مطالعہ کیسے کیا جائے؟۔

ابوسعدی

مطالعہ کی عادت پروان چڑھانے کے لیے آپ کو چند باتوں کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہوگا:۔
٭اول یہ کہ مطالعہ کا وقت مقرر کریں اور اس وقت میں کسی اور سرگرمی میں مصروف رہنے یا اس کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے سے گریز کریں۔
٭دوسری اہم بات یہ کہ مطالعہ دلچسپی کے ساتھ کریں۔ اگر آپ سبق کو بوجھ یا مجبوری سمجھ کر ازبر کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ کبھی یاد نہیں ہوسکے گا۔ مطالعہ کی عادت کی ابتدا آپ نصابی کتب سے کرسکتے ہیں۔ اپنی کورس کی کتابوں کو فارغ اوقات میں پڑھا کریں۔ اس طرح آپ کی دلچسپی بڑھے گی۔
٭تیسری اہم بات یہ کہ اپنے مطالعہ کو محدود نہ کریں۔ یعنی درسی کتب کے علاوہ بھی دیگر کتابوں کا مطالعہ کرتے رہا کریں۔ اخبار پڑھا کریں، رسائل کا مطالعہ کیا کریں اور لائبریری میں جاکر وہاں کتابیں پڑھا کریں۔
٭ایک اور اہم بات یہ کہ مطالعہ کا وقت بہت طویل نہ ہو، ورنہ آپ خود کتاب سے بور ہوجائیں گے۔ کسی ایک موضوع کا مطالعہ کرنے کے بعد وقفہ ضرور دیا کریں۔
٭پڑھنے کے لیے ہمیشہ پُرسکون جگہ کا انتخاب کریں۔ بعض بچے شور شرابے کی جگہ پر کتاب لے کر بیٹھ جاتے ہیں جس سے نہ تو وہ کتاب پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں اور نہ ہی پڑھائی میں ان کی دلچسپی بڑھتی ہے۔
٭لیٹ کر پڑھنے سے گریز کریں، کیونکہ اس طرح نظر پر برا اثر پڑتا ہے۔
(بحوالہ: رشد، فروری2009ء)

حاتم کا مہمان

ایک اعرابی حاتم کی بستی میں گیا۔ چونکہ رات بہت ہوچکی تھی، وہ حاتم کے ہاں نہ گیا اور کہیں اور رات گزار لی۔ صبح سویرے وہ رخت ِ سفر باندھ کر چلنے کو تھا کہ وہاں سے حاتم کا گزر ہوا، پوچھا: اے مسافر! تم نے رات کہاں گزاری؟ کہا: حاتم کے ہاں۔ پوچھا: وہاں کیسے گزاری؟ بولا: اس نے میرے لیے ایک پلا ہوا اونٹ ذبح کیا اور بے انتہا خاطر مدارات کی۔ بولا: حاتم تو میں ہوں، تم میرے پاس نہیں آئے، جھوٹ کیوں بول رہے ہو؟ کہا: اگر میں لوگوں کو یہ کہوں کہ حاتم کی بستی میں کسی اور کا مہمان ہوا تھا تو لوگ مجھے جھوٹا سمجھیں گے، اپنی عزت بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہوں۔
(مرتب: علی حمزہ۔ ماہنامہ چشمِ بیدار)

باقر خانی

شیرمال کے مقابلے میں ہلکی اور کچھ چھوٹی روٹی۔ نصیرالدین حیدر (شاہِ اودھ) کے زمانے میں محمدو نامی ایک ولایتی (ایرانی) شخص نے آکر فرنگی محل میں باورچی کی دکان کھولی۔
ایران کے مسلمان خمیری روٹیاں کھاتے اور ہندوستان کی سرزمین میں تنور گاڑتے ہوئے آئے تھے، مگر اُس وقت تک ساری روٹیاں تھیں، جن میں گھی کا لگائو نہ ہوتا۔ ہندوئوں کو پوریاں تلتے دیکھ کر مسلمانوں نے توے کی روٹیوں میں گھی کا جز دے کے پراٹھے ایجاد کیے، اور پھر ان میں متعدد تہیں اور پرتیں دینا شروع کیں۔ پھر اسی پراٹھے میں پہلی ترقی یہ ہوئی کہ باقر خانی کا رواج ہوا جو ابتداً امرا کے دسترخوان کی بہت تکلفی روٹی تھی۔ لکھنؤ میں محمدوؔ نے باقر خانی کو ترقی دے کر شیرمال پکائی جو مزے، بوباس، نفاست اور لطافت میں باقرخانی اور تکلفی روٹیوں کی تمام اصناف سے بڑھ گئی… چند ہی روز میں شیرمال کو اس قدر مقبولیت حاصل ہوئی کہ وہ لکھنؤ کی نیشنل روٹی قرار پائی۔ یہاں تک کہ جس دعوت میں شیرمال نہ ہو وہ مکمل نہیں سمجھی جاتی۔ (شرر:گزشتہ لکھنؤ)
(بحوالہ ’’کلاسکی ادب کی فرہنگ‘‘۔ ص 96۔ مرتبہ رشید حسن خاں۔ شائع کردہ مجلسِ ترقی ادب لاہور)

غزل

اک بار زندگی جو ملی بے رخی کے ساتھ
دیکھا نہ پھر کسی نے ہمیں زندگی کے ساتھ
اے سنگ دل نہ کھیل مری بے بسی کے ساتھ
تاریخ تجھ کو یاد کرے گی بدی کے ساتھ
شہرہ جہاں میں جس کی وفا دشمنی کا ہے
باندھا ہے اپنے ہاتھ سے دامن اسی کے ساتھ
بادہ کشوں کے ظرف کا کھل جائے گا بھرم
ساقی کا التفات ہے دریا دلی کے ساتھ
یہ حاصلِ حیات ہے یہ فخر کائنات
اے زندگی مذاق نہ کر آدمی کے ساتھ
گنوا رہے ہیں عیب ہمارے جناب شیخ
شعلوں سے چھیڑ، پیرہن کاغذی کے ساتھ
کچھ احتجاج کرتی ہیں رہ رہ کے دھڑکنیں
کیا دل کو اتفاق نہیں بے حسی کے ساتھ
پڑتا ہے زندگی کا اثر شعر پر حفیظ
کردار کی بھی فکر کرو شاعری کے ساتھ

(حفیظ میرٹھی)

Share this: