دو چیزوں میں رشک

ابوسعدی

پیارے نبیؐ نے فرمایا:۔
۔”دو چیزوں کے سوا رشک جائز نہیں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے حفظِ قرآن کی توفیق دی تو وہ رات کی گھڑیوں اور دن کی ساعتوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے، اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا تو وہ اسے دن اور رات کی گھڑیوں میں خرچ کرتا ہے”۔
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
(بحوالہ: رشد ، فروری2009ء)

روشن باتیں

٭سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔(صحیح مسلم)۔
٭بے شک للہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزوروں کی دعا کی وجہ سے کرتا ہے۔ (نسائی)۔
٭لوگوں میں دو چیزیں کفریہ ہیں، نسب میں طعن کرنا اور مصیبت پر نوحہ کرنا۔ (صحیح مسلم)۔
٭اس امت کے پہلے لوگ یقین اور زہد کی وجہ سے نجات پائیں گے اور امت کا آخری حصہ بخل سے ہلاک ہوگا۔ (صحیح بخاری)۔
٭اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے۔ (متفق علیہ)۔
٭ بے شک اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ (نسائی)۔
٭جہاد میں ایک دن کا پہرہ ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے افضل ہے۔ (مسند احمد)۔
٭جو شخص کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔ (ابودائود)۔
٭جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔
٭جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (متفق علیہ)۔
(بحوالہ: رشد، فروری2009ء)

مرزا غالب

اسد اللہ بیگ خاں، نام، میرزا نوشہ عرف، اور نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ خطاب تھا۔ 8 رجب 1212ھ بمطابق اکتوبر 1797ء اکبر آباد (آگرہ) میں پیدا ہوئے، مگر جلد ہی آگرہ کو چھوڑ کر دہلی آگئے اور بالآخر یہیں پر 15 فروری 1869ء کو آسودۂ خاک ہوئے۔ ابتدا میں اسد تخلص کرتے تھے۔ میرامانی اسد ایک غیر معروف شاعر کی وجہ سے اپنا تخلص بدل کر غالب رکھا۔ غالب قوم کے ایبک ترک تھے، جن کا سلسلہ نسب توران ابنِ فریدون تک پہنچتا ہے۔ غالب کے دادا ہندوستان آئے اور دہلی میں مقیم ہوئے۔ یہیں ان کے والد میرزا عبداللہ بیگ خاں پیدا ہوئے۔ غالب پانچ برس کے تھے کہ یہ راج گڑھ میں ایک لڑائی کے دوران مارے گئے۔ تیرہ برس کی عمر میں نواب الٰہی بخش خاں معروف کی چھوٹی بیٹی امرائو بیگم سے شادی ہوئی۔ زندگی تنگ دستی میں گزاری۔ والد کی پنشن پر گزر اوقات تھی، وہ بھی کم ہوگئی تو پھر کلکتہ تک مقدمات کی پیروی کی۔ اس دوران بعض شخصیات ان کی مالی سرپرستی کرتی رہیں، جن میں نوابانِ رام پور بھی تھے۔ جنگِ آزادی میں مسلمانوں کے سیاسی زوال کے ساتھ غالب کو بھی کئی قسم کی پریشانیوں کا شکار ہونا پڑا۔ علامہ اقبال غالب سے ایک ذہنی عقیدت رکھتے تھے۔ وہ ان کے رنگِ سخن کے شیدائی تھے۔ نظم و نثر میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ غالب مسلمہ طور پر اقبال سے پہلے برصغیر کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ حالات کی ستم کاریوں، مسلمانوں کے سیاسی ادبار اور تیموری سلطنت کے زوال جیسے حادثات کے باوجود انہوں نے نظم و نثر میں اپنا بلند مقام پیدا کیا ہے۔ غالب طرزِ بیدل کے فریفتہ تھے، اور اقبال طرزِ غالب کے۔ اقبال نے غالب کے اردو اور فارسی اشعار پر تضمین کی ہے۔ جاوید نامہ میں اقبال نے فلک مشتری پر روحِ غالب کو حلاج اور قرۃ العین طاہرہ کے ساتھ پیش کیا ہے۔ غالب کی تصانیف میں دیوانِ غالب (اردو)، قادر نامہ، عودِ ہندی، اردوئے معلی، مکاتیب غالب (عرشی)، دیوانِ غالب (فارسی)، کلیاتِ غالب، سُبد چین، دعائے صباح، پنج آہنگ، مہرِ نیمروز، دستنبو، قاطع برہان، دُرفشِ کاویانی، قطعہ غالب، لطائف غیبی، سوالاتِ عبدالکریم، نامہ غالب اور تیغِ تیز شامل ہیں۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

زبان زد اشعار

ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
(نواب مصطفی علی خاں شیفتہؔ)

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
(مولانا ظفر علی خان)

دورِ ناشاد کو اب شاد کیا جائے گا
روحِ انساں کو آزاد کیا جائے گا
(ابو سعید محمد مخدومؔ محی الدین)

تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط
اُلفت وہ راز ہے جو چھپایا نہ جائے گا
(خواجہ الطاف حسین حالیؔ)

جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
(میر تقی میرؔ)

Share this: