا آغاز بجٹ کے ساتھ ہی ہوچکا ہے۔ بجٹ، تقریر سے سمجھ میں نہیں آتا۔ بجٹ کا علم تو ہر صارف کو بازار جاکر ہوتا ہے۔ ڈالر کے ریٹ اوپر نیچے ہونے سے اشیائے ضروریہ تک کے ریٹ روزانہ بدل رہے ہیں۔ اس بجٹ میں بہت کچھ مخفی ہے جس کا ادراک آہستہ آہستہ ہوجائے گا۔ ماہرینِ معیشت کہتے ہیں کہ عوام کو چھ ماہ یا ایک سال نہیں، کم از کم تین سال تک شدید مشکلات بھگتنا ہوں گی۔ بجٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے ذریعے عام آدمی کو ہمیشہ دھوکے ہی ملے ہیں، لیکن عوام کی خیر خواہی کی دعویدار اپوزیشن جماعتوں نے بھی بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت اور آئی ایم ایف دونوں کو محفوظ راستہ دیا ہے۔ بجٹ میں بہت سی شرائط آئی ایم ایف کے کہنے پر رکھی گئی ہیں۔ ٹیکس ریونیو کا ہدف بھی اُن میں سے ایک ہے، ورنہ پچھلے سال کی نسبت ٹیکس ریونیو40 فیصد بڑھا دینا کوئی حکیمانہ سوچ نہیں، لیکن5555 ارب روپے کا ہدف رکھ دیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شرائط نہ مانی جاتیں تو قرض کی منظوری مزید دو چار مہینے آگے چلی جاتی،یا سرے سے ہی انکار ہوجاتا۔ بجلی، گیس اور دوسری یوٹیلٹی سروسز کے نرخ بھی آئی ایم ایف کے حکم پر ہی بڑھائے گئے ہیں۔ حکومت کی معاشی ٹیم آئی ایم ایف سے قرض ملنے پر بہت خوش ہے کہ یہ 3 فیصد سے کم شرح سود پر 10سال کے لیے آسان شرائط پر ملا ہے، لیکن اس عالمی ادارے کے ساتھ جو کچھ بھی طے پایا ہے وہ جلد ہی سامنے آجائے گا۔ کیونکہ قرض پروگرام پر آئی ایم ایف بھی پریس کانفرنس کرے گا۔
آئی ایم ایف کے بعد حکومت اب دوسرا بڑا قدم نجکاری کا جامع پروگرام لاکر اٹھائے گی۔ اداروں کی نجکاری سے متعلق پروگرام حکومت کو ہر قیمت پر ستمبر 2019ء تک مرتب کرنا ہے۔ آئی ایم ایف کی نجکاری کے حوالے سے کوئی اضافی شرائط نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف سے اس قرض کے حصول کی کوششیں سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے شروع کی تھیں، انہیں بعض شرائط پر تحفظات تھے جنہیں وہ نرم کرانا چاہتے تھے۔ اس کوشش میں اُن کی وزارت ہی چلی گئی، تحریک انصاف کے ساتھ اُن کی طویل سیاسی وابستگی بھی اُن کام نہ آئی، اور وزارتِ خزانہ حفیظ شیخ کے سپرد کردی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اسدعمر اسٹیل ملز کی نجکاری نہیں چاہتے تھے، لیکن اب اسٹیل ملز کا مستقبل کیا ہے؟ کسی کو علم نہیں۔ یہ رائے دی گئی ہے کہ مسلسل خسارہ حکومت کے لیے ناقابل ِ برداشت ہوچکا ہے، اور اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ اُس ٹیکس ریونیو کا ایک بڑا حصہ کھا جائے گی۔
مشیر خزانہ حفیظ شیخ کہتے ہیں کہ مشکل فیصلے کریں گے۔ معلوم نہیں ان مشکل فیصلوں کی نوعیت کیا ہے؟ لیکن ان فیصلوں سے ملکی معیشت کا بھٹہ نہیں بیٹھنا چاہیے کہ رہے سہے کاروبار بھی بند ہوجائیں۔ ’’مشکل فیصلے‘‘ دراصل ایک مبہم اصطلاح ہے جس کے پردے میں بہت کچھ چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس وقت بجٹ کے خلاف صنعت کاروں اور تاجروں نے ہڑتالیں شروع کررکھی ہیں، جس کے ردعمل میں قومی اسمبلی سے پاس شدہ فنانس بل میں اب صدرِ مملکت کے دستخطوں کے بعد ایف بی آر تبدیلیاں کررہا ہے، جس کا اُسے کوئی اختیار نہیں۔ ایف بی آر اپنے ہر فیصلے کی وضاحت یہ دے رہا ہے کہ فنانس بل کی ’’ٹائپ کی غلطیاں‘‘ درست کی جارہی ہیں۔ قانون، قاعدہ یہ کہتا ہے کہ اسمبلی سے پاس شدہ بل میں ایف بی آر ردو بدل نہیں کرسکتا، ہر تبدیلی کے لیے اسے پارلیمنٹ کی رائے شماری کے عمل سے گزرنا ہوگا، لیکن ایف بی آر تو رولز تبدیل کرسکتا ہے اور یہی ہورہا ہے۔ نئی تجاویز یہ ہیں کہ کسی بھی بینک کھاتے میں پڑے ہوئے پانچ لاکھ روپے کے بارے میں اب کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی، برآمد کنندگان کو سہولت دی جائے گی، خام مال کی درآمد کے لیے بھی نیا نظام متعارف کروایا جائے گا، پہلے مرحلے میں انڈسٹریل کنزیومر کی نشاندہی کرکے نوٹس دیا جائے گا،3 لاکھ سے زائد کنزیومر کو نان فائلرز ہونے پر نوٹس دیا جائے گا۔ پراپرٹی سے متعلق سندھ اور پنجاب کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا گیا ہے۔ ایک کنال سے زائد جس کے پاس گھر ہے اُسے ٹیکس دینا ہوگا۔ اسی طرح اب انڈسٹریل، ڈومیسٹک، رئیل اسٹیٹ سیکٹرز کو نوٹس بھجوائے جائیں گے۔ یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے ایک سوچی سمجھی معاشی حکمت عملی کے مطابق ہی ہورہا ہے۔ انہی یقین دہانیوں پر تو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے۔ اس پر اگرچہ سود کی شرح 3 فیصد سے کم بتائی گئی ہے، لیکن دس سال بعد روپیہ کس مقام پر ہوگا اس کا بھی قرض سے گہرا تعلق ہے۔ اس وقت ملک پر جو قرضے ہیں، سود در سود اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کے بعد ان میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ورنہ اتنی مقدار میں قرضے لیے نہیں گئے تھے۔ جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے اس کی شرح کم آمدنی والے کروڑوں لوگوں کے لیے ناقابل ِ برداشت ہے اور اُن کی آمدنیاں اخراجات کا ساتھ نہیں دے پارہیں۔ حکومت نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جو 10فیصد اضافہ کیا ہے وہ بھی قطعاً ناکافی ہے، لیکن جتنا اضافہ بھی ہوا ہے وہ صرف سرکاری ملازمین کے لیے ہے جن کی تعداد محدود ہے، جو لوگ نجی شعبے میں ملازمتیں کررہے ہیں انہیں کوئی اضافہ نہیں ملا، بلکہ روپے کی قدر گرنے سے اُن کی تنخواہیں کم ہوئی ہیں۔
آئی ایم ایف کے حالیہ پیکیج سے پاکستان کو کیا ملے گا اس پر مختصر اور جامع تبصرہ یہی ہے کہ اس قرضے نے پاکستان کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں۔ اب ڈالر اپنی مرضی سے اڑان بھرے گا اور حکومت اسے روک نہیں سکے گی۔ یوں ملک میں مہنگائی کی سطح بھی مسلسل بڑھتی رہے گی، یوں سمجھ لیں کہ ’’مشکل فیصلے‘‘ قیامت ڈھا دیں گے۔

اسد عمر اپنی حکومت کے رویے سے نالاں!۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر اپنی ہی حکومت کے رویّے سے نالاں ہوگئے اور کمیٹی اجلاس میں سینئر حکام کی عدم شرکت پر مختلف بلوں کی منظوری احتجاجاً مؤخر کردی۔ اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس اسد عمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں انسدادِ منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2019، فارن ایکس چینج ریگولیشن ترمیمی بل 2019، اور اثاثے ظاہر کرنے کے آرڈیننس کی منظوری دی جانی تھی، تاہم وزارتِ خزانہ کے سینئر حکام کی عدم حاضری پر تمام حکومتی بلوں کی منظوری مؤخر کردی گئی۔ اسد عمر نے کہا کہ حکومت اپنے ہی بلوں کی منظوری میں سنجیدہ نہیں تو ہم کیوں سنجیدہ لیں! چیئرمین ایف بی آر پانچ منٹ میں میرے میسج کا جواب دیتے ہیں، جبکہ مشیر خزانہ دس دن تک کال کا جواب نہیں دیتے۔ قائمہ کمیٹی نے آٹا، چینی، سیمنٹ اور اندرونِ ملک فضائی ٹکٹ مہنگے ہونے کا نوٹس لے لیا۔ ایف بی آر نے بیرون ملک پاکستانیوں کی دولت کے حوالے سے بریفنگ دی، جس پر کمیٹی نے عدم اطمینان کا اظہارکیا۔ بعد ازاں آئندہ اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کو طلب کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

کیا ویڈیو لیک سنجیدہ معاملہ ہے؟۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ویڈیو لیک کی ہے اور اس کے بعد سوالوں کا انبار لگا ہوا ہے۔ یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ جج ویڈیو لیک میں اصل کہانی کے ڈانڈے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ تک پہنچ سکتے ہیں، یہ اسٹوری عالمی پریس کی زینت بھی بن سکتی ہے۔ چند روز قبل مریم نواز نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ نوازشریف کو مرسی نہیں بننے دوں گی۔ ان کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے، کیونکہ مرسی بننے کے لیے مرسی جیسا کردار چاہیے۔ نوازشریف دور دور تک بھی اس کردار تک نہیں پہنچ سکتے۔ بہرحال ویڈیو لیک کا تجزیہ کیا جانا ضروری ہے، اور اس سے بھی بڑا سوال یہ کہ ویڈیو لیک کے سلسلے میں ہونے والی پریس کانفرنس میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہبازشریف کیوں خاموش رہے؟ لیکن غور کیا جائے تو شہبازشریف نے اسی پریس کانفرنس میں کہا کہ نوازشریف بے گناہ ہیں، عدلیہ اور مقتدر اداروں سے انصاف کی توقع ہے۔ شہبازشریف کا یہ جملہ اس بات کی عکاسی کررہا ہے کہ شہبازشریف اور مریم نواز دونوں نے اپنے اپنے حصے کا کام کیا ہے۔
مریم نواز کے الزام کے بعد نیب عدالت کے جج ارشد ملک نے اس ویڈیو کو جھوٹا قرار دیا اور اتوار کے روز چھٹی کا دن ہونے کے باوجود تردیدی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ساکھ اور ادارے کی حرمت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ عدلیہ سے اس معاملے کا نوٹس لینے اور حکومتی عہدیداروں کو اس معاملے سے دور رہنے کا کہا ہے۔ پہلے روز تو معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان میدان میں اتریں اور ردعمل دیا، لیکن اگلے ہی روز یہ بیان جاری کردیا کہ حکومت اس معاملے میں نہیں آئے گی، یہ عدلیہ کا معاملہ ہے۔ اعتزاز احسن سینئر قانون دان ہیں، انہوں نے بھی رائے دی کہ قطری خط ایک مذاق تھا، ویڈیو بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ویڈیو کا بارِ ثبوت مریم نواز پر ہے اور وہی اس ویڈیو کو عدالت میں لے کر جائیں، جس کیمرے سے ویڈیو بنائی گئی وہ کیمرہ بھی عدالت میں پیش کیا جانا ضروری ہے۔
اس معاملے میں اس سے زیادہ مزید کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

Share this: