مرد، عورتوں پر نگہبان

حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا

یہ دعا حضرت زکریا علیہ السلام  نے اُس وقت مانگی جب انہوں نے حضرت مریم ؈کو ایک حجرے میں گوشہ نشیں دیکھا، اور یہ دیکھا کہ اس پاک باز لڑکی کو اللہ تعالیٰ اس حال میں بھی رزق پہنچا رہا ہے تو ان کے منہ سے بے ساختہ یہ دعا نکلی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا اس طرح قبول کی کہ اس بڑھاپے میں انہیں حضرت یحییٰ؈ جیسا بیٹا عطا کیا:
’’پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر، تُو ہی دعا سننے والا ہے‘‘۔(آل عمران: 38)

حضرت مولانا محمد زبیر
اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُـمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِـهِـمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ ۚ وَاللَّاتِىْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِى الْمَضَاجِــعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ ۖ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْـهِنَّ سَبِيْلًا ۗ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْـرًا ۔وَاِنْ خِفْتُـمْ شِقَاقَ بَيْنِـهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِـهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيْنَـهُمَا ۗ اِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيْمًا خَبِيْـرًا(سورۃ النسا:34، 35)۔
’’مرد عورتوں پر نگہبان ہیں، اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی ہے، اور اس لیے کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔ پس نیک عورتیں وہ ہیں جو فرماں بردار ہوں، (شوہروں کی) عدم موجودگی میں (ان حقوق کی) حفاظت کرنے والی ہوں جن کی اللہ نے حفاظت کی ہے، اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو انہیں نصیحت کرو اور ان کو بستروں میں (تنہا) چھوڑ دو، اور ان کو مارو۔ اور اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان کے خلاف کوئی راہ تلاش نہ کرو۔ بے شک اللہ بڑا اور بالاتر ہے۔ اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان افتراق کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مرد کے رشتے داروں سے اور ایک عورت کے رشتے داروں سے مقرر کرو۔ اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کردے گا۔ بے شک اللہ علم والا اور باخبر ہے‘‘۔
سید ابوالاعلی مودودی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔
’’الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّہُ بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْض‘‘قوام یا قیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد، ادارے، یا نظام کے معاملات کو درست حالت میں چلانے اور اس کی حفاظت و نگہبانی کرنے اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔
یہاں فضیلت بمعنی شرف اور کرامت اور عزت نہیں ہے جیسا کہ ایک عام اردو خواں آدمی اس لفظ کا مطلب لے گا، بلکہ یہاں یہ لفظ اس معنی میں ہے کہ ان میں سے ایک صنف (یعنی مرد) کو اللہ نے طبعاً بعض ایسی خصوصیات اور قوتیں عطا کی ہیں جو دوسری صنف (یعنی عورت) کو نہیں دیں، یا اس سے کم دی ہیں۔ اس بنا پر خاندانی نظام میں مرد ہی قوام ہونے کی اہلیت رکھتا ہے، اور عورت فطرتاً ایسی بنائی گئی ہے کہ اسے خاندانی زندگی میں مرد کی حفاظت و خبر گیری کے تحت رہنا چاہیے۔
’’فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَیْْبِ بِمَا حَفِظَ اللّہُ‘‘حدیث میں آیا ہے کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’بہترین بیوی وہ ہے کہ جب تم اسے دیکھو تو تمہارا جی خوش ہوجائے، جب تم اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے، اور جب تم گھر میں نہ ہو تو وہ تمہارے پیچھے تمہارے مال کی اور اپنے نفس کی حفاظت کرے‘‘۔ مگر یہاں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت سے اہم اور مقدم اپنے خالق کی اطاعت ہے، لہٰذا اگر کوئی شوہر خدا کی معصیت کا حکم دے، یا خدا کے عائد کیے ہوئے کسی فرض سے باز رکھنے کی کوشش کرے تو اس کی اطاعت سے انکار کردینا عورت کا فرض ہے۔ اس صورت میں اگر وہ اس کی اطاعت کرے گی تو گناہ گار ہوگی۔ بخلاف اس کے اگر شوہر اپنی بیوی کو نفل نماز یا نفل روزہ ترک کرنے کے لیے کہے تو لازم ہے کہ وہ اس کی اطاعت کرے۔ اس صورت میں اگر وہ نوافل ادا کرے گی تو مقبول نہ ہوں گے۔
’’وَاللاَّتِیْ تَخَافُونَ نُشُوزَہُنَّ فَعِظُوہُنَّ وَاہْجُرُوہُنَّ فِیْ الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوہُنَّ‘‘ یہ مطلب نہیں ہے کہ تینوں کام بیک وقت کرڈالے جائیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ نشوز کی حالت میں ان تینوں تدبیروں کی اجازت ہے۔ اب رہا ان پر عمل درآمد، تو بہرحال اس میں قصور اور سزا کے درمیان تناسب ہونا چاہیے، اور جہاں ملکی تدبیر سے اصلاح ہوسکتی ہو وہاں سخت تدبیر سے کام نہ لینا چاہیے۔ نبیؐ نے بیویوں کو مارنے کی جب کبھی اجازت دی ہے، بادل ناخواستہ دی ہے اور پھر بھی اسے ناپسند ہی فرمایا ہے۔ تاہم بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو پٹے بغیر درست ہی نہیں ہوتیں۔ ایسی حالت میں نبیؐ نے ہدایت فرمائی ہے کہ منہ پر نہ مارا جائے، بے رحمی سے نہ مارا جائے اور ایسی چیز سے نہ مارا جائے جو جسم پر نشان چھوڑ جائے۔
’’إِن یُرِیْدَا إِصْلاَحاً یُوَفِّقِ اللّہُ بَیْْنَہُمَا‘‘دونوں سے مراد ثالث بھی ہیں اور زوجین بھی۔ ہر جھگڑے میں صلح ہونے کا امکان ہے، بشرطیکہ فریقین بھی صلح پسند ہوں اور بیچ والے بھی چاہتے ہوں کہ فریقین میں کسی طرح صلح صفائی ہوجائے۔اس آیت میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جہاں میاں اور بیوی میں ناموافقت ہوجائے وہاں نزاع سے انقطاع تک نوبت پہنچنے یا عدالت میں معاملہ جانے سے پہلے گھر کے گھر ہی میں اصلاح کی کوشش کرلینی چاہیے، اور اس کی تدبیر یہ ہے کہ میاں اور بیوی میں سے ہر ایک کے خاندان کا ایک ایک آدمی اس غرض کے لیے مقرر کیا جائے کہ دونوں مل کا اسبابِ اختلاف کی تحقیق کریں اور پھر آپس میں سر جوڑ کر بیٹھیں اور تصفیے کی کوئی صورت نکالیں۔ یہ پنچ یا ثالث مقرر کرنے والا کون ہو؟ اس سوال کو اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے تاکہ اگر زوجین خود چاہیں تو اپنے اپنے رشتے داروں میں سے خود ہی ایک ایک آدمی کو اپنے اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لیے منتخب کرلیں، ورنہ دونوں خاندانوں کے بڑے بوڑھے مداخلت کرکے پنچ مقرر کریں، اور اگر مقدمہ عدالت میں پہنچ ہی جائے تو عدالت خود کوئی کارروائی کرنے سے پہلے خاندانی پنچ مقرر کرکے اصلاح کی کوشش کرے۔
اس امر میں اختلاف ہے کہ ثالثوں کے اختیارات کیا ہیں۔ فقہا میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ ثالث فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، البتہ تصفیے کی جو صورت ان کے نزدیک مناسب ہو، اس کے لیے سفارش کرسکتے ہیں، ماننا یا نہ ماننا زوجین کے اختیار میں ہے۔ ہاں البتہ اگر زوجین نے ان کو طلاق یا خلع یا کسی اور امر کا فیصلہ کر دینے کے لیے اپنا وکیل بنایا ہو توان کا فیصلہ تسلیم کرنا زوجین کے لیے واجب ہوگا۔ یہ حنفی اور شافعی علما کا مسلک ہے۔ دوسرے گروہ کے نزدیک دونوں پنچوں کو موافقت کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، مگر علیحدگی کا فیصلہ وہ نہیں کرسکتے۔ یہ حسن بصریؒ اور قتادہؒ اور بعض دوسرے فقہا کا قول ہے۔ ایک اور گروہ اس بات کا قائل ہے کہ ان پنچوں کو ملانے اور جدا کردینے کے پورے اختیارات ہیں۔ ابن عباسؓ، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعیؒ، شعبیؒ، محمد بن سیرینؒ اور بعض دوسرے حضرات نے یہی رائے اختیار کی ہے۔حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے فیصلوں کی جو نظیریں ہم تک پہنچی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات پنچ مقرر کرتے ہوئے عدالت کی طرف سے ان کو حاکمانہ اختیارات دے دیتے تھے۔ چنانچہ حضرت عقیلؓ بن ابی طالب اور ان کی بیوی فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ کا مقدمہ جب حضرت عثمانؓ کی عدالت میں پیش ہوا تو انہوں نے شوہر کے خاندان میں سے حضرت ابن عباسؓ کو، اور بیوی کے خاندان میں سے حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کو پنچ مقرر کیا اور ان سے کہاکہ اگر آپ دونوں کی رائے میں ان کے درمیان تفریق کردینا ہی مناسب ہو تو تفریق کردیں۔ اسی طرح ایک مقدمے میں حضرت علیؓ نے حکم مقرر کیے اور ان کو اختیار دیا کہ چاہیں ملادیں اور چاہیں جدا کردیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پنچ بطور خود تو عدالتی اختیارات نہیں رکھتے، البتہ اگر عدالت ان کو مقرر کرتے وقت انہیں اختیارات دے دے تو پھر ان کا فیصلہ ایک عدالتی فیصلے کی طرح نافذ ہوگا۔

Share this: