ہماری ملّی شاعری میں نعتیہ عناصر،سقوطِ دلی تا سقوطِ ڈھاکا

کتاب : ہماری ملّی شاعری میں نعتیہ عناصر،سقوطِ دلی تا سقوطِ ڈھاکا
مصنف : ڈاکٹر محمدطاہر قریشی
صفحات : 640 قیمت:900 روپے
ناشر : نعت ریسرچ سینٹر۔ B-306، بلاک 14 گلستان جوہر کراچی
موبائل : 0332-2668266
ای میل : sabeehrehmani@gmail.com
ویب
گاہ : www.naatresearchcenter.com
www.sabih_rehmani.com
ڈاکٹر محمد طاہر قریشی کی یہ مثالی تحقیق پی ایچ ڈی کے سلسلے میں وجود میں آئی۔ انہوں نے یہ تحقیق شعبہ اردو کراچی یونیورسٹی کی ڈاکٹر تنظیم الفردوس کی نگرانی میں کی۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ انہوں نے بڑی محنت اور تلاش سے مقالے کا لوازمہ جمع کیا۔ ڈاکٹر عبدالحق (پروفیسر ایمریطس اردو۔ دہلی، بھارت) کی وقیع رائے ہے:
’’یہ ایک غیر معمولی اور مثالی نمونۂ تحقیق ہے جس کے لیے مقالہ نگار اور ان کی نگران بجا طور پر مبارک باد کی مستحق ہیں۔ آج کے دور میں جب تحقیق ایک رسمی سی چیز بن کر رہ گئی ہے، خصوصاً انڈیا میں، محمد طاہر قریشی نے تحقیق اور اس کے لوازمات کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت قابلِ تعریف اور عمدہ مقالہ تحریر کیا ہے۔ پورے مقالے میں ایک منظم منصوبہ بندی اور ابواب کے درمیان ربط کا شان دار التزام دکھائی دیتا ہے۔ لاریب یہ تحقیق کا ایک متاثر کن نمونہ ہے۔
اب تک میں نے نعت گوئی اور اس سے متعلقہ موضوعات پر 11 مقالوں کی جانچ کی ہے لیکن یہ کام بہت ہی اعلیٰ درجے کا ہے اور قابلِ ستائش ہے۔ پہلے باب میں ملّت، امت، قوم اور مذہب کی نہایت عمدہ بحث علامہ اقبال اور مولانا حسین احمد مدنی کے مابین بحث کی یاد دلاتی ہے۔ نیز ملّی شاعری میں نعتیہ عناصر کی تلاش میں دکنی دور سے سقوطِ ڈھاکا تک کی نظیریں تلاش کرنا سخت محنت طلب اور کٹھن کام تھا، جسے محمد طاہر قریشی نے بڑی جانفشانی سے سر انجام دیا ہے۔ مختصر یہ کہ مقالۂ ہذا میں پیش کیا گیا تحقیقی مواد ہر لحاظ سے قابلِ قدر اور مطالعے کے لائق ہے‘‘۔
جناب صبیح الدین صبیح رحمانی تحریر فرماتے ہیں:
’’ڈاکٹر محمد طاہر قریشی مجھے کئی نسبتوں سے عزیز ہیں۔ وہ ذہین ہیں، علمی اور تحقیقی مزاج رکھتے ہیں، انہیں شروع سے مطالعاتِ نعت سے خاص دلچسپی رہی ہے، ان کا تحقیقی مقالہ ’’ہماری ملّی شاعری میں نعتیہ عناصر‘‘ اس وقت میرے پیش نظر ہے، جو تحقیق و تنقید کا عمدہ امتزاج ہے۔ مصنف نے ایک طرف اپنے موضوع کے تاریخی، تہذیبی اور سماجی سیاق و سباق کو اس کی جملہ تفصیلات کے ساتھ سامنے رکھا ہے، اور دوسری طرف اس کے ادبی، فنی اور فکری پہلوئوںکا بھی پوری طرح احاطہ کیا ہے۔ زبان و بیان کا لطف اور اظہار و ابلاغ کا قرینہ بھی لائقِ ستائش ہے۔ مقالے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں نظریۂ پاکستان کی اساسی فکری جہت اور ملّی امنگوں کو نہایت خوبصورتی سے نمایاں کیا گیا ہے، اور اس تناظر میں قیام پاکستان کے محرکات کو بھی سامنے لانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ میرے نزدیک اس پہلو کی طرف ہمیں من حیث القوم متوجہ ہونا چاہیے۔ مجموعی اعتبار سے یہ مقالہ نعتیہ ادب میں تحقیق و تنقید کی ان قابلِ قدر مثالوں میں شمار کیے جانے کے لائق ہے جو مستقبل کے محققین کے لیے رہنما ثابت ہوں گی۔ اس مقالے کی اشاعت پر ڈاکٹر محمد طاہر قریشی مبارکباد کے مستحق ہیں‘‘۔
ڈاکٹر محمد طاہر قریشی نے اپنے حرفِ آغاز میں جامعیت کے ساتھ کتاب کے محتویات کا تعارف کرایا ہے، ہم اسی کو یہاں درج کرتے ہیں:
’’اللہ رب العزت نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ ؐ کو اس دنیائے رنگ و بو میں بھٹکی ہوئی انسانیت کی رہنمائی کے لیے مبعوث کیا۔ دنیا میں اُس وقت مختلف قسم کی عصبیتوں کا دور دورہ تھا، خصوصاً اہلِ عرب لسانی، علاقائی، قبائلی اور خاندانی تعصبات کے بری طرح اسیر تھے۔ رہبرِ انسانیت، ختمی مرتبت علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ہر قسم کی باطل عصیبتوں کا خاتمہ کرکے صرف کلمے کی بنیاد پر ایک عالم گیر ملّت کی تشکیل و تجسیم کی، جس میں کسی بھی قسم کی عصبیت کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور فضیلت کا دار و مدار صرف تقویٰ پر رکھا گیا تھا۔ گویا ملّتِ مسلمہ کا منفرد نظریہ سراسر صاحبِ ملت علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دین ہے اور آپؐ کی ذاتِ بابرکات ملّتِ اسلامیہ کا مرکز، محور اور منبع ہے، اور چونکہ ملّی شاعری عبارت ہے ملّتِ اسلامیہ اور اس کے معاملات سے، اس لیے منطقی طور پر ملّی شاعری کا مرکز، محو و منبع بھی صرف آپؐ کی ذاتِ گرامی ہوسکتی ہے۔
جہاں تک اردو کی ملّی شاعری کا تعلق ہے، ملّی شعرا اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہیں۔ اسی لیے ان کی شاعری کا اساسی عنصر بلاواسطہ اور بالواسطہ سرورِ کائناتؐ کا حوالۂ مبارک ہے جسے انہوں نے جابہ جا اور مختلف پیرایوں میں پیش کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملّی شاعری میں نعتیہ عناصر کی موجودگی ایک ناگزیر عنصر ہے۔ راقم کی معلومات کے مطابق اردو میں نعت پر تو اچھا خاصا تحقیقی کام ہوا ہے اور ہندوستان اور پاکستان میں پی ایچ ڈی کے کئی مقالے بھی لکھے گئے ہیں، لیکن تاحال کوئی ایسی تحقیق سامنے نہیں آئی ہے جس میں ملّی شاعری میں نعتیہ عناصر کا جائزہ لیا گیا ہو۔
زیرنظر مقالہ ’’ہماری ملّی شاعری میں نعتیہ عناصر (سقوطِ دلی تا سقوطِ ڈھاکا)‘‘ ان ہی نعتیہ عناصر کی تلاش و جستجو پر محیط ہے جس میں ’’ماحصل‘‘ سمیت کل 13 ابواب ہیں۔
پہلا باب ملّت، امت اور قوم کی تعریفات اور تصریحات پر مبنی ہے، نیز ملّی شاعری کیا ہے اس کی وضاحت کی گئی ہے، اور اس کے آغاز کے بارے میں بعض نئے انکشافات کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں وطنی اور قومی شاعری کے مباحث بھی آگئے ہیں۔
دوسرے باب میں نعت اور نعتیہ عناصر کی توضیحات کی گئی ہیں اور لفظ ’’نعت‘‘ کے اصطلاحی معنوں میں اوّلین استعمال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ نیز بلاواسطہ اور بالواسطہ نعتیہ عناصر کی حد بندی کی کوشش کی گئی ہے۔
تیسرے باب میں جنگ آزادی (1857ء) سے قبل کی گئی ملّی شاعری میں نعتیہ موضوعات کی تلاش کی گئی ہے اور دکنی دور سے لے کر اٹھارویں صدی کی تحریکِ جہاد تک کے دوران لکھی گئی منظومات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
چوتھے باب میں جنگِ آزادی (1857ء) کے ملّی شاعری پر اثرات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ مجاہدین کی ابتدائی کامیابیاں ہوں یا سقوطِ دلی کا سانحہ، ملّی شاعری میں نعتیہ عناصر کس کس پیرائے میں آئے ہیں، اس پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
پانچویں باب کا تعلق ملّی شاعری کے دورِ جدید سے ہے جس کا آغاز الطاف حسین حالی سے ہوتا ہے، جنہوں نے مسلمانانِ ہند کے منفرد اور علیحدہ ملّی تشخص کا باآوازِ بلند اعلان کیا۔ ’’مسدس مدوجزر اسلام‘‘ جیسی لازوال نظم کے علاوہ دیگر منظومات میں ہادیِ عالمؐ کے ابدی پیغام کو حالی نے جس فنی مہارت اور شعری نزاکت کے ساتھ پیش کیا ہے اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شبلی، اکبر، ڈپٹی نذیر احمد اور مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے شعرا کی نظموں میں بھی نعتیہ عناصر کی تلاش کی گئی ہے۔
چھٹے باب میں بیسویں صدی کے ابتدائی تیس چالیس برسوں کے دوران کی گئی ملّی شاعری کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس دورِ اضطراب میں برعظیم پاک و ہند کی ملّتِ اسلامیہ کو متعدد ایسے مسائل اور معاملات سے گزرنا پڑا جن کے اثرات دوررس اور ہمہ گیر تھے۔ اس ہیجانی دور میں طبقۂ شعرا میں سے مولانا ظفر علی خان، محمد علی جوہر، زاہدہ خاتون شروانیہ (ز۔خ۔ش)، میر غلام بھیک نیرنگ، شاد عظیم آبادی، عبدالمجید سالک، افق کاظمی امروہوی، خوشی محمد ناظر، سیماب اکبر آبادی اور چند دوسرے بزرگوں نے ملّت کی ترجمانی کرتے وقت صاحبِ ملّت علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے ذکرِ مبارک کو کس متنوع انداز میں پیش کیا ہے، اس کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر مولانا ظفر علی خان کی ملّی شاعری کے بارے میں بعض نئے حقائق دریافت کیے گئے ہیں۔
ساتویں باب میں اردو کے سب سے بڑے ملّی شاعر اقبال کی اُن ملّی خدمات کو جو انہوں نے بذریعہ شعر و سخن انجام دیں، موضوعِ گفتگو بنایا گیا ہے۔ اقبال نے حوالۂ رسول کریمؐ کو عاشقانہ سرمستی اور فلسفیانہ استدلال دونوں کے ساتھ جس طرح آمیز کرکے پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مذکورہ باب میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کی ملّی شاعری میں نعتیہ عناصر تعداد کے لحاظ سے زیادہ نہیں ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ ان کا شمار نعت کے معروف شعرا میں بھی کیا جاتا ہے۔
آٹھواں باب تحریک پاکستان کے آخری آٹھ دس برسوں میں حصولِ آزادی کی جدوجہد کی روداد ہے۔ مسلمانوں کے لیے ایک الگ خطۂ ارضی کے حصول میں سخن وروں نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘ اور ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الااللہ‘‘ جیسے نعرے ایسے ہی فکرِ رسا اور اپنے ملّی تشخص پر کامل یقین رکھنے والے شعرا کی بدولت وجود میں آئے، جنہوں نے مختصر اور آسان زبان میں پاک و ہند کے طول و عرض میں بسنے والے مسلمانوں کو ملّت کا مفہوم صرف سمجھایا ہی نہیں بلکہ ان کے دلوں میں اتار دیا۔ اس دور کی شاعری میں اپنے منفرد تصورِ ملّی پر جو کامل یقین نظر آتا ہے وہ صاحبِ ملّت و امت علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ پاک کی بدولت ہے۔ بہت سے شاعروں نے آپؐ کے نامِ نامی کو مسلمانانِ ہند کے جذبۂ ملّی کو بڑھاوا دینے کے لیے جس جس انداز سے استعمال کیا ہے اس کا جائزہ اس باب میں لیا گیا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد کی شاعری ملے جلے رجحان کی حامل ہے۔ اسلام کے نام پر ایک نئی مملکت کا قیام، مجاہدینِ کشمیر کی حوصلہ افزائی، مشاہیر ملّت کو خراجِ تحسین، ختمِ نبوت کی تحریک، نااہل سیاست دانوں کے باعث حالات کی خرابی اور مارشل لا کا قیام وغیرہ ایسے معاملات تھے جن کو موضوع بناتے وقت شعرا کی اکثریت نے سرورِ دوعالمؐ کا حوالۂ مبارک کس تناظر میں کس پیرائے میں دیا ہے، نواں باب اسی بات کے تجزیے پر محیط ہے۔
جنگِ ستمبر 1965ء کے ہنگام میں معرض وجود میں آنے والی ملّی شاعری کا انداز فطری طور پر رجزیہ ہے۔ تحرک اور جوش و جذبے سے بھرپور ملّی نغموں، ترانوں اور منظومات میں اپنے منفرد ملّی تشخص کا ایک بار پھر ببانگِ دہل اعلان ہوا، اور اس کے لیے شعرا نے قدم قدم پر فاتح بدر و حنینؐ کا سہارا لیا ہے۔ اس دور کی شاعری میں نعتیہ عناصر کی بہتات اور تنوع کا مطالعہ دسویں باب میں کیا گیا ہے۔
گیارہواں باب سانحہ بیت المقدس کے لیے مخصوص ہے۔ قبلہ اوّل کے قبضۂ اغیار میں جانے اور بعد میں مسجد اقصیٰ میں آگ لگنے کے سانحے نے ملّی شعرا کو آتشِ زیرپا کردیا تھا۔ ان کا اشتعال اور ساتھ ہی اضمحلال بھی ان کی شاعری میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کیفیات کے تحت ہونے والی ملّی شاعری میں شاعروں کا روئے سخن بارہا اور بجا طور پر مقتدائے انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جانب رہا۔ اس باب میں ملّی شاعری کا جائزہ اسی تناظر میں لیا گیا ہے۔
سقوطِ مشرقی پاکستان سے پہلے ہی شعرائے کرام آئندہ پیش آنے والے المیے پر وقتاً فوقتاً اپنی تشویش کا اظہار بھی کرتے رہے تھے اور مستقبل کے بارے میں اربابِ اختیار کو متنبہ بھی کررہے تھے۔ نیز پاک بھارت جنگ 1971ء کے دوران بھی شاعر اپنے جذبۂ ملّی کے ہاتھوں مجبور ہوکر محاذِ سخن پر ڈٹے رہے اور سقوط کے بعد بھی اپنے غم و غصے کا بزبانِ شعر اظہار کرتے رہے۔ بارہویں باب میں ایسی ہی ملّی شاعری کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے کہ ملّی شعراء کی تشویش و انتباہ اور نالہ و فریاد سے لبریز شاعری میں تذکرۂ محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر اعتنا کیا گیا ہے۔
آخری باب میں ’’ماحصل‘‘ کے عنوان سے پورے مقالے سے حاصل شدہ نتائج کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔‘‘
جناب صبیح رحمانی نے اتنی ضخیم کتاب طبع کرکے اپنے حُبِّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور ثبوت فراہم کیا ہے۔ ان شاء اللہ اس کتاب کی اشاعت مصنف اور ناشر دونوں کے لیے صدقۂ جاریہ ہوگی۔
کتاب عمدہ نیوز پرنٹ پر خوبصورت طبع کی گئی ہے۔ مجلّد ہے۔ رنگین سرورق سے مزین ہے۔ نعتیہ لٹریچر میں وقیع و ثمین اضافہ ہے۔