دلیل عربی میں

عربی دانی کا دعویٰ تو کبھی نہیں رہا کہ ابھی تو اردو ہی ’’سیدھی‘‘ نہیں ہوئی، تاہم عربی کے وہ الفاظ جو اردو میں عام ہیں، دل چاہتا ہے کہ کبھی کبھی ان الفاظ کے لغوی معنی پر بھی روشنی ڈالی جائے۔ ان میں سے ایک لفظ ’’دلیل‘‘ ہے۔ اردو میں بہت عام ہے۔ وکلا عدالتوں میں دلیلیں دیتے ہیں۔ عام افراد بھی بحث مباحثے میں ایک دوسرے کو قائل کرنے کے لیے دلیل کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ کام نہ آئے تو نوبت لاٹھی، ڈنڈے اور آتشیں اسلحے تک پہنچتی ہے، اور بدقسمتی سے یہ دلیل کام دکھا دیتی ہے۔ عام آدمی سے لے کر حکمرانوں تک ایسے دلائل پسند ہیں۔
دلیل ظاہر ہے کہ عربی زبان کا لفظ ہے، اور یہ قرآنِ کریم میں سورہ فرقان میں آیا ہے، لیکن وہاں اس کا مطلب وہ نہیں جو ہم آپ اردو میں استعمال کرتے ہیں۔ الفرقان میں رب کریم نے فرمایا ’’ہم نے سورج کو اس (سائے) پر دلیل بنایا‘‘ (45)۔ مفسرین نے اس کی یہ وضاحت کی ہے کہ ’’ملاحوں کی اصطلاح میں دلیل اُس شخص کو کہتے ہیں جو کشتیوں کو راستہ دکھاتا ہو۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ سائے کا پھیلنا اور سکڑنا سورج کے عروج و زوال اور طلوع و غروب کا تابع ہے‘‘۔ اب ظاہر ہے کہ اردو میں دلیل ان معنوں میں استعمال نہیں ہوتی، اور نہ اُس ملاح کو کہتے ہیں جو کشتیوں کو راستہ دکھاتا ہو۔ عربی میں بھی دلیل کا لفظ انہی معنوں میں آتا ہے جو اردو میں ہیں۔ عربی میں کہا جاتا ہے ’’دلّاوقلّا‘‘ یعنی دلیل کے ساتھ اور مختصر۔ قلّا مختلف صورتوں میں اردو میں مستعمل ہے، مثلاً قلیل۔ ریاضی کی اصطلاح میں ’’ذواضاف اقل‘‘۔ ایک بار پھر وضاحت کردیں کہ ہماری عربی دانی صرف ’’اگل لک‘‘ (اقل لک) اور ’’شویا گدام‘‘ (قدام) تک ہے۔ یاد آیا کہ ایک پرانی تحریر میں قِدم (ق بالکسر) دیکھنے میں آیا۔ قَدم، اقدام وغیرہ تو پڑھا تھا چنانچہ لغت سے رجوع کیا۔ قِدم کا مطلب ہے ’’ہمیشگی‘‘۔ یہ اللہ کی صفت ہے، ہمیشہ رہنے والا۔ ایک اور دلچسپ لفظ ہے ’’جم غفیر‘‘۔ مفہوم سے سب واقف ہیں اور بڑے شہروں کی سڑکوں پر آئے دن دیکھنے میں آتا ہے، یا جلسوں کے شرکاء کی تعداد کے حوالے سے یہ اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ لیکن مطلب کیا ہے؟ ’غفیر‘ عربی کا لفظ اور اسم صفت ہے، یعنی اتنی بڑی جماعت کہ جہاں تک نظر کام کرے وہی نظر آئے۔ اس کا مطلب زمین کو ڈھانپنے والا۔ ظاہر ہے کہ بہت بڑا مجمع ہوگا تو زمین ڈھک جائے گی۔ اور ’جم‘ کہتے ہیں گروہ کو۔ کثرتِ ہجوم سے زمین چھپ جاتی ہے اس لیے جم غفیر کے معنی ہجومِ عام کے ہوگئے۔ اب ایک شعر بھی پڑھ لیجیے، صریر کا ہے:

کیا سب کے سب حضور قربان ہو گئے
کل تک تو جلوہ گاہ میں جمِ غفیر تھا

ہندی میں جمگھٹ بھی بھیڑ، انبوہ، ہجوم کے معنوں میں آتا ہے۔ امیر کا شعر ہے:

بزم میں زمزمۂ حسن ہے یا نغمۂ عشق
انہی لوگوں کا رہا کرتا ہے اکثر جمگھٹ

ہندو دیوالی کی صبح کو بھی جمگھٹ کا دن کہتے ہیں۔
ٹی وی چینلز پر بڑے نرالے الفاظ اور تلفظ سننے کو ملتے ہیں کہ ہم ’’اش اش‘‘ کر اُٹھتے ہیں۔ ایک وزیر نے لوگوں کو خلا میں بھجوانے کی بات کی تو کیپٹل ٹی وی پر ایک خاتون نیوز کاسٹر نے اس حوالے سے ’’خلا نورد‘‘ کی بات کی۔ بات تو غلط نہ تھی، مگر وہ ’’نورد‘‘ کا تلفظ بروزن سعود، صعود، ورود کررہی تھیں۔ انہوں نے شاید معروف کتاب ’’صحرا نورد کے خطوط‘‘ نہیں پڑھی، یا پڑھی ہو تو اسی طرح۔ ’نورد‘ کا قافیہ سرد، مرد وغیرہ ہے۔ جیو کے ایک پروگرام کی تعریف میں معلن (مُع۔ لِن) دعوت دے رہے تھے کہ اس پروگرام سے حِظ اٹھائیے، یعنی ’ح‘ کے نیچے زیر۔ اگر ’ح‘ پر زبر لگا کر بولتے تو حَظ آتا۔
ایک وفاقی وزیر مولانا فضل الرحمن پر طنز کررہے تھے کہ ان کی زبان گنگ ہوگئی۔ یعنی ’گ‘ پر زبر، جیسے دریائے گنگ و جمن۔ لیکن خیر وزیروں کو حق ہے وہ جیسے چاہیں بولیں۔ زباں بگڑے تو کوئی بات نہیں، چلن نہیں بگڑنا چاہیے۔ حکومتِ پنجاب نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے کہ پانچویں جماعت تک تعلیم اردو میں دی جائے گی۔ دوسرے صوبے بھی اس کی پیروی کریں تو کوئی ہرج نہیں۔ پنجاب ویسے بھی اردو کی خدمت میں آگے رہا ہے، اور وہاں پہلے ہی سے سرکاری اسکولوں میں ذریعہ تعلیم اردو ہے۔ حکومتِ پنجاب اپنے صوبائی وزرا اور وفاقی وزرا کو ضرور ان اسکولوں میں داخل کرکے پانچویں جماعت کا اردو کا کورس کروا دے۔ اور کچھ نہیں تو وفاقی وزیر داخلہ پنجابی میں گالیاں دینے کے بجائے اردو میں گالیاں دے سکیں گے۔ گالیاں تو ہر زبان میں ہوتی ہیں۔ جو زبان گنگ ہوجاتی ہے اس میں پہلے حرف پر پیش ہے یعنی گُنگ۔ مذکورہ وزیر نے لفظ ’گونگا‘ تو سن رکھا ہوگا، یا اسے بھی وہ دریائے گنگا کی طرح بولتے ہیں؟ دریائے گنگا سے نکلنے والی بڑی سی نہر بھی نہر گنگ کہلاتی ہے اور گنگا میلی ہونے کے باوجود گونگی نہیں۔
چلیے، عربی ہی کے حوالے سے دانشِ مستعار سے کام چلاتے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ پر عربی زبان میں ’’موت‘‘ کے مختلف نام دیے گئے ہیں، جن میں سے سب تو نہیں، کچھ ضیافتِ طبع کے لیے پیش ہیں:
موت وہ شے ہے جس کے لیے عربی زبان میں کئی نام وارد ہوئے ہیں۔ ان میں بعض مجازی معنی رکھتے ہیں، مگر عربی زبان کی اہم اور بڑی کتابوں نے ان کو بھی موت کے لیے مختص کردیا۔
شَعُوبُ : یہ نام اس لیے دیا گیا کیوں کہ شَعَّبَ کا معنی فراق کو جنم دینا ہے۔ موت انسان کو اس کے گرد وپیش اور اطراف موجود انسانوں کے ساتھ فراق میں مبتلا کردیتی ہے۔
النّیط : یہ دراصل اس موٹی رگ کو کہا جاتا ہے جو دل کا تعلق پھیپھڑوں سے قائم کرتی ہے۔ اگر یہ کٹ جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے ’’رماہ اللہ بالنیط…‘‘
الرَّمَد : ابن سیدہ (متوفی : 458 ہجری) نے اپنی کتاب المخصص میں اس لفظ کو موت کے نام کے طور پر استعمال کیا ہے۔
موت کے مشہور ناموں میں المنیۃ اورالوفاۃ شامل ہیں۔
المنون : ابن سیدہ نے اپنی کتاب المخصص میں زمانے کو منون کا نام دیا ہے، کیوں کہ زمانہ انسان کی منۃ یعنی قوت کو لے جاتا ہے۔
الحِمام : حمَّ الشیء وأحمَّ یعنی قریب ہونا۔
الغولُ : عربوں میں موت کے لیے استعمال ہونے والا یہ انوکھا اور عجیب نام ہے۔
حَلاق : یہ بھی موت کا نام ہے جو صاحبین لغت کے نزدیک حالقہ سے معدول ہے۔
القاضیۃ : یہ بھی موت کا نام ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے قَضَی نَحبَہُ یعنی اس نے عمر پوری کرلی، یا وہ مر گیا۔
الحَتفُ :یہ موت کے مشہور ناموں میں سے ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے لقی حتفہ أو مات حتف أنفہ یعنی کسی ضرب یا قتل کے بغیر اپنی موت مرنا یا طبعی موت مرنا۔
الخالج : قدیم عربی میں یہ موت کے نام کے طور پر استعمال ہوا۔ اس لیے کہ خلج کا معنی کھینچ لینا ہے اور موت انسان کے اندر سے جان کھینچ لیتی ہے ۔
عربی میں موت کو أم قشعم کا نام بھی دیا گیا۔ ابن سیدہ کہتے ہیں کہ موت کا نام جباذ بھی ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ جذب کو الٹاکر بنا ہے، جب کہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ اصلی لفظ ہے جو اُلٹا کر نہیں بنا۔
ابن سیدہ نے اپنی کتاب المخصص میں ابن درید کے حوالے سے کہا ہے کہ الکفت اور الجُداع بھی موت کے نام ہیں۔
موت کے ناموں میں سے المَنَی بھی ہے ۔
ھند: یہ ایک قبیلے کا نام ہے جس کے لوگ سخت جان سمجھے جاتے ہیں۔ لہٰذا دشمن کے ساتھ ان لوگوں کے معاملے کے پیش نظر اس قبیلے کا نام موت کے لیے استعمال ہونے لگا۔ عربی زبان کی ’’امہات الکتب‘‘ کے صاحبین کے مطابق اگر کوئی یہ کہے کہ ’’لقی ہند الأحامس‘‘ تو اس کا معنی ہوگا وہ مر گیا۔
اگرچہ عربی زبان میں موت کے متعدد نام ہیں تاہم موت کی خبر دینے کے لیے صرف ایک لفظ ہے۔ یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عربوں میں موت عظیم حرمت کی حامل ہے خواہ اس کی کوئی بھی صورت یا وجہ ہو۔ موت کی اطلاع یا خبر دینے کے لیے عربی میں النعی کا لفظ ہے ۔ کہتے ہیں تناعی القومُ فی القتال اور نَعوا قتلاہم۔
النعی کا معنی موت کی اطلاع یا خبر دینا ہے ۔
موت کے لیے عربی زبان میں بیس سے زیادہ الفاظ آئے ہیں۔

Share this: