مغربی فکر اور اسلامی فکر

مغربی فکر (جو اس وقت عالمگیر صورت اختیار کرچکی ہے) کا مرکزی ہدف دنیاوی کیریئر بنانا اور مادی زندگی کو زیادہ سے زیادہ خوش حال اور لذیذ سے لذیذ تر بنانا ہے، نیز فرد و افراد کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں و توانائیوں کے ذریعے معاشرے و ریاست کو مادی طور پر مستحکم کریں۔
مغربی فکر کا یہ ہدف دراصل انسان، کائنات اور تخلیقِ کائنات کے بارے میں ان کے خالص مادی نقطہ نگاہ ہی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت انسان و کائنات کی تخلیق اللہ کی منصوبہ بندی و حکمت کے تحت نہیں ہوئی ہے، بلکہ ارتقا کے قدرتی قوانین کی صورت ہے۔ انسان تو بس حیوان ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس میں جتنے بھی جذبات و احساسات اور تقاضے پائے جاتے ہیں، وہ سب کے سب خالص مادی نوعیت کے ہیں، روح و دل کی جوہری قوت اور فطرتِ سلیمہ جیسی چیزیں سرے سے انسان میں موجود ہی نہیں ہیں، وہ سراسر نفسانی خواہشات کا مجموعہ ہے۔ یہ زندگی سراپا مادی مسرت کے حصول ہی کا ذریعہ ہے۔ موت کے بعد کی زندگی مذہب کا واہمہ ہے۔
مغربی فکر اور اس کی تہذیب دراصل انسان و تخلیقِ کائنات کے بارے میں ان کے اسی مادی نقطہ نظر ہی کا مظہر ہے۔
اس نقطہ نظر کے غلبے کے نتیجے میں ہی وہ نظامِ تمدن و تہذیب وجود میں آیا ہے جس نے پوری انسانیت کو مادیت پرستی کی آگ میں جھونک دیا ہے، انسانی روح کو تھکا دیا ہے، دل کو اس کی اصل غذا سے محروم کردیا ہے اور دماغ کو خالص مادی سوچ کے ذریعے فکری انتشار کا شکار بنادیا ہے۔
مغربی (جدید) نفسیات کا کام یہ ہے کہ غیر معمولی مادی جدوجہد یعنی مادہ کی بہت زیادہ پرستش کے نتیجے میں فرد جب نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں کا شکار ہوجائے تو اسے ارتکازِ قوت کی مادی نوعیت کی کچھ مشقوں یا نشہ آور گولیوں کے ذریعے وقتی طور پر آرام پہنچایا جائے، یا اس کے ذہن کو منجمد کردیا جائے، تاکہ وہ کچھ ہفتوں یا کچھ مہینوں تک مادہ کی پرستش یعنی غیر معمولی مادی جدوجہد سے آزاد ہوسکے۔ اس سلسلے میں جدید نفسیات فرد کی وقتی تسلی سے زیادہ تسکین کا انتظام کرنے سے بالکل قاصر ہے۔
جب کہ اسلامی فکر و تعلیمات کا ہدف یہ ہے کہ دنیاوی ضروریات کے حصول کی جدوجہد کے باوجود دنیا میں استغراق کی حالت پیدا نہ ہو، اور محبوبِ حقیقی یعنی اللہ سے غفلت پیدا نہ ہو، نیز فرد اخلاقی اور روحانی طور پر اتنا مستحکم ہو کہ اللہ کی محبت و رضا اور اُس کی اطاعت اس کا مقصود ہوجائے۔ اللہ کے لیے جینا و مرنا اس کا ہدف بن جائے۔ اللہ کی محبت کے زیر اثر وہ معاشرہ و ریاست کو اسلامی نقطہ نگاہ سے مستحکم کرنے کا کردار ادا کرے اور تعمیرِ سیرت کے ذریعے اللہ کے بندوں سے محبت، ان کی خدمت، انسانی جوہروں سے بہرہ وری اور آخرت میں نجات، یہ ساری چیزیں اس کے مزاج کا حصہ بن جائیں۔
مسلم نفسیات (یعنی اہلِ تصوف) کا کام یہ ہے کہ فرد کے دل، روح اور نفسیات کو صحبت ِ صالحہ کے نورانی ماحول اور اللہ کے ذکر سے اتنا مستحکم کیا جائے کہ دل، عقل اور نفسیات کا توازن بگڑنے نہ پائے۔ اور ذکر کے ذریعے ان کی تسکین و تشفی کا ایسا انتظام ہو کہ وہ حلاوت سے سرشار ہوجائیں اور فرد اور افراد تخلقوا با اخلاق اللہ کے حامل ہوجائیں۔
مغربی فکر اور اسلامی فکر کے درمیان یہ فیصلہ کن اور بنیادی فرق ہے، جو دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ یہ جوہری نوعیت کا فرق ہے اور دنیا میں جہنمی منظر اور جنتی منظر کے مماثل ہے۔
ہم نے مغربی فکر کی تقلید اختیار کرنے اور مغربی تہذیب پر فریفتگی کی وجہ سے اسلامی ناموں سے موسوم ہونے اور بعض اسلامی روایات پر عمل پیرا ہونے کے باوجود عملاً، اپنے لیے جو مظاہرِ زندگی اور طرزِ زندگی پسند کیے ہیں، وہ مغرب کی مادیت پرستی پر مشتمل زندگی ہے، اور دنیاوی کیریئر کو مقصود بنانے والی زندگی ہے، اس کے جو نتائج نکل سکتے ہیں، وہ اہلِ مغرب کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں ظاہر ہونے والے نتائج کے علاوہ دوسرے نکل سکیں، یہ ممکن ہی نہیں۔ یعنی مادی زندگی ہی کو مسرت کا واحد ذریعہ سمجھنا، ایک دوسرے پر فوقیت حاصل کرنے کو زندگی کے مقاصد میں شمار کرنا، رحم دلی، ہمدردی، محبت، شفقت اور حقیقی انسانیت نوازی جیسے اوصاف سے محرومی اور بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض کا شکار ہونا وغیرہ وغیرہ۔
قرآن نے یہ اہم نکتہ واضح فرمادیا ہے کہ ظالم قوموں کی طرف جھکنے کے نتیجے میں آگ کی لپیٹ سے بچنا ممکن نہیں۔
ظالم اور مادہ پرست قوموں کے مظاہرِ زندگی اور طرزِ زندگی سے نفرت کے بجائے ان سے دل بستگی اور ان پر فریفتگی کا لازمی نتیجہ دل، روح اور نفسیات کا آگ کی لپیٹ میں آجانا ہے۔ جہنم کی آگ سے پہلے اس دنیا میں بھی یہ آگ چھوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی نفساتی بیماریاں، سنگ دلی، قساوت قلبی، دولت پر سانپ بن کر رہنے کی نفسیات، مال کی خاطر قوم و ملّت اور عزیز و اقارب کو پامال کرنا وغیرہ۔۔۔ یہ ساری چیزیں مغربی فکر کا منطقی نتیجہ ہیں۔ سنبھلنے کی ضرورت ہے۔
(حافظ محمد موسیٰ بھٹو۔ ماہنامہ ”بیداری“ حیدرآباد، جنوری 2017ء)

مری دعا

تری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی
مگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تُو بدل جائے!۔
تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا
عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے!۔
وہی شراب وہی ہائے و ہو رہے باقی
طریقِِ ساقی و رسمِ کدو بدل جائے!۔
تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے!۔

-1اگر تُو بارگاہِ الٰہی میں دعا مانگے تو اس سے تیری تقدیر میں بے شک تبدیلی پیدا نہیں ہوسکتی، لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ تیرے قلب و نظر میں انقلاب آجائے۔ یعنی تُو یہ حقیقت ذہن میں بٹھا کر کہ خدا کی رضا اور اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے، دعا بھی کرتا جائے، ساتھ ساتھ احکام الٰہی کی تعمیل میں سرگرم جدوجہد بھی جاری رکھے۔ دعا کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ انسان خدا سے جو کچھ مانگتا ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے عزم و ہمت کا پیکر بن جائے، اس لیے کہ جو کچھ وہ مانگے گا، اسی کو اپنا نصب العین بنائے گا۔ لازم ہے کہ اس کے لیے سامان بھی جمع کرے۔ جو دعا ان اثرات سے خالی ہو، وہ حقیقی معنی میں دعا ہی نہیں۔
-2اے مسلمان! اگر تُو عشقِ حق میں ڈوب کر خودی کے بلند ترین مقام پر پہنچ جائے تو یقیناً ملّتِ اسلامیہ کی ساری زندگی میں حیرت انگیز و خوش آئند تغیر واقع ہوجائے۔ وہ ذلت و پستی کی گہرائیوں سے نکل کر عزت و عظمت کی بلندیوں پر پہنچ جائے۔
-3 اگر تیری خودی میں انقلاب پیدا ہوجائے تو اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ اگرچہ محفل میں شراب بھی وہی رہے گی اور مستوں کی ہائو ہو میں بھی فرق نہ آئے گا، لیکن ساقی کا رنگ ڈھنگ اور شراب پینے کا طور طریقہ بدل جائے گا۔
-4 تُو عام طور پر درگاہِ باری تعالیٰ میں یوں دعا کرتا ہے: اے خدا! مجھ پر ایسی رحمت کی نظر ڈال کہ میں دنیا کی نگاہوں میں عزت و عظمت کا نہایت بلند مقام حاصل کرلوں، لیکن میری دعا یہ ہے کہ تیری یہ آرزو بدل جائے اور اللہ تعالیٰ تجھے کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے، جس سے تُو مردِ مومن بن کر دین و ملت کی خدمت کے لیے زندگی وقف کردے۔

Share this: