سندھ کی جامعات بدانتظامی کا شکار، طلبہ سراپا احتجاج

قائدِ عوام انجینئرنگ یونی ورسٹی اور شہید بے نظیربھٹو یونیورسٹی میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگی ہیں

کاشف رضا
نواب شاہ میں سندھ کی دو بڑی جامعات قائدِ عوام انجینئرنگ یونی ورسٹی اور شہید بے نظیربھٹو یونیورسٹی میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ دونوں جامعات کی انتظامیہ طلبہ کو طویل عرصے سے طفل تسلیاں دے رہی ہے۔ قائد عوام انجینئرنگ یونی ورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ساتھ یونی ورسٹی کے غیر تدریسی عملے کے مطالبات منظور نہ ہونے کی وجہ سے وائس چانسلر کی برطرفی کے مطالبے میں اُس وقت مزید شدت آگئی جب یونی ورسٹی کے طلبہ کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا جانے لگا۔ ایسی ہی صورتِ حال شہید بے نظیر بھٹو جنرل یونی ورسٹی کی دیکھنے میں آئی۔ یونی ورسٹی کے طلبہ کے پُرامن احتجاج پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے 3 طالبات سمیت 7 طالب علم زخمی ہوگئے۔ شہید بے نظیر بھٹو یونی ورسٹی کے طلبہ کا کہنا ہے کہ یونی ورسٹی کی خاتون وائس چانسلر کا آمرانہ طرزِعمل قبول نہیں کرسکتے، انھیں فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ طلبہ کو بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں ہیں، یونی ورسٹی نے مسجد کے نام پر جگہ مختص کی ہوئی ہے لیکن 5 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود مسجد تعمیر نہیں کی جا سکی، طلبہ کے ہاسٹلز کی حالتِ زار دیکھ کر وائس چانسلر کی توجہ اس جانب مبذول کرواتے ہیں تو وہ فوراً غیر مہذبانہ طرزعمل اختیار کرتی ہیں۔ طلبہ نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی کی گرانٹ میں کروڑوں روپے کے گھپلے ہیں، سیاسی بنیادوں پر وائس چانسلر کی تقرری قبول نہیں کرسکتے، ہم چاہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان، گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ نوٹس لیں اور اس بات کی تحقیقات کروائیں کہ شہید بے نظیر آباد یونی ورسٹی میں کتنے پی ایچ ڈی اساتذہ کا تقرر ہے، جبکہ کتنا تحقیقی کام کیا جارہا ہے، کتنے مطالعاتی دورے ٹور ہوئے ہیں، کتنے تفریحی ٹور ہوئے ہیں، اور ان کے نام پر خرچ ہونے والا پیسہ کہاں گیا۔ طلبہ نے کہا کہ ہم یونی ورسٹی کے مسائل حل ہونے اور اپنے مطالبات پورے ہونے تک کلاسوں کا بائیکاٹ کریں گے، اور جب تک خاتون وائس چانسلر کو برطرف نہیں کردیا جاتا، ہڑتال کریں گے۔ اس موقع پر فرحان بروہی، اسد بروہی، جنید آرائیں، حسن آرائیں اور دیگر نے میڈیا کو بتایا کہ ہم ہاسٹل میں رہتے ہیں اور سالانہ 24,000 روپے فیس دیتے ہیں لیکن سہولیات 2000 روپے کی بھی نہیں ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ہاسٹل کی فیس کم کی جائے، نماز پڑھنے کے لیے مسجد بنوائی جائے۔ لائبریری کو طلبہ کے لیے کھولا جائے پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے۔ جبکہ شاگردوں کی اسکالرشپ ادا کی جائے۔
جبکہ دو گھنٹے تک احتجاج کرنے کے باوجود طلبہ سے یونی ورسٹی کے کسی بھی ذمہ دار افسر نے ملاقات نہ کی، جس کے بعد طلبہ نے سکرنڈ روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کردیا، جسے کھلوانے کے لیے پولیس نے طلبہ سے بات چیت کی، لیکن انہوں نے انکار کردیا، جس کے بعد پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جس سے کیمسٹری کی طالبہ صائمہ سومرو، اسامہ کھوکھر، مقبول بروہی، ہاشم لغاری منصور بنگھوار، ارسلان ملک، ذوالفقار لغاری اور دیگر زخمی ہوگئے جنہیں ٹراما سینٹر میں داخل کیا گیا، جن میں منصور بروہی شدید زخمی بتایا جاتا ہے۔ ابھی اس صورت حال کو ایک گھنٹہ بھی نہ گزرنے پایا تھا کہ انتظامیہ طلبہ کے مطالبات کی منظوری پر رضامند ہوگئی۔ بے نظیر یونیورسٹی کے افسر تعلقاتِ عامہ کاشف نورانی نے بتایا کہ طلبہ کے اکثر مطالبات مان لیے گئے ہیں، فیس کم کرنے کا معاملہ سینڈیکیٹ میں حل کیا جائے گا، بہت جلد یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کو ہاسٹل دیئے جائیں گے۔
اربابِ اختیارسے طلبہ کا سوال ہے کہ طلبہ کے جائز مسائل کوانتظامیہ کیوں حل نہیں کرتی؟ اس سوال کا جواب نہ طلبہ کے پاس ہے اور نہ ہی یونی ورسٹی انتظامیہ کے پاس۔ پھر کیا وجہ ہے کہ شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ ملک کی بہترین قائدِ عوام یونی ورسٹی آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہئ کیمیائی انجینئرنگ کے طلبہ کی جانب سے اس بات پر احتجاج کیا جاتا ہے کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جانب سے طلبہ کو6 سال گزر جانے کے باوجود رجسٹریشن نہ دینا تعلیم دشمنی اور انجینئرنگ کے طلبہ کا مستقبل تاریک کرنے کی کوشش ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ احتجاجی طلبہ نے کہا کہ یونی ورسٹی نے طلبہ کے لیے تاحال کچھ نہیں کیا جو کہ یونیورسٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نواب شاہ کے کیمیکل انجینئرنگ کے طلبہ یاسرنگوار، جمیل رکشانی، عامر بھٹی، محسن اور اظہر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 6 سال گزرنے کے باوجود ہمارے شعبے کیمیائی انجینئرنگ کو کونسل سے تاحال رجسٹرڈ نہیں کروایا گیا ہے۔ اس وقت تک دو بیج پاس آؤٹ ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک پاکستان انجینئرنگ کونسل نے رجسٹریشن نہیں دی۔ اس حوالے سے شعبے کے چیئرمین پروفیسر لیاقت میمن نے بتایا کہ ہم نے انجینئرنگ کونسل کی تمام شرائط کو پورا کردیا ہے، اور امید ہے کہ آئندہ دو ہفتوں تک ہمیں رجسٹریشن مل جائے گی۔
شہید بے نظیر بھٹو یونی ورسٹی اور قائد عوام انجینئرنگ یونی ورسٹی کے طلبہ و طالبات کے مطالبات کو منظور کروانے کے لیے جو احتجاج کیا گیا تھا، اس کے بعد سندھ بھر کے طلبہ نے جامعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ یونی ورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کے 14 مطالبات کی منظوری دیتے ہوئے ان پر جلد عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر طلبہ نے کہا کہ اگر یونی ورسٹی انتظامیہ نے ہمارے مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو طلبہ حقوق کے لیے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے ایک مرتبہ پھر احتجاج کیا جائے گا، کیونکہ یونی ورسٹی انتظامیہ ہمیشہ ہمارے مطالبات منظور کرنے کی یقین دہانی کرانے کے بعد اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتی ہے، لہٰذا اب اگر ایسا کچھ ہوا تو ہم طویل دھرنا دیں گے۔
ادھر ضلع شہید بے نظیر آباد کی سیاسی، مذہبی، فلاحی تنظیموں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت شہید بے نظیر یونیورسٹی نواب شاہ کے طلبہ پر آنسوگیس اور پولیس تشدد کا نوٹس لے، یونیورسٹی طلبہ کے جائز مطالبات پورے کیے جائیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کا کہنا تھا کہ جمعیت جو طلبہ کی واحد ملکی سطح پر نمائندہ تنظیم ہے مذکورہ واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ نواب شاہ ڈویژن عمیر شامل لاکھو، ابراہیم طارق، عدنان ظفر و دیگر نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا کہ جائز مطالبات منوانے کے لیے کیے جانے والے احتجاج میں شریک طلبہ پر پولیس انتظامیہ کی جانب سے لاٹھی چارج، زہریلی آنسو گیس کا استعمال اور پولیس تشدد انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت عمل ہے اور یہ یونیورسٹی کے ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہے۔