خدمتِ خلق عبادت ہے

جانوروں کو مذہب کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ قدرت اور فطرت کے قوانین سے بندھے ہوتے ہیں اور ان سے انحراف نہیں کرسکتے۔ ان کے لیے نہ کوئی چیز خیر ہے نہ شر۔ وہ قوانینِ طبعی کے پابند رہنے پر مجبور ہیں۔ لیکن انسان کے لیے مذہب کی ضرورت ہے کیونکہ اسے صحیح یا غلط کسی بھی راستے پر چلنے کی آزادی ہے۔ انسان کا ضمیر اسے نیک بدی کی پہچان میں مدد دیتا ہے، لیکن تنہا ضمیر کی طاقت انسان کو راہِ راست پر رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ کیونکہ انسان کے سینے میں نیکی بدی کی پہچان کا یہ آئینہ حالاتِ زمانہ کی وجہ سے غبار آلود ہوجاتا ہے اور دھندلا بھی جاتا ہے، اس لیے انبیائے کرام کے ذریعے دین بھیجا گیا تاکہ انسان اِس دنیا میں شر کی طاقتوں کے سامنے تنہا نہ رہے، اور وہ نیکی کے راستے پر چلنا چاہے تو خدا کی تائید اور مدد حاصل کرسکے۔ اور نیکی کیا ہے؟ یہ کہ انسان کے اخلاق اچھے ہوں۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا تھا ’’میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں، اور تم میں بہتر وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں‘‘۔ لیکن پہلے تو یہ غضب ہوا کہ لوگوں نے سمجھا کہ سیاسیات اور معاشیات کا اخلاق سے کیا تعلق؟ یہ شعبے اعلیٰ و ارفع اخلاقی اصولوں کے متحمل نہیں ہوسکتے، اس لیے حکمراں اخلاقیات سے صرفِ نظر کرسکتے ہیں اور ان کے مخالف بھی مخالفت کے لیے غیر اخلاقی ہتھکنڈے استعمال کرسکتے ہیں۔ اس طرح تجارت میں بھی جھوٹ بولنا بلکہ جھوٹی قسمیں کھاکر گاہک کو اپنی بات کا یقین دلانا روا ہے، دو نمبر مال بیچنے میں بھی حرج نہیں۔ حدیثِ نبویؐ ہے کہ ’’جو مال فروخت کرو اُس کا عیب اگر کوئی ہو تو گاہک پر ظاہر کردو‘‘۔ لیکن کتنے تاجر ایسا کرتے ہیں؟ ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ ملازمت بچانے کے لیے بھی ناجائز کام کرنا مجبوری ہے۔ ترقی حاصل کرنے کے لیے بھی غلط سلط ہتھکنڈوں کے استعمال میں حرج نہیں۔ سیاسیات اور معاشیات کو اخلاق کے اصولوں سے مستثنیٰ کرنے کے ساتھ یہ بھی ہوا کہ مذہب کا تعلق بھی اخلاق سے کم اور رسومات سے زیادہ کردیا گیا، اس کا نتیجہ ہے کہ ایسے لوگ ہر جگہ ملتے ہیں جو شکل و صورت کے لحاظ سے بھی متشرع ہیں اور نماز روزے کے پابند ہیں لیکن ان کے دل سخت ہیں، ان کے مذہبی ہونے نے اُن میں ایک احساسِ برتری پیدا کردیا ہے، وہ دوسروں کو کمتر اور حقیر سمجھتے ہیں، ان کی گفتگو میں ملائمت کی جگہ سختی ہوتی ہے، محبت کے ساتھ لوگوں سے یپش آنا وہ جانتے ہی نہیں، کسی کے دکھ درد کا یہ احساس نہیں کرسکتے۔ ان کے ایسے ’’مذہبی‘‘ ہونے کا کیا فائدہ؟ خدا کو ان کے نہ عقیدوں کی ضرورت ہے، نہ سجدوں کی، نہ روزے کے نام پر بھوک پیاس کی۔ خدا نے تو دین اس لیے بھیجا تھا کہ انسان کے حیوانی وجود پر اس کے اندر کا اخلاقی وجود غالب آئے اور ایک اخلاقی معاشرہ پیدا ہو۔ لیکن مذہب کے عقیدے ہیں، ان کی رسمیں ہیں اور انسان کے اخلاق اچھے نہیں رہے، معاشرے میں اخلاقی روح نہیں پائی جاتی اس لیے مساجد کی کثرت، دینی اجتماعات کی بہتات، بلکہ دینی لوگوں کے اوراد و وظائف کا کیا فائدہ؟ یہودیوں نے اپنے مذہب کو ایسا ہی بنالیا تھا کہ ان کے عقیدے درست تھے، خدائے وحدہ لاشریک پر ان کا ایمان تھا، آدم سے موسیٰ تک سب پیغمبروں کو وہ مانتے تھے، مذہبی رسومات کا بھی زور تھا، لیکن ایک انسان کے دوسرے انسان سے تعلقات میں جو اچھائی ہونی چاہیے تھی وہ نہیں تھی، اس طرح کے رسمی رواجی مذہب کے ماحول میں حضرت عیسیٰؑ نے انہیں مذہب کی حقیقی روح سمجھانے کی کوشش کی کہ انسانوں کو وہ جیسے بھی ہیں جہاں بھی ہیں، حقیر خیال نہ کریں، سب انسان خدا کے ہیں اور محبت و پیار کے مستحق ہیں۔ لیکن یہودیوں کے اکابرین نے یہ بات سمجھنے سے انکار کیا اور الٹا حضرت عیسیٰ ؑ کے دشمن ہوگئے۔ اگر مسلمان بھی اپنے مذہب کو یہودیوں کی طرح محض عقائد و رسومات کا مذہب بنالیں اور ان کا مذہب انہیں انسانوں کی محبت اور خدمت نہ سکھائے تو یہ مذہب نہ دنیا میں کسی کام آئے گا نہ آخرت میں، کیونکہ مذہب کا جو مغز ہے اُسے کھو دینے کے بعد خول کسی کام کا نہیں رہتا، خول بجائے خود کوئی چیز نہیں۔ اس طرح مذہب کی رسومات نماز روزہ وغیرہ بھی اس لیے ہیں کہ وہ آپ کے دل کو گداز کریں، آپ کی شخصیت میں اعلیٰ اخلاقی اوصاف کو ابھاریں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے جس میں لوگوں کے درمیان اخوت و الفت ہو، طاقتور کمزور کو سہارا دیں، لوگ اپنے غصے پر قابو پاسکیں اور عفو و درگزر کرنا سیکھیں۔ اس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ انسان کی نظر میں اپنی ذات کے ساتھ دوسروں کی ذات بھی رہے، جو چیز وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کا موجودہ معاشرہ ذات پرستی کا ہے، ہر شخص اپنی ذات کا اسیر ہے، اپنے نفع نقصان پر سوچتا رہتا ہے، اپنے لیے تمام فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے، اپنے ہی حال کو سنوارنے اور اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا ہے، دوسرے سے اسے کوئی سروکار نہیں۔ اور یہ ذات پرستی اس حد تک ہے کہ انسان اپنے بوڑھے والدین کو بھول جاتا ہے، حتیٰ کہ بیوی بچے بھی اس کی صحیح توجہ اور محبت حاصل نہیں کرسکتے۔ اس کے برعکس مذہب کی یہ تعلیم ہے کہ اپنے پڑوسی کے حقوق کا خیال کرو، اور حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ ’’حقوقِ ہمسائیگی کے بارے میں اتنا کچھ خدا کی طرف سے کہا گیا کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ اب وراثت میں بھی ہمسائے کو حصہ دار بنادیا جائے گا‘‘۔ اس طرح بیمار کی عیادت، لوگوں کے غموں پر ان سے تعزیت دین کا جزو ہے۔ جو شخص ایسا نہیں کرتا اُس نے دین کے ایک حصے کو کھودیا۔ شیخ سعدی نے کہاہے کہ عبادت بجز خدمتِ خلق نیست۔ اور سچ یہ ہے کہ خدا سے تعلق اس لیے ہے کہ آپ اس کے بندوں سے تعلق بہتر بنائیں۔ اور اس مذہب کو غلط کہا گیا ہے جس میں انسان صرف خدا سے تعلق رکھے اور دنیا سے تعلق توڑ دے۔ اسلام میں تو بیوی بچوں سے پیار بھی عبادت ہے۔ غریب رشتے داروں کا خیال رکھنا بھی دین کا حصہ ہے۔
یہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ لادینی تہذیب میں خدمتِ خلق کے بڑے بڑے ادارے ہیں اور ان کے کارکن دنیا کے ہر حصے میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے پہنچتے ہیں، لیکن مسلم دنیا میں ایسے ادارے بہت ہی کم ہیں۔ ابھی ہمارا ملک خشک سالی کے بعد قحط کے حالات سے دوچار ہوا، کتنے لوگ وہاں مدد کے لیے پہنچے؟ ایک جماعت اسلامی تھی جس نے اس معاملے میں اپنے مقدور بھر کام کیا، تھر کے ریگستان میں کنویں کھودے اور لوگوں میں اناج تقسیم کیا۔ اس وقت تو ہماری حکومت کو بھی ہوش نہیں تھا کہ کیا صورتِ حال ہے؟ جماعت اسلامی کے علاوہ شاید ایک آدھ اور ادارے نے بھی خدمت کی ہوگی، لیکن بحیثیتِ مجموعی یہ معاشرہ اپنے فرض کی ادائیگی سے غافل رہا۔ اب بھی ضرورت ہے کہ لوگ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کے لیے جو ہوسکتا ہے وہ کریں۔ کیا آپ نے اس سلسلے میں اپنا فرض ادا کیا ہے؟

Share this: