پاکستان، ہندوستان

تاریخ کی گواہی اور قومی شعور
سیکولروں کا یہ نقطہ نظر اور جس انداز سے سیکولر یہ بات کہتے ہیں اس میں تہ در تہ مفروضے چھپے بیٹھے ہیں۔
اولاً یہ کہ ملتِ اسلامیہ پاکستان کی کوئی تاریخ نہیں، نہ ان کی زندگی بحیثیت ایک قوم کے کسی تاریخی عمل سے جذباتی اور ذہنی سطح پر کبھی آشنا ہوئی۔
ثانیاً ہماری قومی زندگی کسی بے مغز خلا میں گزری ہے، جس کی وجہ سے کسی ادارے نے، خواہ وہ خاندان ہو، مسجد ہو، مدرسہ ہو یا ہمارا نثری اور شعری اثاثہ ہو، ہمیں تاریخی شعور منتقل نہیں کیا اور نہ ہم الہامی تعلیمات سے مستفید ہوئے۔ جیسے ہم کوئی ملحد بے دین قوم ہوں جس کی نہ سمت ہو، نہ کوئی آرزو۔ ایسی صورت کا فطری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ نہ ہمارا قومی شعور ہونا چاہیئے اور نہ ہی ماضی۔
واضح رہے کہ یہ دونوں مفروضے اپنی اصل میں مبہم و مضحکہ خیز ذہنی آوارگی کا نمونہ ہیں۔ اگر ان میں سچائی ہوتی تو جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کا مسلم شعور موجود نہ ہوتا، بلکہ 1940ء کے عشرے میں ہندی شعور اجاگر ہوکر سامنے آیا ہوتا، کیونکہ پانی پت کی تیسری جنگ (1761ء) لڑنے والے تو کبھی کے سپردِخاک ہوچکے تھے۔ اس کے برعکس ہوا یہ کہ مسلم شعور نے 1947ء میں پاکستان کی شکل میں اپنے ٹھوس وجود کی شہادت دی۔
اسی طرح ہماری نسل کا کوئی فرد نہ تو جنگ ِ بدر میں شریک تھا، نہ بیت المقدس میں فاتحانہ وارد ہونے والے صلاح الدین ایوبی (1138ء۔ 1193ء) کے لشکر کا حصہ تھا، اور نہ شہاب الدین محمد غوری (1150ء۔ 1206ء) کے ساتھ سرزمین ہند میں آیا تھا، جب کہ اس نے (1192ء) میں ترائن کی جنگ جیتی تھی۔
اسی طرح جب اس علاقے میں مسلمان اپنے تہذیبی شعور کو پھیلا رہے تھے جس میں طہارت، پاکیزگی، علم اور انسان دوستی کی مہک تھی اور ساتھ ہی ایک ایسے منصفانہ نظام کی ابتدا کررہے تھے، جس میں مسلمان باوجود ایک نظریاتی قوم ہونے کے، شریعت کے سائے میں دوسری اقوام اور ادیان کو وہی حقوق دے رہے تھے جو خود مسلمانوں اور اسلام کو حاصل تھے۔ بلاشبہ عالمی نقشے پر یہ ایک عظیم پیش رفت اور منفرد تجربہ تھا۔ تکثیریت بطور قدر دنیا میں متعارف ہورہی تھی، مگر اُس وقت بھی ہم میں سے کوئی یہ رفعت اور عظمت کے مناظر دیکھ نہیں رہا تھا۔ لیکن آج بھی یہ سارے واقعات ہماری روح کو تمازت بخشتے ہیں، اور ساتھ ہی ہمارے شعور کی تشکیل کرتے ہوئے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ یہی تو ہمارا اصل جوہر ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ تاریخ کوئی جامد شے نہیں ہوتی، اور نہ یہ کوئی اتفاقی حادثہ ہوتا ہے۔ بلکہ تاریخ تو ایک تخلیقی عمل ہے، جسے کسی قوم کا عزم اور اجتماعی ذہانت وجود میں لاتے ہیں۔ جو وقت کے دھارے میں واقعات کی یوں صورت گری کرتے ہیں کہ ان کی تابناکی اپنے زمانے سے ماورا نسل در نسل متاثر کرتی ہے۔ خواہ وہ کامیابی اور کامرانی کا نور فشاں منظر ہو یا شکست اور پسپائی کی اذیتوں کی ٹیس ہو۔ تاریخی واقعات کی بالخصوص یہی حقیقت ہے جو ہمارے وجود اور بقا کی تصدیق کرتی ہے کہ انہی سے ہمیں عظمت اور تکریم ملتی ہے۔
یہ بالخصوص اُن تاریخی واقعات کے حوالے سے درست بات ہے جو ہماری اقدار کی عظمت اور سچائی کو قدر و منزلت دیتے ہیں۔ یا پھر تاریخ کو ایسا رخ دیتے ہیں جو زندگی اور تہذیب کے عمل کو ہمارے حق میں کردیتے ہیں۔ اس پیرائے میں تاریخ ایک سیکھنے اور سمجھنے کا عمل ہے، جو شعور ہی سے کام لے کر شعور و آگہی کی تجسیم کرتا ہے۔
میں نے بہتر وضاحت کی خاطر تاریخ کو تعلیم سے تشبیہ دی ہے، لیکن بہ طور ایک رواں عمل یہ کسی میکانکی ابلاغی اقدام سے بدرجہا زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر بہائو ہے، ایک آہنگ اور اپنے ہی قسم کا زیرو بم ہے، جو تشکیل و تنظیم ہی نہیں کرتا بلکہ ہمیں اپنی روانی میں ساتھ لے کر چلتا ہے۔ پھر ہم ایک سیل و تموج کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، جس سے ہمیں اپنے وجود کے ہونے کا وہ احساس ملتا ہے جو بہ حیثیت ایک قوم ہمیں رفعت و بلندی سے ہم کنار کرتا ہے، اور مزید یہ کہ ہمیں ہمارے ماضی سے جوڑے رکھتا ہے۔
پھر یہ امر واقع کہ ہم نے ہندوستان پر کم و بیش ہزار سال حکمرانی کی، یہ احساس کہ مسلمان اپنے برترو اعلیٰ نظریاتی عقیدے کی بنا پر کسی کے زیردست بن کر نہیں رہ سکتے، اور یہ کہ پاکستان کا وجود اسی مسلم حکمرانی کا تاریخی تسلسل ہے۔ ایک باقی رہنے والی حقیقت جس کے مقدر میں ہے کہ وہ ایک بڑی طاقت بن کر ابھرے اور اس خطے میں آزاد اور باوقار بن کر اپنے وجود کو منوائے۔ یہ احساس اتنا گہرا اور مضبوط ہے کہ وہ ہمیں اپنے آپ کو بھولنے نہیں دیتا۔
(”سیکولرزم، مباحث اور مغالطے“۔طارق جان،)

لا و الا

فضائے نور میں کرتا نہ شاخ و برگ و بر پیدا
سفر خاکی شبستاں سے نہ کر سکتا اگر دانہ
نہادِ زندگی میں ابتدا لا انتہا الا
پیامِ موت ہے جب لا ہوا الا سے بیگانہ!
وہ ملت روح جس کی لا سے آگے بڑھ نہیں سکتی!
یقیں جانو ہوا لب ریز اس ملت کا پیمانہ!

لا:اشارہ ہے لاالٰہ کی طرف، جو کلمہ توحید کا ابتدائی جزو ہے۔ الا: مراد ہے الا اللہ سے۔ لا نفی کا کلمہ ہے جو تمام معبودوں کو ختم کردیتا ہے۔ الا صرف ایک معبودِ برحق کو ثابت کرتا ہے۔ اسی لیے اسے نفی و اثبات کہتے ہیں جو ہر وجود میں ثابت ہے۔
-1 اگر دانہ خاک کے اندھیرے سے اٹھ کر نورانی فضا میں نہ آتا تو کبھی اس میں سے شاخیں، پتے اور پھول پھل پیدا نہ ہوسکتے۔
مراد یہ ہے کہ دانہ پہلے اپنے آپ کو زمین میں گم کردیتا ہے۔ یہ اس کے لیے ’’الا‘‘ کی منزل ہے۔ پھر اگ کر روشنی میں آتا ہے اور پودا یا درخت بن جاتا ہے۔ یہ اس کے لیے ’’لا‘‘ کی منزل ہے۔
-2 اس بنا پر ثابت ہوا کہ زندگی کی اصل فطرت میں آغاز لا سے ہوتا ہے اور الا آخری منزل ہے۔ جس شے کی منزل میں موت کا پیغام آگیا وہ الا سے کبھی آشنا نہ ہوگی۔
-3 بالکل یہی حالت اس قوم کی ہے، جس کی روح لا کی منزل سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ جس کی یہ کیفیت دیکھو یقیں کرلو کہ اس کی زندگی کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔

Share this: