توبہ اور دعا کا وقت

دانشور اشفاق احمد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے جو ہر وقت فرطِ خوف سے کانپتا رہتا ہے۔ اشفاق احمد کی یہ بات صرف حکمرانوں پر ہی صادق نہیں آتی بلکہ دانشوروں، قلمکاروں اور دیگر طبقات کے بارے میں بھی صحیح ہے۔ بے یقینی کا زہر معاشرتی زندگی میں سرایت کرگیا ہے، ملازم کو اپنی ملازمت کا یقین نہیں، تاجر کو تجارت میں گھاٹے کا اندیشہ ہے، حتیٰ کہ جرنیل جن کو بہادر ہونا چاہیے وہ بھی اندر سے بزدل ہوگئے ہیں۔ اس میں قصور کسی کا نہیں ہے، حالات نے ہر شخص کو خوف زدہ کر رکھا ہے، اور انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، خدشات کا شکار ہے۔ ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟ انسان ذاتی زندگی میں آڑے وقت میں خدا کا سہارا لیتا ہے، اس سے مدد کا طالب ہوتا ہے اور دعا کے ذریعے طاقت حاصل کرتا ہے۔ کیا فرد کی طرح معاشرے کو بھی اس طاقت کی ضرورت نہیں ہے؟ تاریخِ اقوامِ کا مطالعہ کریں تو یہ بات معلوم ہوگی کہ اگر کوئی بدعمل اور بدنصیب قوم آفات میں گھر جاتی ہے تو اس حالت میں بھی خدا سے رجوع نہیں کرتی، بلکہ اس کی سرکشی اور غفلت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ جب حضرت عمر فاروقؓ کو یرموک کے محاذِ جنگ سے اطلاع موصول ہوئی کہ حالات خراب ہیں تو انہوں نے کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا بلکہ سالارِ لشکر ابوعبیدؓہ کو خدا کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کی، اور یہ کوئی رسمی بات نہیں تھی بلکہ حضرت عمرؓ نے اطلاع پر حضرت علیؓ اور اکابر صحابہ سے مشورہ کیا کہ یرموک سے ایسی اطلاعات ملی ہیں، اب کیا ہونا چاہیے؟ اور متفقہ طور پر یہ رائے قرار پاگئی کہ خدا سے مدد مانگی جائے اور صبر و استقامت کے ذریعے ہی رومیوں کو شکست دی جاسکتی ہے۔ جب بدر کے میدان میں تین سو تیرہ کے مقابلے میں ایک بڑا لشکر تھا تو اُس وقت بھی اللہ کے رسولؐ اپنے صحابہ سمیت بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز تھے، مشکل جس قدر بھاری تھی اسی نسبت سے دعائوں میں گداز تھا۔
اجتماعی خطرے کا وقت دراصل اجتماعی دعائوں کا ہوتا ہے۔ آج کل امت ِ مسلمہ پر جو کڑا وقت آیا ہوا ہے اس میں ضرورت یومِ توبہ اور یومِ دعا کی ہے، جو عوامی سطح پر ہو۔ خدا تعالیٰ کو محبوب اور مبغوض قوموں کا فرق یہی ہے کہ مشکل وقت میں خدا یاد آتا ہے، یا اس موقع پر بھی یاد نہیں آتا۔ مبغوض قوم کے ہاتھ دعا کے لیے نہیں اٹھتے، اور وہ دعا کرتی بھی ہے تو یہ بے اثر ہوتی ہے کہ اس میں وہ سوز و گداز نہیں ہوتا جو قبولیت کے لیے ضروری ہے۔ دنیا کی گمراہ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ عذاب کو آتا دیکھ کر بھی انہیں دعا اور توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوئی، وہ اپنے لہو و لعب اور فواحش و منکرات میں مستغرق رہیں۔ ان کے دل سے رحمت ِ الٰہی کے لیے کوئی پکار نہیں اٹھی۔
یونس علیہ السلام کی قوم عذاب سے بچ گئی تھی حالانکہ انہیں ان کے پیغمبر حضرت یونسؑ نے عذاب کی اطلاع دے دی تھی، اور وہ اس گناہ کی بستی سے بیوی بچوں کو لے کر باہر نکل گئے تھے، لیکن ان کے جانے پر قوم عذاب کی اطلاع پر سنجیدہ ہوئی، اور سب لوگ بھی اس بستی سے نکل گئے اور بستی سے باہر مصروفِ دعا ہوگئے کہ اے اللہ اب ہم تیرے راستے پر چلیں گے، ہم پر سے عذاب ٹال دے۔ اور واقعی عذاب ٹل گیا۔ اس پر خود حضرت یونسؑ بھی حیران رہ گئے کہ آنسوئوں اور شرمساری نے عذاب کا رخ پھیر دیا۔
اجتماعی زندگی میں غلط روش اور غلط فیصلے چند افراد کے نہیں ہوتے، یہ قومی ذہن اور کردار کا عکس ہوتے ہیں۔ اگر افراد اپنی زندگی میں لالچ کی بنا پر اصولوں سے انحراف کرتے ہیں تو قومی سطح پر بھی یہی ہوتا ہے۔ اگر افراد مختلف نوعیتوں کے خوف کے سبب غلط بات کے آگے جھک جاتے ہیں تو ایسی قوم کے لیڈر بھی اپنے فیصلے خوف زدگی کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ یہ خوف اور لالچ ہی ہے جو افراد کی زندگی میں بگاڑ پیدا کرتا ہے اور اقوام کو بھی اپنے راستے پر قائم نہیں رہنے دیتا۔ آج اگر ہماری یہ صورتِ حال ہے تو اس کا علاج رجوعِ الی اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ قوم کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ آنے والے دن اس کے لیے ہرگز اچھے نہیں ہیں، اور باطل سے مصالحت کرکے بھی جان نہیں چھوٹے گی۔ اگر بچائو چاہیے تو پوری قوم دعا اور توبہ کا راستہ اختیار کرے، کہ نہ لاف زنی اور شیخی بگھارنے سے عذاب ٹلے گا، نہ بزدلی دکھانے اور ہمت ہارنے سے نجات نصیب ہوگی۔
کچھ دن پہلے ڈان کے سنڈے میگزین میں شفق نورانی کا مضمون ’’دعا کی طاقت‘‘ شائع ہوا ہے، وہ لکھتی ہیں کہ دعا کے ذریعے بندے کا رابطہ خدا سے ہوجاتا ہے، اور بقول امریکی ماہر نفسیات ولیم جیمس، مذاہب کا جوہر خدا سے دعا ہے۔ شفق نورانی نے اچھی بات لکھی ہے کہ دعا صرف کسی مفاد کو طلب کرنے کی درخواست نہیں ہوتی، یہ خدا سے تعلق جوڑنے والی چیز ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ دعا نہیں ہے۔ جس طرح فرد کی مضبوط داخلیت اس کی روحانیت کے سبب ہوتی ہے، ایسے ہی قوم کا مضبوط باطنی وجود بھی خدا پر یقین اور ایمان سے تشکیل پاتا ہے۔ دعا انسان کو ہر روز نئی طاقت عطا کرتی ہے اور قوم بھی اس سے ایمان کی تازگی حاصل کرتی ہے۔ اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے انفرادی عبادت اور دعا سے زیادہ اہمیت اجتماعی عبادت اور دعا کو دی ہے۔ اس لیے آنے والے دنوں کے مصائب کے پیش نظر پوری قوم کو اجتماعی توبہ اور دعا کا اہتمام کرنا چاہیے، ورنہ مادی اسباب پر ہی نظر رہے تو اس قوم کا بے حوصلہ ہوجانا یقینی ہے، اور جب ہر طرف سے پریشان کن اطلاعات موصول ہورہی ہوں تو حوصلے کا قائم رکھنا ممکن نہیں ہوتا اِلّا یہ کہ بندہ دعا کے ذریعے اللہ سے اپنا تعلق جوڑے۔ کیا قوم اس کے لیے آمادہ ہوگی؟

Share this: