ششماہی اردو کراچی(دورِ جدید کا شمارہ نمبر2)۔

مجلہ : ششماہی اردو کراچی
(دورِ جدید کا شمارہ نمبر2)
مدیر : ڈاکٹر رئوف پاریکھ۔شعبہ اردو، جامعہ کراچی
صفحات : 188 قیمت:300 روپے فی شمارہ
بیرونِ ملک 15 امریکی ڈالر
ناشر : انجمن ترقی اردو پاکستان۔ اردو باغ۔ ایس ٹی 10، بلاک 1، گلستان جوہر، کراچی 75290
فون : (0092-21)34161143
برقی ڈاک : urdu.atup@gmail.com
ویب گاہ : www.atup.org.pk
مجلہ ’’اردو‘‘ ڈاکٹر مولوی عبدالحق (بابائے اردو) نے 1921ء میں جاری کیا تھا۔ یہ ایک تحقیقی مجلہ ہے۔ موجودہ شمارہ جلد 94 کا جولائی دسبمر 2018ء کا شمارہ ہے۔ ’’اردو‘‘ کو ادارۂ اعلیٰ تعلیم (ایچ ای سی) نے اپنے منظور شدہ تحقیقی جرائد کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔
ڈاکٹر رئوف پاریکھ تحریر فرماتے ہیں:
’’اردو تحقیق کے معیار میں تنزل کا رونا کوئی نیا نہیں ہے، لیکن اب تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ نئے محققین اس بات سے قطعی بے نیاز ہوچکے ہیں کہ تحقیق کا کوئی معیار بھی ہوتا ہے یا ہونا چاہیے۔ بلکہ تحقیقی معیار تو بعد کی بات ہے، بعض مقالے (غیر مطبوعہ اور مطبوعہ بھی) دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ مقالہ نگار تحقیق کی غرض و غایت سے بالکل لاتعلق یا لاعلم ہے، اور اس نے مقالہ لکھنے کے بعد محض ازراہِ خانہ پُری آخر میں چند کتابوں کے حوالے ٹانک دیئے ہیں جن کا موضوع سے کوئی براہِ راست تعلق بھی نہیں ہے۔ ایک نئے محقق کا لکھا ہوا ایک مقالہ تو ایسا بھی نظر سے گزرا جس کا موضوع ’’فلاں شاعر کا تصورِ وقت‘‘ تھا، لیکن اس میں نہ تو ’’تصورِ وقت‘‘ کی وضاحت تھی، نہ اس سے کوئی نتیجہ اخذ کیا گیا تھا۔ بس چند اشعار نقل کردیئے گئے تھے اور چند غیر متعلقہ کتابوں کے حوالے آخر میں دے دیئے گئے تھے۔ مقالے میں مصنف کا کوئی نقطہ نظر نہیں تھا اور کوئی تجزیہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔ نہ ان کی کوئی رائے ہی تھی۔ ایسے ’’تحقیقی مقالوں‘‘ کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ یہ آج تک معلوم نہ ہوسکا۔ شاید اس پر بھی کوئی تحقیق کرنی پڑے گی۔
دراصل تحقیق ایک ایسی سرگرمی ہے جس کا ایک خاص تعلق اپنے ماحول اور زمانے سے بھی ہوتا ہے، اور اس کے نتیجے میں نئے نظریات وجود میں آتے ہیں۔ اس موضوع پر نثار احمد زبیری نے اپنی کتاب میں اختصار سے لیکن عمدہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب میں وہ ’’تحقیق کے بنیادی مقاصد‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:
’’تحقیق کے بنیادی مقصد کی درجہ بندی آسان تو نہیں، تاہم اگر اب تک کیے جانے والے کاموں پر ایک نگاہ کی جائے تو کسی حد تک مقاصد کے بارے میں ایک واضح صورتِ حال سامنے آتی ہے جس کے کچھ اہم نکات ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
الف۔ حیات اور ماحول کی زیادہ سے زیادہ قرین قیاس تفہیم۔
ب۔ اس تفہیم کی بنیاد پر نئے نظریات کی تشکیل۔
ج۔ نئے نظریات کی بنیاد پر مسائل کا حل۔‘‘
ان معروضات کی ضرورت یوں پیش آئی کہ ’’اردو‘‘ میں اشاعت کے لیے موصولہ بعض مقالات میں نئے نظریات تو کجا مقالہ نگار کی اپنی کوئی رائے بھی نظر نہیں آتی، مختلف آرا اور اقتباسات کو جوڑ کر تیار کیے گئے ایسے مقالوں میں کوئی تجزیہ بھی نہیں پیش کیا جاتا۔
نوجوان مقالہ نگاران سے درخواست ہے کہ اپنے مقالوں میں ازراہِ کرم تجزیہ اور استخراجِ نتائج کا بھی اہتمام کیجیے، دیگر ماہرین کی آرا پیش کرنے کے ساتھ اپنی رائے بھی تنقید یا تائید کی صورت میں ضرور لکھیے۔ اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دلائل اور شواہد کے ساتھ اکابرین سے اختلاف کرنا کوئی بری بات نہیں ہے، بلکہ تحقیق کا حسن اور اس شعبے میں ترقی کا سبب بھی اختلافِ رائے ہی ہے‘‘۔
زیر نظر شمارے میں درج ذیل مقالات شامل کیے گئے ہیں:
’’جوش کے چند نادر اور غیر مطبوعہ خطوط بنام سید سبطِ حسن‘‘ ہلال نقوی، ’’قیامِ پاکستان سے قبل ابتدائی جماعتوں کا ایک اردو نصاب‘‘ محمد سلیم خالد، ’’محسن کاکوروی کا ایک قصیدہ: ادبی محاسن اور صنائع بدائع…‘‘ محمد سرور الہدیٰ، ’’موضوعاتِ شبلی کا جواز، بہ اندازِ دگر‘‘ خالد ندیم، ’’غالب اور قربان علی بیگ سالک‘‘ مشتاق احمد تجاروی، ’’دیوندرستیارتھی کی اردو افسانہ نگاری: ادبی و سماجی مطالعہ‘‘ تہمینہ عباس، ’’پاکستانی زبانیں اور بولیاں: ایک بنیادی تعارف‘‘ رئوف پاریکھ، ’’ضیا القادری بدایونی کی نعتیہ لفظیات میں خمریہ عناصر…‘‘عائشہ ناز/ تنظیم الفردوس، ’’اشاریۂ ’’اردو‘‘ (جلد 94، شمارہ 1، جنوری تا جون 2018ء)‘‘ تہمینہ عباس،
اس شمارے کا خاص مقالہ مفتی ڈاکٹر مشتاق احمد تجاروی کا ’’غالبؔ اور قربان علی بیگ سالکؔ‘‘ ہے۔ قربان علی بیگ سالک مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نانا تھے اور مرزا غالبؔ کے ہمسائے اور شاگرد تھے، ان پر یہ پہلا تفصیلی مقالہ ہے۔
مجلہ سفید کاغذ پر عمدہ طبع کیا گیا ہے۔ سادہ سرورق سے آراستہ ہے۔

ششماہی امتزاج کراچی

مجلہ : ششماہی امتزاج کراچی
(شمارہ7)
مدیراعلیٰ : پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس
صفحات : 242 قیمت:500 روپے
بیرونِ ملک 15 امریکی ڈالر
ناشر : شعبہ اردو۔ جامعہ کراچی۔ کراچی
ای میل : imtezaajurdu@gmail.com
شعبۂ اردو جامعہ کراچی سے شائع ہونے والا یہ مجلہ اساتذہ اور طلبہ کی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے کے لیے بہت ممدو معاون ہے۔ زیر نظر شمارے کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہلِ شعبہ نے ’’امتزاج‘‘ کی اشاعت میں بھرپور حصہ لیا ہے، امید ہے آنے والے شمارے خوب سے خوب تر کا سفر تیزی سے طے کریں گے، ان شاء اللہ۔
اس شمارے میں جو مقالات شامل کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
’’خواجہ میر درد: سراپاے محبوب کے صوفیانہ نقش گر‘‘ افتخار شفیع، ’’سعادت حسن منٹو اور سماجی حقیقت نگاری‘‘ انصار احمد شیخ، ’’اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اردو کا دینی ادب‘‘ برکت اللہ خاں، ’’ہندوستان کے دورِ زوال کے سیاسی و معاشی اسباب کے تاریخی اور غیر تاریخی اردو مآخذ‘‘ توقیر فاطمہ/ تنظیم الفردوس، ’’سلطان احمد جوشؔ کے افسانوں کا سماجی ماحول‘‘ تہمینہ عباس، ’’اردو میں بائبل کے تراجم: ایک مختصر سماجی و لسانی مطالعہ‘‘ جولیا سرور/ رئوف پاریکھ، ’’زاہدہ حنا روشن خیال افسانہ نگار‘‘ راحت افشاں، ’’نئی اردو تنقید اور ادھورا ناقد‘‘ ذکیہ رانی، ’’قیام پاکستان کے بعد اردو ناولٹ کی فضا (’’یا خدا‘‘ اور ’’زمین‘‘ کے خصوصی حوالے سے)‘‘ سمیرا بشیر، ’’بچوں کے اردو ادب کے فروغ میں غیر مسلموں کا حصہ‘‘ سید اسرار الحق سبیلی، ’’اردو میں لغت نویسی کے بنیادی مباحث اور مسائل‘‘ شہناز گل/ پروفیسر تنظیم الفردوس، ’’مکتوبات مسعودی (غم نامے اور تعزیت نامے): تجزیاتی مطالعہ‘‘ عاطف اسلم رائو، ’’جدید اردو شاعری کے عناصر خمسہ‘‘ عظمیٰ حسن، ’’ترقی پسند تحریک: اردو اور سندھی افسانہ… ایک تقابلی جائزہ‘‘ قرۃ العین چنا، ’’کلام میراجی کی فکری جہات‘‘ محمد ساجد خان، ’’نوادرات‘‘ محمد اکرم چغتائی کا خط ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کے نام، ’’آئینہ تحقیق‘‘ شعبہ اردو میں لکھے گئے ایم فل پی ایچ ڈی کے مقالات، ’’اشاریہ‘‘ (2008ء تا 2017ء)۔
مجلہ سفید کاغذ پر عمدہ طبع کیا گیا ہے، سادہ سرورق سے مزین ہے۔

نفسیاتی تنقید

کتاب : نفسیاتی تنقید
مصنف : ڈاکٹر سلیم اختر
صفحات : 310 قیمت:300 روپے
ناشر : ڈاکٹر تحسین فراقی۔ ناظم مجلسِ ترقیِ ادب
2 کلب روڈ لاہور
فون : 042-99200856,99200857
ای میل : majlista2014@gmail.com
ویب گاہ : www.mtalahore.com
ڈاکٹر سلیم اختر کی مصنفہ ’’نفسیاتی تنقید‘‘ کا یہ تیسرا ایڈیشن ہے۔ اردو تنقید کے حوالے سے یہ ایک اہم کتاب ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر تحریر فرماتے ہیں:
’’تخلیق انسانی ذہن کا وہ اعجاز ہے جس کی ماہیت سمجھنے کے لیے پہلے فلاسفر اور اب نفسیات دان کوشاں ہیں، مگر حال خوابِ جوانی جیسا ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے انداز پر تعبیر کرتا ہے۔ اس تحقیقی مقالے کو بھی اسی انداز کی کاوش سمجھنا چاہیے۔
فرائڈ، ژونگ اور ایڈلر کے تصورات نے پہلے مغرب میں اور پھر اردو میں تنقید کو جس طرح نفسیاتی اسلوب سے روشناس کرایا یہ مقالہ اسی کی داستان ہے۔ جہاں تک اردو میں تنقید کے نفسیاتی دبستان کی تشکیل کا تعلق ہے تو ’’امرائو جان ادا‘‘ والے مرزا محمد ہادی رسواؔ نے سب سے پہلے نفسیاتی نقطہ نظر سے بات کی۔ موجودہ صدی کی دوسری دہائی سے ادبی جرائد میں نفسیاتی تنقید پر مقالات مل جاتے ہیں۔ گویا اردو میں نفسیاتی تنقید کے ابتدائی نقوش نصف صدی پیچھے تک مل جاتے ہیں۔ فنی قدر و قیمت سے قطع نظر یہ قدامت بھی معنی خیز ہے کہ خود مغرب میں بھی باضابطہ نفسیاتی تنقید کی عمر تقریباً اتنی ہی بنتی ہے۔ اردو کے نفسیاتی ناقدین کی تحریروں کی تلاش میں پرانے ادبی پرچے کھنگالے تو اتنا مواد ملا کہ سمیٹنا مشکل ہوگیا۔ چنانچہ قدیم نفسیاتی ناقدین کا تذکرہ جرائد سے ماخوذ ہے۔ اس سے جہاں موضوعات اور مسائل کے تنوع کا اندازہ ہوتا ہے، وہاں اردو تنقید میں ایک نئی جہت اور باضابطہ دبستان کی تشکیل کے نقوش بھی ابھرتے نظر آتے ہیں۔ یہ مقالہ اردو ناقدین کے تذکرے پر بہ آسانی ختم کیا جاسکتا تھا، لیکن آخری تین ابواب کی صورت میں اردو تنقید کے اہم ترین مباحث، جیسے اسلوب کے تشکیلی عناصر کی تحلیلِ نفسی، تخلیقی اصناف کے نفسیاتی مطالعے، بعض اہم علوم پر نفسیات کے اثرات اور اہم ترین تنقیدی دبستانوں سے نفسیاتی تنقید کے تقابلی مطالعے کی صورت میں نفسیات اور نفسیاتی تنقید کے دائرۂ کار کی وسعت کے ساتھ ساتھ موضوعات و مسائل میں تنوع کا اندازہ لگانا دشوار نہیں رہتا۔ اسی ضمن میں نفسیاتی تنقید کے طریق کار، اس کی حدود اور نفسیاتی نقاد کے خام مواد کو بھی بالصراحت اجاگر کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ نفسیاتی نقاد کیا کرسکتا ہے، کیا نہیں کرسکتا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ نفسیاتی تنقید کیسے کرتا ہے۔ ان تمام مباحث کے سلسلے میں صرف اردو ناقدین کی تحریروں سے استفادہ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہمارے ناقدین نے کس کامیابی کے ساتھ اپنے ہاں کی ادبی صورت حال اور تخلیقات پر مغربی تصورات کا اطلاق کیا۔ نفسیاتی تنقید مغربی اثرات کی مرہونِ منت ہے، اس سے انکار ممکن نہیں، لیکن اردو ناقدین نے آنکھیں بند کرکے مغرب کی ہر بات کو درست تسلیم نہیں کیا۔ چنانچہ اردو کے نفسیاتی ناقدین میں ایسے صاحب ِنظر حضرات کی کمی نہیںجنہوں نے مسائل اور مباحث کے نفسیاتی مطالعے کے سلسلے میں اپنے ہاں کی مخصوص ادبی صورت ِحال، روایات اور اصناف کے مخصوص مزاج کو بطور خاص ملحوظ رکھا ہے۔ ہمارے یہاں کے بیشتر ناقدین نے نفسیاتی نظریات کو اندھے کی لاٹھی نہ بنایا، بلکہ ان کی حدود کو مدنظر رکھا اور نظریات کے اطلاق میں غلو سے کام نہ لیا۔ اردو کے نفسیاتی ناقدین کے تذکرے میں یہی معیار ملحوظ رکھا۔ ان کی آرا سے استفادہ بھی اسی نقطہ نظر سے کیا اور اسی میزان پر ان کی تنقیدی کاوشوں کو تولا۔ مقامِ مسرت ہے کہ بیشتر ’’کم عیار‘‘ نہ ثابت ہوئے۔ ہمارے ناقدین کی اکثریت نے ذہنی اُپج اور تخلیقی جودت کا ثبوت دیتے ہوئے مسائل و مباحث کے بارے میں فکرانگیز آرا کا اظہار کیا ہے، اسی لیے ان کے تذکرے کو محض توضیحی یا تشریحی نہ بناتے ہوئے ان کے فن کے مطالعے کو ایک متوازن تنقیدی مطالعہ بنانے کی کوشش میں سوچ کے مثبت پہلو بھی اجاگر کیے گئے ہیں۔
اردو ناقدین کا مطالعہ فرائڈ، ژونگ اور ایڈلر کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ کون کس سے متاثر ہے، اسی معیار پر ان کی درجہ بندی کی گئی، اور یہ تعجب خیز نہ ہونا چاہیے کہ اکثریت فرائڈ سے متاثر ہے۔ تقسیمِ ملک سے پیشتر ناقدین کا تذکرہ زمانی ترتیب کے لحاظ سے ہے۔ تقسیمِ ملک کے بعد پاکستان اور بھارت کے ناقدین کا مطالعہ جداگانہ طور پر کیا ہے۔ اس سے اور کچھ نہیں تو کم از کم یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ تعداد، معیار اور تجزیے کی ژرف بینی کے لحاظ سے پاکستان کے نفسیاتی ناقدین کو بھارت پر تفوق حاصل ہے۔ یہی نہیں بلکہ فرائڈ کے ساتھ ساتھ ژونگ سے متاثر ناقدین کی تعداد بھی بھارت کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
اس مقالے کی ترتیب یوں رکھی گئی ہے کہ تذکروں سے لے کر آج تک کے نقاد تک اردو تنقید کے بنیادی اور اہم ترین مباحث پر روشنی ڈالی جاسکے۔ یہ روشنی نفسیات سے مستعار ہے، اس لیے ایک لحاظ سے تو یہ مقالہ اردو تنقید کے جملہ مسائل، مباحث، اصناف اور تنقیدی نظریات کا نفسیاتی مطالعہ بن جاتا ہے۔ اور کسی وجہ سے نہیں تو صرف اس بنا پر ہی یہ کام قابلِ توجہ ہونا چاہیے۔ ایک خاص علم اور مخصوص نقطہ نظر سے پہلی مرتبہ اردو تنقید کے بنیادی معائیر کو نئے تناظر میں دیکھنے کی سعی کی گئی ہے‘‘۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔
باب اول: نفسیاتی تنقید کے ابتدائی نقوش۔ اس میں آبِ حیات کا خصوصی مطالعہ، اردو تنقید پر انگریزی اثرات، اردو میں نفسیاتی تنقید کی اوّلین مثالیں۔ باب دوم: فرائڈ ادب اور لاشعور۔ باب سوم: تنقید اور اجتماعی لاشعور۔ باب چہام: انفرادی نفسیات کی انتقادی اہمیت۔ باب پنجم: نفسیاتی تنقید کے اہم مباحث۔ باب ششم: نفسیاتی تنقید کا طریق کار۔ باب ہفتم: نفسیاتی تنقید کی عملی مثالیں۔
کتاب بڑے سائز کی ہے، سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے، مجلّد ہے۔

Share this: