بچے کی تعلیم اور والدین

بچے پرمختلف مضامین کا بوجھ لاد کر بے معنی پڑھائی لکھائی کے بجائے اُس کو زبان کی بنیادی مہارتیں سکھانے پر توجہ دیں

نگہت حسین
اکثر بچے تعلیمی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں۔ اگر آپ کا بچہ یا بچی جماعت دوم تک بنیادی تعلیمی استعداد سے محروم یا کمتر درجے پر ہے، یا اسے اسکول میں اس سلسلے میں مدد نہیں مل رہی تو بہتر ہے کہ آپ بچے کا اسکول ختم کروا دیں، کیوں کہ اسکول اس سلسلے میں آپ کے بچے کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اسکول یا تو بچے کو اسی کمتر استعداد کے ساتھ اگلی جماعت میں منتقل کردے گا، یا پھر اسے فیل کرکے پچھلی جماعت میں ہی روک دے گا۔ ان دونوں کاموں سے بچے کی تعلیمی اور ذہنی استعداد کو بہتر کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ بچوں کی تعلیمی استعداد کو بہتر کرنے کے لیے اسکول کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں، اس لیے کہ بچوں کے انفرادی تعلیمی مسائل کو حل کرنا اور اُن کی ذہنی استعداد اور رفتار کے مطابق لے کر چلنا اسکول کے بس سے باہر ہے۔ 35 سے 40 بچوں کی ایک جماعت جس کو لینے والا استاد ایسی 5-6 مزید جماعتیں لے رہا ہو، اُس سے کس طرح انفرادی توجہ کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟ ویسے بھی اسکولوں میں اکثریتی طلبہ کے مسائل، مزاج اور استعداد کو سامنے رکھ کر تعلیمی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ لہٰذا اس رفتار سے پیچھے رہ جانے والے بچوں کو اسکولوں میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ والدین کو کیا کرنا چاہیے؟
بحیثیت والدین اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کی بنیادی ذمہ داری آپ کی ہے، اس میں اپنا کردار ادا کریں۔ ساری ذمہ داری اسکول، ٹیوشن اور بچے پر ڈال کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھنے کا رویہ ترک کردیں۔ جتنی ہمدردی ایک ماں یا باپ کو اپنے بچے سے ہوسکتی ہے، کسی اور کو نہیں ہوسکتی۔ جس دل سوزی اور صبر سے آپ اپنے بچے کی تعلیمی استعداد بہتر بناسکتے ہیں، وہ کوئی اور نہیں بناسکتا۔ اپنے بچے کا مسئلہ سمجھیں۔ آپ اپنے بچے کی فطرت و مزاج کو سمجھ سکتے ہیں، اسکول سے اس کی توقع نہ رکھیں۔ اپنے ذہن سے اس بات کو نکال دیں کہ یہ کام اسکول کے ہیں۔ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور رویّے میں تبدیلی لائیں۔ مسئلے کے تدارک کے لیے پہلے وجوہات تلاش کریں کہ کیا بچے کی یادداشت کمزور ہے؟ بچے کو لکھنا نہیں آتا؟ بچے میں کس درجے کی کمزوری ہے؟ کیا اس کو پڑھنا نہیں آتا؟ اس کو پڑھنا آتا ہے تو اس کا فہم کتنا ہے؟ کیا وہ درست معنی و مفہوم کو اخذ کرلیتا ہے؟ کیا اس کو اسکول میں پڑھائی گئی چیزیں سمجھ میں آتی ہیں؟ اس کی املا کی اغلاط کتنی ہیں؟ کیا بچے کا بنیادی فہم عام بچوں کے برابر ہے؟ کیا بچے کو عام بچوں کے مقابلے میں کوئی بھی کام کرنے یا بات سمجھنے میں دیر لگتی ہے؟ یہ تمام نشانیاں آپ اپنے بچے میں دیکھ سکتے ہیں جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ بچے کو اسکول کی نہیں، آپ کی مدد چاہیے۔ سادہ ترین انداز میں بچے کی بنیادی استعداد کی جانچ آپ خود اس کی اسکول کی طرف سے تفویض کردہ سرگرمیوں اور مشقوں میں بچے کی کارکردگی دیکھ کر بھی کرسکتے ہیں
بصورتِ دیگر عمر اور جماعت کے لحاظ سے زبان دانی کی استعداد جانچنے کے لیے انٹرنیٹ پر موجود چیک لسٹیں موجود ہیں، یا آپ اس مقصد کے لیے کسی ماہر سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کی بنیادی علامتوں کے لیے آپ کو کسی بھی قسم کا ماہرِ لسانیات یا ماہرِ تعلیم ہونے کی ضرورت نہیں، اس بات کا اندازہ بہرحال ابتدائی درجوں میں ہی ہوجاتا ہے کہ بچہ تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے کس درجے پر کھڑا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
بچے کی بنیادی تعلیمی استعداد بڑھانے کی طرف توجہ کریں۔ یعنی بچے پر مختلف مضامین کا بوجھ لاد کر بے معنی پڑھائی لکھائی کے بجائے اُس کو زبان کی بنیادی مہارتیں سکھانے پر توجہ دیں۔ زبان کی بنیادی مہارتیں سننا، پڑھنا، بولنا اور لکھنا ہیں۔ یہ مہارتیں خود سیکھیں، اور بچے کو خود ہی پڑھائیں۔ ٹیوشن سے اجتناب کریں، کیوں کہ ٹیوشن ایسے بچے کے لیے بے ساکھی کا درجہ رکھتی ہے۔ ٹیوشن کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق بچے کو ٹیوشن پڑھانے والا خود ہی تمام کام کرکے دے دیتا ہے تاکہ بچے کا کام پورا ہوجائے اور اس کی کارکردگی پر حرف نہ آئے۔ زبان کی بنیادی مہارتوں کی نشوونما کیوں ضروری ہے؟ اس لیے کہ سیکھنے سکھانے اور علم کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس سوچنے، سمجھنے اور خیالات کی کوئی شکل ہو، جو زبان ہی فراہم کرتی ہے۔ اب اگر ایک بچہ پڑھنے، لکھنے اور مفہوم سمجھنے سے ہی قاصر ہے تو وہ کس طرح کچھ سیکھ سکتا ہے! زبان نہ آنے کا ذہنی دبائو ہی اُس کو ہر طرح کی تعلیمی سرگرمی سے متنفر کردیتا ہے۔ اس تنائو زدہ ماحول میں رہ کر بچہ اسکول کی کسی بھی قسم کی تعلیمی سرگرمی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر بچہ چالاکی کا مظاہرہ کرے گا تو نقل کا رجحان اس کی مدد کرے گا، اور یوں وہ بچہ نقل کے ماسک کے ذریعے اچھے نمبر حاصل کرکے اپنی مصنوعی تعلیمی کارکردگی تو ظاہر کرسکتا ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوگی۔ لسانی نشوونما کے لیے بچے کو زیادہ سے زیادہ پڑھنے کا مواد فراہم کریں، جس میں بچوں کی سطح کے مطابق کہانیاں، مضامین اور کتابیںشامل ہیں۔ اسی طرح جس زبان کو بولنے کی استعداد بڑھانی ہے اس کے سننے کے مواقع فراہم کرنا اہم ہے۔ بچے کے خیالات کی اڑان کا انحصار زبان کی مہارت پر ہی ہے۔
اور اگر بوجہ مجبوری یہ ممکن نہیں، تو کسی ایسے فرد کا انتخاب کریں جو بچے کو ان مہارتوں سے لیس کردے۔ ایسا فرد جو بچے کو ٹیوشن کی بے ساکھی نہ دے، بلکہ بچے کے پڑھنے، لکھنے اور سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو۔ اس کام کے لیے بچے کو اسکول سے نکالنا ہوگا، کیوں کہ اسکول میں مسابقت کا ایک خاص ماحول ہوتا ہے جس میں امتحانی طریقہ کار اور نمبروں کی دوڑ ایسے بچے کو مسلسل ذہنی دبائو میں رکھتی ہے، جس کا شکار ہوکر بچے اپنے آپ کو کمتر اور شکست خوردہ سمجھنے لگتے ہیں۔ جو فیس اسکول کے لیے ہر حال میں نکالی جاتی ہے اس کو ان مہارتوں کوسیکھنے سکھانے میں خرچ کیجیے۔ بچے کو اپنا سمجھیں، اسکول کا نہیں۔
بچے کو اس کی ذہنی سطح کے مطابق سیکھنے، سکھانے کے عمل میں شامل کیجیے۔ اس عمل کو خوش گوار بنائیے… تکلیف دہ اور اذیت ناک نہیں۔

Share this: