ڈونلڈ ٹرمپ عمران ملاقات، امریکہ کا نیا ڈومور

کیا پاکستان پھر امریکی جال میں پھنس گیا؟

پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی قربانیوں اور امریکہ کی بے وفائیوں کی تاریخ ہے۔ پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا مگر 1965ء کی جنگ میں امریکہ نے پاکستان کو اسلحہ فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ 1971ء میں پاکستان ٹوٹ رہا تھا اور امریکہ کا ساتواں بحری بیڑا پاکستان نہ پہنچ سکا، اس لیے کہ وہ پاکستان کے لیے کبھی روانہ ہی نہیں ہوا تھا۔ ہم نے امریکہ کو ایف 16 طیاروں کے لیے ایک ارب ڈالر سے زیادہ پیشگی رقم ادا کی۔ امریکہ نے طیارے بھی نہ دیے اور رقم بھی واپس نہ کی۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد رقم واپس آئی تو سویابین آئل کی صورت میں۔ پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف عظیم الشان جہاد برپا کیا۔ اس جہاد میں 15 لاکھ افراد شہید اور 15 لاکھ زخمی ہوئے، مگر امریکہ ایک دن اچانک پاکستان کو تنہا چھوڑ کر اور افغانستان میں خانہ جنگی برپا کراکے فرار ہوگیا۔ نائن الیون کے بعد ہم نے امریکہ کی جنگ میں کرائے کے فوجی کا کردار ادا کیا۔ 70 ہزار لوگوں کو قربان کیا، 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان بھگتا، مگر امریکہ ہم سے Do More کہتا رہا۔ یہاں تک کہ امریکہ بھارت کا قریب ترین اتحادی بن گیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے حکمران طبقے کے امریکہ سے تعلق کو بیان کرنے کے حوالے سے یہ شعر بہترین ہے:۔

جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا وفا کیا ہے

اس کے برعکس امریکہ کا پاکستان سے جو تعلق ہے اُس کو بیان کرنے کے لیے اِس سے بہتر کوئی شعر نہیں ہوسکتا:۔

مرے محبوب نے وعدہ کیا ہے پانچویں دن کا
کسی سے سن لیا ہوگا کہ دنیا چار دن کی ہے

بدقسمتی سے ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات کے بعد ہمیں یہی شعر ہر طرف رقص کناں نظر آرہا ہے۔
صرف پاکستان کے حوالے سے نہیں، پاکستان کے حکمرانوں کے حوالے سے بھی امریکہ کی تاریخ شرمناک ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ جنرل پرویزمشرف اس بات کے لیے پورا زور صرف کررہے تھے کہ بل کلنٹن بھارت کے تین روزہ دورے پر جاتے ہوئے ایک دن کے لیے پاکستان بھی آجائیں، مگر بل کلنٹن نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ جنرل پرویز نے بہت کوشش کی تو بل کلنٹن چند گھنٹوں کے لیے پاکستان آنے پر آمادہ ہوئے، مگر انہوں نے فرمایا کہ وہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے باہر نہیں آئیں گے۔ جنرل پرویز نے اِس کو بھی اپنے لیے اعزاز کی بات سمجھا۔ مگر نائن الیون کے بعد جنرل پرویزمشرف نے ایک ٹیلی فون کال پر پورا پاکستان امریکہ کے حوالے کیا تو امریکہ ہی نہیں پوری مغربی دنیا جنرل پرویز کی عاشق ہوگئی۔ صورتِ حال یہ ہوئی کہ ایک مغربی رہنما پاکستان کے دورے سے واپس جارہا ہوتا تھا اور دوسرا رہنما پاکستان کے دورے پر آرہا ہوتا تھا۔ حد یہ کہ جنرل پرویز جیسے معمولی شخص کو مغربی رہنمائوں اور مغربی ذرائع ابلاغ نے ’’عظیم رہنما‘‘ اور ’’مدبر‘‘ کہنا شروع کردیا۔ مغربی دنیا کی یہ تاریخ ہے کہ وہ آزادی کی جدوجہد کرنے والے مجاہدین کو وحشی، درندے، باغی اور دہشت گرد کہتی ہے، اور غلاموں کو ’’سر‘‘ بنادیتی ہے، ’’جاگیردار‘‘ میں ڈھال دیتی ہے، ’’روشن خیال‘‘ بنادیتی ہے، ’’مدبر‘‘ قرار دے دیتی ہے۔
بدقسمتی سے اِس وقت بھی یہی ہورہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی 1.3 ارب ڈالر کی امداد بند کردی۔ اسے دہشت گردوں کا سرپرست قرار دیا۔ یہاں تک کہ پاکستان پر امریکی حملے کا خطرہ منڈلانے لگا۔ مگر وہی ڈونلڈ ٹرمپ اب عمران خان کو خصوصی دعوت پر امریکہ بلا چکے ہیں۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ عمران خان ’’عظیم رہنما‘‘ ہیں۔ انہوں نے عمران خان کو ’’طاقت ور‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ آئندہ انتخابات بھی وہی جیتیں گے اور ڈونلڈ ٹرمپ ان کی انتخابی مہم چلائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی شریکِ حیات میلانیا ٹرمپ عمران خان سے ’’متاثر‘‘ نظر آئیں۔ انہوں نے ان کے ساتھ کھینچی گئی تصاویر کو خود سوشل میڈیا پر ڈالا۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں ہونے والے پی ٹی آئی کے بڑے جلسے سے بھی ’’متاثر‘‘ نظر آئے اور انہوں نے فرمایا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین رہنما ہیں۔ یہ سب بہت خوب ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہمارا مسئلہ امریکی صدر کی زبان سے عمران خان کی تعریف ہے، یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مفادات؟
اس سوال کا جواب عیاں ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ ریاست پاکستان کے مفادات ہیں۔ اتفاق سے ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران کی تعریف تو ’’نقد‘‘ کی ہے مگر پاکستان کے مفادات کو انہوں نے ’’اُدھار‘‘ کے خانے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ثالث کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان کی 1.3 ارب ڈالر کی امداد بحال ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ امریکہ کی تجارت میں 10 سے 20 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یعنی ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے مفادات کو مستقبل سے وابستہ کردیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی قوم فی الحال عمران خان کی تعریف پر بھنگڑا ڈال کر خوش ہولے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی قوم نہ عمران کی تعریف کو اوڑھ سکتی ہے، نہ بچھا سکتی ہے، نہ کھا سکتی ہے، نہ پی سکتی ہے، نہ اس سے مسئلہ کشمیر حل کرانے میں مدد لے سکتی ہے، نہ امداد بحال کرانے میں اسے بروئے کار لاسکتی ہے، نہ اس سے پاکستان کے معاشی بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے، نہ روپے کی گرتی ہوئی قدر کو اس سے روکا جاسکتا ہے۔ اس تعریف کو برآمدات میں اضافے اور افراطِ زر میں کمی کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جاسکتا، نہ اس تعریف کو ڈالر اور پائونڈ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں یاد ہے امریکہ نے جنرل ایوب کو استعمال کیا اور پھینک دیا۔ جنرل ضیا کو استعمال کیا اور ’’گھر‘‘ کے لوگوں سے مروا دیا۔ جنرل پرویز کو استعمال کیا اور اُن کی وردی کو اُترنے سے روکنے میں کوئی کردار ادا کرنے سے صاف انکار کردیا۔ عمران خان اور ان کی سرپرست اسٹیبلشمنٹ میں بھی سرخاب کے پَر نہیں لگے۔ امریکہ انہیں بھی استعمال کرے گا اور پھینک دے گا۔
پاکستان کے عام کیا خاص لوگوں کو بھی اندازہ نہیں کہ پاکستان کا موجودہ حکمران طبقہ امریکہ کی کیا خدمت کررہا ہے۔ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار گیا ہے اور 18 سال کی کوششوں کے باوجود طالبان کو شکست دینے میں ناکام رہا ہے۔ چنانچہ وہ اب پاکستان کے حکمرانوں سے کہہ رہا ہے کہ میدانِ جنگ میں ہاری ہوئی جنگ کو مذاکرات کی میز پر میرے لیے جیت کر دکھائو۔ میرے لیے باعزت انخلا کو ممکن بنائو اور مستقبل میں ایسا افغانستان خلق کرو جس پر طالبان کا فیصلہ کن غلبہ نہ ہو۔ جہاں اسلام سپریم نہ ہو۔ جہاں امریکی ایجنٹ اور امریکہ کو شکست دینے والے ایک گھاٹ پر پانی پیتے نظر آئیں۔ امریکہ سپر پاور ہے مگر وہ طالبان کو اپنی طاقت کے ذریعے مذاکرات کی میز تک پر لانے کے قابل نہ تھا۔ اُس نے یہ کام بھی پاکستان کے حکمرانوں سے لیا۔ لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جب امریکہ پاکستان کے حکمران طبقے سے سب کچھ کرا چکا ہوگا تو وہ پاکستان سے کیے گئے وعدوں کو وفا کرے گا؟ اور پاکستان کے سلسلے میں اُس کا رویہ ایک بار پھر بدل نہیں جائے گا؟ پاکستان کے حکمرانوں کی کمزوری کا یہ عالم ہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی آدھی ہار کو فتح میں بدل چکے، مگر ابھی تک وہ امریکہ سے اِس کے سوا کوئی ٹھوس فائدہ نہیں اُٹھا سکے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا پیکیج دینے کا اعلان کردیا ہے۔ مگر اس پیکیج کی شرائط اتنی سخت ہیں کہ اس پیکیج کو پاکستانی قوم کا دشمن قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس پیکیج سے بلاشبہ عمران خان یا جرنیلوں کی ’’معاشی صحت‘‘ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، مگر پاکستان کے غریبوں اور متوسط طبقے کا پلیتھن نکل جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کی جتنی تعریف کی ہے اُس کا ایک پہلو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عوام سے وعدہ کیے ہوئے ہیں کہ وہ افغانستان سے امریکی فوج کو مکمل طور پر واپس بلا لیں گے۔ امریکہ اب تک افغانستان پر ایک ہزار ارب ڈالر کی خطیر رقم صرف کرچکا ہے اور اس کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ وہ نہ طالبان کو ختم کرسکا، نہ مستحکم حکومت قائم کرسکا، نہ قابلِ بھروسا فوج اور پولیس کھڑی کرسکا، نہ افغانستان کو اچھی جمہوریت دے سکا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا پورا ذہن معاشی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ فضول جنگوں پر جو رقم خرچ کررہا ہے اُسے امریکی معیشت اور امریکی عوام کی خوشحالی پر صرف ہونا چاہیے۔ چنانچہ وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ انتخابات کی مہم میں وہ یہ تاثر دیں کہ انہوں نے افغانستان میں امریکہ کی شکست کو فتح میں بھی بدل دیا ہے اور فضول خرچی کی راہ بھی بند کردی ہے۔ اس سے انہیں دوبارہ صدر منتخب ہونے میں بڑی مدد ملے گی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’عمران پرستی‘‘ کی عمر زیادہ نہیں ہے۔ ٹرمپ دوبارہ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے تو پھر وہ پاکستان کے سلسلے میں کوئی بھی رویہ اختیار کرنے میں آزاد ہوں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے قوی امکانات ہیں، مگر ایسا ہونا ضروری نہیں۔ اُن کے خلاف مواخذے کی تحریک موجود ہے اور اُن کا مواخذہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے حکمرانوں سے پوچھنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے امریکہ کو افغانستان میں فتح سے ہمکنار کرنے کے علاوہ اور کیا کیا وعدے کیے ہیں؟
پاکستان کے نقطہ نظر سے ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے تیار ہیں اور مودی نے اُن سے خود ثالثی کی درخواست کی ہے۔ اس پر بھارت میں کہرام برپا ہوچکا ہے اور بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ مودی نے ٹرمپ سے کشمیر پر ثالثی کے لیے کہا ہے۔ لیکن ٹرمپ نے اس سلسلے میں اظہار کا جو سانچہ استعمال کیا ہے اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ مودی نے ٹرمپ سے ثالثی کے لیے کہا ہے۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کے فقروں کا ترجمہ یہ ہے:
’’دو ہفتے قبل مودی نے پوچھا آپ ثالث بننا چاہیں گے؟ میں نے پوچھا کہاں؟ جواب ملا کشمیر۔
ٹرمپ کے بیان کا یہ سانچہ بتا رہا ہے کہ مودی نے ٹرمپ سے ضرور ثالثی کے لیے کہا ہے، مگر ان کا خیال ہوگا کہ ٹرمپ اس بات کو سرِعام نہیں کہیں گے۔ لیکن ٹرمپ کی کوئی تہذیب تو ہے نہیں۔ وہ ’’امریکی‘‘ ہیں اور پھر سفید فام امریکی۔ چنانچہ انہوں نے بیچ چوراہے یہ بھانڈا پھوڑ دیا۔ بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صحیح معنوں میں علاقائی طاقت بھی نہیں ہے، مگر اس کا Self Image ایک ’’سپر پاور‘‘ کا ہے۔ چنانچہ ٹرمپ کے بیان پر بھارت میں ہنگامہ ہوگیا اور بھارتی ذرائع ابلاغ ٹرمپ کے خلاف رواں ہوگئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اب امریکہ اگر کشمیر کے سلسلے میں ثالثی کرتا نظر آئے گا تو مودی کی ’’سیاسی موت‘‘ واقع ہوجائے گی۔ یعنی کشمیر پر امریکہ کی ثالثی کا امکان معدوم نہیں ہوا تو بھی فوری طور پر اس کے بروئے کار آنے کا کوئی امکان نہیں۔ امریکہ کے پاس ایسی کوئی گیدڑ سنگھی نہیں کہ وہ بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کرے، اور نہ ایسا کرنا امریکہ کے علاقائی اور عالمی مفاد میں ہے۔ اسے چین کے خلاف بھارت کی اشد ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ کبھی مسلمانوں کے معاملے میں ’’ایمان دار ثالث‘‘ نہیں رہا۔ ہمیں یاد ہے کہ امریکہ کیا، پورے یورپ اور تمام عرب ریاستوں نے مل کر یاسرعرفات کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اوسلو امن سمجھوتے پر دستخط کردیں۔ یاسرعرفات نے اپنی پوری مزاحمتی تاریخ کو پھلانگ کر اوسلو امن سمجھوتے پر دستخط کردیے۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یاسرعرفات اپنے عوام کی نظروں سے بھی گر گئے اور امریکہ نے اسرائیل کو اوسلو امن سمجھوتے پر عمل کرنے پر مجبور کرنے سے انکار کردیا۔ چنانچہ اوسلو امن سمجھوتہ اپنی موت آپ مر گیا۔ بعدازاں اسرائیل نے یاسرعرفات کو زہر دے کر مار ڈالا۔ امریکہ کے ثالثانہ کردار کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا ہے۔ ٹرمپ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو بھی ’’جائز‘‘ قرار دے دیا ہے۔ ٹرمپ نے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی ناجائز بستیوں کو اسرائیل کا ’’حق‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ ٹرمپ کے داماد جیررڈ کشنر نے حال ہی میں فرمایا ہے کہ فلسطینی اپنے ہر حق سے دست بردار ہوجائیں تو ان کے پسماندہ علاقوں میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ یعنی ٹرمپ کے داماد نے فلسطینیوں کی آزاد ریاست، فلسطینیوں کی جدوجہد اور ان کی عظیم قربانیوں کی قیمت صرف 50 ارب ڈالر لگائی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ کتنا ایمان دار ثالث ہے۔ امریکہ کی ثالثی بوسنیا ہرزیگووینا کے مسلمانوں کے حوالے سے بھی پوری طرح عیاں ہوکر سامنے آئی تھی۔ بوسنیا سابق یوگوسلاویہ کا حصہ تھا اور بوسنیا کے مسلمانوں کا حق تھا کہ یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد آزاد ریاست قائم کریں، مگر سرب اور کروٹس بوسنیا کے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے تین سال میں تین لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو مار ڈالا۔ امریکہ اور پورا یورپ تین برسوں تک مسلمانوں کو شہید ہوتے دیکھتے رہے۔ جب مسلمانوں کے سارے کس بل نکل گئے تو امریکہ ’’ثالث‘‘ بن کر سامنے آیا اور اس نے بوسنیا کو ایک وفاق یا فیڈریشن کا حصہ بننے پر مجبور کرکے اس کی آزادی کے امکان کو معدوم کردیا۔ بدقسمتی سے پاکستان کا حکمران طبقہ اسی امریکہ کو کشمیر کے سلسلے میں ثالث دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے کے پاس ایمان تو خیر ہے ہی نہیں، کیا اس نے ساری عقل بھی بیچ کھائی ہے؟

اسامہ کی تلاش کا سرا آئی ایس آئی نے فراہم کیا تھا عمران خان کا امریکہ میں فاکس نیوز کو انٹرویو:۔

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کو آٹھ سال مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس فوجی کارروائی سے جڑے بہت سے سوال آج تک جواب طلب ہیںپاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی جانب سے دی گئی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔عمران خان نے یہ بات اپنے دورہ امریکہ کے دوران ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ سی آئی اے سے پوچھیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی نے ابتدا میں اسامہ کی موجودگی کا ٹیلی فونک لنک امریکہ کو فراہم کیا تھا۔عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ کو اپنا اتحادی سمجھتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ ہم خود اسامہ بن لادن کو پکڑتے لیکن امریکہ نے ہماری سرزمین میں گھس کر ایک آدمی کو ہلاک کر دیا۔عمران خان نے انٹرویو میں یہ عندیہ بھی دیا کہ اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی میں امریکہ کی مبینہ طور پر مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے رہائی کے بدلے امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی پر بات ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سے ان کی بات چیت میں تو ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ زیرِ بحث نہیں آیا تاہم ’مستقبل قریب میں اس بارے میں مذاکرات ہو سکتے ہیں۔عمران خان نے پروگرام ’سپیشل رپورٹ‘ کے اینکر بریٹ بیئر کو بتایا کہ ’یہ پاکستان میں یہ ایک بہت جذباتی مسئلہ ہے کیونکہ وہاں شکیل آفریدی کو امریکہ کا جاسوس سمجھتے ہیں۔عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں یرغمال بنائے گئے دو یا تین امریکی اور آسٹریلوی باشندوں کی بازیابی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔اس سوال پر کہ اگر انڈیا اپنے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کی حامی بھرتا ہے تو کیا پاکستان بھی تخفیف پر رضامند ہو جائے گا، عمران خان نے کہا: ’ہاں! جوہری جنگ کسی تنازع کا حل نہیں ہے بلکہ یہ تو اپنے آپ کو تباہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ انڈیا کے ساتھ ہماری ڈھائی ہزار کلومیٹر کی سرحد ہے۔اینکر نے جب عمران خان سے پوچھا کہ کیا پاکستان کے جوہری ہتھیار کتنے محفوظ ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ کسی کو بھی پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس دنیا کی سب سے پیشہ وارانہ فوج ہے اور ان جوہری ہتھیاروں کا کمانڈ اور کنٹرول بھی جامع اور جدید ہے اور امریکہ کو یہ سب معلوم ہے۔ایران میں حالیہ کشیدگی اور مبینہ جوہری خلاف ورزیوں کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ ’ایران کے ہمسائے کی حیثیت سے ہم چاہیں گے کہ یہ تنازع ایک جنگ کی شکل اختیار نہ کرے۔انھوں نے کہا کہ ہم اپنے تجربے کی بدولت یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’ایران میں جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ نہ صرف ہمسائے کی حیثیت سے ہم اس سے متاثر ہوں گے بلکہ تیل کی قیمتوں پر بھی اس کا برا اثر پڑے گا۔عمران خان کا حالیہ افغان امن مذاکرات کے بارے میں کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اب تک سب سے زیادہ مفید رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کو طالبان سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ افغان طالبان ایک مقامی گروہ ہے جو افغانستان سے باہر کوئی حملہ نہیں کرنا چاہیں گے اور ’میرے خیال میں افغان حکومت کا طالبان کے ساتھ مشترکہ حکومت کا قیام امریکہ اور پورے خطے کی سلامتی کے لیے اچھا رہے گا۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے خطرہ یہ ہے کہ اگر ہم کوئی امن معاہدہ نہیں کر پاتے تو دولتِ اسلامیہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔

دورۂ امریکہ کیسے اور کیوں؟

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے امریکہ پہنچنے پر اُن کے استقبال کے لیے کسی عہدیدار کے نہ آنے پر سفارتی حلقوں میں سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا یہ دورہ صدر ٹرمپ کی دعوت پر کیا جارہا ہے؟ پاکستانی وقت کے مطابق رات گئے قطر ایئرویز کے ذریعے امریکہ پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان کا ہوائی اڈے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کے اعلیٰ حکام نے استقبال کیا۔ پاکستان کے اعلیٰ حکام کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات طے کرانے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کہتے ہیں کہ عمران خان کے امریکی دورے کے لیے محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیررڈ کشنر سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ دفتر خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ سعودی ولی عہد نے وزیراعظم عمران خان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وقت حاصل کرنے میں مدد کی، تاہم تفصیل بتانے سے انکار کیا ہے۔ یہ سوال شدت سے پوچھا جارہا ہے کہ اس دورے کا مقصد کیا ہے؟ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ہیں۔ اس دورے کے لیے واشنگٹن میں لابنگ فرم سے معاہدہ بھی کیا گیا ہے، جس نے لاکھوں ڈالر کے عوض پاکستانی مؤقف کو اجاگر کرنے کے لیے لابنگ کی۔ پرویزمشرف دور سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ جب بھی امریکہ کا دورہ کیا جاتا ہے، ملک میں حکومت مدارس پر سختی کرتی ہے اور حافظ سعید کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ پرویزمشرف بھی پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیتے تھے، اب عمران حکومت نے بھی یہی کیا، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ حکومت پارلیمنٹ سے رائے لینے اور دوسری جماعتوں کی شراکت داری سے مستفید ہونے کے لیے قطعاً تیار نہیں۔ پاکستان کے آدھے پارلیمان کو دیوار سے لگا کر حکومت ملک کا مقدمہ کیسے لڑے گی؟ امریکہ چاہے گا کہ پاکستان سے امن عمل کے استحکام کی ضمانت لے۔ پاکستان کسی قسم کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ صدر ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان دونوں غیر یقینی شخصیت کے مالک ہیں، خدشہ ہے دورے کے دوران کوئی اونچ نیچ نہ ہوجائے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اسے طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہے، لہٰذا کسی اور سہارے کی ضروت نہیں۔ امریکہ کی جانب سے پاکستانی قیادت کا دورہ ایک ہی زاویے سے دیکھتے ہوئے رکھا گیا ہے، اور وہ یہ کہ امریکی فوج کا افغانستان سے باعزت انخلا کیسے ممکن ہوگا، جس کے لیے واشنگٹن کی جانب سے ڈومور کی مانگ ہوگی۔ پاکستان نے طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں معاونت کی، اب امریکہ چاہے گا کہ امن عمل کے استحکام کی ضمانت لے۔ لیکن پاکستان اس عمل میں کسی قسم کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ وزیراعظم کا یہ دورہ ذاتی نوعیت کا ہے، کیونکہ یہ امریکی محکمہ خارجہ کے ذریعے طے نہیں ہوا، اور سعودی عرب نے وائٹ ہائوس پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے رکھوایا ہے۔ پاکستان افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلا کے نتیجے میں قربانی کا بکرا بننے سے کیسے بچے گا؟ اس پر پارلیمان کو بریفنگ نہیں دی گئی۔ حکومت ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر چاہ بہار بندرگاہ کی طرح پابندیاں اٹھوانے کی کوئی بات نہیں کرے گی۔ امریکی قیادت کے سامنے پاکستان کا مقدمہ کیسے پیش کرنا ہے؟ اس بارے میں حکومت نے پارلیمنٹ کو نہ تو اعتماد میں لیا، نہ ہی حمایت چاہی، اس لیے اپوزیشن بھی حکومت سے بات نہیں کرسکتی۔ وہ جب بھی بات کرتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اپوزیشن رہنما این آر او مانگ رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان امریکہ کے دورے پر ہیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ان کے ہمراہ ہیں، اس دورے کے لیے اصل تیاری بھی انہوں نے ہی کی ہے، وزیراعظم کو تو ایک جمہوری حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے فیصلوں کی توثیق کرنی ہے۔ امریکہ جانے سے قبل وہ بجٹ کے خلاف مزاحمت کرنے والے تاجر رہنمائوں سے بات چیت کے لیے چیمبر آف کامرس گئے تھے جہاں صرف ایک ہی بات کی کہ جب تک ٹیکس کا نظام درست نہیں ہوگا، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، مشکل فیصلے اس لیے کیے ہیں کہ ملک اس وقت مشکل حالات میں ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان نے عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں اور اپنے پارٹی منشور کی روشنی میں پی ٹی آئی حکومت کی جو ترجیحات متعین کیں اُن میں کرپشن فری سوسائٹی کے علاوہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عمل داری کو یقینی بنانا بھی شامل تھا، جس کے لیے ضروری تھا کہ بے لاگ اور بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔ لیکن یہ کیسا احتساب ہے کہ عمران خان کا انتخاب یقینی بنانے والے بھی کہہ رہے ہیں کہ حکومت میں صرف ایک عمران خان ہیں جن پر اعتمادکیا جاسکتا ہے، باقی سب کچرا ہے۔ اور اگر وزیراعظم کی زبان میں بات کریں تو سب ’’ریلو کٹے‘‘ ہیں۔ اگرچہ احتساب کے لیے نیب متحرک ہے، عدلیہ بھی آئین اور قانون کے دائرۂ کار میں بے لاگ احتساب کے عمل میں معاون بنی ہوئی ہے، عساکر ِ پاکستان بھی بہتر گورننس اور اس ارضِ وطن کو اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے قالب میں ڈھالنے کے لیے حکومت کے مشکل فیصلوں میں اس کا ہاتھ بٹانے کا عزم باندھے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تقاضوں کے مطابق تعمیر وطن میں حصہ ڈال رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود نتائج نہیں مل رہے۔

(میاں منیر احمد)

Share this: