بلڈ پریشر مستقبل کی دماغی کیفیت پر اثرانداز ہوتا ہے

ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسانی عمر کے 30 برس اور 40 برس کے پورے عشرے میں بلڈ پریشر میں جو بھی اتار چڑھاؤ واقع ہوتا ہے وہ مستقبل کی دماغی صحت پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے لگ بھگ 40 برس تک لوگوں کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر عمر کے اس حصے میں فشارِ خون میں کمی بیشی ہوتی ہے تو شاید مرتے دم تک اس کے دماغ پر ہونے والے اثرات جاری رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ بلڈ پریشر کے مرض کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔ اگر فشارِ خون قابو میں نہ رہے تو اس سے دل کے امراض، فالج اور دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں گردوں کے امراض بھی عام ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جسم کی سب سے زیادہ آکسیجن اور خون بھی دماغ کو درکار ہوتا ہے۔ اگر وسطی عمر میں بلڈ پریشر میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ کا مرض لاحق ہوجاتا ہے تو اس سے 60 سال میں دماغی کمزوری اور کئی امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔ سروے شروع کرتے وقت خواتین و مردوں کی عمریں 36، 43، 60 سے 65 برس اور 69 سال تھی اور جب وہ 70 برس تک پہنچے تب تک ان کے پی ای ٹی ایم آرآئی کیے جاتے رہے۔ تحقیق نے بتایا کہ اگر 36 سے 43 اور 43 سے 53 سال کی عمر میں بلڈ پریشر بڑھنے کا مسلسل مرض لاحق ہوجائے تو اگلی ایک دو دہائیوں میں دماغ کا حجم سکڑ سکتا ہے۔ اسی طرح دماغ میں یادداشت کا اہم مرکز ہیپوکیمپس بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس طرح ایک تعلق قائم ہوا جو بتاتا ہے کہ اگر 53 سال کی عمر میں بڑھا ہوا بلڈپریشر معمول بن جائے تو اس سے دماغ میں سفید مادے کی افزائش میں سات فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ لیکن 43 برس سے 53 سال کی اوسط عمر سے بگڑنے والا فشارِ خون اس شرح کو بڑھا کر15 فیصد تک کرسکتا ہے۔

پاکستان کے پہلے وائرولوجی مرکز کا قیام

پاکستان وائرس سے پھیلنے والے امراض میں سرِفہرست ہے اور اسپتالوں پر ان کے امراض کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے، لیکن پاکستان میں اس پر تحقیق کا ایک ادارہ بھی موجود نہیں۔ تاہم اب جامعہ کراچی میں واقع پنجوانی مرکز برائے سالماتی ادویہ اور ادویاتی تحقیق (پی سی ایم ڈی) جرمنی کے تعاون سے یہ ادارہ قائم کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ وائرس سے پھیلنے والے امراض میں پاکستان میں مریضوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ ان امراض میں پولیو، ہیپاٹائٹس، ڈینگی، کانگو بخار، اور خسرہ وغیرہ نمایاں ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں ایسا کوئی وائرولوجی سینٹر موجود نہیں جہاں ان پر تحقیق ہوسکے۔ اس ادارے میں وائرل امراض پر تحقیق کی جائے گی، اس عنوان سے تحقیقی سرگرمیوں سے وائرل امراض کی روک تھام میں بے حد مدد ملے گی۔ سینٹر کی عمارت زیرِ تعمیر ہے لیکن ضروری سائنسی آلات خریدے جاچکے ہیں اور دیگربین الاقوامی اداروں سے بھی تعاون جاری ہے۔

ٹرمپ کی حمایت میں ’آن لائن اشتہارات‘ چلانے پر امریکی اخبار پر پابندی

فیس بک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت اور ان کے سیاسی حریفوں کے خلاف فیس بک اشتہارات کے ذریعے منفی پروپیگنڈا کرنے پر امریکی اخبار ’دی ایپوک ٹائمز‘ پر اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے تشہیر پابندی عائد کردی۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے انکشاف کیا کہ دی ایپوک ٹائمز نے ٹرمپ کی حمایت اور ان کے سیاسی حریفوں کے خلاف سازشی تھیوری کے لیے فیس بک اشتہارات کی مد میں 20 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔امریکی نشریاتی ادارے نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ کس طرح دی ایپوک ٹائمز نامی غیرمنافع بخش اخبار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت اور ان کے سیاسی حریفوں کے خلاف سازشی مواد چلا کر ایک بڑا آن لائن نیوز کا ادارہ بن کر ابھرا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دی ایپوک ٹائمز نے گزشتہ برس میں ٹرمپ کی حمایت میں 11 ہزار فیس بک اشتہارات پر 15 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔
ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ محض 2 برس میں دی ایپوک ٹائمز کے مالی اثاثے دگنا ہوگئے۔واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ امریکی صدر نے اپنے مخالفوں کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم شروع کی ہو بلکہ ان پر اس طرح کے الزامات پہلے بھی لگ چکے ہیں۔یہی نہیں بلکہ امریکی انتخابات میں حیران کن طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد فیس بک پر یہ الزامات عائد کیے گئے تجے کہ اس نے بھی ’ہلیری کلنٹن‘ مخالف مہم چلائی تھی۔ابتدائی طور پر فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ ویب سائٹ امریکی انتخابات پر اثر انداز ہو۔تاہم بعد ازاں رواں برس اپریل میں فیس بک کے چیف سیکیورٹی آفیسر نے اپنی بلاگ پوسٹ میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ امریکی انتخابات کے دوران فیس بک جیسے پلیٹ فام کو پروپیگنڈا کے تحت استعمال کیا گیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ فیس بک اگلے مرحلے میں امریکی انتخابات سے متعلق کیا اعتراف کرتا ہے اور امریکی انتظامیہ سوشل ویب سائٹ کے خلاف کیا اقدامات اٹھائے گی۔

دنیا کا سب سے چھوٹا انجن تیار

اگرچہ یہ آپ کی کار یا موٹرسائیکل میں نصب انجن جیسا تو نہیں لیکن طبیعیات دانوں نے دنیا کا سب سے چھوٹا انجن بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو صرف ایک کیلشیم آئن کے برابر ہے۔
آسانی کے لیے یوں سمجھ لیجیے کہ اس انجن کی جسامت کار انجن کے دس اربویں حصے جتنی ہے جسے ڈبلن میں واقع ٹرینٹی کالج کے سائنس دانوں نے بڑی محنت سے تیار کیا ہے۔ اس کی جسامت ایک کیلشیم آئن یعنی چند ایٹموں جتنی ہے، اسی لیے اس کی اصل تصویر لینا ممکن نہیں، مگر اس کا ایک خاکہ اوپر کی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ کسی طویل سفر میں کار کا حصہ تو نہیں بن سکے گا لیکن مستقبل میں نینو ٹیکنالوجی سے بنی انتہائی مختصر مشینوں کی تیاری میں یہ ضرور مفید ثابت ہوگا۔ ایسی مشینیں جو انسانی جسم میں داخل ہوکر انتہائی حساس اور پیچیدہ امور انجام دے سکیں گی۔
اس میں کیلشیم آئن پر ایک برقی چارج موجود ہے جو اسے گول دائرے میں گھماتا ہے۔ اس طرح اینگولر مومنٹم پیدا ہوتا ہے جو لیزر شعاع کی حرارت کو تھرتھراہٹ میں تبدیل کرتا ہے۔ اس طرح ارتعاشات اسے فلائی ویل بناتے ہیں، یعنی گردشی توانائی جمع رکھنے کا ایک کام کرتا ہے۔ اس طرح یہ پہیہ نما انجن ایٹمی پیمانے کی کسی موٹر کی افادیت بھی ناپ سکتا ہے اور اسے بہت سارے سنجیدہ کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Share this: