تبدیلی کے نعروں کی گونج میں تحریک ِ انصاف حکومت کی ایک سالہ کارکردگی

وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور ان کی ٹیم ایک صفحے پر نہیں ہیں،اگر ہوتے تو تبدیلی کا سونامی تباہی کے بجائے زرخیزی لارہا ہوتا

تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا سال مکمل ہوا۔ اگست کے آخری ہفتے میں صدر عارف علوی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ روایت تو یہی ہے کہ حکومت خود صدر کو تقریر لکھ کر دیتی ہے اور صدر اسے پڑھ دیتے ہیں، اِس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ حکومت نے تو اپنے پہلے سال کی کارکردگی رپورٹ ایک پریس کانفرنس میں جاری کردی ہے، یہی کچھ صدر کے خطاب میں بھی ہوگا۔ تاہم اس کے باوجود اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ ریاست مدینہ کے قیام کا وعدہ کہاں تک پورا ہوا، یا اس کے لیے اب تک کیا کوشش کی گئی ہے؟ ہم یہاں حکومت کے ایک سال کا جائزہ لیتے ہوئے آسیہ کیس کا بالکل حوالہ نہیں دیں گے، کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو نہ بھی کہی جائیں تو ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ اس کیس کے کٹہرے میں ثاقب نثار برہنہ نظر آتے ہیں، وہی بتائیں گے کہ اس کیس میں اُن پر دبائو کیا تھا۔ حکومت کی ایک سال کی کارکردگی پر رائے ملک میں کاروباری سرگرمیوں کی حد تک محدود رکھی جائے تو بھی بے شمار سوالات ہیں۔ حکومت نے تو پہلا سال مکمل ہونے کے قریب وزیراعظم کے دورۂ امریکہ پر شہنائیاں بجائی ہیں، لیکن اس دورے میں اکیس توپوں کی سلامی تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ملی تھی۔ وزیراعظم سے امید تھی کہ ڈاکٹرعافیہ کو واپس لائیں گے لیکن وہ تو سری نگر ہی دے آئے۔ ملک میں کاروبار بند ہورہے ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، میڈیا انڈسٹری سمیت بہت سی صنعتیں بند اور محدود ہوچکی ہیں لیکن حکومت کے حامی کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم بہت مقبول ہیں اور انہوں نے امریکہ میں جلسہ عام کیا۔ یہ مقبولیت کا پیمانہ نہیں ہے، کیونکہ یورپی اور امریکی عوام عالمی شہرت یافتہ کرکٹر کو دیکھنے کے شوقین تھے، اس لیے یورپ اور امریکہ سے نہ صرف پاکستانی بلکہ مقامی شہری بھی جمع ہوئے، کیونکہ عمران خان ماضی کے معروف کرکٹر ہیں اور ورلڈ کپ جیتنے کا کریڈٹ بھی ان کے پاس ہے، تو آنے والے لوگوں میں عمران خان کو بطور وزیراعظم نہیں بلکہ بطور اسپورٹس مین دیکھنے والے زیادہ تھے۔ یورپ اور امریکہ میں پاکستانی سفارت خانوں کی کمال کارکردگی کا یہ ثمر ہے کہ 15ہزار لوگ جمع ہوئے۔ بہرحال حکومت کے پہلے سال کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ملک میں صنعتوں کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح زراعت، آب پاشی، صحت، تعلیم، تجارت جیسے شعبوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ پی آئی اے، پی ٹی سی ایل، واپڈا، اسٹیل ملز جیسے ادارے بھی نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔ جس طرح حکومت نے اپنے پہلے سال کی کارکردگی بتائی ہے اسی طرح اپوزیشن کو بھی ایک جائزہ رپورٹ جاری کرنی چاہیے، لیکن اپوزیشن کی کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی تیاری نہیں کی۔ تحریک انصاف کے دو بڑے دعوے تھے: (1)ایک کروڑ نوکریاں، (2) پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر۔ ان دونوں دعووں کو پورا کرنے کے لیے ایک سال میں ایک اینٹ بھی نہیں رکھی جاسکی۔ نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن ابھی تک نوجوان سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ملک کے اندر اور باہر ہر جگہ احتساب کی بات کی، لیکن ایک سال مکمل ہوچکا ہے، سوائے بغلیں بجانے کے کوئی کام نہیں ہوا۔ امریکہ میں بیٹھ کر کہا گیا کہ جیلوں میں بند سیاسی رہنمائوں کے اے سی اور ٹی وی بند کردیے جائیں گے، پنجاب حکومت کے ترجمان واضح طور پر بتاچکے ہیں کہ جیل میں ان سیاسی رہنمائوں کے لیے سہولتیں موجود ہیں۔ وزیراعظم عمران خان مسلسل کہتے رہے کہ این آ راو نہیں دوں گا، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ لوٹے ہوئے پیسے واپس کردیں تو انہیں چھوڑ دوں گا۔ کیا یہ این آر او نہیں؟ ابھی حال ہی میں عالمی بینک نے اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کچھ امور کی نشاندہی کرکے بتایا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی معیاری سہولیات سے افرادی قوت کی استعدادِ کار میں اضافے کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ 2002ء میں پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی شہری علاقوں میں مقیم تھی جس کا تناسب ایک تہائی تک بڑھ چکا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2018ء کے اختتام پر پاکستان کی 36.7 فیصد آبادی شہروں میں رہائش پذیر ہے، جبکہ جنوبی ایشیا کے خطے میں یہ شرح 34 فیصد اور متوسط آمدن والے ممالک میں 40.5 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.7 فیصد ہے جو جنوبی ایشیا کے خطے کی شرح 2.5 فیصد سے زیادہ ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق شہروں کی جانب نقل مکانی پر قابو پانے کے لیے دیہی علاقوں میں سہولیات کا فروغ ضروری ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں تعلیم، صحت کی بہتر سہولتوں اور روزگار کی فراہمی میں اضافے سے پاکستان تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے مسائل پر قابو پاسکتا ہے۔
ملک میں کاروباری سرگرمیوں کی صورتِ حال یہ ہے کہ جون 2019ء کے دوران استعمال شدہ کپڑوں کی درآمدات میں 9.86 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ کپڑے ملک کے غریب لوگ اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔ ان کی درآمد میں کمی کا مطلب یہ ہوا کہ ان کپڑوں کی طلب کم ہوگئی ہے۔ مالی سال 2018-19ء کے دوران انٹرنیشنل اسٹیلز (آئی ایس ایل) کے بعد از ٹیکس منافع میں 39 فیصد کمی ہوئی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران کمپنی کو2664.37 ملین روپے کا منافع حاصل ہوا، جبکہ مالی سال2017-18ء کے لیے آئی ایس ایل کا بعد از ٹیکس منافع4364.96 ملین روپے رہا تھا۔ اس طرح مالی سال 2017-18ء کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال 2018-19ء کے دوران آئی ایس ایل کے بعد از ٹیکس منافع میں 1700.59 ملین روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ آئی ایس ایل کے نفع میں کمی کے باعث کمپنی کی فی حصص آمدنی بھی10.03 روپے کے مقابلے میں 6.12 روپے فی حصص تک کم ہوگئی ہے۔
پاکستان میں نظامِ آب پاشی بدترین بحران کا شکار ہے، جس کی وجہ سے زراعت متاثر ہوئی ہے۔ یہ نظام 16 ملین ہیکٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ منگلا، تربیلا، چشمہ ڈیم پاکستان کے مشہور بڑے ڈیم ہیں جن کے ذریعے پاکستان کا ایک بڑا حصہ فیض یاب ہورہا ہے، جبکہ دیگر چھوٹی واٹر باڈیز بھی ملک بھر میں پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ ملک میں پہلے سے موجود ڈیموں کی حالت بھی خستہ ہے۔ گھروں میں پانی کے ضیاع کی بات کی جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہر شخص خود کو بہت اچھی طرح پرکھ سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو گھروں میں پانی کا ضیاع جیسے کہ نہاتے وقت ضرورت سے زیادہ پانی بہانا، کپڑے دھوتے وقت، برتن دھوتے وقت، فرش دھوتے وقت بے جا پانی کا استعمال بھی پانی کی قلت کا سبب ہوسکتا ہے۔ کسانوں کو بھی فصلوں پر ضرورت سے زیادہ پانی لگاتے دیکھا گیا ہے۔
حکمرانوں کا یہ المیہ بن چکا ہے کہ اپنی سیٹ بنائو اور پھر بچائو۔ ان کے مقاصد میں عام آدمی کہاں ہے؟ یہ زراعت کو ریڑھ کی ہڈی کا نام دے کر اسی کو توڑتے ہیں، یہ ڈیموں کے نام پر سیاست کرتے ہیں۔ پانی کی قلت کی دو بنیادی وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے آج ہمارے ملک میں پانی جیسی نعمت سے لوگ محروم ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک ہے قدرتی تبدیلیاں، اور دوسری ہے ہماری کوتاہیاں۔ پانی کے مناسب استعمال کے بارے میں لوگوں کو رہنمائی دینا ضروری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان میں اسی طرح پانی کا ضیاع ہوتا رہا تو 2025ء تک پاکستان کوپانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
پاکستان میں تبدیلی نعروں کی گونج میں دب کر رہ گئی ہے اور یقین ہوچلا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور ان کی ٹیم ایک صفحے پر نہیں ہیں،اگر ہوتے تو تبدیلی کا سونامی تباہی کے بجائے زرخیزی لارہا ہوتا۔ دونوں میں سوچ کا فرق ہے یا دونوں ہی ایک صفحے پر بوجوہ اکٹھا نہیں ہو پارہے؟ انہیں علم ہے کہ ملک میں مہنگائی کا سونامی سب کچھ بہا کر لے جارہا ہے، اور اس مہنگائی کے پیچھے آئل انڈسٹری کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ آئل انڈسٹری ملک کی واحد قوت ہے جس کی مدد سے مہنگائی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ شاید اسی زعم میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے سمندر کی پانچ ہزار میٹر گہرائی کو ہی اپنی کامل توجہ کا مرکز بنا لیا تھا اور ساری خوش خبریاں اسی ایک کوزے میں بند کرلی تھیں۔ پاکستان میں تیل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے اور انہیں مستقل کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے، جب تک آئل اسٹوریج کا نظام درست نہیں ہوگا، آئل انڈسٹری سے ملک میں خوشحالی بھی نہیں لائی جاسکتی۔ ملک میں تیل کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش صرف سات سے دس دن تک ہے، جبکہ عالمی معیارات کے مطابق اس کو اکیس دنوں تک ہونا چاہیے۔ حکومت نجی سطح پر ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی نہیں کررہی جو آئل ذخیرہ کرنے کے لیے گنجائش بڑھا سکیں۔ چند ٹرمینلز میں آئل اسٹورکرنا ناکافی ہے۔ آئل بردار جہازوں کو زیادہ دیر تک ساحلوں پر لنگرانداز کرکے ان کا کرایہ بھرنا پسند کرتے ہیں لیکن آئل ٹرمینلز تعمیر نہیں کیے جارہے، نتیجہ یہ ہے کہ تیل سے لدے جہازوں کو لائن میں لگادیا جاتا ہے۔ ملک میں اس وقت آئل اسٹوریج کی گنجائش بڑھانے کی فکر کرنی چاہیے، کیونکہ خطے میں اور ہمسائے میں چین، بھارت اور ایران میں آئل کی اسٹوریج کے لیے تیزی سے کام ہورہا ہے۔ چین عنقریب آئل انڈسٹری کا بھی کنگ بن جائے گا۔
ڈالر کی بلند پروازی سے غیر ملکی قرضوں میں 14ارب کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک دن میں ڈالر کی قیمت میں6روپے کا اضافہ لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے۔ دکان داروں، تاجروں اور صنعت کاروں میں پائی جانے والی بے چینی اور خوف وہراس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جو معیشت کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ ہر طرف سے ایک ہی سوال کیا جارہا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ ملک کس طرف جارہا ہے؟ مایوسیاں بڑھتی جارہی ہیں، چہروں پر تشویش کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ کیا ملک کا غریب آدمی اتنے ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرسکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ جب وزیراعظم شوکت عزیز تھے تو ڈالر 66 روپے کا تھا اور کئی برس اسی جگہ پر کھڑا رہا۔ حکومت کو پتا ہی نہیں کہ کیا ہورہا ہے۔ نئے گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈالرکو حکمت عملی کے تحت کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ کب تک کھلا رہے گا اور کہاں جاکر ٹھیرے گا، اس بارے میں کوئی نوید نہیں سنائی گئی۔ ویسے ڈالر کو کھلا چھوڑنے کے آثار تو نظر آنا شروع ہوگئے ہیں اور یہ یقینا اپنی اڑان جاری رکھے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملکی سلامتی پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ معاشی ماہرین کی رائے میں حکومت جو اقدامات اٹھا رہی ہے وہ خود کشی کے برابر ہیں، اور لگتا ہے کہ حکومت خودکشی پر تلی ہوئی ہے۔

Share this: