وزیر اعظم کی ”انتہائی حد“۔”سفارتی کوششیں“ یا ”جنگ“؟۔

سفارتی ماہرین کی رائے میں بھارت اپنے آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے عملًا اس پر قبضہ کرچکا ہے، اور اسے امریکہ کی مکمل آشیرواد حاصل ہے۔ پاکستان میں متعین رہنے والے ایک سابق امریکی سفیر پیٹرسن نے بھی اعتراف کیا ہے کہ بھارت کشمیر پر قبضہ کرچکا ہے، لہٰذا اب امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش ایک جال ہے، صدر ٹرمپ ہمیں دھوکے میں رکھ رہے ہیں، ان کی اصل حمایت مودی کے لیے ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان بھارت کی طرف سے کشمیر پر یک طرفہ اقدام کو ہضم کرلے اور مودی کا کام آسان ہوجائے۔ مودی کا اصل منصوبہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو بھی ہضم کرنا ہے اور صدر ٹرمپ اس منصوبے میں معاونت کررہے ہیں۔
مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف سفارتی جنگ لڑنے کے فیصلے کے بعد کئی سال بعد یہ مسئلہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ پاکستان نے عالمی سطح پر احتجاج کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھا۔ وزیر خارجہ کی جانب سے لکھے جانے والے خط پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کا جائزہ لیا گیا۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد چینی مندوب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک غیر حل شدہ اور متنازع معاملہ ہے، اس لیے دونوں ممالک یک طرفہ فیصلے کرنے سے گریز کریں۔ پاکستان کی یہ کامیابی ہے کہ سلامتی کونسل نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، دونوں ملک اسے شملہ معاہدے کے تحت حل کریں۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد کشمیر میں حالات بتدریج معمول پر آتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے دبائو نے کام دکھایا ہے اور اب بھارت یک طرفہ طور پر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔
اگر اس پورے معاملے کا جائزہ لیا جائے تو یہ پاکستان کی سفارتی جیت ہے کہ بھارت کی پُرزور کوششوں کے باوجود مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورم پر اٹھایا گیا، لیکن پاکستان کی حقیقی کامیابی اُس وقت ہوگی جب سلامتی کونسل کے باضابطہ اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ بحث اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کروایا جائے گا، جس کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ وزارتِ خارجہ اس وقت اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے اور اسے اپنا حامی بنانے پر شب و روز مصروفِ عمل ہے۔ سلامتی کونسل کا دروازہ کھٹکھٹانے سے قبل پاکستان کی جانب سے دوست ممالک کو اعتماد میں لیا جارہا ہے۔ چین، فرانس، روس کی جانب سے تو اچھی اطلاعات مل رہی ہیں، لیکن مسلم دنیا میں خاموشی کیوں ہے؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے تو انتہائی حیران کن ردعمل سامنے آیا۔ سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں ہونے والی بحث کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے باوجود متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیراعظم کو اعلیٰ شہری ایوارڈ دیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ متحدہ عرب امارات اور بھارت کی باہمی تجارت کا حجم ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ سعودی آئل کمپنی ’’آرامکو‘‘ نے بھارتی کمپنی ریلائنس کے 20 فیصد شیئرز خرید کو مودی سرکار کی معیشت کو آکسیجن فراہم کی۔ سلامتی کونسل کے بعد اب عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اگر سکّے کے دوسرے رخ کا جائزہ لیا جائے تو دنیا میں کاروباری مفادات سب رشتوں اور تعلق پر غالب آچکے ہیں۔ پاکستان اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ پاکستان کی کمزور معیشت کشمیریوں کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ پاکستان کو اپنی معاشی صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے سفارتی حکمت عملی بنانا ہوگی۔ پاکستانی معیشت پر آئی ایم ایف سمیت کئی ممالک اور عالمی بینکوں کے قرضوں کا بوجھ ہے، اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار بھی لٹک رہی ہے، اس لیے پاکستانی قوم کو موجودہ صورتِ حال میں عالمی برادری سے انصاف کی توقع ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس سے پوری قوم نے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرلی تھیں۔ کشمیر میں حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جارہے ہیں جبکہ اجلاس کا کوئی نتیجہ برآمد ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزارت خارجہ نے جہاں جہاں بھی رابطے کیے وہاں سے ایک خاموش پیغام یہ ملا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ممالک کے لیے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اہم نہیں، بلکہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلیئر جنگ کے بڑھتے خطرات کے باعث فکرمند ہیں۔ اس لیے عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے بجائے کنٹرول لائن پر بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے یک طرفہ فیصلوں کے بجائے مذاکرات کی تجاویز پیش کررہی ہیں۔ مودی سرکار کشمیری عوام کے گلے میں پھندا ڈالنے کا منصوبہ رکھتی ہے، اور اسی لیے انہیں آزادی کے خواب ترک کرنے پر بزور بازو مجبور کررہی ہے، صورت حال یہ ہے کہ حکومت نے اقوام عالم اور بین الاقوامی تنظیموں سے کشمیر کاز کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے، لیکن اسلام آباد میں عالمی برادری کی رائے پر اثرانداز ہونے کی جو صلاحیت ہے اس حوالے سے مبالغہ آرائی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بات کسی حد تک حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کے رابطوں کے بعد مقبوضہ کشمیر میں زیرِ حراست افراد کی رہائی اور کشمیری عوام کی بنیادی آزادی کے احترام کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ اگر امریکی صدر کشمیر کی 5 اگست سے پہلے والی حیثیت میں بحالی کا مطالبہ کریں تو اسے کامیاب سفارت کاری کہہ سکیں گے۔ سلامتی کونسل کا اجلاس ہوچکا ہے اور اس کے رجحان کا بھی پتا چل گیا ہے۔ اب پاکستان کو اُن ملکوں سے رابطہ کرنا ہوگا جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔ وزیرِاعظم اور وزراء کا بیانیہ یہ ہے کہ حکومت کشمیر کاز کو تحفظ دے گی، لیکن حکمت عملی کیا ہوگی اس کا جواب نہ ملا تو رائے عامہ مایوس ہوسکتی ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے پاس کون سے آپشن ہیں اور ان پر بہترین انداز میں عمل کس طرح کیا جاسکتا ہے، یہ بات عوام کو سمجھانے والی ہے۔ وزیرِاعظم اپنے اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ کشمیری عوام کے حقوق کو تحفظ دینے کی خاطر انتہائی حد تک جاسکتے ہیں۔ یہاں ’’انتہائی حد‘‘ کی تعریف ضروری ہے۔ اس سے مراد سفارتی کوششیں ہیں یا جنگ؟ ہمارے سامنے بہت بڑا چیلنج یہ ہے کہ نئی دہلی اپنی ہٹ دھرمی ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہے، اس کے مقابلے کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے قومی حکمت عملی تشکیل دی جائے، اور اس حکمت عملی کے طویل المدتی نفاذ میں عوام کو شامل کیا جائے۔

مسئلہ کشمیر: ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی ہے۔تاہم یہ کوئی معمولی کام نہیں- ثالثی قبول کرنے سے قبل پاکستان کو اس کی شرائط سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے، ورنہ ملکی مفاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عالمی قانون کی نظر میں ثالثی کیا اور کیسے ہوتی ہے، اس کا جائزہ لیتے ہیں:
معروف انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق ثالثی وہ عمل ہے جس کے ذریعے کسی تنازعے کے حل اور اختلافات میں کمی کے لیے تیسرے فریق کی مدد لی جاتی ہے۔ بین الاقوامی تنازعات پر ثالثی کی گنجائش اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی موجود ہے۔ اس کے چھٹے باب میں ثالثی کا ذکرکیا گیا ہے۔ اس باب کے آرٹیکل 33 کے مطابق رکن ممالک کوشش کریں گے کہ جن تنازعات سے بین الاقوامی امن کو خطرہ لاحق ہو اُن کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات اور ثالثی کا راستہ اختیار کریں۔ اگر رکن ممالک مذاکرات یا ثالثی سے تنازع حل نہ کرپائیں تو انہیں چارٹر کے آرٹیکل 37 کے مطابق معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنا ہوتا ہے، جہاں سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی تنازعے کا حل تجویز کرتی ہے۔
اب یہاں سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کے فون سے ثالثی ہوجائے گی؟ یا یہ کوئی نیا دھوکا اور فریب ہے؟ اس ضمن میں دفتر خارجہ کی سینئر لیڈرشپ اور سابق سفارت کاروں سے گفتگو کی گئی ہے۔ سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے فون سے ثالثی نہیں ہوجاتی، جو مسئلہ 70 سال سے حل نہیں ہوا، کیا وہ ایک فون کال سے حل ہوجائے گا؟ ثالثی کے لیے سب سے پہلے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہے، وہ اُس وقت ہوگا جب مودی حکومت انڈیا کے زیراہتمام کشمیر سے کرفیو ہٹائے گی اور لوگوں کی زندگی آسان بنائے گی۔ ثالثی ایسے نہیں ہوتی، اس کا باقاعدہ فریم ورک ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 6 میں ثالثی کا طریق کار واضح کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی باتوں میں ایک بار بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر نہیں کیا۔ اس لیے پاکستان کووضاحت مانگنی چاہیے کہ ثالثی کی شرائط کیا ہیں۔ اگر ہم نے من و عن بات مان لی تو ہمیں نقصان ہوگا۔ پاکستان کشمیر پر ثالثی کا ہمیشہ حامی رہا ہے اور انڈیا اس سے گریز کرتا رہا ہے، تاہم ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس ثالثی کا مقصدکیا ہے۔
اب وزارت خارجہ کا مؤقف ہے کہ ’’پاکستان ٹرمپ کی پیش کش کا خیرمقدم کرتا ہے۔ بس اس سے آگے کچھ نہیں بولنا۔‘‘

کمزور معیشت، سیاسی عدم استحکام اور عمران خان کے دعوے

وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری معیشت مثبت سمت کی طرف بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔ یہ دعویٰ عوامی حلقوں میں تسلیم نہیں کیا گیا، دلیل یہ دی جارہی ہے کہ تنخواہ دار طبقے کی اکثریت کی تنخواہ 25 سے 40 فی صد بجلی کے بلوںکی نذر ہوجاتی ہے، حکومت زبردستی ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے۔ وزیراعظم کی خوش خبری اپنی جگہ، لیکن 2019ء میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 20فی صد شہری قربانی کرنے سے محروم رہے ہیں۔ ملک میں گاڑیوں کی فروخت میں 40 سے 60 فی صد تک کمی آئی ہے۔ چونکہ ایف اے ٹی ایف نے کہہ دیا ہے کہ پلاٹوں کی خرید و فروخت ’’دہشت گردی‘‘کے لیے سرمایہ جمع کرنے کے لیے ہوتی ہے، بہتر تھا کہ پہلے حکومت تحقیق کرتی پھر کوئی فیصلہ کرتی، مگر اس نے بھی اِس شعبے کو ٹارگٹ کرلیا، جب کہ حقائق یہ ہیں کہ صارفین نے بینکوں سے 700 ارب سے زائد کی رقوم نکلوا لی ہیں، انہیں ایف بی آر سے خوف ہے۔ ایسے میں خوش حالی صرف وزیراعظم کو ہی نظر آرہی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت اپنا پہلا پارلیمانی سال مکمل کرچکی ہے، حکومت کی نااہلی سے پہلے سال میں ہی ملکی معیشت چالیس فی صد نیچے آچکی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی حالیہ تازہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایک سال کے دوران پاکستان کے غیر ملکی قرضوں میں 11 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 106 ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں۔گزشتہ ایک سال کے دوران قرضوں اور واجبات میں 10 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا جس کے بعد قرضے 40 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے لیے جانے والے قرضوں میں سے پرانے قرضوں اور سود کی ادائیگی پر 3126 ارب روپے خرچ ہوئے۔ لیگی دور کے قرضوں کی ادائیگی پر 905 ارب روپے اضافی ادا کرنا پڑے۔ ملک کی یہ کمزور معیشت اندرونی سیاسی استحکام اور بیرونی محاذ پر ہمارے لیے خطرات کا باعث بن رہی ہے۔ گھر میں استحکام ہوگا تو عالمی معاشرے میں ملک کی اہمیت تسلیم کی جائے گی، لیکن حکومت کو اس بات کا کوئی ادراک نہیں ہے۔

Share this: