سینیٹ انتخابات، ضمیر فروشی کا کھیل اور بلوچستان

قبائلی اضلاع کے تین اراکین اسمبلی کی بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت

نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر سینیٹر حاصل بزنجو چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ہارنے کے بعد معتوب ٹھیرے ہیں۔ ان پر مختلف شہروں میں حسبِ روایت مقدمات قائم ہوچکے ہیں۔ سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے روز صادق سنجرانی کی جیت اور 14منحرف ارکان کے حوالے سے اُن کے تبصرے کو بنیاد بنایا گیا ہے، جس کا ہم ان سطور میں ذکر کرچکے ہیں۔ حاصل بزنجو سرطان کے مرض میں مبتلا ہیں۔ کراچی میں زیر علاج رہے ہیں۔ اب بھی کراچی کے معالج علاج کررہے ہیں۔ رہی بات چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کی، تو اس میں تعجب کا اظہار نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا اس ملک میں بارہا ہوچکا ہے۔ الیکشن سے قبل ہی سیاسی و صحافتی حلقے اس خدشے و امکان کا اظہار کرتے رہے۔ دراصل کمزوریاں اب بھی نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے اندر موجود ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ان کے احتجاج کا حصہ تھا، جسے ان دو جماعتوں کے اراکینِ سینیٹ نے ہی سبوتاژ کیا۔ ضمیر فروشی ہوئی، اور ارکان خوف اور دبائو کا شکار بن گئے۔ تاہم اس سب کچھ پر تحریک انصاف کو شرمندگی ہونی چاہیے تھی، مگر عمران خان بھی اس خرید و فروخت، دھونس و دبائو کے تحت حاصل ہونے والی فتح پر مبارک بادیں دیتے رہے۔ بلوچستان کا کردار اس تناظر میں بھی شائستہ نہیں رہا۔ نواز لیگ کے دو سینیٹرز کے حوالے سے پارٹی فیصلوں سے انحراف کا چرچا ہوا، بلکہ اخبارات میں بھی چھپا۔ ایک سینیٹر شاہ زیب درانی جو سابق وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے برادرِ نسبتی ہیں، دوسری سینیٹر بھی نواز لیگ کی کلثوم پروین ہیں جنہوں نے صادق سنجرانی کو ووٹ دیا۔ شاہ زیب درانی 2017ء میں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوئے۔ یہ نشست اُن کے بھائی آغا شہباز درانی کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی، چناں چہ بلوچستان میں ان کے خلاف کوئی امیدوار سامنے نہ آیا۔ حکومت نواز لیگ کی تھی اور نواب ثناء اللہ زہری وزیراعلیٰ تھے۔ یہ سمجھنا ہرگز درست نہ ہوگا کہ شاہ زیب درانی یہ فیصلہ کرنے میں بااختیار تھے۔ یقینا انہیں نواب ثناء اللہ زہری کی رضامندی اور اشارہ ملا ہوگا، وگرنہ نواب زہری یا مسلم لیگ (ن) بلوچستان کی جانب سے ان کی سرزنش ہوجانی چاہیے تھی۔ نواب زہری اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے بعد سیاسی حوالے سے مکمل طور پر خاموش ہوگئے ہیں، بلوچستان اسمبلی کے رکن ہیں لیکن اسمبلی اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے، بیرونِ ملک یا بیرونِ صوبہ و شہر مقیم رہتے ہیں۔ مریم نواز اور حزبِ اختلاف کے25 جولائی کے جلسے میں بھی نواب زہری شریک نہ تھے، البتہ مریم نواز نے وضاحت پیش کی کہ اُن کی والدہ علیل ہیں جو کراچی میں زیر علاج ہیں، اس بنا پر نواب زہری شریک نہ ہوسکے ۔ مارچ 2015ء میں جب سینیٹ کے انتخابات ہورہے تھے تب نواز لیگ کی بلوچستان اسمبلی میں اکثریت تھی، مگر پارٹی کی قیادت نے سینیٹ انتخابات کے لیے امیدواروں کے چناؤ میں دیرینہ کارکنوں کو نظرانداز کیا اور بیشتر امیدواروں کا انتخاب نواب ثناء اللہ زہری کے ایما پر ہوا، جنہوں نے اقرباء پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بھائی نعمت اللہ زہری اور سالے آغا شہباز درانی کو سینیٹر بنایا۔ خواتین کی نشست پر بھی کسی دیرینہ کارکن کے بجائے بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی سے آنے والی خاتون کلثوم پروین کو کامیاب کرایا گیا۔ یہ خاتون 2009ء میں قاف لیگ سے بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی میں شامل ہوئیں، اس کے ٹکٹ پر سینیٹر بنیں، اور پھر نواز لیگ میں شامل ہوگئیں۔ یعنی تین بار سینیٹ کی رکن بنی ہیں۔ کلثوم پروین کو ٹکٹ دینے پر نواز لیگ بلوچستان میں سخت مزاحمت بھی ہوئی۔ جان جمالی اپنی بیٹی کو سامنے لے آئے، فواد چودھری کوئٹہ آئے لیکن بات نہ بنی۔ جان جمالی تب بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ ہوا، لیکن اس سے قبل جان جمالی عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ ان کی جگہ راحیلہ درانی اسپیکر بنائی گئیں۔ پارٹی کے سابق قائم مقام صدر سردار یعقوب خان ناصر کو ٹکٹ دیا گیا، مگر انہیں کامیاب کرانا ترجیحات میں نہیں تھا، وہ مارچ 2015ء کے انتخابات میں شکست کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ بعد ازاں پارٹی نے انہیں اسلام آباد کی نشست سے اقبال ظفر جھگڑا کی جگہ سینیٹر بنایا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میرٹ کے برعکس اور اقرباء پروری کی بنیاد پر منتخب ہونے والے سینیٹرز پارٹی کے کسی کام بھی نہیں آئے۔
نعمت اللہ زہری نے 25 جولائی2018ء کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی کے بعد سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دیا تو ان کی جگہ نواز لیگ کے بجائے باپ پارٹی کے سرفراز بگٹی کامیاب ہوئے۔ میر نعمت اللہ زہری آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے، بعد ازاں وہ تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ دیکھا جائے تو یہ بھی بالاتفاق و باہم مصلحت کے تحت ہوا ہے۔ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ صوبے میں نواز لیگ کے صدر ہیں، یعنی بلوچستان سے اس جماعت کی سیاسی مزاحمت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی چھائی ہوئی ہے، جو تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔ اگرچہ یکم اگست کو تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ حیران کن تھا، ایسا کھیل کھیلا گیا جس کا بظاہر تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، مگر تعجب تب ہوا جب قبائلی اضلاع کے 20 جولائی کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے تین اراکینِ خیبر پختون خوا اسمبلی، بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل کرا دیئے گئے۔ نومنتخب اراکین اسمبلی شفیق خان آفریدی، بلاول خان آفریدی اور عباس مومند یکم اگست کو بلوچستان ہائوس اسلام آباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی موجودگی میں بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہوئے۔ جام کمال خان عدم اعتماد کی تحریک سے قبل اسلام آباد گئے تھے اور سینیٹرز سے مسلسل رابطے میں تھے۔ عشائیے اور ظہرانے دیئے جاتے رہے۔ معلوم نہیں یہ دعوتیں کس کے کھاتے سے دی جاتی تھیں۔ گویا اب بلوچستان عوامی پارٹی خیبر پختون خوا بھی پہنچ گئی۔ معلوم نہیں یاروں نے کون سی سیاسی بساط بچھا رکھی ہے۔ یہ تین افراد تحریک انصاف میں بھی تو شامل کیے جاسکتے تھے۔ تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کی اتحادی و زیر اثر جماعت ہے، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کھلے طور پر مقتدرہ کے ہاتھ میں ہے۔ ممکن ہے کہ اسے ملک گیر جماعت بنایا جائے اور حلقۂ انتخاب رکھنے والے ضمیر فروش سیاست دانوں کو اس جماعت میں اکٹھا کرلیا جائے۔ پھر تحریک انصاف کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ قبائلی اضلاع کے لوگ شاید جام کمال خان کے نام سے واقف ہوں کہ ایک بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن کامل یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہاں کے عوام نے بلوچستان عوامی پارٹی کا نام تک نہ سنا ہوگا۔ پھر وہاں کے تین اراکینِ اسمبلی کی بلوچستان کی ایک جماعت میں شمولیت پر تعجب فطری ہے۔ جام کمال کہتے ہیں کہ ’’اراکینِ سینیٹ نے ضمیر کے مطابق حقِ رائے دہی کا اظہار کرکے سیاسی عدم استحکام کی کوشش ناکام بنادی، اور تحریک عدم اعتماد بلاجواز تھی، اور جمہوریت کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی‘‘۔ پھر کہا کہ ’’ہارس ٹریڈنگ کی باتیں فرضی ہیں،اور اس تحریک کو ناکام بناکر درحقیقت بلوچستان کے اندر سازش پیدا کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا۔ اگر اپوزیشن کے کسی سینیٹر نے اپنی جماعت کی مرضی سے ہٹ کر ووٹ دیا ہے تو ہوسکتا ہے وہ اپنی پارٹی کی پالیسیوں سے ناخوش ہو‘‘۔ وزیراعلیٰ نے خبر دی ہے کہ ’’بلوچستان عوامی پارٹی قومی سطح پر ابھر رہی ہے، دوسرے صوبوں سے بھی لوگ پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہے ہیں، اور بتدریج پارٹی کو قومی سطح کی جماعت بنانے کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔‘‘
وزیراعلیٰ جام کمال خان کی اس امید اور سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی پر ان کی رائے پر انا للہ و انا الیہ راجعون ہی کہا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جام کمال سمیت جنہوں نے نوازشریف کا ساتھ چھوڑا، ضمیر کے مطابق یہ فیصلہ کیا۔ اور بلوچستان حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی باضمیر فیصلہ تھا۔ مارچ 2018ء کے سینیٹ الیکشن میں کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا اکٹھا کرکے کامیاب کرانا بھی عین ضمیر و غیرت کے مطابق تھا!
اب نواز لیگ کو صوبے کے اندر تطہیر کے عمل کا آغاز کرنا چاہیے۔ نواب ثناء اللہ زہری اورچند دیگر لوگ مشکل وقت میں ساتھ دینے والے ثابت نہیں ہوئے۔

Share this: