کچلاک سانحہ، حافظ احمد اللہ اخوندزادہ بم حملہ میں جاں بحق

جمعہ 16اگست کو امارتِ اسلامیہ افغانستان کے سربراہ مولوی ہبتہ اللہ اخوندزادہ کے چھوٹے بھائی حافظ احمد اللہ اخوندزادہ بم حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ حافظ احمد اللہ کوئٹہ کے نواحی علاقے کلی قاسم کی جامع مسجد میں خطیب تھے۔ مسجد کے ساتھ بڑا دینی مدرسہ بھی ہے۔ خود مولوی ہبتہ اللہ اخوندزادہ بھی اس مسجد میں امامت کرچکے ہیں اور مدرسے میں طلبہ کو درس بھی دیتے رہے ہیں۔ حافظ احمداللہ بھی بڑے عالمِ دین تھے۔ یہ سانحہ نمازِ جمعہ کے وقت یعنی 2 بج کر 40منٹ پر پیش آیا جب وہ وعظ کررہے تھے۔ نماز سوا تین بجے ہونی تھی۔ بم مسجد کے محراب میں نصب کیا گیا تھا، یعنی ہدف حافظ احمد اللہ ہی تھے۔ چناں چہ دھماکے سے اُن سمیت چار افراد جاں بحق اور بائیس افراد زخمی ہوئے۔
اپنی نوعیت کا یہ دوسرا بم دھماکا ہے۔ اس سے قبل24 مئی 2019ء کو کوئٹہ کے پشتون آباد میں واقع جامع مسجد رحمانیہ کے اندر بھی بم محراب کے اندر منبر کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔ یہاں بھی نشانہ خطیب تھے۔ جمعہ کی تقریر مسجد کے خطیب مولوی عبدالرحمان کے پوتے عطاء الرحمان کررہے تھے کہ اس اثناء میں دھماکا ہوا جس سے اُن سمیت چار افراد جاں بحق اور نمازیوں کی بڑی تعداد زخمی ہوگئی۔ مسجد کے خطیب مولوی عبدالرحمان خود بھی بری طرح زخمی ہوئے، البتہ اُن کا اور اُن کے خاندان کا افغان طالبان سے کسی بھی طرح کا تعلق نہیں ہے۔ حافظ احمد اللہ اخوندزادہ کا خاندان یقینی طور پر افغانستان کے اندر سیاست میں واضح کردار رکھتا ہے۔ مولوی ہبتہ اللہ اخوندزادہ افغانستان کی سب سے بڑی سیاسی و عسکری تحریک کی قیادت کررہے ہیں۔ طالبان کی قوت کو دنیا مسلمہ طور پر تسلیم کرچکی ہے۔ اس روشن حقیقت کو مانتے ہوئے انہیں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سیاسی دفتر کھولنے کی تجویز دی گئی تھی جو طالبان کے امیر ملاّ محمد عمر مجاہد نے قبول کرلی تھی۔ کئی سال سے یہ دفتر سیاسی لحاظ سے فعال ہے۔ سیاسی دفتر کے نمائندے اس وقت امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آٹھواں دور بھی کرچکے ہیں۔ ماسکو، انڈونیشیا، چین، جاپان اور وسطی ایشیا کے ممالک میں افغان مسئلے پر دورے اور وہاں حکومتی اعلیٰ عہدیداروں سے طالبان رہنمائوں کی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ماسکو اور دوحہ میں افغانستان کے سیاسی نمائندوں سے بھی ملاقات و مذاکراتی نشستیں کرچکے ہیں۔
ملاّ محمد عمر مجاہد کے بعد امارت کی ذمہ داری ملا اختر منصور کو سونپی گئی۔ وہ بڑے متحرک امیر تھے اور درپردہ کئی اہم دورے کرچکے تھے۔ 21 مئی2016 ء کو مبینہ طور پر ایران سے آتے ہوئے وہ بلوچستان کے ضلع نوشکی کے مقام احمد وال کے قریب امریکی ڈرون کا نشانہ بن گئے۔ ان کا پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ صحیح سالم منظرعام پر آئے جبکہ گاڑی کا بلوچ ڈرائیور اور ملاّ اختر منصور بھسم ہوگئے تھے۔ قطر دفتر فعال تھا، پھر ملاّ اختر منصورکا مارا جانا سمجھ سے بالاتر ہے، اور وہ بھی پاکستان کی انتہائی حدود کے اندر۔ بہرحال آنے والا وقت اس راز کو فاش کردے گا۔
بلوچستان کے پشتون اضلاع بشمول کوئٹہ میں چند سال قبل طالبان دورِ حکومت کے اہم افراد کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی۔ یہ عمل افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور پاک افغان سرحدی علاقے کے کمانڈروں کے اشتراک سے شروع کیا گیا تھا۔ کئی افراد قتل ہوئے۔ اس نیٹ ورک پر پاکستان کے خفیہ اداروں نے بہت جلد قابو پالیا۔ گرفتار ٹارگٹ کلرز کی انکشافی ویڈیوز منظر عام پر لائی گئیں ، کئی مارے گئے، ان کے پاکستان میں سہولت کاروں اور ان مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا جن کے سرحد کے اُس پار افغان حکومت کے کمانڈروں سے میل ملاپ اور روابط تھے۔ گویا ان سے رعایت نہ کی گئی۔
حافظ احمد اللہ کا قتل ان واقعات کی کڑی ہے، لہٰذا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکنا رہنا ہوگا۔ ناسمجھ افغان حکومت کو ہوش سے کام لینا چاہیے۔ اُسے یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ اُس کے دن گنے جاچکے ہیں۔ امریکی افواج کے نکلنے کے بعد یہ حکومت اور اس کی فورسز اور خفیہ ادارے اپنے بھارتی آقائوں سمیت ایک منٹ بھی اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکیں گے۔ ضروری ہے کہ کابل حکومت قابض ممالک سے غیر اعلانیہ ہی سہی، عدم تعاون شروع کرے۔ امارتِ اسلامیہ کی جنگ غیر ملکی افواج کے ساتھ ہے۔ کابل انتظامیہ کی فورسز ان خارجی افواج سے تعاون اور ان کے مفادات کے تحفظ کے نتیجے میں نشانہ بن رہی ہیں۔ افغان حکومت اپنے کمزور وقتی مقاصد کے لیے وارداتیں کراکر اگر سمجھتی ہے کہ وہ امن عمل کو متاثر اور امریکی قبضے کے تحت اپنی حکمرانی کو دوام دے پائے گی تو یہ اس کی بھول اور ناسمجھی ہے۔ اپنے وقتی مقاصد کے لیے چھوٹے گروہ بنانا اور ان کی سرپرستی افغانستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ افغانستان کے مفاد میں یہ ہے کہ کابل انتظامیہ حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے امن کی راہ کشادہ کرنے میں کردار ادا کرے۔ غرض حکومت اور ادارے کچلاک کے سانحے میں شریک لوگوں اور اس نیٹ ورک کو بے نقاب کریں۔
کوئٹہ میں ماہِ اپریل سے 16اگست تک سات بم دھماکے ہوئے جن میں 43 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں میں پانچ پولیس اہلکار بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

Share this: