کوئلے کی کانیں یا موت کے کنویں

محکمہ معدنیات کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ نو سالوں کے دوران 530سے زائد کان کن کوئلہ کی کانوں میں حادثات کا شکارہوکر ہلاک ہوئے ہیں

شمس الرحمن سواتی

کوئٹہ کے قریب کوئلے کی ایک کان میں گیس بھر جانے سے 10 کان کن کئی ہزار فٹ کی گہرائی میں پھنس گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم حادثے کو 24 گھنٹے سے زائد گزر جانے کے باعث ان کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہیں۔چیف انسپکٹر آف مائنز بلوچستان شفقت فیاض کے مطابق کوئٹہ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ڈیگاری کی ایک کوئلہ کان میں اتوار کی دوپہر کو بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگ گئی تھی۔ کان کو منہدم ہونے سے بچانے کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی اور کان میں موجود کوئلے نے بھی آگ پکڑ لی۔چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق حادثے کے بعد 12 کان کن متاثرہ کان میں کام کر رہے تھے جن میں سے دو اوپر کے حصے میں تھے جو باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے باقی 10 کان کن ساڑھے تین ہزار فٹ کی گہرائی میں پھنس گئے۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ساتھی کان کنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔تاہم کان کے نچلے حصے میں گیس بھر جانے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔2019 کے چھ مہینوں میں 39 مزدور مختلف حادثات میں ہلاک ہو چکے ہیںضلعی انتظامیہ اور محکمہ معدنیات کی ٹیمیں بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں تاہم امدادی کام زیادہ تر کان کن اپنی مدد آپ کے تحت ہی کر رہے ہیں۔ایک مقامی کان کن کے مطابق مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے کے لیے کان میں اترنے والے آٹھ کان کن بھی گیس کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے تھے جنہیں بڑی مشکل سے باقی ساتھیوں نے کئی گھنٹوں کی کوششوں سے بچایا۔چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق اتوار کی دوپہر سے کان میں پھنسے ہوئے 10 کان کنوں کے زندہ بچ جانے کے امکانات کافی کم ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل کرنے کے بعد کان حادثے کی تحقیقات کی جائیں گی۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کوئٹہ، بولان، ہرنائی، لورالائی اور دکی سمیت بلوچستان کے کئی اضلاع میں کوئلے کے 256 ملین ٹن سے زائد ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری لالہ سلطان خان کے مطابق کوئلہ کی کان کنی کے شعبے سے بلوچستان میں ایک لاکھ سے زائد مزدور وابستہ ہیں تاہم مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں کان کن مختلف حادثات میں زندگی کھودیتے ہیں۔محکمہ معدنیات کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ نو سالوں کے دوران 530سے زائد کان کن کوئلہ کی کانوں میں حادثات کا شکارہوکر ہلاک ہوئے ہیں۔صرف اس سال چھ مہینوں میں حالیہ حادثے کے علاوہ 39 مزدوروں کی موت ہوئی ہے۔ تاہم مزدور یونین کا اصرار ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اصل تعداد سے کہیں کم ہیں اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں اب تک 82 مزدور کوئلے کی کانوں میں گیس بھرنے سے دم گھٹنے، ملبے تلے دبنے اور ٹرالی لگنے جیسے مختلف حادثات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ کوئلہ کان مالکان، ٹھیکیدار اور سرکاری محکمے مزدوروں کی اموات کو چھپاتے ہیں۔ ’وہ مرنے والے مزدوروں کے لواحقین کی مالی امداد سمیت دیگر قانونی ضابطوں سے خود کو بچانا چاہتے ہیں اس لئے وہ حادثات کو سامنے لانے نہیں دیتے۔‘ انہوں نے بتایا کہ کوئلے کی کانوں میں حادثات کی بڑی وجہ صحت و سلامتی کے قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔اس قانون کے تحت کوئلہ کانوں میں حادثات سے بچنے کیلئے مناسب انتظامات کرنے ہوتے ہیں جن میں تازہ ہوا کے اندر آنے، گیس کے اخراج، آگ لگنے یا کسی دوسری ہنگامی صورت حال میں نکلنے کے لیے متبادل راستہ کا بندوبست کرنا،کان کو منہدم ہونے سے بچانے کیلئے مضبوط لکڑی کا استعمال کرنا، کان کی لمبائی اور چوڑائی کو چھ سے سات فٹ سے زائد رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس قانون پر کوئلہ کان کے مالکان، ٹھیکیدار عملدرآمد کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی محکمہ معدنیات قانون کے نفاذ کیلئے کوئی مؤثر کام کررہا ہے۔ محکمہ معدنیات کے حکام بیس بیس گز کے فاصلے پر کوئلے کی کان کی الاٹمنٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے کانوں کے درمیان متبادل راستے بنانے کے لیے جگہ نہیں بچتی۔ کوئلے کے کانوں کی الاٹمنٹ کم از کم ڈھائی سو گز کے فاصلے پر ہونی چاہیے۔چیف انسپکٹرآف مائنز کا کام ریسکیو کرنا ہوتا ہے مگر انہوں نے آج تک کسی زخمی کو ریسکیو کیا اور نہ کسی مردہ کان کن کی لاش نکالی۔ سرکاری ٹیمیں صرف کوئلہ کان سے نکلنے والی لاشوں کی گنتی کرکے واپس چلی جاتی ہیں۔ سب امدادی کام کان کن خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں اس لیے ہم کہتے ہیں کہ کان کنوں کو ہی ریسکیو ٹیموں میں بھرتی کیا جائے مگر چیف انسپکٹر مائنز اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتے۔بلوچستان میں کانکنی سے متعلق قانون 1923 کا ہے۔ایک صدی پرانا یہ قانون آج کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں بلوچستان میں کان کنی سے متعلق قانون 1923 کا ہے۔ ایک صدی پرانا یہ قانون آج کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اس قانون کے تحت ایک حادثے میں اگر کوئی قصور وار ثابت ہوتا ہے تو 1923 میں بھی دو سو روپے جرمانہ کیا جاتا تھا اور اب تک جرمانے کی رقم یہی ہے۔مرنے کی صورت میں کان کن کے ورثاء کو ورکرز ویلفیئر فنڈز سے صرف دو لاکھ روپے مدد ملتی ہے جو بہت کم ہے۔ یہ رقم سندھ کے برابر یعنی پانچ لاکھ روپے کیا جانا چاہیے۔ کوئلے کی کانیں اب تک کتنے مزدور نگل چکی ہیں؟مزدور تنظیموں کے مطابق صوبہ بلوچستان میں ایک لاکھ سے زائد افراد کوئلہ کی کان کنی کا کام کرتے ہیں مگر مناسب حفاظتی انتظامات اور سہولیات نہ ہونے کے سبب یہی کانیں مزدوروں کے لیے موت کے کنویں بن گئی ہیں جہاں ہر سال اوسطاً ایک سو سے زائد کان کن مختلف حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق صحت و سلامتی کے معیار اور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے سبب بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔اعدادوشمار کے مطابق 2010 سے 2018 تک 318 کان کن مختلف حادثات میں ہلاک ہوئے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کان کنوں کی حالت زار کو تشویشناک اور حکومت کی جانب سے ان کی حفاظت کی خاطر کیے گئے اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں مئی اور اگست 2018 میں بلوچستان کے علاقے ماراوڑ اور سورینج میں صرف دو حادثات میں 23 مزدوروں کی موت ہوئی تھی۔ ان میں وہ مزدور بھی شامل تھے جو حادثے کے بعد پھنسے ہوئے اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے کان میں اترے تھے ان حادثات کے بعد بھی حکومت کی جانب سے کان کنوں کی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔