عمران خان نے سوچے سمجھے بغیر ٹرمپ کے ثالث بننے کی ہامی بھرلی

کون سا ملک ہے جس کی خارجہ پالیسی ’’ٹویٹ‘‘ پر چل رہی ہو
معاشی صورت حال سے عوام خوف زدہ ہیں
پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے رکن نواب زادہ افتخار احمد خان سے فرائیڈے اسپیشل کے لیے انٹرویو

نواب زادہ افتخار احمد خان، ملک کے معروف سیاست دان بابائے جمہوریت نواب زادہ نصراللہ خان کے صاحب زادے ہیں۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد وہ سیاست میں متحرک ہوئے۔ جمہوری رویّے کے باعث انہوں نے قومی سیاسی دھارے میں آنے کا فیصلہ کیا اور اپنی سیاست مسلم لیگ (ن) سے شروع کی، بعد ازاں پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر مظفر گڑھ کی تحصیل خان گڑھ میں اپنے آبائی حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ تعلق تو نواب خاندان سے ہے مگر نہایت شائستہ مزاج اور نرم دل انسان ہیں۔ 27 ستمبر2003ء کو ان کے والد محترم نواب زادہ نصر اللہ خان کا انتقال ہوا تھا۔ یہ انٹرویو دراصل نواب زادہ نصر اللہ خان کی سیاسی زندگی کی یاد تازہ کرنے کے لیے بھی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے تھے، اور اب ان کے صاحب زادے نواب زادہ افتخار احمد خان بھی پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے رکن ہیں۔ اس کمیٹی کی ممبرشپ کے لیے پارٹی کی قیادت انہیں نے نامزد کیا ہے۔ نواب زادہ نصر اللہ خان کا سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو سے گہرا سیاسی تعلق رہا، اور انہی کے دور میں او آئی سی نے کاسابلانکا کے اجلاس میں کشمیر کانٹیکٹ گروپ بھی بنایا تھا۔
نواب زادہ افتخار احمد خان سے کشمیر کمیٹی، پارٹی سیاست اور حکومت کے پہلے سال کی کارکردگی پر جو گفتگو ہوئی، وہ پیش خدمت ہے۔
……٭٭٭……
فرائیڈے اسپیشل: حکومت اس وقت اپنا پہلا پارلیمانی سال مکمل کرچکی ہے، اس کی اب تک کی ساری کامیابیاں اور کمزوریاں بھی سامنے ہیں۔ آپ کا آج کے سیاسی حالات پر تجزیہ کیا ہے؟
نواب زادہ افتخار احمد خان: حکومت اپنا پہلا سال مکمل کرچکی ہے، اور آئین کے مطابق اس پارلیمنٹ کے پاس چار سال باقی رہ گئے ہیں۔ حکومت نے پہلے سال جو کچھ کیا، مستقبل میں بھی اس سے یہی توقع ہے۔ اس ایک سال میں ریکارڈ مہنگائی، بے روزگاری اور بے چینی بڑھی ہے، اور حکومت یہی راگ الاپ رہی ہے کہ اسے مسائل ورثے میں ملے ہیں، حتیٰ کہ اس کے وہ وزراء جو ماضی میں دوسری سیاسی جماعتوں میں رہے بلکہ حکومتوں میں رہے وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ مسائل ورثے میں ملے۔ یہ جملہ اب فیشن بن گیا ہے کہ اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے یہ کہہ دینا کافی سمجھا جاتا ہے کہ مسائل ورثے میں ملے ہیں۔ آپ دیکھیں اس حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو انہیں سب کچھ پلیٹ میں رکھ کر دیا گیا تھا۔ اس حکومت پر تنقید کرنے والے دونوں عنصر اپوزیشن اور میڈیا، اس حد تک پابند بنادیے گئے ہیں کہ کوئی اس حکومت پر تنقید نہیں کررہا، اسے تنگ نہیں کررہا۔ ماضی میں اپوزیشن اور میڈیا حکومتوں کے لیے ہر وقت چیلنج بنے رہتے تھے۔ اب ایسی صورت حال نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت معیشت، خارجہ امور، داخلہ امور سمیت بہت سے محاذوں پر ناکام ہوتی ہوئی نظر آئی۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بعد میں بڑھی، وزراء نے اپنے بیانات سے اس کی اطلاع پہلے دی، اور یہاں تک کہا گیاکہ ڈالر ایک سو اسّی روپے تک جاسکتا ہے۔ وزراء کے بیانات سے ملک میں بے چینی بڑھ گئی، اور جب واقعی ڈالر کی قیمت بڑھنا شروع ہوئی تو ملک میں کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھ گئی۔ ناتجربہ کاری اور نااہلی کی معراج ہم نے دیکھی ہے۔ اس پہلے سال میں پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر اور ایک کروڑ نوکریاں اب خواب بن گئی ہیں۔ ہر شعبے میں حکومت کی نااہلی چھائی ہوئی ہے، حتیٰ کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے اس سال پاکستانی حاجی بھی رل گئے ہیں، انہیں ناقص کھانے کی فراہمی کی مسلسل شکایت رہی، اور اس کے علاوہ رہائشوں اور ٹرانسپورٹ کی شکایت بھی عام رہی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: مقبوضہ کشمیر کی صورت حال بہت خراب ہے، بھارتی حکومت نے آئین میں سے آرٹیکل370 کو نکال دیا ہے، آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا یہ صورت حال حکومت کے علم میں تھی؟ اور یہ بھی بتائیں کہ حکومت کو خارجہ محاذ پر کیا کامیابی ملی ہے اور ہم بھارت کو کیسے مجبور کرسکتے ہیں کہ وہ کشمیر کے لیے سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عمل کرے؟
نواب زادہ افتخار احمد خان: تجزیہ کیا جائے تو حالات یہ بتارہے ہیں کہ امریکی دورے میں صدر ٹرمپ نے دانہ ڈالا کہ مودی کشمیر کے معاملے میں کوئی تصفیہ چاہتا ہے اور ثالث بننے کا کہا، وزیراعظم عمران خان نے سوچے سمجھے بغیر ٹرمپ کے ثالث بننے کی ہامی بھر لی۔ مودی کی پہلے ہی ملی بھگت تھی، اس نے فوراً کشمیر پر قبضہ کرلیا۔ اب جبکہ پوری دنیا کشمیر میں قتل و غارت اور غیر انسانی پابندیوں سے آگاہ ہوچکی ہے اور کشمیر عالمی سطح پر متنازع علاقہ تسلیم کیا جا چکا ہے اور 90 لاکھ مسلمان کھانے، دوائی، صحت، ٹیلی فون اور ٹی وی کی سہولت سے محروم ہیں اور ان پر ہرطرح کے ظلم ڈھائے جارہے ہیں اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے، ایسے میں پاکستان صرف سفارتی اور زبانی جمع خرچ میں لگا ہوا ہے۔ کشمیری صرف پاکستان سے الحاق کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ کشمیریوں نے اقوام متحدہ کے وعدے پر ہتھیار رکھے تھے، اگر اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق نہیں دلوائے گی تو لاکھوں کشمیری ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ بھارت کب تک کرفیو لگاکر کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچنے سے روکے گا؟ جس دن بھی وہ کرفیو اٹھائے گا لاکھوں کشمیری سڑکوں پر نکل کر بھارت کے خلاف ریفرنڈم کریں گے، اسی خوف سے بھارت کرفیو میں لاکھوں کشمیریوں کو قتل اور لاپتا کرنے کی سازش کررہا ہے تاکہ جب وہ کرفیو اٹھائے تو نیم مُردہ کشمیری سڑکوں پر نہ نکل سکیں۔ عالمی ضمیر کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔ عالمی برادری بھی یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں، ہر ملک اپنا مفاد پہلے دیکھتا ہے پھر اگلی بات کرتا ہے، اس وقت بھی یہی ہورہا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی یہی رہی ہے کہ ہم کشمیر کو ایک متنازع علاقہ سمجھتے ہیں اور کشمیری عوام کے رائے شماری کے حق کے لیے سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت فراہم کرتے ہیں، لیکن بات اب اس سے کہیں آگے نکل گئی ہے، اب کشمیریوں کو بھارتی حکومت اور فوج نے نیزوں کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ جب سے یہ صورت حال بنی ہے میں بطور اپوزیشن رکن اسمبلی، کسی تعصب کے بغیر اپنی یہ رائے دوں گا کہ حکومت نے یہ معاملہ سنجیدہ اُس وقت لیا جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ بھلا آج دنیا میں کون سا ملک ہے جس کی خارجہ پالیسی جامد ہو اور صرف ٹویٹ پر چل رہی ہو؟ اس حکومت کی جانب سے مسلم دنیا سے حمایت مانگی جارہی ہے، یورپی ملکوں سے بھی رابطے کیے جارہے ہیں، سلامتی کونسل کا اجلاس ہوچکا ہے۔ مگر نتائج کیا ملے ہیں! حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا اور اسے ملتوی کردیا کہ اپوزیشن ارکان اسمبلی کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جائیں گے۔ ایک جانب ملک سنگین مسائل کا شکار ہے اور دوسری جانب حکومت سیاسی انتقام کی طرف جارہی ہے، اور الٹا اپوزیشن سے کہا جاتا ہے کہ وہ تعاون نہیں کرتی۔ جب کہ حقائق یہ ہیں کہ صورتِ حال جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ بھارت کے ظلم کی وجہ سے کہیں مقبوضہ کشمیر میں بھی فلسطین والی صورت حال نہ ہوجائے۔ بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور قوانین کی خلاف ورزی افسوسناک اور خطرناک ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، ایل او سی پر مسلسل جارحیت قابلِ مذمت ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ ثالثی کی بات کررہے ہیں، لیکن وہ بھارت کو اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے نہیں کہہ رہے، جب کہ بھارت قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایل اوسی پر شہریوں کونشانہ بنانے کے لیے کلسٹر ٹوائے بم کا استعمال کررہا ہے۔ بھارتی فوج نے 30 اور 31 جولائی کو آبادی کو نشانہ بنایا، وادی نیلم میں کلسٹر ٹوائے بم سے آبادی کو ٹارگٹ کیا، کلسٹر ٹوائے بم سے 4 سال کے بچے سمیت 2 شہری شہید اور 11 زخمی ہوئے۔
فرائیڈے اسپیشل: مستقبل میں سیاسی ہوائیں کس طرح دیکھ رہے ہیں؟
نواب زادہ افتخار احمد خان: مسائل بہت گمبھیر ہیں۔ تین باتیں ذہن میں رکھیں۔ ملک کی آبادی، بے روزگاری، انصاف کی عدم فراہمی، اپوزیشن کے خلاف بے جا مقدمات اور سماجی عدم توازن جیسے مسائل بڑے گہرے ہیں۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ پارلیمنٹ میں ان مسائل پر بحث کرتی، خارجہ امور پارلیمنٹ میں لائے جاتے، پارلیمنٹ اس کا حل بتاتی۔ سب ادارے مل کر ملک چلائیں گے تو مسائل حل ہوں گے ورنہ مسائل بڑھتے چلے جائیں گے۔ اس وقت ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کے پاس روزگار نہیں ہے۔ اور ایسے لوگوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو پڑھائی لکھائی کے بعد سرکاری اداروں میں روزگار نہ ملنے کی وجہ سے اوور ایج ہوچکے ہیں۔ ہمارے ملک میں یوتھ اور اوور ایج نوجوانوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے، ملک کی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ صورتِ حال کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: حکومت تو کہہ رہی ہے کہ معیشت بہتر ہورہی ہے؟
نواب زادہ افتخار احمد خان: جہاں بہتر ہورہی ہے اس شعبے کا ہمیں بھی بتادیں کہ یہاں معیشت بہتر ہورہی ہے۔ نجی شعبے کے تمام بزنس پلانز اور مستقبل کے اندازے بھی متاثر ہورہے ہیں، کیونکہ کاروباری برادری کو طویل المدت کاروباری منصوبے تشکیل دینے اور سرمایہ کاری کے لیے مستحکم کرنسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ خسارے کو کم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ پیداواری لاگت کو کم کرنا اور برآمدات کو تیزی سے فروغ دینا ہے، لیکن روپے کی گرتی ہوئی قدر سے ان مقاصد کا حصول مشکل ہے۔ موجودہ صورت حال میں صنعتی شعبے کو یا تو اپنی صنعتوں کو بند کرنا ہوگا، یا اپنی مصنوعات کی قیمتوںکو بڑھانا ہوگا۔ تاہم اس سے ہماری مصنوعات مہنگی ہونے سے عوام کے لیے مہنگائی بڑھے گی اور برآمدات میں کمی ہوگی۔ معیشت کو مزید کمزور ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر روپے کی قدر کو مستحکم کرنے اور معیشت کی بحالی کے لیے نجی شعبے کی مشاورت سے ایک جامع حکمت عملی وضع کرے تاکہ معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جاسکے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا حکومت کو اس صورت حال کا ادراک ہے؟
نواب زادہ افتخار احمد خان: یہ تو حکومت ہی بتاسکتی ہے ۔پی ٹی آئی نے میرٹ کو اختیار کرنے اور اخراجات کم کرنے سمیت بہت سے وعدے کیے لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی صورت حال دوسال تک نازک رہے گی، پاکستان چڑھتی اور گرتی معیشت کے حصار میں پھنسا ہوا ہے، پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جس کے وسائل محدود اور اخراجات بہت زیادہ ہیں، خراب معیشت کی وجہ کمزور معاشی ترقی اور غربت میں اضافہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اب حکومت کہہ رہی ہے کہ تاجر اور صنعت کار کاروبار آزادی سے کریں، کسی کو ناجائز تنگ نہیں کریں گے۔ اس بات میں کہاں تک صداقت ہے؟
نواب زادہ افتخار احمد خان: ہم تو شروع دن سے ہی کہہ رہے ہیں کہ گالم گلوچ سے ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ ملک میں یکساں قانون ہونا چاہیے۔ ملک میں معاشی صورت حال سے عوام خوف زدہ ہیں، ٹیکس بڑھ رہے ہیں، کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے، ڈالر اوپر چلا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں انصاف کے پلڑے میں ایک جانب صلاح الدین ہے اور پوری اپوزیشن ہے اور دوسری جانب علیمہ خان۔ جہاں ایسے امتیاز ہوں گے وہاں مسائل تو جنم لیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: حکومت احتساب کرتی ہے تو اپوزیشن اسے سیاسی انتقام کا نام دیتی ہے؟
نواب زادہ افتخار احمد خان: نہیں ایسا نہیں ہے، کسی نے بھی یہ نہیں کہا۔ ہمارے سابق صدر آصف علی زرداری نیب کی حراست میں ہیں، وہ خود چل کر نیب کے پاس گئے، سابق وزیراعظم راجا پرویزاشرف کے خلاف کیس ہے، مگر اسی کیس میں بابر اعوان تو بری بھی ہوچکے ہیں، جب کہ سارا کیس ہی انہی کی وجہ سے بنا ہے۔ ان کے بری ہوجانے کے بعد اب کیس کیوں چل رہا ہے؟ سابق صدر آصف علی زرداری کی بیٹیوں کو اپنے والد سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، اسے انتقام نہ کہیں تو کیا کہیں؟ بابر اعوان بری ہوئے تو اسے کیا کہیں؟ علیمہ خان کو کوئی نہیں پوچھتا اسے کیا نام دیں؟ حکومت کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ اپوزیشن احتساب نہیں چاہتی۔ ہم تو کہہ رہے ہیں کہ قانون کے مطابق جو کچھ ہے اسے ہونا چاہیے۔ احتساب پسند اور ناپسند کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔

Share this: