سافٹ ڈرنکس موت کی بڑی وجہ؟۔

امپیریل کالج لندن کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سافٹ ڈرنکس چینی سے بنے ہوں یا مصنوعی مٹھاس سے، کئی امراض کا سبب اور اس سے موت کا خطرہ بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
محققین نے دریافت کیا کہ مصنوعی مٹھاس سے بنے مشروبات اور دورانِ خون کے امراض سے اموات کے درمیان تعلق ہے، جبکہ چینی سے بنے سافٹ ڈرنکس نظام ہاضمہ کے امراض سے موت کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق سے ان شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ سافٹ ڈرنکس اور امراضِ قلب یا فالج سے اموات کے درمیان تعلق موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعلق خاصا پیچیدہ ہے اور اسے اتفاق نہیں سمجھا جاسکتا ”ہم نے دریافت کیا کہ ان مشروبات کا زیادہ استعمال مختلف وجوہات کی بنا پر موت کا خطرہ بڑھاتا ہے“۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف سافٹ ڈرنکس ہی قبل از وقت موت کا باعث بنتے ہیں بلکہ مزید عناصر بھی اس کے پیچھے چھپے ہوسکتے ہیں، جیسے زیادہ سافٹ ڈرنکس پینے والوں کی غذائی عادات ناقص ہوتی ہیں، جبکہ ان میں جسمانی وزن بھی زیادہ ہوتا ہے اور تمباکو نوشی کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

پھلوں، سبزیوں اور کپڑوں کو جراثیم سے پاک کرنے والا آلہ تیار

سونک سوک الٹراسانک کلینر تمام اشیاء کو کم پانی میں صاف کرتا ہے اور ہر قسم کے جراثیم اور بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے۔ چھوٹا اور مٹھی میں سما جانے والا آلہ صرف 50 واٹ بجلی استعمال کرتا ہے اور فی سیکنڈ 50 ہزار ارتعاشات (وائبریشن) سے اشیاء کو صاف اور جراثیم سے پاک کرتا ہے۔ اسے بنانے والی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ مختلف اشیاء سے نہ صرف جراثیم اور بیکٹیریا ختم کرسکتی ہے بلکہ سبزیوں اور پھلوں سے مضر کیمیکل اور کیڑے مار ادویہ کی آثار بھی دور کردیتی ہے۔ جس شے کو صاف کرنا ہو اُسے پانی میں ڈبویئے اور اس پیالے میں سونک سوک رکھ کر اسے اسٹارٹ کا بٹن دبادیں، اور اس طرح تھوڑی دیر میں وہ شے مکمل طور پر صاف ہوجاتی ہے۔ یہ ایجاد جہاں اشیاء کو گہرائی سے صاف کرتی ہے وہیں ایک عام واشنگ مشین کے مقابلے میں پانی کا استعمال بھی 400 گنا کم ہوتا اور توانائی بھی 15 گنا کم خرچ ہوتی ہے۔ سونک سوک کلینر کو ایک سے دوسری جگہ لے جانا قدرے آسان ہے۔ اس طرح اس جدید آلے کی صورت میں نہ صرف آپ واشنگ مشین کو ایک سے دوسری جگہ لے جاسکتے ہیں بلکہ الٹرا سونک آلے کی صورت میں ایک بہترین جراثیم کُش سسٹم بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ آلہ مکمل طور پر واٹر پروف ہے اور دنیا بھر کی ویب سائٹ نے اس آلے کی تعریف کی ہے۔ یہ آلہ 150 ڈالر میں دستیاب ہے اور ہر ملک کے بجلی کے نظام کے تحت اسے تیار کیا گیا ہے۔

صحت مند رہنے کے لیے ہر تیسرے دن فاقہ کیجیے، ماہرین

طبی تحقیقی جریدے ’’سیل میٹابولزم‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ماہرین نے بتایا ہے کہ بیشتر لوگ وزن کم کرنے اور دل کی بہتر صحت کے لیے ڈائٹنگ کرتے ہیں جس سے بہت کم لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے بجائے اگر وہ ہر تیسرے دن مکمل فاقہ کریں تو اس سے نہ صرف صحت کے بہترین فوائد حاصل ہوں گے بلکہ ان کے وزن میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔ واضح رہے کہ یہاں ’’فاقے‘‘ سے مراد یہ ہے کہ صرف پانی پیا جائے، جبکہ جسم کو توانائی پہنچانے والی کوئی غذا ہرگز نہ لی جائے۔ سوئٹزرلینڈ کی میڈیکل یونیورسٹی آف گراز میں کی گئی اس تحقیق میں پہلے مرحلے پر 60 صحت مند رضاکار بھرتی کیے گئے جن میں سے نصف کو کسی بھی وقت کھانے پینے کی مکمل آزادی فراہم کی گئی۔ باقی نصف افراد کو پابند بنایا گیا کہ وہ 48 گھنٹے میں سے مسلسل 36 گھنٹوں تک صرف پانی پر گزارا کریں جبکہ 12 گھنٹوں کے دوران جو دل چاہے، کھائیں پئیں۔ دورانِ تحقیق تمام رضاکاروں کا روزانہ تفصیلی معائنہ بھی کیا جاتا رہا۔ چار ہفتوں تک جاری رہنے والے اس مطالعے میں معلوم ہوا کہ روزانہ آزادی سے کھانے پینے والے رضاکاروں کی صحت میں تو کوئی افاقہ نہیں ہوا لیکن ہر تیسرے دن فاقہ کرنے والوں میں دل اور شریانوں کی مجموعی صحت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے وزن میں بھی اوسطاً 7.7 پاؤنڈ (تقریباً 3.5 کلوگرام) کی کمی واقع ہوئی۔ یہ جاننے کے لیے کہ ہر تیسرے روز فاقہ کرنے کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں یا نہیں، ماہرین نے دوسرے مرحلے میں مزید 30 رضاکاروں کو 6 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک اسی معمول پر رکھتے ہوئے ان کا جائزہ لیا۔ لیکن اس معمول کے کوئی منفی اثرات مشاہدے میں نہیں آئے۔ اب ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر تیسرے روز کم از کم چوبیس گھنٹے کے لیے کچھ بھی نہ کھانے کا معمول اگرچہ مشکل ہے، لیکن اسے اختیار کرنے کے فوائد بہت زیادہ ہیں اور اسے ڈائٹنگ کے متبادل کے طور پر آزمانا مفید ہوسکتا ہے۔

Share this: