بارش کی تباہ کاریاں اور ہماری حکمرانی

وطنِ عزیز کے طول و عرض میں مون سون کا موسم پورے جوبن پر ہے۔ ملک کے کم و بیش تمام علاقے شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ پنجاب کے بڑے حصے میں طوفانی بارشوں سے نظام زندگی مفلوج ہے، بھارتی ریاست راجستھان سے آنے والے ہوائوں کے نظام کے باعث سندھ میں بھی خصوصاً بڑے شہروں کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص اور جامشورو وغیرہ میں روزمرہ کے معمولات تلپٹ ہوگئے ہیں اور شہری علاقے کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہے ہیں۔ صوبہ خیبر پختون خوا، آزاد کشمیر اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر علاقوں کی صورت حال بھی مختلف نہیں۔ متعدد شہروں میں مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے کی اطلاعات ہیں، جن سے درجنوں لوگ جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگ بجلی کی تنصیبات میں کرنٹ آنے اور انہیں چھو کر موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔ نشیبی علاقوں میں جمع ہونے والے پانی سے بھی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بہت سے علاقوں میں کئی کئی روز سے بجلی کی بندش نے زندگی کو مزید اجیرن بنادیا ہے۔ برسات کے باعث رونما ہونے والے حادثات میں بھی بہت سے لوگ لقمۂ اجل بنے ہیں… غرضیکہ ہر طرف جانی و مالی نقصان اور تباہی و بربادی کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔!۔
دوسری جانب کیفیت یہ ہے کہ سارا سال پانی کی قلت کا شکار رہنے والا دریائے چناب بھی آج کل سیلاب کی صورت حال سے دوچار ہے، اور اس میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے۔ خدانخواستہ اگر دریائوں میں سیلاب آتا ہے تو اس سے مزید علاقوں میں تباہی و بربادی پھیلنے اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دریائے چناب کے مسلسل کٹائو کے باعث محمود پور نامی بستی پہلے ہی صفحہ ہستی سے غائب ہوچکی ہے۔
بارش یقیناً اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، مگر ہم نے اپنی نااہلی اور کاہلی کے سبب اسے اپنے لیے زحمت بنا لیا ہے۔ ہم سارا سال پانی کی قلت کا رونا روتے رہتے ہیں، مگر جب بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے تو ہماری اجتماعی اور انفرادی سطح پر لاپروائی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث آسمان سے نازل ہونے والے پانی کو سنبھال کر بہتر استعمال میں لانے اور سال کے باقی دنوں میں اس کی قلت کے ازالے کا اہتمام کرنے کے بجائے ہم خود کو اس کے ہاتھوں بے بس پاتے اوراسے اپنی تباہی کا سبب بننے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری وفاقی و صوبائی حکومتیں اور بلدیاتی ادارے بارشوں اور سیلابی پانی کی تباہ کاریوں سے بچنے اور اس کے مفید استعمال کی منصوبہ بندی کرنے میں قطعی ناکام رہے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کسی بھی سطح پر اس ضمن میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔کس قدر دکھ کا مقام ہے کہ ہم نصف صدی قبل بنائے گئے تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد آج تک کوئی بڑا ڈیم تک نہیں بنا سکے۔ اس ضمن میں لمبی چوڑی تقریریں اور قصے کہانیاں تو طویل عرصے سے لوگوں کو سنائی جارہی ہیں مگر برسرِزمین آج تک کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی… اور ہمارے حکمران طویل عرصے سے مختلف حیلوں بہانوں سے اس جانب سے مسلسل پہلوتہی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے چلے آرہے ہیں۔
ہمارا انفرادی سطح پر طرزِعمل بھی اس اجتماعی رویّے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ بارشیں اچانک نہیں آتیں، ہمیں ہر سال انہی دنوں میں ان سے واسطہ پڑتا ہے، بلکہ اب تو محکمہ موسمیات ان کی شدت اور متوقع وقت کے بارے میں بھی قبل از وقت ہی آگاہ اور انتباہ کردیتا ہے، مگر ہم نہ اجتماعی طور پر اور نہ ہی انفرادی طور پر سنجیدگی سے ان کے نقصانات سے بچائو کی تدبیر کی جانب متوجہ ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں نقصان کے حجم میں خاصا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہم انفرادی سطح پر اپنے شکستہ اور خستہ حال مکانات کی بروقت مرمت کرلیں اور اپنے گلی، محلے میں نکاسیِ آب کے نظام اور برقی تنصیبات کو درست کرنے پر معمولی توجہ بھی دے لیں تو بہت سے بڑے بڑے نقصانات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے، مگر کوئی اس جانب توجہ دینے کی زخمت ہی نہیں کرتا۔
ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کی سطح پر بے حسی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ اِس وقت جب کہ ہر طرف تباہی و بربادی کے مناظر نمایاں ہیں، انہیں اتہام بازی سے فرصت نہیں۔ کسی کو احساس تک نہیں کہ بارشوں کے متاثرین اور جانی و مالی نقصان کے باعث تباہ حال اپنے ہم وطنوں کے لیے اگر کوئی ٹھوس عملی اقدام یا امداد نہیں تو کم از کم لفظی ہمدردی کے دو بول ہی بول دیں۔
موسلادھار بارشوں کے باعث جہاں ایک جانب دریائوں میں طغیانی اور سیلاب کا شدید خطرہ ہے وہیں بارش کے مابعد اثرات کے طور پر کئی وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا بھی اندیشہ ہے، خصوصاً ان حالات میں جب کہ عیدِ قربان بھی سرپر ہے اور قربانی کے لیے لاکھوں جانور شہروں میں لائے گئے ہیں۔ ان کی شہری علاقوں میں موجودگی اور عید پر قربانی کے موقع پر پیدا ہونے والے مسائل بھی برسات کے موسم کے باعث زیادہ پیچیدہ اور سنگین ہو سکتے ہیں۔ کاش ہمارے متعلقہ محکمے اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے بروقت مؤثر اقدامات پر توجہ دے سکیں…!!!۔
(حامد ریاض ڈوگر)

Share this: