قائداعظم محمد علی جناح کی سیکولر صورت گری

قائداعظم کے اسلامی جوہر کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ انہوں نے رتی بائی سے شادی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ پہلے اسلام قبول کرے۔ پھر سول میرج کے بجائے اپنا نکاح ایک ’’مولوی‘‘ سے پڑھوایا۔ قائداعظم نے اپنی اکلوتی بیٹی سے صرف اس لیے قطع تعلق کرلیا کہ اُس نے ایک غیر مسلم سے شادی کرکے اسلام سے ناشائستگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ قائد کے سوانح نگار اسٹینلے ولپرٹ (Stanley Wolpert) انہیں ایک قدامت پسند انسان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ رتی بیگم سے ان کی تفریق کی وجہ قائد کا روز بروز اسلام کی طرف رجحان تھا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قائداعظم نے مذہبی بنیادوں پر اپنی قومیت کے اظہار پر نہ صرف اصرار فرمایا اور سیکولر ہند سے اُس وقت اپنی راہ جدا کرلی، جب انہوں نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار کا ادراک کرلیا۔ اس سے وابستہ یہ حقیقت بھی ہے کہ وہ اسلامی نظام کی بقا میں مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ دیکھ رہے تھے۔ اس لیے جب انہوں نے یہ کہا کہ پاکستان اسلامی طرزِ حیات کی تجربہ گاہ ہوگا تو مسلمان دیوانہ وار ان کی آواز پر لپک پڑے۔
سیکولر حلقے نے مسلمانوں کے اس تاریخی رویّے کو یوں نظرانداز کیا جیسے یہ کوئی امر واقع نہ تھا بلکہ کوئی اضافہ تھا۔ وہ یہ سب کچھ نگل گئے۔ ان کی یہ متشددانہ خواہش کہ کسی طرح مملکتِ پاکستان کو اس کے اسلامی تشخص سے محروم کردیا جائے، انہیں ہر قسم کے جھوٹ اور مکر پر مسلسل مجبور کررہی ہے۔ وہ قرآن، حدیثِ نبویؐ اور پاکستان کی دستوری تاریخ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے تو عاجز ہیں، کیونکہ ان ماخذوں میں انہیں کوئی مفید مطلب نکتہ ہاتھ نہیں آرہا۔ آخری حربے کے طور پر صرف محمد علی جناح ہی کو سیکولر میک اپ دے کر کچھ سندِ جواز حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی تھی۔ لیکن یہاں بھی سوائے 11 اگست 1947ء کی اکلوتی تقریر کے، جسے ان لوگوں نے پوری بے دردی سے سیکولر پس منظر میں رکھ کر دکھانے کی کوشش کی، باقی کچھ بھی عام لوگوں کے سامنے لانے سے قاصر رہے۔ معمارِ پاکستان نے انہیں بہت بری طرح مایوس کیا۔
مثلاً وہ قائداعظم کو ایک ایسا آزاد خیال باور کراتے ہیں جس کے پیش نظر ایک لادین سیکولر ریاست تھی۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو دستور کا حوالہ دیتے ہیں اور مملکتِ پاکستان کے اسلامی جوہر پر زور دیتے ہیں، وہ سب ان کی نگاہ میں ’’عقل و برہان کے دشمن‘‘ ہیں۔ ہر طرح کی حسیات کو پائے استحقار سے ٹھکراتے ہوئے ان لادینوں نے دستور اور اسلام کی بات کرنے والوں پر بہتان و دشنام کی بوچھاڑ کردی کہ یہ ’’جنونی‘‘ سر پھرے ہیں، ’’رجعت پسند‘‘ ہیں اور ’’ہٹ دھرم‘‘ ہیں۔
لیکن خود یہ لبرل ازم (آزاد روی، روشن خیالی وغیرہ) کیا بلا ہے؟ جب یہ لوگ جناح صاحب پر لبرل ہونے کا ٹھپہ لگاتے ہیں، تو وہ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ وہ اس کی کوئی وضاحت نہیں کرتے۔ لیکن جب تک لبرل ازم کی باقاعدہ تعریف متعین نہ کی جائے، لفظ ’’لبرل‘‘ جیسا کہ یہ لبرل حضرات استعمال کرتے ہیں، محض ایک ڈھیلا ڈھالا اظہار رہے گا۔
یہ بات ایک رمزیہ مذاق سے کم نہیں لگتی، لیکن واقعہ یہی ہے کہ جب کُل ہند مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے پاکستان کا مطالبہ کیا تو ہندوئوں کو اس کی ہجو میں رجعت پسندی کی پھبتی ہی سوجھی تھی۔ جواہر لال نہرو نے انڈین کانگریس کے روبرو اپنی تقریر میں یہ کہا تھا کہ عام مسلمان آبادی رجعت پسند نہ تھی کیونکہ وہ کانگریس کی ہم نوا تھی۔ نہرو کے بہ قول رجعت پسند سب کے سب مسلم لیگ کے ساتھ تھے۔
30 مارچ 1941ء کی اشاعت میں کانگریس پارٹی کے اخبار میں ہندوئوں کی ذہنی ترجمانی کرتے ہوئے ایک مضمون چھپا، جس میں انہوں نے واشگاف کہا: ’’دو باتوں پر کوئی مصالحت ممکن نہیں۔ ملک کی ایسی تقسیم ناقبول ہوگی جس سے جنونیوں (Fanatics) کے ارادوں کی تکمیل اور ان کے ذوق کی تشفی کا ساماں ہو‘‘۔
قائداعظم نے مسلم لیگ کے مدراس سیشن کے خطبہ صدارت میں مذکورہ بیان کا تعاقب کیا اور ہندو سیکولر چیخ و پکار کی حقیقت اپنے مشہورِ زمانہ اسلوبِ بیان سے کھول کر رکھ دی، جو پوری تحریک کے دوران ان کا امتیاز رہا۔ قائد کے الفاظ تھے:
’’جب یہ لوگ تقسیم کا ذکر کرتے ہیں تو مسلمان کو جنونی بتاتے ہیں، لیکن جب یہ خود ہندو ازم کی بات کرتے ہیں تو اپنے آپ کو لبرل اور قوم پرست کا نام دیتے ہیں‘‘۔
فی الحقیقت برطانوی ہند میں یہ مسلم قومیت کا اسلامی چہرہ اور کردار ہی تھا، جس نے ہندو اور مسلمان میں مستقل جدائی ڈالی۔ قائداعظم، لالہ لاجپت رائے، کے سی آرداس کے نام خط (دیکھیے اندرا پراکاش کی کتاب) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
”رائے کہتا ہے: ’’میں نے گزشتہ چھ ماہ اپنا بہت سا وقت مسلم تاریخ اور مسلم قانون کے مطالعے میں صرف کیا، اور میں سوچنے پر مجبور ہوا کہ ہندو مسلم اتحاد نہ تو ممکن ہے اور نہ قابلِ عمل… میرا خیال ہے ان کا مذہب ایسی کوشش پر موثر روک لگاتا ہے… تمہیں میری حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر کچلو سے گفتگو یاد ہے، جو میں نے تمہیں کلکتہ میں سنائی تھی۔ ہندوستان میں حکیم اجمل خان سے زیادہ نفیس مسلمان کوئی نہیں، لیکن کیا کوئی ایک بھی ایسا مسلمان لیڈر موجود ہے جو قرآن کو پس پشت رکھ کر فیصلہ کرسکے؟ کاش میرا اسلامی قانون کا مطالعہ جو نتائج دے رہا ہے وہ صحیح نہ ہوں‘‘۔
یہاں پہنچ کر قائداعظم کا چہرہ ایک اندرونی تاثر سے جگمگا اٹھتا ہے۔ وہ ایک روشن چھب ڈھب کے ساتھ اپنی بنی سنوری مسکراہٹ لبوں پر لاتے ہیں اور ایک ڈرامائی توقف کے بعد کہتے ہیں:
’’میرا خیال ہے رائے کا مطالعہ بالکل صحیح ہے (محفل میں زوردار قہقہہ)‘‘۔
(”سیکولرازم۔۔۔۔ مباحث اور مغالطے“، طارق جان)

اجتہاد

اس نظم میں اس اجتہاد کی حقیقت بتائی گئی ہے جو مسلمانوں نے محکومی کے زمانے میں اختیار کیا۔

ہند میں حکمتِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذتِ کردار نہ افکارِ عمیق
حلقہ شوق میں وہ جراتِ اندیشہ کہاں
آہ! محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!

عمیق:گہرا
(1) ہندوستان میں دینی علوم بہت پڑھائے جاتے ہیں، لیکن دین کی حکمت کہاں سے سیکھی جائے؟ شریعت کے اسرار و نکات کس ذریعے سے معلوم ہوں؟ نہ علما میں علم کی کوئی لذت نظر آتی ہے، نہ ان کی فکر و نظر میں گہرائی ہے۔
مراد یہ ہے کہ حکمتِ دین سیکھنے کے دو ہی ذریعے ہیں، یا تو وہ حکمت اہلِ علم کے عمل میں نمایاں ہو، یا وہ حقائقِ شریعت پر غور و فکر کے عادی ہوں۔ جب یہ دونوں باتیں ناپید ہیں تو دین کی حکمت سیکھنے کا شوق کہاں سے پورا کیا جائے گا؟
(2) حلقہ شوق میں بیٹھنے والے یعنی اہلِ تصوف ایک زمانے میں جرات و ہمت سے کام لے کر حکمتیں واضح کرتے رہتے تھے۔ اب ان میں غور و فکر کی ہمت ہی نہیں رہی۔ افسوس کہ محکومی اور غلامی کا دور آیا تو اندھی تقلید عام ہوگئی اور تحقیق کا جوہر باقی نہ رہا۔
(3) علمائے دین کی حالت دیکھو، وہ اس درجہ بے توفیق ہوچکے ہیں کہ اپنی حالت بدلنے پر مائل نہیں ہوتے۔ قرآن کو بدل دینے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
(4) ان غلاموں کے طور طریقے دیکھے جائیں تو دل پر یہ اثر پڑتا ہے، گویا ان کے نزدیک قرآن حکیم، پناہ بخدا، اس وجہ سے ناقص و ناتمام ہوگیا کہ اس نے مسلمانوں کو غلامی کے طریقے نہ سکھائے۔ حالانکہ قرآن حکیم غلامی و محکومی نہیں، صرف حکمرانی اور فرماں روائی سکھانے کے لیے آیا تھا۔ ان لوگوں میں اپنی حالت بدلنے کی توفیق ہوتی تو غلامی سے نکل کر حکمرانی کے طور طریقے اختیار کرتے۔ انہوں نے قرآن سے محکومی اور غلامی کے لیے جواز کی سندیں ڈھونڈ نکالیں اور اس کی حقیقت ہی بدل ڈالی۔

Share this: